وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
With Allah rests guidance to the straight path, and some of the paths are devious, and had He wished He would have guided you all.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:9
[Pooya/Ali Commentary 16:9] Aqa Mahdi Puya says: The purpose of taking the responsibility of showing a straight way is to make the journey unto the destination easy for the people. There are crooked ways also. Allah does not force any one to follow the true way because He has given a free will to every human being who should study His signs as visible in nature as well as those expressed through revelation so as to walk on the true path. In His infinite mercy He has shown the right path and made it distinct in the midst of crooked paths.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:9-13
سوره نحل/ آیه 9 - 13
۹۔ وَعَلَی اللهِ قَصْدُ السَّبِیلِ وَمِنْھَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَھَدَاکُمْ اٴَجْمَعِینَ۔ ۱۰۔ھُوَ الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً لَکُمْ مِنْہُ شَرَابٌ وَمِنْہُ شَجَرٌ فِیہِ تُسِیمُونَ ۔ ۱۱۔ یُنْبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُونَ وَالنَّخِیلَ وَالْاٴَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ۔ ۱۲۔ وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِاٴَمْرِہِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ۔ ۱۳۔ وَمَا ذَرَاٴَ لَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ مُخْتَلِفًا اٴَلْوَانُہُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَذَّکَّرُونَ ۔ ترجمہ ۹۔خدا کے ذمہ ہے کہ وہ بندوں کو راہ راست کی نشاندہی کرے البتہ بعض راستے گمراہی کے ہیں اور اگر خدا چاہے تو تم سب کو ( جبری طور) ہدایت کرے ( لیکن مجبور کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ) ۔ ۱۰۔وہ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی بھیجا کہ جسے تم پیتے ہو نیز یہ پودے اور درخت بھی اسے سے اگتے ہیں کہ جنھیں چرنے کے لئے تم اپنے جانور لے کر جاتے ہو ۔ ۱۱۔اس( بارش کے پانی ہی ) سے خدا تمہاری کھیتیاں اگاتا ہے اسی سے وہ تمہارے لئے زیتون ، کھجور انگور اور ہر قسم کے پھل اگا تا ہے ۔ یقینا گور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں واضح نشانی موجود ہے ۔ ۱۲۔ اس نے رات و دن اور سورج و چاند کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے نیز ستاربھی اس کے حکم سے تمہارے لئے مسخر ہیں اس میں ان لوگوں کے لئے (عظمت ِخدا کی ) نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں ۔ ۱۳۔ (ان کے علاوہ ) جو رنگا رنگ مخلوق اس زمین میں پیدا کی گئی ہے اسے بھی ( تمہارے حکم کے سامنے ) مسخر کردیا گیا ہے اس میں ان لوگوں کے لئے واضح نشانی ہے جو متذکر ہوتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:9-13
سب چیزیں انسان کے دستِ تسخیر میں ہیں
