وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا إِنَّمَا عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
Do not sell Allah’s covenants for a paltry gain. Indeed, what is with Allah is better for you, should you know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:95
[Pooya/Ali Commentary 16:95]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:95-97
شانِ نزول
شانِ نزول: عظیم مفسر مرحوم طبرسی نے ابنِ عباس سے نقل کیا ہے: ایک شخص حضر موت کا رہنے والا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ ! میرا ایک ہمسایہ ہے اس کا نام امراؤ القیس ہے اس نے میری زمین کا کچھ حصہ غصب کر رکھا ہے، لوگ میری سچائی کے گواہ ہیں لیکن چونکہ اس کا احترام کرتے ہیں لہذا میری حمایت پر آمادہ نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے امرؤالقیس کو طلب کیا اور اس سے اس سلسلے میں پوچھا تو اس نے جواب میں کچھ ماننے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا کہ اپنی سچائی کے لیے قسم کھاؤ، لیکن مدعی نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ یہ شخص کسی اصول کا پابند نہیں لہذا اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں یہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ رسول اللہ نے فرمایا: بہر حال اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں یا تو اپنے گواہ پیش کرو یا اس کی قسم تسلیم کرو۔ امرؤالقیس قسم کھانے کے لیے اُٹھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے روک دیا اور مہلت دی (اور فرمایا: اس بارے میں سوچ سمجھ لو پھر قسم اُٹھانا)۔ وہ دونوں چلے گئے اسی دوران میں زیر نظر پہلی اور دوسری آیت نازل ہوئی (جس میں جھوٹی قسم کے انجام سے خبردار کیا گیا) رسول اللہ ﷺ نے یہ دونوں آیتیں ان کے سامنے پڑھیں تو امرؤالقیس کہنے لگا: حق ہے، جو کچھ میرے پاس ہے بالآخر فانی ہے اور یہ شخص سچ کہتا ہے۔ میں نے اس کی زمین کا کچھ حصہ غصب کر رکھا ہے لیکن مجھے علم نہیں کہ وہ کتنا ہے؟ اب جبکہ یہ صورت ہے تو جتنا یہ چاہتا ہے (اور سمجھتا ہے کہ اس کا حق ہے) لے لے اور اس مقدار کے برابر مزید بھی لے لے چونکہ میں نے اتنی مدت اس کی زمین سے استفادہ کیا ہے اس اثناء میں تیسری زیر نظر آیت بھی نازل ہوئی (جس میں ایمان کے ساتھ عمل صالح کرنے والوں کو ’’حیات طیبہ‘‘ کی بشارت دی گئی ہے)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:95-97
چند اہم نکات
چند اہم نکات: 1۔ سرمایۂ جاوداں: اس مادی دنیا کے مزاج میں فنا ہونا موجود ہے۔ مضبوط ترین عمارتیں، طویل حکومتیں، نہایت قومی انسان اور ان سے بھی مضبوط ہر چیز نے آخر کار کہنہ، فرسودہ اور نابود ہونا ہے۔ بلا استثناء ہر چیز کے لیے زوال ہے لیکن ان موجودات کا رشتہ اگر کسی طرح خدا کی ذات پاک سے قائم ہو جائے اور انھیں اس کے لیے اس کی راہ پر ڈال دیا جائے تو وہ جاودانی رنگ اختیار کر لیتی ہیں کیونکہ اس کی ذاتِ پاک ابدی ہے۔ شہید حیاتِ جاوداں رکھتے ہیں۔ انبیاء، آئمہ حقیقی علماء اور مجاہدین راہِ خدا کی تاریخ جاودانی ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر زیر بحث آیات ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ آؤ اور اپنے سرمایۂ وجود کو فنا ہونے سے بچاؤ اس سرمائے کو اس بنک میں محفوظ کر لو کہ جس میں جتنا بھی زمانہ گذر جائے کسی چیز کے ضائع ہونے کا احتمال نہیں۔ اپنے وسائل اور صلاحیتیں خدا کے لیے مخلوق ِ خدا کے مفاد میں اور اس کی رضا کے حصول کے لیے استعمال میں لاؤ تاکہ وہ ’’عند اللہ‘‘ کا مصداق ہو جائیں اور ’’ماعند اللہ باق‘‘ کے تقاضے کے مطابق باقی رہیں۔ ایک حدیث میں رسول ِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے: اذامات ابن اٰدم انقطع اھلہ الاعن ثلاث صدقۃ جاریہ علم ینتفع بہ و ولد صالح یدعولہ۔ فرزند آدم جب دنیا سے جاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا ہر چیز سے اس کی امید کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور وہ تین چیزیں ہیں: ۱۔ صدقات ِ جاریہ:۔ (لوگوں کی خدمت کی غرض سے اور راہِ خدا میں انجام دیئے جانے والے کاموں کے آثار ِ خیر) ۲۔ وہ علم کہ جس سے لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ۳۔ اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔ ۱؎ سب چیزیں جو اللہ کے لیے اور اس کی راہ میں ہیں اس لیے ابدیت کا رنگ رکھتی ہیں: شتان مابین عملین: عمل تذھب لذتہ وتبقی تبعتہ و عمل تذھب متونتہ ویبقی اجرہ۔ بہت فرق ہے اس عمل میں جس کی لذت ختم ہو جاتی ہے اور باز پرس باقی رہتی ہے اور اس عمل میں کہ جس کی سختی ختم ہوجاتی ہے اور اس کا اجر باقی رہ جاتا ہے۔ ۲؎ 2۔ مرد اور عورت کی برابری:۔ اس میں شک نہیں کہ جسمانی اور روحانی اعتبار سے مرد اور عورت میں کئی لحاظ سے فرق ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی سماجی ذمہ داریاں اور مناصب مختلف ہیں اور بقولے ع ہر کسے را بہر کارے ساختند ہر کسی کو ایک خاص کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ ہر کسی کا اپنا الگ کام ہے لیکن ان میں سے کوئی فرق بھی ان کے مقامِ انسانیت یا بارگاہِ خداوندی میں ان کے مقام کے جدا ہونے کی دلیل نہیں ہے اور اس لحاظ سے دونوں مکمل طور پر برابر ہیں۔ اسی بناء پر جس معیار کی بناء پر ان کےمعنوی روحانی مرتبے کا تعین کیا جاتا ہے وہ ایک سے زیادہ نہیں اور وہ ہے ایمان ، عملِ صالح اور تقوٰی کہ جن میں دونوں یکساں طور پر اپنا مقام پیدا کر سکتے ہیں۔ زیر نظر آیات میں یہ حقیقت صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ عورت کے مقام و مرتبے کے بارے میں بیہودہ گو لوگ گذشتہ زمانے میں جو شک رکھتے تھے یا موجودہ زمانے میں رکھتے ہیں یا جو عورت کے لیے مرد سے کم تر انسانی مقام کے قائل تھے۔ ان آیات میں ان کا منہ بند کر دیا گیا ہے اور ضمناً اس اہم معاشرتی مسئلے کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر واضح کر دیا گیا ہے یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ کوتاہ فکر لوگوں کی سوچ کے برخلاف دینِ ِاسلام مرد کے تفوق کا دین نہیں بلکہ جس قدر اس کا تعلق مردوں سے ہے اسی قدر عورتوں سے بھی ہے۔ مرد اور عورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں صنفیں اعمالِ صالح کی طرف گامزن ہوں اور ان کا قدم مثبت، تعمیری اور اصلاحی ہو اور جذبہ ایمانی سے سرشار ہو تو دونوں یکساں طور پر ’’حیاتِ طیبہ‘‘ کے حامل ہونگے اور دونوں بارگاہِ الٰہی میں مساوی اجر و ثواب سے بہرہ مند ہوںگے۔ اور ان کی اجتماعی حیثیت بھی یکساں ہوگی۔ ہاں البتہ جو ایمان اور عملِ صالح کو معیار قرار دیئے بغیر برتری کی تمنا کرے گا اس کے لیے حیاتِ طیبہ نہیں ہوگی۔ 3۔ عملِ صالح کی جڑ سرچشمۂ ایمان سے سیراب ہوتی ہے: ’’عملِ صالح‘‘ کا مفہوم اس قدر و وسیع ہے کہ تمام --------------------------------------------------- ۱؎ ارشاد ویلمی۔ ۲؎ نہج البلاغہ کلمات قصار صفحہ ۸۲۱۔ --------------------------------------------------- مثبت، مفید، تعمیری اور اصلاحی کام اور پروگرام اس میں شامل ہیں، چاہے وہ علمی ہوں یا ثقافتی، اقتصادی ہوں یا سیاسی اور چاہے وہ فوجی ہوں۔ ایک سائنس دان کہ جس نے انسانوں کے فائدے کے لیے، سالہا سال زحمت و مشقت جھیلی اور کوئی چیز ایجاد کی، وہ شہید کہ جس نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر معرکہ حق و باطل میں شرکت کی اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک نثار کر دیا، وہ با ایمان ماں۔۔۔ جس نے بچہ جننے سے لے کر اس کی پرورش تک تکلیگ برداشت کی ہے وہ علماءِکرام جو اپنی بلند پایہ کتابیں لکھنے کے لیے زحمتیں اور مشقتیں جھیلتے ہیں سب کے کام عملِ صالح کے مفہوم میں شامل ہیں۔ عظیم ترین کارناموں مثلاً انبیاء کی رسالت اور پیامبری سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے کام مثلاً راستے سے چھوٹا سا پھتر ہٹانے تک سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ ہیاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عملِ صالح کے ساتھ ایمان کی شرط کیوں لگائی گئی ہے جبکہ یہ ایمان کے بغیر بھی انجام پا سکتا ہے اور بہت سے مواقع پر ہم نے ایسا ہوتے بھی دیکھا ہے۔ اس سوال کے جواب میں ایک ہی نکتہ قابلِ غور ہے اور وہ یہ کہ اگر جذبہ ایمان نہ ہو تو عموماً عمل آلودہ ہو جاتا ہے اور ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ ایمان کے بغیر انجام پانے والا عمل آلودہ نہ ہو لیکن اگر عمل ِ صالح کی جڑیں توحید پرستی اور ایمان باللہ کے چشمے سے سیراب ہوں تو بہت کم ممکن ہے کہ اس میں تکبر، ریاکاری، خود نمائی، مکر و فریب اور احسان دھرنے کی سی آفات اور بلائیں اس پر اثر انداز ہوں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عموماً قرآن مجید عملِ صالح اور ایمان کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے بیان کرتا ہے کیونکہ ان کا رشتہ نہ ٹوٹنے والا اور ایک عینی حقیقت ہے۔ ضروری ہے کہ ایک مثال کے ذریعے ہم اس مسئلے کو اور واضح کر دیں۔ فرض کیجیے دو ۲ افراد ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی ایک ہسپتال بنا رہا ہے۔ ایک کے اند جذبہ الٰہی کار فرما ہے اور وہ خدمت خلقِ خدا کے لیے یہ کام کر رہا ہے لیکن دوسرے کا مقصد خود نمائی ہے اور وہ اس کے ذریعے معاشرے میں بلند مقام حاصل کرنا چاہتا ہے ہو سکتا ہے ہم سطحی نظر سے دیکھیں تو سوچیں کہ آخر دونوں ہسپتال ہی بنا رہے ہیں اور لوگوں کو تو ان کے عمل کا ایک جیسا فائدہ ہوگا۔ ٹھیک ہے کہ ایک کو اللہ کی طرف سے جزا و ثواب بھی ملے گا اور دوسرے کو نہیں ملے گا لیکن ظاہراً ان کے عمل میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ سوچ ایک سطحی مطالعے کا تنیجہ ہے۔ کچھ مزید غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ خود یہ دونوں عمل مختلف جہات سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں مثلاً پہلا شخص شہر کے ایسے محلے کو منتخب کرے گا کہ جس میں مستضعفین، غریب اور ضرورتمند لوگ زیادہ ہوں۔ بعض اوقات یہ محلہ گمنام سا ہوگا جہاں کوئی بڑی گزرگاہ نہیں پڑتی، اور وہ آمدورفت کا راستہ نہیں ہے لیکن دوسرا شخص ایسا علاقہ تلاش کرےگا جو زیادہ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہے چاہے وہاں ضرورت بہت ہی کم کیوں نہ ہو۔ پہلا شخص عمارت کی ساخت وغیرہ میں مستقبل بعید کو نظر میں رکھے گا اور ایسی بنیادی رکھے گا جو صدیوں باقی رہیں لیکن دوسرا شخص عام طور پر یہ سوچے گا کہ عمارے جلد از جلد کھڑی ہو۔ اس کا افتتاح ہو اور وہ شوروغل مچا سکے۔ اور اس کا مقصد حاصل کر سکے۔ پہلا شخص اس کام کے باطن کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ دوسرا شخص ظاہری ٹیپ ٹاپ کا خیال رکھے گا۔ اسی طرح علاج معالجے کی مختلف اقسام، ڈاکٹروں اور نرسوں کے انتخاب اور اس ہسپتال کی دیگر ضروریات کے انتخاب میں ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہوگا کیونکہ ان کے مقاصد عمل کا اثر ہر مقام پر ہوگا۔ بالفاظ دیگر عمل کو وہ اپنے رنگ میں پیش کریں گے۔ 4۔ ’’حیاتِ طیبہ‘‘ کیا ہے؟ ’’حیات طیبہ‘‘ (پاکیزہ زندگی) کی مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں: بعض نے اسے حلال روزی کے معنی میں لیا ہے۔ بعض نے قناعت اور نصیب پر راضی رہنا مراد لیا ہے۔ برض نے روزانہ کا رزْ سمجھا ہے۔ بعض نے حلال روزی کے ساتھ بجا لائی جانے والی عبادت کا مفہوم لیا ہے۔ اور بعض نے اطاعت ِ حکم خدا کی توفیق وغیرہ کا مطلب لیا ہے۔ لیکن شاید یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ حیاتِ طیبہ کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ یہ سب مطالب اور ان کے علاوہ دوسری چیزیں بھی اس کے اندر سموئی ہوئی ہیں۔ پاکیزہ زندگی کہ جوہر لحاظ سے آلودگی، ظلم، خیانت، عداوت، ذلت، پریشانی اور بد بختی سے پاک ہو ایسی زندگی کہ جس کے پاک و شفاف چشمے میں ایسی کوئی آلودگی نہ ہو کہ اس کا پانی انسان کے حلق کے لیے ناگوار ہو جائے۔ البتہ اس سے پہلے جو گفتگو آئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حیات ِ طیبہ اس دنیا کے لیے مربوط ہے اور جزائے احسن آخرت کے ساتھ۔ یہ بات جاذب ِ نظر ہے کہ نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ: وسئل عن قولہ تعالی: ’’فلنحیینہ حیٰوۃ طیبۃ‘‘ فقال، ھی القناعۃ آپ ﷺ سے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا گیا فلنحیینہ حیٰوۃ طیبۃ آپ نے فرمایا۔ یہ قناعت ہے۔ ۱؎ اس میں شک نہیں کہ اس تفسیر کا مطلب یہ نہیں کہ ’’حیات طیبہ‘‘ کا مفہوف قناعت میں محدود ہے بلکہ اس میں ایک مصداق بیان کیا گیا ہے لیکن یہ بات واضح مصداق ہے کیونکہ اگر انسان کو ساری دنیا دے دی جائے لیکن اس سے قناعت کی روح لے لی جائے تو وہ ہمیشہ تکلیف و آزار اور رنج و پریشانی میں رہے گا اس کے برعکس اگر انسان میں جذبہ قناعت -------------------------------------------------- ۱؎ نہج البلاغہ، کلمات قصاء ص ۲۲۹۔ -------------------------------------------------- موجود ہو اور وہ حرص و طمع سے محفوظ ہو تو وہ ہمیشہ آسودہ خاطر اور خوش و خرم رہے گا۔ اسی طرح بعض دیگر روایات میں بتایا گیا ہے کہ حیاتِ طیبہ یہ ہے کہ انسان اس پر راضی رہے، جو کچھ خدا نے دیا ہے۔ ان روایات کا مفہوم ’’قناعت‘‘ کے قریب قریب ہے۔ البتہ معافی کو ان مفاہیم میں ہر گز منحصر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ رضا و قناعت کو بیان کرنے کا ہیاں اصلی مقصد حرص و آزار اور طمع و ہوا پرستی کوختم کرنا ہے کیونکہ یہ ہی تجاوز، لوٹ کھسوٹ، جنگوں اور خوں ریزی کے عامل ہیں اور یہ ہی بعض اوقات ذلت و رسوائی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:95-97
