وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِندَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ
They certainly devised their plots, but their plots are known to Allah, and their plots are not such as to dislodge the mountains.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 14:46
[Pooya/Ali Commentary 14:46] The plots plotted by the disbelievers were so adroit that they could make the mountains move, yet Islam and its eternal laws remain unchanged and incorruptible because Allah has undertaken to protect them through the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt-"l leave behind, amongst you, two weighty authorities, the book of Allah and my Ahl ul Bayt. Should you be attached to these two, never, never shall you go astray, after me, for verily these two will never be separated from each other; and, joined together, they shall meet me at the spring of Kawthar;" said the Holy Prophet (see page 6 for hadith thaqalayn). However much the enemies of Allah, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt may try they will never be able to put out the light of Allah (Saff: 8).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
۱۔ زمین اور آسمان بدل جائیں گے :
۱۔ زمین اور آسمان بدل جائیں گے : زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ قیامت میں یہ زمین کسی دوسری زمین میں اور اسی طرح آسمان دوسرے آسمانوں میں تبدیل ہو جائی گے ۔ کیا اس تبدیلی سے مراد ذاتی وجود کی تبدیلی ہے یعنی کیایہ زمین بالکل نا بود ہو جائے گی اور کوئی دوسری زمین خلق کع دی جائے گی اور قیامت اس زمین میں برپا ہوگی یعنی یہ کرہ خاکی اور یہ آسمان ویران ہو جائیں گے اور ان کے ویرانوں پر نئے زمین و آسمان پیدا ہوں گے جو اس زمین و آسمان کی نسبت تکامل و ارتقاء میں زیادہ ہوں گے ۔؟ قرآن مجید کی بہت سی آیات کا ظاہری مفہوم دوسرے معنی کی تائید کرتا ہے : ۔ سورہ فجر کی آیہ ۲۱۔ میں ہے : کلا اذا دکت الارض دکاً دکاً ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب زمین درہم برہم ہو جائے گی۔ سورہٴ زلزال میں اس جہان کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اذا زلزلت الارض زلزالھا و اخرجت الارض اثقالھا جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور وہ اپنے مخفی بوجھ اگل دے گی ۔ سورہٴ حاقہ کی آیہ ۱۴ اور ۱۵ میں ہے : و حملت الارض والجبال فدکتا دکة واحدة فیومئذوقعت الواقعة زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھالئے جائیں گےاور وہ درہم برہم ہو جائیں گے اور اس روز وہ عظیم واقعہ رونما ہوگا ۔ سورہٴ طٰہٰ کی آیات ۱۰۵ تا ۱۰۸میں ہے : ۱۰۵۔ وَ یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْجِبالِ فَقُلْ یَنْسِفُھا رَبِّی نَسْفاً ۔ ۱۰۶۔فَیَذَرُھا قاعاً صَفْصَفاً ۔ ۱۰۷۔ لا تَری فیھا عِوَجاً وَ لا اٴَمْتاً ۔ ۱۰۸۔یَوْمَئِذٍ یَتَّبِعُونَ الدَّاعِیَ لا عِوَجَ لَہُ وَ خَشَعَتِ الْاٴَصْواتُ لِلرَّحْمنِ فَلا تَسْمَعُ إِلاَّھَمْساً ۔ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دو: میرا پرودگار انہیں سر گرداں اور ریزہ ریزہ کردے گا اور پھر انہیں ہموار زمین کی صورت دے گا اس طرح کہ تجھے اس میں ٹیڑھ پن اور پستی و بلندی نظر نہیں آئے گی ۔ اس روز لوگ اس پکارنے والے کی پیروی کریں گے جس سے انحراف نہیں ہو سکے گا اور مہربان خدا کے سامنے آواز یں جھکی ہونگی اور تجھے دھیمی دھیمی آواز کے سوا کچھ سنائی نہ دے گا ۔ تفسیر سورہ ٴ تکویر کی ابتداء میں چراغ آفتاب گل ہو جانے ، ستاروں کے تاریک ہو جانے اور پہاڑوں کے چلنے کا تذکرہ ہے ۔ نیز سورہٴ انفطار کے آغاز میں بھی آسمانوں کے پھٹ جانے ، ستاروں کے بکھر جانے اور مردوں کے قبروں سے اٹھنے ( غور کیجئے گا) کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ یہ آیات اورایسی بہت سی آیات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے اور اسی طرح انسان کے قبروں سے اٹھنے ۱ کے متعلق آیات کو ملحوظ نظر رکھا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کا موجودہ نظام اس صورت میں باقی نہیں رہے گالیکن یہ باکل نابود نہیں ہوگا بلکہ زمین درہم برہم ہو کر ہموار اور صاف ہوجائے گی اور لوگ گویا ایک نئی زمین پر قدم رکھیں گے ۔ البتہ واضح ہے کہ وہ زمین کامل تر اور عالی تر ہوگی کیونکہ اس عالم کی تمام چیزیں اس جہان کی نسبت زیادہ وسیع اور زیادہ کامل ہوں گی ۔ فطری امر ہے کہ ہمار اآج کا جہان قیامت کے مناظر قبول کرنے کی استعداد نہیں رکھتا اور قیامت اور دوسرے جہان میں ہماری زندگی کے لئے تنگ اور محدود ہے اور جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے شاید اس جہان کی نسبت اس جہان سے اسی طرح ہے جیسے رحم مادر کی نسبت ہماری اس زندگی سے ۔ بعض آیات مین بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن اس دنیا کے دنوں کی نسبت بہت طویل ہوں گے ۲ یہ امر بھی اس حقیقت پر ایک اچھا شاہد ہے ۔ البتہ ہم اس جہان کی تفصیلات کی تصویر کشی اس جہان میں نہیں کر سکتے جیسے شکم مادر میں بچہ سوجھ بوجھ بھی رکھتا ہو تو بھی باہر کی دنیا کی خصوصیات نہیں سمجھ سکتا ۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں اس جہان ایک عظیم تغیر ہوگا ۔ یہ جہان بالکل ویران ہوکر بالکل ایک نئے جہان میں بدل جائے گا ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مصادر اسلامی میں موجود متعدد روایات میں ہے کہ اس وقت زمین اور عرصہٴ محشر طیب و پاک اور سفید روٹی میں بدل جائے گا کہ انسان جسے کھا سکیں گے تا کہ ان کا حساب واضح ہو جائے اور ہر کوئی اپنے انجام کی طرف چل پڑے ۔ تفسیر نورالثقلین میں یہ روایات مختلف حوالوں سے درج کی گئی ہیں ۔ ۳ اہل سنت کے بعض مفسرین مثلاً قرطبی نے بھی اسی آیت کے ذیل میں ایسی روایات کی نشاندہی کی ہے ۔ 4 بعید نہیں کہ ان روایات سے مراد یہ ہو کہ اس جہان میں زمین بجائے اس کے کہ مٹی نے اسے ڈھانپ رکھا ہو ایک ایسا غذائی مادہ ااس پر محیط ہو کہ جو بدن انسانی کا حصہ بن سکتا ہو ۔ کیونکہ مٹی ایسی چیز نہیں جو بدن انسانی کا حصہ بن سکے بلکہ اس میں موجود غذائی مواد نباتات کے ذریعے باہر نکلتا ہے تا کہ بدن انسانی کا حصہ بننے کے قابل ہو سکے لیکن اس روز سطح زمین پر مٹی کی بجائے ایسا مادہ محیط ہوگا جو آسانی سے جزو بدن بن سکے ۔ اسے روٹی سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ انسان کی غذا کا زیادہ حصہ روٹی پر ہہی مشتمل ہوتا ہے ( غور کیجئے گا ) ۔ ۱ یٰٓس۔ ۵۱، قمر ۔۷ ،معارج ۔ ۴۳ ، حج ۔ ۷ وغیرہ۔ ۲ معارج ۔ ۴ ۔ ۳ ۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص۵۵۵ تا ص ۵۷۷۔ 4۔ تفسیر قرطبی جلد۵ ص ۳۶۱۳