سب چیزیں انسان کے دستِ تسخیر میں ہیں : گذشتہ آیات میں خدا کی مختلف نعمتوں کا ذکر تھا زیر نظر آیات میں بھی خدا بعض نہایت اہم نعمتوں کا ذکر ہے ۔ ایک بہت اہم معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا کے ذمہ ہے کہ لوگوں کو اس صراط مستقیم کی ہدایت کرے جس میں کوئی انحراف اور کجی نہیں ہے ۔ ( وَعَلَی اللهِ قَصْدُ السَّبِیل) ۔ ”قصد“ راستہ صاف ہونے کے معنی میں ہے لہٰذا ”قصد السبیل“ کا معنی ”سیدھا راستہ “ ہو گا یعنی وہ راستہ جس میں انحراف اور گمراہی نہ ہو ۔۱ اس بارے میں کہ یہ ”سیدھا راستہ“ تکوینی پہلو سے ہے یا تشریعی پہلو سے ، اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں لیکن کوئی مانع نہیں کہ اس میں دونوں پہلو شامل ہوں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ خدا نے انسان کو مختلف توانائیاں عطا کی ہیں اور اسے طرح طرح کی استعدادیں دی ہیں تاکہ تکامل و ارتقاء میں راہ میں اس کی مدد کی جائے کیونکہ تکامل و ارتقاء اس کا مقصدِ خلقت ہے اسی طرح نباتات اور دیگر مختلف جانوروں کو بھی اس ہدف تک پہنچنے کے لئے ضروری تونائیاں عطا کی ہیں ۔فرق یہ ہے کہ انسان اپنے ارادے کے ساتھ آگے بڑھ تا ہے ، جب کہ بناتات او ر جانور بے اختیار اپنے ہدف کی طرف جاتے ہیں ۔ نیز تکامل انسان کی قوسِ صعودی کا بھی دیگر جانداروں سے کوئی موازنہ نہیں ہے ۔ اس طرح خدا تعالیٰ نے خلقت اور تکوین کے اعتبار سے عقل و استعداد اور دیگر لازمی توانائیاں عطا کرکے اس صراط مستقیم پر چلنے کے لئے تیار کیا ہے ۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو وحی ِآسمانی ، درکار تعلیمات اور انسانی ضرورت کے قوانین کے ساتھ بھیجا تاکہ تشریعی لحاظ سے صحیح اور غلط راستہ کو جدا جدا کرکے دکھادیںاور اس راستے چلنے کے لئے انسان کے شوق کو ابھاریں اور اسے انحرافی راستوں سے باز رکھیں یہ بات جاذب نظر کہ مندرجہ بالا آیت میں خدا تعالیٰ نے اس امر کو اپنا ایک فریضہ شمار کیا ہے ۔ اور ” علی اللہ “ ( خدا پر لازم ہے ) الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قرآن کی آیات میں ہیں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں ۔مثلاً( علینا للھدیٰ ) ہم پر لازم ہے کہ ہم انسان کی ہدایت کریں ، ( لیل ۔ ۱۲) اگر ہم ”علی اللہ قصد السبیل “ کے مفہوم کی وسعت پر غورکریں اور تمام مادی اور روحانی توانائیاں جو خلقت انسان اور اس کی تعلیم و پر ورش میں استعمال ہوئی ہیں کے بارے میں سوچیں تو ہمیں ” قصد السبیل “ کی عظمت کا اندازہ ہو گا کہ جو تمام نعمتوں سے بر تر ہے ۔ انحرافی راستے چونکہ بہت زیادہ ہیں اس لئے قرآن اگلے مرحلے پر انسان کو بیدا رکرتے ہوئے کہتا ہے : ان راستوں میںسے بعض انحرافی ہیں (ومنھا جائز)2 انسان کے کمال اور ارتقاء کے لئے چونکہ اختیار و اراد ہ کی آزادی اہم ترین عامل ہے لہٰذا قرآن ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے ” اگر خدا چاہتا تو ہم سب کو زبر دستی راہ راست کی ہدایت کرتا“ یہاں تک کہ تم ایک قدم آگےاس سے نہ رکھ سکتے (ولو شاء لھداکم اجمعین )لیکن اس نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ جبری ہدایت نہ باعث افتخار ہے اور نہ تکامل و ارتقاء کاذریعہ اس نے تمہیں آزادی دی ہے تاکہ تم یہ راستہ اپنے قدموں سے طے کرو اور اوجِ کمال تک جا پہنچو ۔ قرآن کا جملہ ضمنی طور پر اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر انسانوں کا ایک حصہ منحرف راستے کی طرف چل پڑتا ہے تو اس سے یہ وہم پیدا نہ ہو کہ ان کے مقابلے میں خدا مغلوب ہو گیا ہے بلکہ اس کی خواہش اور تقاجائے حکمت ہے کہ انسان آزاد ہےں ۔ اگلی آیت میں بھی مادی نعمت کا ذکر ہے تاکہ انسانوں کے احساس شکر کو ابھارا جائے اور ان کے دلوں میں عشق ِ الہٰی کے نور سے اجالا کیا جائے اور انھیں ان نعمتوں کے عطا کرنے والے کی زیادہ سے زیادہ معرفت کی دعوت دی جائے ۔ قرآن کہتا ہے : وہ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا(ھُوَ الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً ) ۔حیات بخش ،میٹھا ، صاف شفاف اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک پانی جسے تم پیتے ہو ( لَکُمْ مِنْہُ شَرَابٌ) ۔ اور اسی سے پودے اور درخت نکلتے ہیں کہ جنہیں چرنے کے لئے تم اپنے جانوربھیجتے ہو ( وَمِنْہُ شَجَرٌ فِیہِ تُسِیمُونَ) ۔ ”تسیمون“ ”اسامہ“ کے مادہ سے جانروں کو چرانے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جانور زمین کے پودوں سے بی استفادہ کرتے ہیں اور درختوں کے پتوں سے بھی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ عربی لغت میں ”شجر“ کا ایک وسیع مفہوم ہے ۔ یہ لفظ درخت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اورپودے کے لئے بھی اس میں شک نہیں کہ بارش کا فا ئدہ یہی نہیں کہ اس کا پانی انسانوں کے پینے اور پودوں کے اگنے کے کام آتا ہے بلکہ اس سے ہوا صاف ہوجاتی ہے انسانی جسم کا درکار طوبت او ر نمی حاصل ہوتی ہے انسانی تنفس میں سہولت کا باعث ہے اور اسی طرح اس بارش کے اور بے شمار فائدے ہیں لیکن چونکہ مذکورہ دوباتیں زیادہ اہم تھیں اس لئے فقط انہی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ قرآ ن بات جاری رکھتے ہوئے کہتاہے :بارش کے پانی ہی سے تمہاری کھیتیاں اگاتا ہے ( یُنْبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُونَ وَالنَّخِیلَ وَالْاٴَعْنَابَ ) مختصر یہ کہ تمام پھل اسی سے اگتے ہیں (وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَات) ۔ یقینا یہ رنگا رنگ پھل اور طرح طرح کی کھیتیاں خدا کی طرف سے ان لوگوں کے لئے واضح نشانیاں ہیں جو صاحب فکر ہیں ( إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔ ”زرع“ کے مفہوم میں ہرطرح کی زراعت شامل ہے ”زیتون “ ایک خاص درخت کا نام ہے اور اس درخت کے پھل کو بھی ”زیتوں “ کہتے ہیں ( لیکن بعض مفسرین کے نزدیک ”زیتون“ صرف درخت نام ہے اور ” ززیتونہ“ اس کے پھل کانام ہے جبکہ سورہ ٴ کی آیت ۳۵ میں لفظ” زیتونہ“ خود درخت کے لئے استعمال ہوا ہے ) ۔ ”نخیل“ کا معنی ہے ”کھجور کا درخت“یہ لفظ مفرد اور جمع دونوںمعانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ”اعناف “ جمع ہے” عنب “کی جس کا معنی انگور ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے تمام پھلوں میں سے صرف ان تین پھلوں زیتون ، کھجوراور انگور کا ذکر کیوں کیا ہے اس کی دلیل انشاء اللہ آپ اسی آیت میں پڑھیں گے ۔ اس کے بعد اس نعمت کی طرف اشارہ ہے کہ اس جہان کے مختلف موجود ات انسان کے لئے مسخر کردئے گئے ہیں ، ارشاد ِ الہٰی ہے اللہ نے تمہارے لئے رات اور دن کو مسخر کردیا ہے اور اسی طرح سورج اور چاند کو بھی ( وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ) ۔ اسی طرح ستارے بھی حکم انسان کے سامنے مسخر ہیں ( وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِاٴَمْرِہِ ) ۔ ان امور میں یقینا خدا اور اس کی خلقت کی عظمت کی نشانیاں ہیں ان کے لئے جو عقل و فکر رکھتے ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ) ۔ سورہ رعداور سورہ ابراہیم کے ذیل میں ہم کہہ چکے ہیں کہ انسان کے لئے موجودات مسخر ہونے کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ موجودات انسانی فائدے کے لئے مصروف خدمت ہوں اور انسان کو اس بات کا امکان فراہم کریں کہ وہ ان سے استفادہ کرسکے ۔اسی بناء پر رات ، دن ، سورج، چاند اور ستاروں میں سے ہر کوئی انسان کی زندگی پر اثر انداز ہو تے ہیں اور انسان ان سے فائدہ اٹھا تا ہے اس لحاظ سے یہ موجودات انسان کے لئے مسخر ہیں ۔ یہ جاذب نظر تعبیر کہ موجودات حکم ِخدا سے انسان کے لئے مسخر ہیں ۔ اسلام اور قررآن کی نگاہ میں انسان کے مقام اور حقیقی عظمت کو واضح کرتی ہے اور اس کے خلیفة اللہ ہونے کی اہلیت کا اظہار کرتی ہے اس تعبیر کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خدا کی گونا گوں نعمتوں کاذکر کرکے انسان کے جذبہٴ تشکر کو ابھار ا جائے او ر وہ اس عمدہ و بدیع نظام کی اپنے لئے تسخیر کو دیکھتے ہوں خدا کے نزدیک ہو جائے ۔ اسی لئے آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے : اس تسخیر کے لئے ان میں نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں ۔ اسرار تسخیر سے زیادہآگاہی کے لئے سورہ ٴ ابراہیم کی آیات ۳۲ اور ۳۳ کی تفسیر دیکھئے ۔ ان کے علاوہ ” زمین میں پیدا کی گئی مخلوقات کو بھی تمہارے لئے مسخر کردیا گیا ہے “ ( وَمَا ذَرَاٴَ لَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ) ۔ رنگا رنگ کی مخلوقات ( مُخْتَلِفًا اٴَلْوَانُہُ) ۔طرح طرح کے لباس ، مختلف قسم کی غذائیں ، پاکیزہ بیویاں، آرام و آسائش کے وسائل ، قسم قسم کے معدنیات ، زیر زمین و پائے زمین مفید چیزیں اور دوسری نعمتیں ان میں بی واضح نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ جاتے ہیں “ ( إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَذَّکَّرُونَ ) ۔ ۱۔بعض بزرگ مفسرین مثلاً علامہ طباطبائی نے ” المیزان “ میں ” قصد “ کو ”قاصد“ کے معنی میں لیا ہے کہ جو ”جائر “( حق سے منحرف )کا الٹ ہے ۔ 2۔”منھا“ کی ضمیر ”سبیل “ کی طرف لوٹتی ہے اور سبیل موٴنث مجازی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:9-13
۱۔ مادی اور رروحانی نعمتیں
