وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
Those who migrate for the sake of Allah after they have been wronged, We will surely settle them in a good place in the world, and the reward of the Hereafter is surely greater, had they known
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:41
[Pooya/Ali Commentary 16:41] Only those who undertook migration (hijrat) in the cause of Allah, when the oppressors forced them to choose between Allah and worldly comforts, are entitled to the highest honours, for having made a great sacrifice in the cause of Allah. Such were the early Muslim migrants to Abyssinia and such were the later migrants to Madina.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 16:41-50
The public are commanded to refer to Divine Lights on the subject, they do not know as the Prophet has been nominated by God as Zikr and Ahl al-Zikr is his Immaculate Family, Divinely initiated.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:41-42
سوره نحل/ آیه 41 - 42
۴۱۔ وَالَّذِینَ ھَاجَرُوا فِی اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ اٴَکْبَرُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ۔ ۴۲۔ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُونَ ۔ ترجمہ ۴۱۔جن لوگوں پر ظلم ہوا اور پھر انہوں نے خدا کے لئے ہجرت کی ہے ہم اس دنیا میں انھیں اچھا مقام دیں گے اور اگر وہ جانیں تو آخرت کی جزا بہت بڑی ہے ۔ ۴۲۔وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں صبر و استقامت کو اختیار کیا ہے اور وہ صرف اپنے پر وردگار پر توکل کرتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:41-42
مہاجرین کی جزا
مہاجرین کی جزا ہم نے بار ہا کہا ہے کہ قرآن اپنے تربیتی امور میں جس موثر ترین روش سے استفادہ کرتا ہے وہ ہے موازنہ اور تقابل ۔ قرآن ہر چیز کو ا س کے متضاد کے سامنے لے آتا ہے تاکہ ہر ایک کا مقام واضح اور متعین ہو جائے ۔ گزشتہ آیات میں منکرین قیامت اور ہٹ دھرم مشرکین کے بارے میں گفتگو تھی ۔ زیر بحث آیات سچے اور پاکباز مہاجرین کی بات کرتی ہیں تاکہ موازنہ اور تقابل سے دونوں کی کیفیت واضح ہو جائے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : جن لوگوں نے ستم اٹھائے اور راہ خدا میں ہجرت کی ہم اس دنیا میں انھیں اچھی جگہ اور مقام دیں گے ( وَالَّذِینَ ھَاجَرُوا فِی اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً ) ۔ یہ ان کی دنیاوی جز اہے ، رہی اخروی جزا ، اگر وہ جانے تو بہت ہی بڑی ہے (وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ اٴَکْبَرُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ) ۔ بعد والی آیت میں ان سچے اور با استقامت اہل ایمان مہاجرین کی توصیف میں ان کے دو اوصاف بیان کئے گئے ہیں فرمایا گیا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے صبر و استقامت کا دامن تھاما اور جو اللہ پر توکل رکھتے ہیں ( الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُونَ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:41-42
نکتہ
