أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
Allah’s edict is coming! So do not seek to hasten it. Immaculate is He and exalted above [having] any partners that they ascribe [to Him].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:1
[Pooya/Ali Commentary 16:1] "Allah's command" refers to His chastisement. Refer to Yunus: 24 and 27 and Hud: 40. Aqa Mahdi Puya says: Though in amrullah the verb is past tense, but if this verse is read with Yunus: 47 it becomes clear that with the advent of the Holy Prophet the fate of the believers and the disbelievers was decided. Only its execution has to be carried out. So the disbelievers are warned not to seek to hasten it. Therefore it should be taken as present perfect .
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 16:1-9
1. Gabriel carries the message from God to the Prophet. “Ruh” remains with the existing Divine Light to keep him aware of events of the age. 2. As the right path is limited under Divine control, verily one who seeks leaving it goes astray, i.e. anyone who accepts any religious leader, leaving the genuine Imam nominated by God, is misguided. 3. There is no compulsion in following it but human discretion has to decide whether to be in the light or in darkness, as creation is a test, for each individual of sane and matured age. 4. The body of all true religions consists in obedience to the Will of God, in a confidence in His declaration in imitation of His perfection. 5. Religion is nothing but fear and love of God, and faith is the root of both, without which we cannot please God, nor can we fear and love what we do not believe.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:1-2
سوره نحل / آیه 1 - 2
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۱۔اٴَتَی اٴَمْرُ اللهِ فَلاَتَسْتَعْجِلُوہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ۔ ۲۔ یُنَزِّلُ الْمَلاَئِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِہِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ اٴَنْ اٴَنذِرُوا اٴَنَّہُ لاَإِلَہَ إِلاَّ اٴَنَا فَاتَّقُونِی ۔ ترجمہ بخشنے والے مہر بان خدا کے نام سے ۔ ۱۔ (مشرکوں اور مجرموں کے سزا کے بارے میں ) حکم خدا پہنچ گیا ہے اس کے لئے جلدی نہ کرو ۔ خدا اس سے منزہ و بر تر ہے کہ اس کے لئے شریک قراردئے جائیں ۔ ۲۔ روح الہٰی کے ساتھ ملائکہ کو اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نازل کرتا ہے اور انھیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو ڈراوٴ اور ( ان سے کہو کہ) میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا ( میرے حکم کی ) مخالفت سے پر ہیز کرو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:1-2
حکم ِ عذاب قریب ہے
حکم ِ عذاب قریب ہے ۔ جیسا کہ پہلے کہا چکا ہے کہ سورہ کی ابتدائی آیات کا اہم حصہ مکہ میں نازل ہوا ہے یہ وہ دن تھے جب پیغمبراسلام مشرکوں اور بت پرستوں کی طرف سے شدید الجھاوٴ اور سختی کا سامنا تھا ۔ ہر روز وہ آپ کی حیات آفریں اور آزادی بخش دعوت کے خلاف کوئی نیا بہانہ تراشتے ۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ جس وقت رسول اکرم انھیں عذاب الہٰی کی تہدید کرتے تو بعض ہٹ دھرم کہتے کہ اگر یہ عذا ب اور سزا جس کی دھمکی دیتے ہو سچ ہے تو پھر وہ ہم پر نازل کیوں نہیں ہوتا اور شاید کبھی مزید کہتے کہ اگر فرض کیا عذاب آیابھی تو ہم بتوں کا دامن تھا م لیں گے ۔ تاکہ وہ بارگاہ الہٰی میں سفارش کریں کہ وہ ہم سے عذاب اٹھالے کیا وہ اس کی بارگاہ کے شفیع نہیں ہیں ۔ اس سورہ کی پہلی آیت ان اوہام پر خط بطلان کھینچتے ہوئے کہتی ہے :جلدی نہ کرو ۔ مشرکوں اور مجرموں کی سزا کے بارے میں حکم الہٰی یقینا پہنچ چکا ہے (اٴَتَی اٴَمْرُ اللهِ فَلاَتَسْتَعْجِلُوہُ ) ۔اور اگر تمہارا خیال ہے کہ بت اس کی بارگاہ کے سفارشی ہیں تو تم سخت غلطی اور اشتباہ میں ۔ خدا اس سے منزہ اور بر تر ہے کہ جسے تم اس کا شریک بناتے ہو( سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ) ۔ لہٰذا اس آیت میں” امر اللہ “مشرکین کے لئے عذاب کے بارے میں حکم خدا کی طرف اشارہ ہے اور لفظ ”اتٰی“ اگر چہ فعل ماضی ہے اور گذشتہ زمانے میںاس حکم کے تحقق کی نشاندہی کرتا ہے لیکن اس کا مفہوم مضارع ہے اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حکم یقینا اور قطعاً تحقق پذیر ہو گا ۔ ایسا قرآن میں کثرت سے ہے کہ قطعی الوقوع صیغہ مضارع ماضی کےساتھ ذکر ہوا ہے ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ”امر اللہ “ خود عذاب کی طرف اشار ہ ہے نہ کہ حکم عذب کی طرف ۔ بعض نے اس سے ”روز قیامت “مراد لیا ہے ۔ لیکن جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب اور سزا کا فی دوافی بیان اور عادلانہ اتمام حجت کے بغیر نہیں ہے لہٰذا بعد والی آیت میں مزید فرمایاگیا ہے :خدا ملائکہ کو خدا ئی روح کے ساتھ حکم ِ الہٰی کے ہمراہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے( یُنَزِّلُ الْمَلاَئِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِہِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ) (”من امر “ من“ بے کے معنی میں ہے اور یہاں سببیت کے معنی دیتا ہے ) ۔ اور انھیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو ڈراوٴ ، شرک و بت پرستی پر متنبہ کرو اور کہہو کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ( اٴَنْ اٴَنذِرُوا اٴَنَّہُ لاَإِلَہَ إِلاَّ اٴَنَا ) ۔لہٰذا صرف میری نافرمانی سے ڈرو اور میرے سامنے احساسِ ذمہ داری کرو(فَاتَّقُون) ۔ اس آیت میں روح سے کیا مراد ہے ؟اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وحی، قرآن اور نبوت ہے کہ جو انسانوں کی زندگی کا باعث ہے اگرچہ بعض مفسرین نے یہاں وحی کو قرآن سے اور دونوں کو نبوت سے جدا کیا ہے ،اور انھیں تین تفاسیر کی شکل میں بیان کیا ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں ۔ بہر حال ”روح“ یہاں معنوی اور روحانی پہلو سے ہے اور ہر اس چیز کی طرف اشارہ ہے جو دلوں کی زندگی کا سبب ہیں اور نفوس کی تربیت اور عقلوں کی ہدایت کا باعث ہے جیسا کہ سورہ انفال کی آیہ ۲۴ میں ہے ۔ یا یھاالذین اٰمنوا استجیبوا اللہ و للرسول اذا دعا کم لما یحییکم اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کی دعوت قبول کرو ۔ جبکہ وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف پکارتے ہیں جو تمہاری زندگی جا باعث ہے ۔ سورہ ٴ مومن کی آیت ۱۵ میں ہے : یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ وہ اپنے بندوںمیں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح القاء کرتاہے ۔ نیز سورہٴ شوریٰ کی آیہ ۵۲ میں ہے ۔ وکذٰلک اوحینا الیک روحا من امر نا ماکنت تدری ماالکتاب و لاالایمان اس طرح ہم نے اپنے حکم سے تجھ پر روح کو وحی کیا اس سے پہلے کتاب و ایمان سے آگاہ نہ تھا ۔ واضح ہے کہ ان آیات میں ”روح“ قرآن ، مضامین وحی اور فرمان ِنبوت کے معنی میں ہے اگر چہ روح قرآن کی دیگر آیات میں اور معانی بھی آیات ہے لیکن ان مذکورہ قرائن کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیر بحث آیت میں روح کا مفہوم قرآن اورر مضمون وحی ہے ۔ اس نکتہ کا ذکر بھی بہت ضروری ہے کہ ” علیٰ من یشاء من عبادنا “ ( اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے )کاہرگز یہ مبلن نہیں کہ وحی و نبی کی نبوت بغیر کسی حساب کتاب کے ہے کیونکہ مشیت الہٰی کبھی اس کی حکمت سے جدا نہیں ہوتی اور حکیم ہونے کے تقاضا سے وہ یہ انعام اسے عطا کرتا ہے جواس کا اہل ہو ۔۔ ارشاد الہٰی ہے ۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالاتہ خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہا ںقرار دے ( انعام ۱۲۴) یہ نکتہ بھی نظر سے اوجھل نہ رہے کہ اگر انبیاء کے لئے پہلا فرمان الہٰی(ان انذروا“ ( ڈاراوٴ) ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک گمراہ اور آلوشرک وفساد قوم کو بیدا ر کرنے کےلئے انذار سے بڑھ کر موٴثر کوئی چیز نہیں انذار بیدار کرنے والا ۔ آگاہ اور اور حرکت آفرین ۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان نفع کا طالب اور نقصان پسند نہیں کرتا لیکن تجربہ نشاندہی کرتا ہے کہ تشویق کا اثر آمادہ افراد پر زیادہ ہوتا ہے جب کہ آلودہ افراد پر یہ تہمت کا اثر بہت ہوتا ہے اور ابتدائے نبوت میں انذار اور ڈرانے وال امور ہونا چاہیئیں ۔