۱۔ مادی اور رروحانی نعمتیں :یہ بات جاذب توجہ ہے کہ مندرجہ بالاآیات میں مادی و روحانی نعمتیں اس طرح آپس میں ملی جلی ہوئی ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اس کے باوجود آیات کے اس سلسلے میں مادی اور روحانی نعمتوں کے بارے میں لب و لہجہ میں ایک فرق ضرور ہے ۔ کسی موقع پر نہیں کہا گیا کہ خدا پر لازم ہے کہ تمہارے لئے فلاں روزی پیدا کرے لیکن راہ راست کی ہدایت کے بارے میں فرمایاگیاہے کہ خداپر لازم ہے کہ وہ تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کرے اور اس راستے کو طے کرنے کے لئے درکار قوت و توانائی بھی تمہیں عطا کرے ، تکوینی لحاظ سے بھی او ر تشریعی لحاظ سے بھی ۔اصولی طور پر قرآن کی یہ روش ہی نہیں کہ وہ کسی بحث کے کسی ایک پہلو پر ہی نظر رکھے ۔یہاں تک کہ درختوں اور پھلوں کی خلقت اور چاند سورج کی تسخیر ہونے کی بات کرتے ہوئے بھی معنوی اور روحانی ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے یہ مادی نعمتیں بھی خلقت و خالق کی عظمت کی نشانی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:9-13
۲۔ زیتون ، کھجور اور نگور ہی کا ذکر کیوں؟
۲۔ زیتون ، کھجور اور نگور ہی کا ذکر کیوں؟ ہوسکتا ہے یہ سمجھا جائے کہ قرآن نے مندر جہ بالاآیات میں طرح طرح کے پھلوں میں سے زیتون ،کھجوراور انگور کا اذکر اس لئے کیا ہے کہ نزول قرآن کے علاقے میں موجود تھے لیکن قرآن کے عالمی او ر جاودانی ہونے اور اس کی تعبیرات کی گواہی کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ مطلب اس سے کہیں اونچا ہے ۔ غذا شناس وہ عظیم سائندان جنہوں نے اپنی عمر کے سالہا سال مختلف پھلوں کے خواص کے مطالعے میں صرف کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بہت کم پھل ایسے ہیں جو غذائیت کے اعتبارسے انسانی جسم کے لئے ان تین پھلوں سے جتنے مفید اور موٴثر ہو ں وہ کہتے ہیں کہ زیتون کا تیل بدن کے جلے ہوئے حصے کے پھر بننے کے لئے بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے اس میں حرارت بہت زیادہ ہوتی ہے اسی بناء پر یہ ایک قوت بخش شے ہے جو لوگ اپنے صحت و سلامتی کی حفاظت چاہتے ہیں انھیں اس اکسیر سے استفادہ کرنا چاہئیے ۔ زیتون کا تین انسان کے جگر کا مخلص دوست ہے گروں صفراکے عوارض اور گردے اور جگر کے درد دفع کرنے کے لئے خشکی کو دور کرنے کے لئے بہت ہی موٴثر ہے اسی بناء پر اسلامی روایات میں بھی اس کی بہت مدح و ثنااور توصیف کی گئی ہے ۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام) سے زیتون کے بارے میں مروی ہے : بڑی اچھی غذا ہے منھ کو خوشبودار بنادیتی ہے ، بلغم کو دور کرتی ہے چہرے کو صفائی اور تازگی بخشتی ہے ۔اعصاب کو تقویت دیتی ہے بیماری اور درد کو ختم کردیتی ہے اور غصّے کی آگ کو بجھادیتی ہے ۔3 اسی طرح میڈیکل سائنس اور علم غذا شناسی کی ترقی نے دوا کی حیثیت سے کھجورکی اہمیت کو بھی درجہٴ ثبوت تک پہنچا دیا ہے ۔ کھجور میں موجود کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی او ر پختگی میں اہم کردار کرتے ہیں نیز اس میں فاسفر( Phosphore)بھی موجود ہے ۔ جس سے دماغ کے اصلی عناصر کی تشکیل ہوتی ہے ۔ یہ اعصاب کو کمزوری اور خستگی سے بھی بچا تاہے اور قوت بینائی کو زیادہ کرتی ہے ۔ اس میں پوٹا شیم بھی موجود ہے جبکہ پوٹا شیم کی کمی ہی بدن میں کمی ہی زخم معدہ کی حقیقی وجہ سمجھی جاتی ہے نیز اس کا وجود پٹھوں اور بدن کے تانے بانے کے لئے بہت ہی قیمتی ہے دور حاضرکے غذا شناسوں میں یہ بات مشہور ہے کہ کھجور سرطان کو روکتی ہے کیونکہ اس سلسلے میں جو اعداد شمار مہیا ہوئے ہیں وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ جن علاقوں میں کھجور یں زیادہ کھائی جاتی ہیں وہ سرطان کی بیمای میں کم مبتلا ہوئے ہیں ۔ عررب کے بدو اور صحرا نشین جن کی زندگی فقر و فاقہ میں گزرتی ہے کھجور کھانے کے وجہ سے کبھی سرطان میں مبتلانہیں ہوئے ۔ اس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ کھجور میں میگینشم(Magnesium)موجود ہے ۔ خرمے میں شکر بہت ہے اور یہ شکر کی زیادہ صحیح او ربہتر قسم ہے یہاں تک کہ بعض مواقع پر شوگر کی بیماری میں مبتلاشخص بھی آرام کے ساتھ اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔ سائنس دانوں نے کھجور میں تیرہ قسم کی حیاتی مادے اور پانچ طرح کے مٹامن معلوم کئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے یہ ایک نہایت قیمتی اور بھر پور غذا ہے 4 اسی بناء پر اسلامی روایات میں میں بھی اس کے بارے میں بہت زیادہ تاکید نظر آتی ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : کل التمر فان فیہ شفاء من الادوائ کھجور کھاوٴکہ اس میں بہت سی بیماریوں کا علاج ہے ۔ نیز یہ بھی روایت ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی غذا اکثر اوقات روٹی اور کھجور پر مشتمل ہوتی تھی ۔ ایک اور روایت ہے کہ :ْ جس گھر میں کھجورکا درخت نہیں اس کے رہنے والے در حقیت بھوکے ہیں ۔5 سورہ ٴ مریم کی آیات میں بھی آئے گاکہ حضرت مریم جس بیابان میں تھیں وہاںکچھ بھی نہ تھا جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں تازہ کھجور عطا کیں یہ اس طر ف اشارہ ہے کہ زچہ کے لئے تازہ کھجور بہترین وغذاوٴں میں سے ہے ۔یہاں تک کہ اس آیت می ذیل میں آنے والی روایات کے مطابق اس حالت میں عورتوں کے لئے بہترین دوا کھجور ہی ہے ۔ 6 باقی رہا انگور تو غذا شناس ماہرین کے بقول یہ اس قدر موثر عوامل رکھتا ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک طبیعی میڈیکل سٹور ہے ۔ علاوہ ازیں انگور خواص کے لحاظ سے ماں کے دودھ کے قریب قریب ہے یعنی ایک مکمل غذا ہے انگور جس میں گوشت سے دگنی حرارت پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ یہ زہر کی ضد اور کاٹ ہے خون کی صفائی، جوڑوں کے درد کے علاج ورم کے آرام اور خون بڑھانے کے لئے یہ ایک موٴثر دوا ہے ۔ انگور معدہ اور آنتوں جو غیر مشکوک کردیتا ہے یہ نشاط آفریں ہے ، اور رنج و غم کو بر طرف کردینے والا اعصاب کو تقویت پہنچا تا ہے اس میں موجود مختلف وٹا من انسان کو قوت بخشتے ہیں انگور ایک نہایت قیمتی غذا ہونے کے علاوہ جراثیم کشی کی بہت صلاحیت رکھتا ہے یہاں تک کہ سر طان کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی یہ ایک موٴثر عامل ہے ۔ 7 اسی بناء پر رسول اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) سے مروی ایک حدیث کے مطابق : خیرطعامکم الخبز و خیر فاکھتکم العنب تمہاری بہترین غذا روٹی اور بہترین پھل انگور ہے ۔8 ان پھلوں کے بارے میں غذا شناسوں نے جوکچھ کہا ہے اور فراواں روایات جو ان کے بارے میں اس اسلامی مصادر میں آئی ہیں ہم وہ سب کچھ بیان کرنے لگیں تو یقینا روشِ تفسیر سے ہٹ جائیں گے ۔ مقصد یہ تھا کہ ہم واضح کریں کہ قرآن نے ان تین پھلوں کا ذکر بلاوجہ نہیں کیا اورشاید اس زمانے میں ان کے فوائد کا اہم حصہ لوگوں سے مخفی تھا ۔ ۱۔بعض بزرگ مفسرین مثلاً علامہ طباطبائی نے ” المیزان “ میں ” قصد “ کو ”قاصد“ کے معنی میں لیا ہے کہ جو ”جائر “( حق سے منحرف )کا الٹ ہے ۔ 2۔”منھا“ کی ضمیر ”سبیل “ کی طرف لوٹتی ہے اور سبیل موٴنث مجازی ہے ۔ 3۔اسلام پزشک بی دارد۔ 4۔کتاب ”اولین دانش گاہ وآخرین پیامبر “جلد ۷ ص ۶۵ ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس کتاب کی ساتوین جلد میں غذاوٴں ہی کے خواص بیان کئے گئے ہیں۔ اس میں علاج کے طور پر کھجور اور خرما کے بارے میں و کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا مبالعہ ان دونوں غذاوٴں کیاہمیت سے آشنا کرتاہے ۔ 5۔سفینة البحار ، جلد ۱ ص ۱۲۵۔ 6۔سفینة البحار جلد ص۱۲۵۔ 7۔اولین دانشگاہ اور آخرین پیامبر ۔جلد۷ ص ۱۰۱و ص۱۴۲۔ 8۔اسلام پزشک بی دارد ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:9-13
۳۔ تفکر تعقل اور تذکر
۳۔ تفکر تعقل اور تذکر:زہر بحث آیات میں نعمات الٰہی کو تین حصوں میں بیان کرنے کے بعد لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے فرق یہ ہے کہ ایک موقع پر قرآن کہتا ہے : ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ دوسری جگہ کہتا ہے : اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ تیسری جگہ کہتا فرماتا ہے : ان میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو متذکر ہوتے ہیں ۔ تعبیر کا یہ اختلاف یقینا از راہِ تعفن نہیں ہے بلکہ جیسا کہ قرآن کی روش سے واضح ہوتا ہے ان میں سے ہر ایک کسی نکتے کی طرف اشارہ ہے شاید فرق کا پہلو یہ ہے کہ زمی کی انگا رنگ نعمتوں کا مسئلہ اس قدر واضح ہے کہ وہاں صرف تذکر اور یادہانی کافی ہے لیکن زراعت کا معاملہ اور زیتون کھجور ، انگور اور کلی طور پر پھلوں کا مسئلہ ایسا ہے جس پر کچھ غور و فکر کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی غذائی خواص اور علاج کے لئے ان کی اہمیت سے آشنا ئی ہو سکے لہٰذا اس ضمن میں ”تفکر“ کی دعوت دی گئی ہے ۔ رہا سورج ، چاند اور ستاروںکی تسخیر کا مسئلہ ، نیز رات اور دن کے اسرار کا معا ملہ تو اس کے لئے زیادہ سوچ بچار کی ضرورت ہے لہٰذا ”تعقل“ کا ذکر آیا ہے گویا یہ عام غور و فکر سے بالا تر مسئلہ ہے ۔ بہت حال قرآن کا روئے سخن ہر جگہ سوچ بچار کرنے والوں ، اہل فکر و نظر اور صاحبان ِ عقل کی طرف ہے ۔ اس طرف توجہ کریں کہ قرآن ایک ایسے ماحول میں اترا کہ جہاں جہالت کے سوا کسی چیز کی حکمرانی نہ تھی اس سے تعبیرات کی عظمت اور آشکار ہوتی ہے یہ امر ان لوگوں کے لئے دندان شکن جواب بھی ہے جو بعض خرافاتی مذاہب کی وجہ سے سچے مذاہب پر بھی سرخ لکیر کھینچ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مذہب توافیون ہے اور یہ فکر و نظر اور عقل و فہم کو بے کار کردیتا ہے اور خدا پر ایمان لانا آدمی کی جہالت کی پیدا وار ہے قرآن کی ایسی آیات تقریباً تمام سورتوں میں موجود ہیں جو وضاحت سے کہہ رہی ہے کہ سچا مذہب سوچ بچار اور تعقل کی پیدا وار ہے اور اسلام ہر مقام پر سرو کارہی اہل فکر و نظر اور اولو الالباب سے رکھتا ہے نہ کہ جاہل خرافات بکنے والوں اور بے منطق روشن فکروں سے ۔