وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
The day We shall raise a witness from every nation, the faithless will not be permitted [to speak], nor will they be asked to propitiate [Allah].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:84
[Pooya/Ali Commentary 16:84] Refer to the commentary of al Baqarah: 143; Nisa . 41 and Hud: 18 and verse 89 of this surah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 16:84-89
1. Witness of each generation will be the Imam (Divine Light) of his time who will certify as to his being faithful or otherwise. 2. Who can claim this knowledge except the Immaculate, and rightful successor of the Prophet? Compare St. John 7:15 – 17. “And Jews marvelled saying, ‘How knoweth this man letters having never learnt?’ Jesus answered them and said, ‘My doctrine is not mine but His which sent me. If any man will do His will, he shall know of the doctrine, whether it be of God or whether I speak for myself.’” And further says in 7:38, “He that believeth in me, as the scripture hath said, out of his belly shall flow rivers of living water (Divine Knowledge).”
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:84-89
چند قابل توجہ نکات
چند قابل توجہ نکات: 1۔ "شرکاء اللہ" کی بجائے "شرکاءھم": "شرکاء اللہ" (اللہ کے شریک) کی بجائے "شرکاءھم" (بت پرستوں کے شریک) ـــــــــــــــ اس بناء پر ہے کہ وہ ہر گز پروردگار کے شریک نہ تھے بلکہ خیالی اور جھوٹے شریک تھے۔ کہ جو بت پرستوں نے اپنے لیے بنا رکھے تھے۔ اور کیا ہی بہتر ہے کہ انھیں انھی کی طرف نسبت دی جائے نہ کہ خدا کی طرف۔ علاوہ ازیں جیسا کہ ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ بت پرست اپنے کچھ چوپائے اور زرعی پیداوار بتوں کے نام کر دیتے تھے اور اس طرح انھیں اپنا شریک بناتے تھے۔ 2۔ بے جان بت بھی بیش ہونگے: زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ روز قیامت بت بھی ظاہر ہوں گے۔ فرعوں اور نمرود کی طرح کے انسانی بت ہی وہاں پیش نہیں ہونگے بلکہ بے جان بت بھی حاضر ہوں گے سورہ انبیاء کی آیہ 98 میں مشرکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم۔ تم اور اللہ کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہیں جہنم کا ایندھن ہیں۔ 3- بت مشرکین کی تکزیب کریں گے: زیر بحث آیت میں ہے کہ اس دن مشرکین کہیں گے۔ ہم ان معبودوں کی پرستش کرتے تھے۔ ان کی یہ بات غلط نہیں کہ بت ان کی تکذیب کریں لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ تکذیب اس بناء پر ہو کہ جعلی معبود اس بات کی تکذیب کریں کہ وہ پرستش کے لائق ہیں یا شاید وہ اس بناء پر تکذیب کریں گے کہ ان کی عبادت کرنے والے یہ بھی کہیں گے کہ: خدایا ! یہ معبود ہمیں وسوسہ ڈالنے میں شریک تھے۔ لہذا وہ جواب دیں گے: تم جھوٹ بولتے ہو، ہم وسوسہ نہیں ڈال سکتے تھے۔ 4- "فالقوا الیھم القول" کا مفہوم: اس کا معنی ہے " قول اس کی طرف القاء کرتے تھے" یہ نہیں کہا: "قالو الھم" (انھیں کہتے تھے) یہ شاید اس بناء پر ہو کہ بت خود سے بات کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور اگر بات کریں گے تو وہ پروردگار کی طرف سے القاء ہوگا یعنی خدا انھیں القاء قول کرے گا اور وہ اسے اپنی پوجا کرنے والوں کی طرف القاء کریں گے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ بات اور یہ جواب سننے کے بعد "سب بارگاہ ِ الٰہی میں جھک جائیں گے" یہ نادان عبادت کرنے والے جب حق کا چہرہ دیکھ لیں گے تو ان کے غرور، نخوت اور اندھے تعصبات کا خاتمہ ہوجائے گا اور وہ اس کی بارگا میں سر جھکا دیں گے (والقوا الی اللہ یومئذ نِ ِ السلم) 1؎ اس موقع پر جبکہ ہر چیز آفتاب کی مانند روشن ہوگی "ان کا سارا جھوٹ رفو چکر ہو جائے گا" (وضل عنھم ما کانوا یفترون)۔ خدا کی طرف شریک کی جھوٹی نسبت بھی پادرہوا ہو جائے گی اور یہ خیال بھی محو ہو جائے گا کہ بت بارگاہ ِ الٰہی میں شفیع ہیں کیونکہ سب اچھی طرح دیکھ لیں گے کہ نہ صرف بت کچھ نہیں کر سکتے بلکہ خود بھی جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں تک ان گمراہ مشرکین کی حالت بیان کی گئی ہے کہ جو خود شرک و انحراف میں غوطہ زن تھے مگر دوسروں کو اس راہ کی طرف دعوت نہ دیتے تھے۔ اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جارہی ہے کہ جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں اور لوگوں کو راہ ِ خدا سے روکتے ہیں ان کے کفر کے عذاب پر ہم دوسروں کو گمراہ کرنے کے عذاب کا اضافہ کریں گے کیونکہ وہ فساد برپا کرتے ہیں (اَلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ زِدْنَاهُـمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُـوْا يُفْسِدُوْنَ)۔ وہ اپنی ذمہ داری کا بوجھ بھی اپنے کندھے پر اٹھاتے ہیں اور دوسروں کے شریک ِ جرم بھی ہوتے ہیں یہ لوگ زمین پر فساد اور برائی کا سبب بنتے ہیں۔ خلق ِ خدا کی گمراہی کا باعث ہوتے ہیں اور راہ حق پر چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ اسلام کی اجتماعی منطق کے لحاظ سے جو شخص بھی کوئی اچھی یا بُری روایت قائم کرتا ہے۔ اس روایت پر عمل کرنے والوں کے عمل میں شریک ہے۔ ایک مشہور حدیث میں ہے: جو شخص کسی اچھی سنت کی بنیاد رکھتا ہے اس پر عمل کرنے والوں کا اجر اسے ملے گا جب کہ عمل کرنے والوں کی جزا بھی کم نہ ہوگی۔ اسی طرح جو کوئی بُری سننت کی بنیاد رکھتا ہے، اس پر عمل کرنے والے سب لوگوں کے گناہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھے جاتے ہیں جبکہ عمل کرنے والوں کے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1؎ المیزان کے محترم مؤلف اور بعض دیگر مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اظہار تسلیم یہاں صرف عبادت کرنے والوں کی طرف سے ہوگا نہ کہ بتوں کی طرف ہے۔ ان مفسرین نے آیت کے آخری جملے کو شہادت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ گناہ میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ بہر حال قرآن اور احادیث کے لرزا دینے والے یہ الفاظ اللہ اور مخلوق ِ خدا کے بارے میں رہبروں اور راہنماؤں کی ذمہ داری کی واضح کرتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ قبل کی چند آیات میں ہر امت میں گواہ ہونے کا ذکر آیا تھا۔ اب پھر وہی گفتگو کچھ مزید وضاحت کے ساتھ آئی ہے ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کا سوچو جب ہم ہر امت کے لیے اسی میں سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے (وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْـهِـمْ مِّنْ اَنْفُسِهِـمْ) علم ِ خدا ہر چیز پر محیط ہے مگر پھر ہر امت کے لیے خود اسی میں سے گواہ کا ہونا اس بات پر مزید تاکید کرتا ہے کہ انسانوں کے اعمال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے یہ ایک تنبیہ بھی ہے۔ اس عام حکم میں اگرچہ مسلمان بھی شامل ہیں، رسول ِ اسلام بھی ، لیکن اس بات پر مزید تاکید کے طور پر با لخصوص فرمایا گیا ہے: اور تجھے ہم ان مسلمانوں پر شاید قرار دیں گے (وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ)۔ جو کچھ کہا گیا ہے اس کی بناء پر "ھٰؤلاءِ" سے مراد وہ مسلمان ہیں کہ جو زمانہ پیغمبر میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ان کے اعمال پر ناظر و شاہد تھے لہذا فطرتاً رسول اللہ کے بعد امت میں کوئی ایسا شخص ہونا چاہیے کہ جو بعد والوں پر شاہد ہو اور شاید کسی ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو خود ہر قسم کے گناہ اور خطا سے پاک ہوتا کہ وہ شہادت کا حق اچھی طرح سے ادا سکے۔ اسی بناء پر بعض شیعہ و سنی مفسرین نے آیت کو ہر زمانے میں حجت عادل اور شاہد عادل کے وجود پر دلیل قرار دیا ہے البتہ شیعہ کہ جو ہر زمانے میں امام ِ معصوم کے وجود پر اعتقاد رکھتے ہیں، ان کے لیے اس کی تفسیر واضح ہے لیکن اہل ِ سنت علماء کے لیے اس کی توجیہ آسان نہیں ہے۔ شاید اسی مشکل کی بناء پر فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں ایسے توجیہ میں الجھے ہیں کہ جو اشکال سے خالی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں: اس آیت سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوتا جب لوگوں پر گواہ نہ ہو اور گواہ کو جائز الخطا نہیں ہونا چاہیے ورنہ اس کے لیے بھی ایک گواہ کی ضرورت ہوگی اور اس معاملے کا سلسلہ لا متناہی ہو جائے گا ہر زمانے میں ایسے افراد کو ہونا چاہیے کہ جن کی گفتار اور قول حجت ہو اس معاملے کا اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ ہم کہیں کہ اجماع ِ امت حجت ہے (یعنی ہر زمانے کے تمام لوگ باہم مل کر کبھی راہ ِ خطا اختیار نہیں کریں گے)۔1؎ جناب فخر الدین رازی اپنے عقائد کی قید سے تھوڑا سا باہر نکل آتے تو یقیناً ایسی تعصب آمیز گفتگو میں مبتلا نہ ہوتے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1؎ تفسیر کبیر جلد 20 ص 98 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کیونکہ قرآن کہتا ہے: ہر امت کے لیے خود اسی کی نوع میں سے ہم نے ایک گواہ بنایا ہے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ اجماع ِ امت ہر فرد امت کے لیے حجت اور گواہ ہے۔ البتہ جیسا کہ ہم نے سورہ نساء کی آیت ۴۱ کے ذیل میں ۔۔۔۔۔ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ’’ھؤلاء‘‘ کی تفسیر میں دو اور احتمال بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ ’’ھؤلاء‘‘ گزشتہ امتوں کے گواہوں یعنی انبیاء و اوصیاء کی طرف اشارہ ہے لہذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس امت پر گواہ ہیں اور گزشتہ انبیاء پر بھی۔ دوسرا یہ کہ شاہد اور گواہ سے مراد عملی گواہ ہے یعنی وہ شخص کہ جس کا وجود نمونہ، ماڈل اور حق و باطل کی پہچان کے لیے میزان ہے۔ مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۳ ص ۲۸۲ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں۔ شہیداور گواہ مقرر کرنا اس بات کی دلیل ہے انسان کے لیے پہلے سے ایک ایسا مکمل اور جامع پروگرام موجود ہے کہ جس سے سب پر حجت تمام ہو جاتی ہے تبھی تونگرانی کا صحیح مفہوم پیدا ہو سکتا ہے لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے اور ہم نے یہ آسمانی کتاب (قرآن مجید) تجھ پر نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا واضح بیان موجود ہے ( ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شئ)۔ یہ ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے بشارت بھی ہے (وھدی و رحمۃ وبشرٰی للمسلمین)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:84-89
سوره نحل/ آیه 84 تا 89
84- وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا ثُـمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَلَا هُـمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ 85- وَاِذَا رَاَ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمْ وَلَا هُـمْ يُنْظَرُوْنَ 86- وَاِذَا رَاَ الَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَـآءَهُـمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَآءِ شُرَكَـآؤُنَا الَّـذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ ۖ فَاَلْقَوْا اِلَيْـهِـمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكَاذِبُوْنَ 87- وَاَلْقَوْا اِلَى اللّـٰهِ يَوْمَئِذِ ِۨ السَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْـهُـمْ مَّا كَانُـوْا يَفْتَـرُوْنَ 88- اَلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ زِدْنَاهُـمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُـوْا يُفْسِدُوْنَ 89- وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْـهِـمْ مِّنْ اَنْفُسِهِـمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَىْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْـمَةً وَّبُشْـرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ ترجمہ: 84- اس دن کے بارے میں سوچو کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو اٹھا کھڑا کریں گے پھر کافروں کو (بات کرنے کی) اجازت نہیں دی جائے گی (کیونکہ ان کے ہاتھ، پاؤں، کان اور آنکھ یہاں تک کہ ان کے بدن کی جلد بھی گواہی دے گی) اور نہ ان کا عذر سنا جائےگا۔ 85- اور جب ظالم عذاب کو دیکھیں گے تو پھر انھیں تخفیف ملے گی نہ مہلت۔ 86- اور جب مشرکین اپنے ان معبودوں کو دیکھیں گے کہ جنھیں وہ خدا کا شریک قرار دیتے تھے تو کہیں گے: پروردگار ! یہ ہمارے وہ شریک ہیں جنھیں ہم تیری بجائے پکارتے تھے اس وقت ان کے وہ معبود ان سے کہیں گے: تم جھوٹ بولتے ہو۔ 87- اور اس دن سب بارگاہ ِ الٰہی میں جھک جائیں گے اور ان کا وہ سارا جھوٹ رفو چکر ہو جائے گا۔ 88- اور جن لوگوں نے کفر کا راستہ اپنایا اور (لوگوں کو بھی) راہ ِ خدا سے روکا، انھیں ہم ان سے فساد کے باعث عذاب پر عذاب دیں گے۔ 89- اس دن کے بارے میں سوچو کہ جب ہر امت میں خود اسی میں سے ایک گواہ ہم اٹھا کھڑا کریں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے اور یہ (آسمانی) کتاب ہم نے تجھ پر اتاری ہے کہ جو ہر چیز کو واضح کرتی ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:84-89
چند اہم نکات
چند اہم نکات: ۱۔ قرآن سب کچھ واضح کرتا ہے: مندرجہ بالا آیات میں سب سے اہم بات یہ آئی ہے کہ قرآن ’’ تبیاناً لکل شئ‘‘ (ہر چیز کا واضح بیان) ہے۔ ’’تبیان‘‘ (’’ت‘‘ پر زبر یا زیر کے ساتھ) مصدری معنی رکھتا ہے یعنی ’بیان کرناُ‘۔۱؎ اس تعبیر سے ’لکل شئ‘ کے مفہوم کی وسعت کی طرف توجہ کی جائے تو یہ واضح استدلال کی جا سکتا ہے کہ قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے لیکن اس نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن ایک تربیتی اور انسان ساز کتاب ہے کہ جو ہر پہلو سے معاشرے کے کمال و ترقی کے لیے نازل ہوئی ہے واضح ہو جاتا ہے کہ تمام چیزوں سے مراد وہ تمام امور ہیں جو اس سفر کے لیے ضروری ہیں نہ یہ کہ قرآن ایک بہت بڑا دائرۃ المعارف ہے کہ جس میں ریاضی جغرافیہ، کیمیا، فزکس، فزیالوجی وغیرہ کی تفصیلات ------------------------------------------ ۱؎ آلوسی نے روح المعانی میں بعض عربی ادیبوں سے نقل کیا ہے کہ وہ تمام مصدر جو ’تفعال‘ کے وزن میں آتے ہیں ’ت‘ کی زبر کے ساتھ ہیں سوائے ’تبیان‘ اور ’تلقاء‘ کے۔ ضمناً اس لفظ کو بعض نے مصدر اور بعض نے اسم ِ مصدر سمجھا ہے۔ -------------------------------------------- بیان کی گئ ہیں۔ اگرچہ قرآن نے تمام علوم کے حصول کی ایک کلی دعوت دی ہے کہ جس میں مذکورہ اور غیر مذکورہ سب علوم جمع ہیں۔ علاوہ کبھی کبھی اس نے توحیدی اور تربیتی مباحث کی مناسبت سے علوم کے حساس حصوں سے پردہ اٹھایا ہے لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود جس چیز کے لیے قرآن نازل ہوا ہے اور جو قرآن کا اصلی اور آخری ہدف ہے وہ انسان سازی ہی ہے اور اس سلسلے میں اس نے کسی چیز کو فروگزاشت نہیں کیا۔ بعض اوقات قرآن ان سب مسائل کی جزئیات تک کا ذکر کرتا ہے اور مسئلے کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی بیان کر دیتا ہے (مثلاً تجارتی معاہدے اور قرض کے لیے اسناد لکھنے کے احکام کہ جو قرآن کی طویل ترین آیت میں بیان کیے گئے ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۲۸۲ میں اس سلسلے میں ۱۸ احکام بیان ہوئے ہیں)۔ ۱؎ کبھی قرآن انسانی زندگی کے مسائل کو کلی صورت میں بیان کرتا ہے مثلاً یہ آیت کہ جس کی تفسیر بعد میں آرہی ہے۔ ان اللہ یأمر بلعدل و الاحسان و ایتاء ذی القربیٰ وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی یقیناً اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے اور وہ فرمان دیتا ہے کہ قریبیوں کو عطا کرو۔ نیز وہ برائی نا فرمانی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔ اسی طرح بعض امور کو بڑے وسیع مفہوم کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے۔ ایفائے عہد کے بارے میں ہے: ان العھد کان مسئولاً یقیناً عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بنی اسرائیل ---- ۳۴) اسی طرح اس آیت میں بھی مفہوم بہت وسیع ہے۔ اوفوا بلعقعد (اپنے اقراروں کوپورا کرو۔) (مائدہ ------- ۱) حق جہاد کی ادئیگی کے لازمی ہونے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ اور راہ ِ خدا میں ایسا جہاد کرو کہ اس کا حق جہاد ادا ہو جائے (حج------------ ۷۸) اسی طرح قیام عدل کا وسیع مفہوم کے اعتبار سے بیان فرمایا گیا ہے۔ لیقوم الناس با لقسط ( تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں)۔ (حدید ----------- ۲۵) تمام امور میں نظم کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔ والسماء رفعھا ووضع المیزان الاتطغوا فی المیزان واقیموا الوزن ------------------------------------------ ۱؎ تفسیر نمونہ جلد ۲ ص ۲۲۱ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔ -------------------------------------------- بالقسط ولا تخسروا المیزان ۱؎ (رحمٰن ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۷ تا ۹) زمین میں ہر قسم سے فتنہ و فساد اور برائی سے اجتناب کا حکم اس وسیع مفہوم میں پیش کرتا ہے۔ ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا جب زمین میں اصلاح ہو چکی تو اس میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو۔ (اعراف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۸۵) اسی طرح بہت سی آیات میں تدبر، تفکر اور تعقل کی دعوت دی گئی ہے اور یہ بہت سی قرآنی آیات میں موجود ہے اس طرح کے ہمہ گیر انسانی پروگرام کہ جو ہر سمت کی راہیں کھولتے ہیں اس امر کی روشن دلیل ہیں کہ قرآن میں تمام چیزوں کا بیان ہے یہاں تک کہ ان کلی احکام کی فروغات بھی معین کیے بغیر نہیں چھوڑی گئیں۔ نیز جس مرکز سے احکام اور پروگرام جاری اور بیان ہونا ہیں اس کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔ وما اٰتاکم الرسول فخذوہ ْ وما نھٰکم عنہ فانتھوا ْ جس چیز کا تمھیں رسول حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رُک جاؤ۔ (حشر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۷) قرآن کے بے کنار سمندر میں انسان جس قدر شناوری کرتا ہے اور اس کی گہرائی سے سعادت بخش پروگراموں کے موتی نکال کر لاتا ہے اس آسمانی کتاب کی عظمت، وسعت اور جامعیت زیادہ آشکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جو مسلمان حیات انسانی کی راہنمائی کے لیے اِدھر اُدھر ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ انھوں نے یقیناً قرآن کو نہیں پہچانا اور جو کچھ خود ان کے پاس ہے اس کی آرزو دوسروں سے کرتے ہیں۔ یہ آیت ہر پہلو سے اسلامی تعلیمات کی اصالت و استقلال کو واضح کرنے کے علاوہ مسلمانوں پر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے کہ انھیں جس چیز کی احتیاج ہو اس قرآن سے حاصل کریں۔ اس آیت اور ایسی دیگر آیات کے حوالے سے اسلامی روایات میں جامعیت ِ قرآن پر بہت زور دیا گیا ہے ان میں سے ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں۔ ان اللہ تبارک و تعالی انزل فی القرآن تبیان کل شئ حتی و اللہ ما ترک شئا تحتاج الیہ العباد، حتی لا یستطیع عبد یقول لو کان ھٰذا، انزل فی القران، الا وقد انزلہ اللہ فیہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن میں ہر چیز بیان کی ہے۔ خدا کی قسم ! جو چیز لوگوں کی ضرورت ہے اسے ترک نہیں کیا تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ کاش فلاں حکم قرآن میں نازل ہوتا ، لہذا اسے نازل کیا گیا ہے۔ ۲؎ ایک دیگر حدیث میں امام باقر عیلہ السلام سے مروی ہے: --------------------------------------- ۱؎ اور اسی نے آسمان بلند کیا اور ترازو (انصاف) کو قائم کیا تا کہ تم لوگ ترازو سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو اور انصاف کے ساتھ ٹھیک کرو اور تول کم نہ کرو۔ ۲؎ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۴۰۔ --------------------------------------- ان اللہ تبارک و تعالیٰ لم یدع شیئاً تحتاج الیہ الامت الا انزلہ جی کتابہ و بیتہ لرسولہ (ص) وجعل لکم شئ حداً ، وجعل علیہ دلیلا یدل علیہ، وجعل علی من تعدی ذٰلک الحد حداً۔ اللہ تبارک و تعالی نے کوئی ایسی چیز جس کی اس امت کو ضرورت تھی اپنی کتاب میں فروگذاشت نہیں کی اور اسے اپنے رسول سے بیان کیا ہے اس نے ہر چیز کے لیے ایک حد مقرر کردی ہے اور اس پر ایک واضح دلیل قائم ہے اور ہر اس شخص کے لیے حد اور سزا مقرر ہے جو اس حد سے تجاوز کرے۔۱؎ یہاں تک کہ اسلامی روایات میں اس مسئلے کی واضح نشاندہی کی گئی ہے کہ ظاہر قرآن کہ جسے عام لوگ اور علماء سمجھ لیتے ہیں کے علاوہ باطن ِ قرآن بھی ایک وسیع سمندر ہے جس میں بہت سے مسائل مخفی ہیں کہ جہاں تک ہماری فکر نہیں پہنچ سکتی۔ قرآن کا یہ پہلو خاص اور پیچیدہ علم کا حامل ہے کہ جو رسول اللہ اور ان کے سچے اوصیاء کی دسترس میں ہے جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:- ما من امر یختلف فیہ اثنان الا ولہ اصل فی کتاب اللہ عزوجل ولٰکن لا تبلنغہ عقول الرجال۔ ہر امر کہ جن کے بارے میں دو افراد کے درمیان بھی اختلاف ہو اس کے بارے میں قرآن میں ضابطہ موجود ہے لیکن لوگوں کی عقل و دانش اس تک نہیں پہنچ سکتی۔۳؎ جو چیزعام لوگوں کی دسترس میں نہیں اسے انسان کے وجدان ِ ناخود آگاہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے البتہ یہ اس چیز سے مانع نہیں کہ اس کے خود آگاہ اور ظاہری حصے سے سب استفادہ کر سکتے ہیں۔ ۳۔ ہدایت کے چار مرحلے: یہ بات جاذب ِ توجہ ہے کہ زیر و بحث آیت میں نزول ِ قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے چار تعبیریں آئی ہیں: ۱۔ تبیاناً لکل شئ قرآن میں ہر چیز کا واضح بیان ہے: ۲۔ باعثِ ہدایت ہے (ھدی)۔ ۳۔ سبب رحمت ہے (ورحمۃ)۔ ۴۔ تمام مسلمانوں کے لیے موجب ِ بشارت ہے (وبشریٰ للمسلمین)۔ -------------------------------------------------- ۱؎ نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۴۰۔ ۲؎ نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۸۔ -------------------------------------------------- اگر صحیح طور پر غور و فکر کیا جائے تو ان چار مراصل میں واضح منطقی تعلق دکھائی دے گا۔ کیونکہ انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے راستے میں پہلا مرحلہ بیان اور آگاہی کا ہے۔ اور مسلم ہے کہ آگاہی کے بعد ہدایت اور راہ پانے کا مرحلہ ہے اور اس کے بعد عمل کرنے کی باری ہے کہ جو باعث ِ رحمت ہے۔ اور آخر کار جب انسان مثبت اور صالح عمل انجام دے لے تو وہ دیکھے گا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لا محدود جزاء ملے گا۔ کہ جو اس راہ کے تمام راہیوں کے لیے بشارت و سرور کا باعث ہے۔ ------------------ ------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:84-89
جب بدکاروں کو کوئی راہ سجھائی نہ دے گی
تفسیر: جب بدکاروں کو کوئی راہ سجھائی نہ دے گی: گزشتہ آیات میں اللہ کی گو نا گوں نعمتوں پر منکرین ِ حق کے غلط رد ِ عمل کا ذکر تھا ان آیات میں ان منکرین ِ حق کی دوسرے جہاں میں بعض درد ناک سزاؤں کا تذکرہ ہے کہ جو ان کا برا اور منحوس انجام ہے ان سزاؤں کا تذکرہ اس لیے ہے تا کہ وہ جملہ اپنے طرز ِ عمل پر تجدید ِ نظر کریں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اس دن کا سوچو جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ پیش کریں گے (ویوم نبعث من کل امۃ شھیداً)1؎ یہ عبارت پڑھتے ہی فوراً سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے لامتناہی علم کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے گواہ کی ضرورت رہ جاتی ہے۔ ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ ایسے امور عام طور پر نفسیاتی پہلو سے ہوتے ہیں یعنی جتنا انسان کو احساس ہوگا کہ اس کی طرف دیکھنے والے اور گواہ زیادہ ہیں اتنا ہی اپنے کام کو بہتر حساب کتاب سے انجام دے گا یا کم از کم زیادہ وہ افراد کے سامنے رسوائی سے ہی پریشان ہوگا۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس عدالت میں کفار کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔۔ (ثمہ لا یؤذن للذین کفروا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "یوم" یہاں ظرف ہے۔ یہ ایک فعل مقدر سے متعلق ہے جس کی تقدیر یوں تھی:- "ولیذکروا" یا " واذکروا" ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کیا ممکن ہے کہ اللہ مجرم کو دفاع کی اجات نہ دے؟ جی ہاں ! وہاں زبان سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاتھ، پاؤں، کان، آنکھ بلکہ وہ زمین بھی جس پر انسان نے نیکی یا بدی کی ہوگی گوائی دے گی اس لیے زبان کی باری نہیں آئے گی۔ اس درحقیقت کا ذکر قرآن ِ حکیم کی دوسری آیات میں بھی ہے:- مثلاً یٰس 65 اور مرسلات 36۔ نہ صرف انھیں بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ اس وقت وہ تلافی اصلاح اور تقاضائے عفو بھی نہ کر سکیں گے (ولاھم یستعتیون) 1؎۔ کیونکہ وہ رد عمل کا موقع ہوگا نہ کہ عمل، تلافی اور اصلاح کا۔ جیسے کوئی پھل شاخ سے گر جائے تو اس کی نشوونما کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے۔ اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ ستم پیشہ ظالم جب حساب کتاب کے مرحلے سے گذر کر عذاب ِ الٰہی کا سامنا کریں گے تو کبھی تخفیف کا اور کبھی مہلت کا تقاضا کریں گے لیکن جب ظالم عذاب کو دیکھیں گے تو ان کے عذاب میں کمی ہوگی نہ انھیں کئی مہلت دی جائے گی۔ (وَاِذَا رَاَ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمْ وَلَا هُـمْ يُنْظَرُوْنَ)۔ یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ ان دو آیتوں میں مجرموں کے چار مرحلوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس دنیا میں بھی یہ مرحلے ہم اپنی آنکھ سےدیکھتے ہیں: پہلہ مرحلہ: یہ کہ مجرم کوشش کرے گا کہ مکر و حیلہ سے اپنے آپ کو بچالے۔ دوسرا مرحلہ: پہلے مرحلے میں بات نہ بنے تو وہ دوسرے مرحلے میں کوشش کرے گا کہ مدّ ِ مقابل کو مہر و محبت کی طرف مائل کرے اس کی سرزنش کو برداشت کرے اور اس کی رضا حاصل کرے۔ تیسرا مرحلہ: دوسرا مرحلہ بھی کامیاب نہ ہوا تو تیسرے مرحلے میں سزا میں کمی کا تقاضا کرے گا اور کہے گا کہ عذاب دے مگر کم۔ چوتھا مرحلہ: اگر اس کا جرم زیادہ ہونے کی وجہ سے تیسرے مرحلے پر بھی بات نہ بنی تو تقاضا کرے گا کہ مجھے کچھ مہلت دے دے اور سزا سے نجات کی یہ آکری کوشش ہوگی۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ ان ظالموں کے اعمال اتنے قبیح اور برے ہیں اور ان کے گناہوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہوگا کہ نہ انھیں دفاع کی اجازت ملے گی نہ وہ رضا حاصل کرسکیں گے نہ انھیں تخفیف ملے گی اور نہ مہلت۔ اگلی آیت میں مشرکین کے برے انجام کے بارے میں ایسی ہی گفتگو کی گئی ہے ان کا یہ انجام بتوں کی پرستش کے باعث ہوگا ارشاد ہوتا ہے کہ میدان ِ قیامت میں خود ساختہ معبود اور انسان کہ جن کی بتوں کی طرح پرستش کی جاتی تھی، پوجا کرنے والے کے ساتھ ہوں گے جس وقت یہ عبادت کرنے والے اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے پروردگار ! یہ ہمارے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1؎ "یستعتبون" استعتاب کے مادہ سے ہے کہ جو عتاب سے لیا گیا ہے کہ جس کا معنی ہے دوسرے سے گفتگو میں سختی کا اظہار۔ لہذا "استعتاب" کا مفہوم یہ ہے کہ گنہگار شخص صاحب حق سے عتاب طلب کرے یعنی اپنے تئیں اس کی سرزتش کے سامنے پیش کرے تا کہ صاحب ِ حق کا غصہ ختم ہو جائے اور وہ راضی ہو جائے یہ ہی وجہ ہے کہ بعض "استعتاب" کا معنی "استرضاء" (کسی کی رضا طلب کرنا) لیتے ہیں حالانکہ اس کا مفہوم یہ نہیں بلکہ اس کے مفہوم کا لازمہ ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ ہی شریک ہیں جنھیں ہم تیری بجائے پکارتے تھے۔ (وَاِذَا رَاَ الَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَـآءَهُـمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَآءِ شُرَكَـآؤُنَا الَّـذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ)۔ ان معبودوں نے بھی اس کام میں ہمیں وسوسے میں ڈالا اور در حقیقت ہمارے شریک جرم ہیں لہذا ہمارے عذاب کا کچھ حصہ ان کے لیے قرار دے۔ اس وقت حکم خدا سے "بت پول اٹھیں گے اور اپنی عبادت کرنے والوں سے کہیں گے یقیناً تم جھوٹے ہو (فَاَلْقَوْا اِلَيْـهِـمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكَاذِبُوْنَ)۔ نہ ہم خدا کے شریک تھے اور نہ ہم نے تمھیں وسوسے میں ڈالا اور نہ تمھارے عذاب کا کوئی حصہ ہمیں پہنچے گا۔