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
رسالت کا آخری مرحلہ
رسالت کا آخری مرحلہ حضرت ابراہیم نے تمام عمر ہر طرح کی بت پرستی خصوصا ً انسان پرستی کے خلاف جہاد کرتے گزاری ۔ آپ نے آمادہ دلوں کو نور توحید سے روشن کیا ۔ آپ نے انسانی جسموں میں نئی روح پھونک دی اور بہت سے لوگوں کو خود غرضوں اور خود سروں کی قید سے رہائی دلائی ۔ اب ضروری تھا کہ آپ بندگیٴ خدا کے آخری مرحلے میں قدم رکھیں اور اپنی متاع حیات کو طبق اخلاص میں رکھ کر بارگاہ الٰہی میں پیش کر دیں تاکہ خدا کی عظیم آزمائشوں سے گزر کر ایک عظیم روحانی انقلاب کے ذریعے انسانوں کی امامت کے مرحلے میں داخل ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ اب انہیں خانہٴ توحید یعنی خانہ ٴ کعبہ کی بنیادوں کو بھی بلند کرنا تھا اور اسی خدا پرستی کے ایک بے نظیر مرکز میں تبدیل کرنا تھا اور تمام آمادہ دل موٴمنین کو اس عظیم مرکز توحید کے پاس ایک عظیم کانفرنس کی دعوت دینا تھا ۔ آپ نے اپنی کنیز ہاجرہ کو اپنی بیوی بنا لیا تھا ۔ اس سے انہیں اسمٰعیل جیسا بیٹا نسیب ہوا ۔ آپ کی پہلی بیوی سارہ نے ان سے حسد کیا ۔ یہی حسد سبب بنا کہ آپ ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچہ کو حکم خدا سے فلسطین سے لے کر مکہ کی جلتی ہوئی سنگلاخ پہاڑوں کی سر زمین میں لے گئے ۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں پانی کی ایک بوند بھی دستیاب نہ تھی آپ حکم خدا سے ایک عظیم امتحان سے گزرتے ہوئے انہیں وہاں چھوڑ کر واپس فلسطین آگئے ۔ وہاں چشمہٴ زمزم پیدا ہوا ۔ اس اثناء میں جرہم قبیلہ ادھر سے گزرا ۔ اس نے جناب ہاجرہ سے وہاں قیام کی اجازت چاہی ۔ گویا واقعات کا ایک طولانی سلسلہ ہے کہ جو اس علاقہ کی آبادی کا باعث بنا ۔ حضرت ابراہیم نے خدا سے دعا کی تھی کہ اس جگہ کو آباد اور پر برکت شہر بنا دے اور لوگوں کے دل میری اولاد کی طرف مائل کر دے ۔ ان کی اولاد وہاں پھلنے پھولنے لگی تھی ۔ 1 یہ بات جاذب نظر ہے کہ بعض مورخین نے نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم ہاجرہ اور شیر خوار اسمعیل کو مکہ میں چھوڑ کر واپس جانا چاہتے تھے تو جناب ہاجرہ نے فریاد کی : اے ابراہیم آپ کو کس نے حکم دیا ہے کہ ہمیں ایسی جگہ پر چھوڑ جائیں کہ جہاں نہ کوئی سبزہ ہے ، نہ دودھ دینے والا کوئی جانور ، یہاں تک کہ جہاں پا نی کا ایک گھونٹ بھی نہیں ہے ۔ آپ پھر بھی ہمیں بغیر زاد و توشہ اور مونس و مدد گار کے چھوڑے جارہے ہیں ۔ حضرت ابراہیم نے مختصر سا جواب دیا : میرے پروردگار نے مجھے یہی حکم دیا ہے ۔ ہاجرہ نے یہ سنا تو کہنے لگی : اگر ایساہے تو پھر خدا ہر گز ہمیں یوں ہی نہیں چھوڑے گا ۔ 2 حضرت ابراہیم بار ہا فلسطین سے اسماعیل کو ملنے کے لئے مکہ آئے ۔ ایک سفر کے موقعہ پر آپ مراسم حج بجا لائے اور حکم خدا سے اپنے آبرو مند اور نہایت پاکیزہ صاحب ایمان نو جوان بیٹے اسماعیل کو لے کر قربان گاہ میں آئے ۔ اسمعیل آپ کی زندگی کا بہترین ثمر تھے ۔ آپ بالکل تیار تھے کہ انہیں راہ خدا میں قربان کر دیں ۔ اس اہم ترین آزمائش سے جب آپ نہایت عالی طریقہ سے عہدہ بر آ ہو چکے اور آخری مرحلے تک اپنی آمادگی کا مظاہرہ کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی کو قبول کر لیا اور اسمعیل کو بچا لیا اور قربانی کے لئے ایک دنبہ کو بھیج دیا ۔ 3 حضرت ابراہیم ان سب امتحانات سے کامیابی سے گزر چکے اور آزمائشوں کی اس کٹھالی سے کامیاب نکل آئے تو آپ کو ایک ایسا مقام حاصل ہوا جو وہ بلند ترین مقام ہے جو ایک انسان ترقی کرکے حاصل کر سکتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے : اللہ نے کچھ کلمات کے ذریعے ابراہیم کاا متحان لیا ۔ وہ ان سب سے کامیاب گزرے تو اس پر اللہ نے ان سے کہا : میں تجھے لوگوں کا امام اور پیشوا قرار دیتا ہوں ۔ ( ابراہیم اس خوش خبری پر وجد میں آئیں گے ) کہنے لگے : یہ مقام میرے کچھ اولاد کو بھی عطا کر دے ۔ ( ان کی دعا قبول ہو گئی لیکن ایک شرط کے ساتھ) اللہ نے کہا : یہ مقام ہر گز کسی ایسے شخص کو نصیب نہ ہوگا جس سے ظلم و ستم اور انحراف سرزد ہوا ہو۔ 4 1 ۔ کامل ابن اثیر جلد ۱ ص ۱۰۳ 2 ۔ سورہ صٰفٰت ۱۰۴ تا ۱۰۷ 3 ۔ بقرہ ۔ ۱۲۴ 4 ۔ سفینة البحار جلد ۱ ۔ ص ۷۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
منطق و استدلال کے سہارے
پہلے انہیں ستارہ پرستوں کا سامنا کرنا پڑا ۔” زہرہ “ ستارہ کہ جو غروب آفتاب کے ساتھ ہی افق مغرب پر چمک اٹھتا ہے ، یہ لوگ اس کی پرستش و تعظیم میں مشغول تھے ۔ حضرت ابراہیم نے استفہام انکاری کے طور پر یا ان کے نظریے کو غلط ثابت کرنے کے لئے ہم آہنگی کے اظہار کے طور پر پہلے کہا : یہ میرا خدا ہے ۔ لیکن جس وقت وہ غروب ہو گیا تو کہا : مجھے غروب ہونے والے اچھے نہیں لگتے ۔ جس وقت چاند افق کا سینہ چاک کرکے ابھرا اور چاند کی پرستش کرنے والوں نے مراسم عبادت شروع کیے تو ان کے ساتھ ہم صدا ہوکر کہنے لگے : یہ میرا خدا ہے ۔ اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا : اگر میرا پروردگار میری راہنمائی کرے تو میں تو گمراہوں میں سے ہو جاوں ۔ آفتاب نے شب تیرہ کا پردہ ہٹایا اور کوہ صحرا پر اپنی طلائی شعائیں چھڑکیں تو سورج پرست عبادت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اس پر ابراہیم (علیه السلام) نے کہا : یہ میرا خدا ہے ، یہ تو ان سب سے بڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو گویا ہوئے : اے قوم ! میں ان شریکوں سے بیزار ہوں کہ جو تم نے خدا کے لئے بنا رکھے ہیں ۔ یہ تو سب غروب ہو جاتے ہیں۔ یہ تو سب خوبصورت تغیر و تبدل کا شکار اور قوانین آفرینش کے اسیر ہیں ۔ ان کے تو اپنے بس میں کوئی ارادہ و اختیار نہیں چہ جائیکہ یہ خود اس جہان کے خالق اور اسے گردش دینے والے ہوں ۔ میں تو اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس کے لئے میں اپنے ایمان میں خالص اور ثابت قدم ہوں اور میں ہر گز مشرکین میں شامل نہیں ہوں گا ( انعام ۔ ۷۵ تا ۷۹ ) ۔ ابراہیم نے بت پرستوں سے مقابلہ نہایت خوبصورتی سے جیت لیا ۔ کچھ لوگ بیدار ہو گئے اور باقی کم از کم اپنے عقاید کے بارے میں شک و شبہ میں پڑ گئے ۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ علاقہ میں یہ بات دھوم گئی ۔ ہر کوئی سوچتا کہ یہ جوان کون ہے ، اس کی باتیں کتنی منطقی ہیں ، اس کا پیغام کتنا دل نشین ہے ، اس کی آواز تو لوگوں کے دلوں میں اترتی جاتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