چند اہم نکات ۱۔ ہجرت او رمہاجرین : آغاز اسلام میں مسلمانوں نے دو ہجرتیں کیں ۔ پہلی ہجرت نسبتاً مختصر تھی اس میں چند مسلمانوں نے ھجرت جعفر بن ابی طالب (علیه السلام) کی سر براہی میں حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ دوسری ہجرت ہمہ گیر تھی ۔ اس میں رسول اللہ اور تمام مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔ زیر نظر آیات دوسری ہجرت سے متعلق ہیں ۔ ان آیات کی شان نزول بھی اس امر کی تائید کرتی ہے ۔ گذشتہ زمانے میں اور دور حاضر میں مسلمانوں کے لئے ہجرت کی دائمی اہمیت کے متعلق ہم سورہ نساء کی آیہ ۱۰۰ اور سورہ انفال کی آیہ ۷۵ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں ۔ 2 بہر حال مہاجرین کا مقام اسلام میں بہت بلند ہے ، خود پیغمبر اکرم اور بعد کے مسلمان سب ان کا خاص احترام کرتے تھے کیونکہ انہوں نے دعوت اسلام کی تو سیع کی خاطر اپنا تمام سر مایہ حیات کو ٹھوکر ماردی ۔ بعض نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالاصہیب ۻ بعض افراد نے اپنے سارے مال و متاع سے منھ پھیر لیا ۔ ان دنوں میں اگر ان مہاجرین کا ایثار نہ ہو تا تو مکہ کا تنگ ماحول اور اس میں موجود شیطانی عناصر ہر گز اجازت نہ دیتے کہ اسلام کی آواز کسی کے کانوں تک پہنچے یہ وہ آواز ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے حلقوم میں دبا دیتے لیکن یہ مہاجرین تھے کہ جن کی اس سوچی سمجھی تحریک اور انقلاب کے ذریعے نہ صرف مکہ ان کے یر تسلط آگیا بلکہ اسلام کی آواز پوری دنیا کے کانوں تک پہنچ گئی ان کا یہ طرز عمل بعد کے مسلمانوں کے لئے اس قسم کے حالات میں ایک دائمی سنت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ۲۔”ھاجروا فی اللہ“کا مفہوم : اس تعبیر میں لفظ ”سبیل “ تک ذکر نہیں ہوا۔ یہ در اصل ان مہاجرین کے انتہائی خلوص کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے صرف خدا کی راہ میں ، اس کی رضا کی خاطر اور ا س کے دین کی حفاظت کے لئے اس قسم کی ہجرت کی ، نہ کہ اپنی جان بچا نے کے لئے یا کسی دوسرے مادی مفاد کے لئے ۔ ۳۔ من بعد ماظلموا “ کا مطلب : یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ میدان فوراًخالی نہیں کردینا چاہئیے بلکہ جب تک ممکن ہو قیام کرنا چاہئیے اور مشکلات کو بر داشت کرنا چاہئیے ۔ البتہ جس وقت دشمن کے آثار اور مظالم بر داشت کرنے کا نتیجہ اس کی جسارت میں اضافہ ہو اور مومنین کی کمزوری کے سواکچھ نہ ہو اس وقت ہجرت کرنا چاہیئے تاکہ زیادہ طاقت جمع کرنے اور زیادہ مضبوط مورچے قائم کرنے کا موقع مل سکے اور ہمہ گیر جہاد کے لئے بہتر جگہ میسر آسکے اور اہل حق کو فوجی ، ثقافتی اور تبلیغی محاذ پر کامیابی حاصل ہو سکے ۔ ۴۔لنبوئنھم فی الدنیا حسنة“ کا مفہوم : یہ جملہ” بواٴت لہ مکاناً“ ( وہ مکان کہ جو میں نے اس کے لئے تیار کیا اور اسے اس میں جگہ دی ) کے مادہ سے لیا گیا ہے ، یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی مہاجرین اگر چہ ابتداء میں اپنے مادی وسائل کھوبیٹھے تھے لیکن آخر کار انھیں مادی زندگی کے لحاظ سے بھی کامیابی حاصل ہوئی۔ 3 انسان آخر دشمن کی ضربوں میں رہ کر ذلت کے ساتھ کیوں مرجائے ؟ وہ شجاعت و جرا ء ت کے ساتھ ہجرت کیوں نہ کر جائے اور کیوں نہ نئی جگہ سے مقابلے کی تیاری کرے تاکہ اپنا حق لے سکے ۔ سورہٴ نساء کی آیہ ۱۰۰ میں یہی مسئلہ زیادہ صرحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد الہٰی ہے : ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغماً کثیراً وسعة جو لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت کریں انھیں دنیا میں امن کی بہت وسیع جگہ ملے گی کہ جہاں رہ کر وہ دشمن کو رسوال کرسکتے ہیں ۔ ۵۔ مہاجرین کی صفات: مہاجرین کی دو صفات بیان کی گئی ہیں صبر اور توکل ۔ ان کی ان صفات کو بیان کرنے کا مقصد واضح ہے کیونکہ انسانی زندگی میں پیش آنے والے ایسے روح فرسا حوادث میں سب سے پہلے صبر و استقامت ضروری ہے جتنی مصیبت زیادہ ہوگی پھر اللہ پر توکل اور اعتماد بھی ضروری ہے اصول طور پر ایسی مشکلات میں اگر انسان کا کوئی مستحکم اور قابل ِ اطمینان سہارا نہ ہو تو اس کے لئے صبر و استقامت ممکن نہیں ہے ۔ بعض نے کہا کہ صبر کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس راہ میں پہلے خواہشات ِ نفسانی کے مقابلے میں صبر و استقامت ضروری ہے اور توکل کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس راستے کا آخری یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا ہر کسی سے کٹ جائے اور اس سے پیوستہ ہو جائے لہٰذا پہلی صفت آغاز سفر ہے اور دوسری اختتام سفر ۔4 بہر حال بیرونی ہجرت اندرونی ہجرت کے بغیر ممکن نہیں ہے انسان کو چاہئیے کہ پہلے وہ اندرونی مادی برائیوں کو چھو ڑکر اخلاقی فضائل کی طرف ہجرت کرے تاکہ وہ بہرونی طور پر اس قسم کی ہجرت کرسکے اور دار الکفر کی ہر چیز کو ٹھو کر مار کر دار الایمان کی طرف منتقل ہو سکے ۔ ۱۔مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔ 2۔تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۸۵( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں۔ 3۔” لنبوئنھم“ اصل میں ” بواء“ کے مادہ سے جگہ کے اجزاء مساوی ہونے کے معنی میں ہے ۔ اس کے برعکس ”نبوہ“( بر وزن ”مبدء “) جگہ کے اجزاء مساوی نہ ہونے کے میں ہے ۔ لہٰذا ” بواٴت لہ مکانا“ کا معنی ہے : میں نے اس کے لئے جگہ صاف کی لہٰذا یہ کسی کے لئے کوئی جگہ تیار کرنے کے معنی میں ہے ۔ 4۔ تفسیر کبیر فخر رازی ، شیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:41-42
شان نزول
شان ِ نزول ان آیات کی شان ِ نزول میں بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ مکہ میں اسلام لانے کے بعد بعض مسلمانوں مثلا ً بلال ، عمار یاسر صہیب اور خبّاب پر سخت تشدد کیا گیا اسلام کی تقویت اور دوسروں تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے پیغمبر اکرم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہ ہجرت آپ کی اور دوسروں کی کامیابی کا باعث بنیصہیب سن رسیدہ شخص تھے انہوں نے مشرکین مکہ سے کہا کہ میں ایک بوڑھا آدمی ہو میں اگر تمہارے میں اگر تمہارے پاس رہوں تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور اگر میں تمہارا مخالف تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا تم ایسا کرو کہ میرے مال لے لو اور مجھے مدینہ جانے دو ۔ اس پر صہیب سے لوگوں نے کہا کہ تم نے نفع کا سود کیا ہے اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں اس جہان میں ، دوسرے جہان میں ان کی اور ان جیسے لوگوں کی کامیابی کا تذکرہ ہے ۔ تاریخ میں ہے کہ خلفاء کے زمانے میں جب بیت المال کے اموال تقسیم ہوتے تھے تو مہاجرین کے باری آتی تھی تو انہیں کہا جا تا تھا کہ اپنا حصہ لے لو یہ وہی ہے کہ جو خدا نے تمہیں دنیا میں دینے کا وعدہ کیا ہے او ر جو کچھ دوسرے جہان میں تمہارے انتظار میں ہے وہ بہت زیادہ ہے اس کے بعد وہ مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کرتے تھے ۔۱ ۱۔مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