سوره نحل/ آیه 95 تا 97
95) وَلَا تَشْتَـرُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا ۚ اِنَّمَا عِنْدَ اللّـٰهِ هُوَ خَيْـرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ 96) مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللّـٰهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّـذِيْنَ صَبَـرُوٓا اَجْرَهُـمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ 97) مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّـهٝ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّـهُـمْ اَجْرَهُـمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ ترجمہ: 95) اللہ کے عہد کو (کبھی بھی) تھوڑی سی قیمت کے بدلے نہ بیچو (اور اس کے لیے ہر قیمت بے وقعت ہے) اور اگر تم جانو تو جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی بہتر ہے۔ 96) (کیونکہ) جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ فانی ہے لیکن جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور جو لوگ صبر و استقامت اختیار کریں گے ہم انھیں بہترین اعمال کی جزا دیں گے۔ 97) مرد ہو یا عورت جو کوئی بھی نیک عمل کریگا اس حالت میں کہ وہ مومن ہو ہم اسے حیات پاکیزہ عطا کریں گے اور انھیں ان کی سی جزا دیں گے جنھوں نے بہترین اعمال انجام دیئے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:95-97
حیاتِ طیبہ کی بنیاد
تفسیر: حیاتِ طیبہ کی بنیاد گذشتہ آیات میں پیمان شکنی اور جھوٹی قسم کی قباحت کے بارے میں گفتگو تھی۔ اس کے تسلسل میں زیر بحث پہلی آیت میں اسی مطلب کی تاکید کی گئی ہے البتہ فرق یہ ہے کہ گذشتہ آیات میں پیمان شکنی اور جھوٹی قسم کا سبب دشمن کی زیادہ تعداد سے مرعوب ہونا بیان کیا گیا تھا جبکہ ہیاں بے قیمت مادی مفادات کے حصول کا مسئلہ درپیش ہے اسی لیے فرمایا گیا ہے: عہد الٰہی کا کبھی بھی کم قیمت پر سودا نہ کرو (وَلَا تَشْتَـرُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا)۔ یعنی عہد الٰہی کی جو بھی قیمت لگاؤ وہ حقیر اور ناچیز ہے ہیاں تک کہ اس کے بدلے تمھیں ساری دنیا بھی مل جائے تو ایفائے عہد الٰہی کے ایک لمحے کی بھی قیمت کے برابر نہیں ہے۔ اس کے بطور رد دلیل مزید فرمایا گیا ہے: جو کچھ اللہ کے پاس ہے تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جان لو (اِنَّمَا عِنْدَ اللّـٰهِ هُوَ خَيْـرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ)۔ اگلی آیت میں اس بہتری کی دلیل یوں بیان کی گئی ہے: جو کچھ تمھارے پاس ہے آخر کار فانی ہے اور نابود ہو جائےگا۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی اور جاودان ہے۔ (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللّـٰهِ بَاقٍ)۔ مادی مفادات ظاہراً کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں پانی کے بلبلے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے جبکہ اللہ کی جزا اس کی ذات کی طرح جاوداں ہے اور ان سب سے برتروبالا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: جو لوگ ہمارے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے (خصوصاً قسموں اور عہد و پیمان کے معاملے میں) صبرواستقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم انھیں ان کے بہترین عمل کی جزا دیں گے (َلَنَجْزِيَنَّ الَّـذِيْنَ صَبَـرُوٓا اَجْرَهُـمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ)۔ ’’احسن‘‘ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے تمام نیک اعمال ایک جیسے نہیں ہیں بعض اچھے ہیں اور بعض بہت اچھے ہیں لیکن اللہ ان کے سارے اعمال کو زیادہ اچھے اعمال کے حساب میں رکھے گا اور انھیں اچھے اعمال والی جزا دے گا اور یہ انتہائی عظمت کی بات ہے اس ک مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کئی قسم کا مال و اسباب بیچنے کے لیے لاتا ہے بعض چیزیں بہت اعلیٰ ہیں کچھ اچھی ہیں اور کچھ درمیانی سہی۔ لیکن خریدار سب چیزوں کو بہت بڑھیا والی کی قیمت پر خرید لیتا ہے۔ ضمناً ’’ولنجزین الذین صبروا۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس نکتے کی طرف اشارے سے خالی نہیں ہے کہ راہِ اطاعت میں صبرواستقامت دکھانا، خصوصاً عہدوپیمان کا پابند ہونا، انسان کے بہترین اعمال میں سے ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں:- الصبر من ایمان کالرأس من الجسد ولا خیر فی جسد لا رأس معہ ولا فی ایمان لا صبر معہ صبرواستقامت ایمان کے لیے ایسے ہے جیسے بدن کے لیے سر۔ بدن میں سر کے بغیر کوئی خوبی کی بات نہیں اور وہ سرے کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح ایمان کی بھی صبر کے بغیر کوئی حیثیت نہیں۔۱؎ اس کے بعد ایک ہمہ گیر قانون کے طور پر ایمان کے ساتھ اعمالِ صالح کی انجام دہی کا نتیجہ اس جہان کے لیے اور دوسرے جہان کے لیے بیان کیا گیا ہے چاہے کوئی بھی شخص کسی حالت میں بھی ایمان کے ساتھ اعمالِ صالح بجا لائے قرآن اس ے بارے میں کہتا ہے: مرد ہو یا عورت، جو کوئی بھی حالتِ ایمان میں نیک عمل انجام دے ہم انھیں بہترین اعمال کی جزا دیں گے۔ (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّـهٝ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّـهُـمْ اَجْرَهُـمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُـوْايَعْمَلُوْنَ)۔ گویا معیار صرف ایمان اور اس کے نتیجے میں انجام دیئے جانے والے نیک اعمال ہیں اس کے علاوہ کوئی شرط نہیں۔ ------------------------------------------------- ۱؎ نہج البلاغہ، کلمات قصار ص ۷۸۲ ------------------------------------------------- نہ سن وسال کا مسئلہ ہے، نہ قوم و قبیلے کا نہ جنس و صنف کا اور نہ معاشرے میں مقام و مرتبے کا وہ عمل صالح جو ایمان کی پیداوار ہو، اس جہان میں اس کا نتیجہ ’’حیاتِ طیبہ‘‘ ہے۔ یعنی اس سے ایسا معاشرہ وجود پاتا ہے جس میں آرام و سکون ہو امن و خوشحالی ہو، صلح وآشتی ہوا وہ تعاون و محبت ہو۔ ایسا معاشرہ جو انسان ساز اور اصلاحی مفاہیم کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے سے اسی بدحالی اور ایسے مصائب اور رنج و محن ختم ہو جاتے ہیں کہ جو استکبار، ظلم، طغیان، خود غرضی اور ہوس پرستی کی پیداوار ہوتے ہیں اور جن کے باعث آسمانِ حیات تیزوتار ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمان اور عملِ صالح کی بنیاد پر وجود میں آنے والا معاشرہ ان سب مشکلات اور قباحتوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ ایک طرف تو امن و خوشحالی کا یہ دور دورہ ہوتا ہے اور دوسری طرف خدا انھیں ’’ان کے بہترین اعمال کے مطابق جزا و ثواب دے گا۔‘‘ اور اس کی تفسیر گذشتہ آیات میں گزر چکی ہے۔