ظالموں کی کمزور سازشیں
ظالموں کمزور سازشیں گزشتہ آیات میں ظالموں کی کچھ سزاوٴں کی طرف اشارہ ہو چکا ہے ۔ ان آیات میں بھی پہلے ان کے بعض کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور پھر ان کے لئے بعض سخت اور دردناک سزاوٴں کا ذکر ہے ۔ پہلی آیت میں ہے : انہوں نے مکر کیا اور جس قدر ان سے بن پڑتا تھا سازش اور شیطنت کی (وَ قَدْ مَکَرُوا مَکْرَھُمْ ) ۔ خلاصہ یہ کہ تیرے دشمنوں نے اسلام کو مٹانے اور نابود کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔ ڈرانے دھمکانے سے لے کر اذیت و آزار اور قتل کی سازش کی ۔ نیز وہ پرا پیکنڈہ کرتے رہے اور طرح طرح کی تہمتیں لگاتے رہے ۔ لیکن ان سب کے باوجود اللہ ان کی تمام سازشوں سے آگاہ ہے اور ان کے تمام کام اس کے رکارڈ میں ہیں (وَ عِنْدَ اللَّہِ مَکْر ھُمْ ) ۔ بہر حال پریشان نہ ہو ۔ یہ نیرنگیاں ، منصوبے اور سازشیں تجھ پر اثر نہیں ڈالیں گی ” اگر وہ اپنے مکر سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں “ (وَ إِنْ کانَ مَکْرُھُمْ لِتَزُولَ مِنْہُ الْجِبالُ ) ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ” مکر “ ہر قسم کی چارہ جوئی اور چارہ اندیشی کے معنی میں ہے ۔ یہ کام کبھی برائی کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی اس کے بغیر۔ اگر چہ موجودہ فارسی زبان میں یہ لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن عربی ادب کے لحاظ سے اس کا معنی عام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی یہ لفظ خدا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ (وَ عِنْدَ اللَّہِ مَکْر ھُمْ ) کے بارے میں دو احتمال ذکر کئے ہیں ۔ بعض مفسرین مثلاً علامہ طبا طبائی نے االمیزان میں کہا ہے کہ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ خدا ان کے تمام منصوبوں چالبازیوں اور سازشوں پر پورا احاطہ رکھتا ہے ۔ بعض دیگر مثلا ً مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ان کے مکر کی سزا خدا کے ہاں ثابت ہے لہذا یہ جملہ ” وَ عِنْدَ اللَّہِ مَکْر ھُمْ “ کی تقدی میں ہے اور لفظ ” جزاء “ جو مضاف ہے محذوف ہے ۔ البتہ پہلا معنی بلا شبہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ آیت کے ظاہری مفہوم سے بھی مطابقت رکھتا ہے ۔ اور کسی قسم کے حذف و تقدیر کا بھی محتاج نہیں ہے ۔ پہلا جملہ کہ جس میں ہے ۔” اگر چہ ان کا مکر پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دے “ یہ بھی اسی تفسیر کو تقویت دیتا ہے ۔یعنی اگر چہ وہ منصوبہ بندی اور سازشوں میں بڑے طاق ہوں ، خدا ان سے زیادہ آگاہ اور زیادہ قدرت والا ہے اور ان کی سازشوں کو درہم برہم کر دیتا ہے ۔ دوبارہ روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے اور ظالموں اور بد کاروں کو دھمکی دی گئی ہے ۔ ارشادہوتا ہے : تم یہ گمان نہ کرنا کہ خدا نے انبیاء سے جو وعدہ کیا ہے اس کی خلاف ورزی کرے گا (فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّہَ مُخْلِفَ وَعْدِہِ رُسُلَہُ ) ۔ کیونکہ وعدہ خلافی تو وہ کرتا ہے جو قادر و توانا نہ ہو یا سزا و انتقام اس کی لغت میں نہ ہو لیکن ” خدا تو توانا بھی ہے اور صاحب انتقام بھی (إِنَّ اللَّہَ عَزیزٌ ذُو انتِقامٍ ) ۔ یہ آیت در حقیقت ایک گزشتہ آیت ”ولا تحسبن اللہ غافلا ً عما یعمل الظالمون“ کی تکمیل کرتی ہے ۔ یعنی اگر تم دیکھتے ہو کہ ظالموں کو مہلت ملی ہوئی ہے تو وہ اس لئے نہی ہے کہ پروردگار ان کے اعمال سے غافل ہے اور نہ اس لئے کہ وہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا بلکہ ان کے تمام حساب ایک ہی دن چکا دے گا اور انہی عادلانہ طور پر سزا دے گا ۔ لفظ ” انتقام “ موجودہ فارسی میں تلافی کرنا ، کینہ نکالنا اور معاف نہ کرنے کا مفہوم بھی لئے ہوئے ہے ۔ در اصل اس کا یہ معنی نہیں ۔ بلکہ ” انتقام “ کا مفہوم سزا دینا اور عذاب کرنا ہی ہے ۔ ایسی سزا کہ جو خدا استحقاق اور عدالت کی بنا پر دے گا بلکہ انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے ۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر خدا کی طرف سے ایسا انتقام نہ ہو تو یہ اس کی حکمت و عدالت کے خلاف ہوگا ۔ مزید فرمایا گیا ہے : یہ سزا ایسے دن دی جائے گی جبکہ یہ زمین دوسری زمین میں تبدی لہو جائے گی اور یہ آسمان دوسرے آسمانوں میں تبدیل ہوجائے گا (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاٴَرْضُ غَیْرَ الْاٴَرْضِ وَ السَّماواتُ ) ۔ اس روز ہر چیز تباہی کے بعد پھر سے صورت پذیر ہوگی اور انسان نئے حالات کے ساتھ نئے عالم میں قدم رکھے گا ۔ ایسا عالم کہ جس کی تمام چیزیں اس عالم سے مختلف ہوں گی ” اس کی وسعت ، اس کی نعمتیں اور اس کی سزائیں سب مختلف ہوں گی ” اور اس روز جو کچھ بھی کسی کے پاس ہے وہ سب پوری طرح واحد و قہار خدا کے سامنے ظاہر ہو جائے گا (وَ بَرَزُوا لِلَّہِ الْواحِدِ الْقَھَّارِ ) ۔ ” برزو“ اصل میں ” براز “ ( بر وزن ” فراز “ ) کے مادہ سے فضا اور وسیع جگہ کے معنی میں لیا گیا ہے ۔ ” برزو “ کا معنی ایسی فضا اور وسیع علاقہ میں ہونا ہے کہ جس کا لازمی نتیجہ ظاہر اور آشکار ہونا ہے ۔ اسی وجہ سے ” برزو عام طور پر ” ظہور “کے معنی میں آتاہے ( غور کیجئے گا ) ۔ روز قیامت انسان کے خدا کے سامنے ظاہر ہونے کا کیا معنی ہے ، اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں ۔ بہت سوں نے اسے قبروں سے باہر نکالنے کے معنی میں لیا ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ بروز کا مطلب انسان کے اندر اور باہر کا سب کچھ ظاہر ہوجانا ہو جیسا کہ سورہ مومن کی آیہ ۱۶۔ میں فرمایا گیا ہے : یوم ھم بارزون لا یخفی علیٰ اللہ منھم شیء وہ دن کہ جب ان کاسب کچھ آشکار ہو جائے گا اور ان کی کوئی چیز مخفی نہ رہے گی ۔ نیز سورہ طارق کی آیہ ۹۔ میں ہے : یوم تبلی السرائر وہ دن کہ جب ہر شخص کے اندرونی اسرارآشکار ہو جائیں گے ۔ بہر حال اس حالت میں خدا کی قہاریت کا ذکر ہر چیز پر اس کے تسلط اور سب کے اندر اور باہر پر اس کے غلبہ کی دلیل ہے ۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا دنیا میں کوئی چیز خدا پر مخفی ہے کہ جو وہاں آشکار ہو جائے گی ؟۔ کیا خدا قبروں میں مردوں کے وجود سے بے خبرہے ؟ یا کیا وہ یہاں انسان کے اندرونی اسرار کو نہیں جانتا ؟ ایک نکتے کی طرف توجہ سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ اس جہان میں ایک ہمارا ظاہر ہے اور ایک باطن ۔ بعض اوقات ہامرے علم کے محدود ہونے کی بناء پر یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ خدا ہمارے باطن کو نہیں جانتا لیکن دوسرے جہان میں ہر چیز اس طرح آشکار ہو جائے گی کہ ظاہر و باطن کا فرق نہیں ہوگا ۔ سب کچھ آشکار ہوگا ۔ یہاں تک کہ کسی کے دل میں یہ احتمال بھی پیدا نہیں ہوگا کہ ہو سکتا ہے کوئی چیز خدا سے مخفی رہ گئی ہے ۔ دوسرے لفظوں بروز و ظہور ہماری فکرو نظر کے اعتبار سے ہے کہ علم خدا کے اعتبار سے ۔ اگلی آیت میں مجرمین کی حالت ایک اور پہلو سے تصویر کشی کی گئی ہے : اس روز تو مجرموں کو دیکھے گا کہ وہ طوق و زنجیر میں جکڑے ہوں گے ۔ ان کے ہاتھ گردنوں سے بندھے ہوں گے اور وہ ایک دوسرے سے بھی بندھے ہوں گے (وَ تَرَی الْمُجْرِمینَ یَوْمَئِذٍ مُقَرَّنینَ فِی الْاٴَصْفادِ )۔ ”اصفاد “ جمع ہے” صفد“ ( بر وزن ” نمد “ ) کی اور ”صفاد “ (بروزن” معاد “) طوق کے معنی میں ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ” صفاد “ خاص طور پر اس طوق و زنجیر کو کہتے ہیں جو ہاتھ اور گردن کو ایک دوسرے سے باندھ دے ۔ ” مقرنین “ ”قرن “ اور ” اقتران “ کے مادہ سے اسی معنی میں ہے ۔ البتہ جب اسے باب تفعیل میں منتقل کیا جائے تو اس سے ” تکثیر “ کا مفہوم حاصل ہوتا ہے ۔ لہذا ” مقرنین “ کا معنی ہے :” وہ لوگ جو ایک دوسرے کے بہت قریب ہوں “ ۔اس لفظ سے زیر نظر آیت میں کون لوگ مراد ہیں ۔اس سلسلے میں مفسرین نے تین تفسیریں بیان کی ہیں ۔ پہلی :۔ یہ کہ اس روز مجرمین کو طوق زنجیر کے ایک لمبے سلسلے میں ایک دوسرے سے باندھا جائے گا وہ لوگ اسی حالت میں میدان حشر میں پیش ہوں گے ۔ طوق و زنجیر کا یہ سلسلہ اب گنہگاروں کے عملی فکری رشتے اور تعلق کا مظہر ہے ۔ اس تعلق کی بنا ء پر وہ اس جہان میں باہم ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے ، ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے اور ظلم و فساد کی راہ میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے ۔ ان کا یہ باہمی ربط وہاں طوق و زنجیر کے اس سلسلے میں مجسم ہوگا ۔ دوسری :۔ تفسیر یہ ہے کہ اس روز مجرم زنجیروں کے ذریعے شیطانوں کے ساتھی ہو جائیں گے اور اس دنیا میں ان کا باطنی تعلق اس جہان میں ایک زنجیر کے ذریعے آشکار ہو جائے گا ۔ تیسری : ۔ تفسیر یہ ہے کہ زنجیروں کے ذریعے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردن کا قرین بنا دیا جائے گا ۔ کوئی مضائقہ نہیں کہ مجرموں کے بارے میں یہ معانی صحیح ہوں اگر چہ آیت ظاہری مفہوم زیادہ تر پہلے معنی کی تائید کرتا ہے ۔ اس کے بعد ان کے لباس کے بارے میں بتایا گیا ہے اور یہ بھی ان کے لئے ایک عذاب عظیم ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ان کے لباس قطران کے مادہ سے بنے ہوئے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ کے شعلے ڈھانپ لیں گے (سَرابیلُھمْ مِنْ قَطِرانٍ وَ تَغْشی وُجُوھھُمُ النَّارُ )۔ ”سرابیل “ ” سربال “ ( بروزن ”مثقال “)کی جمع ہے ۔ اس کا معنی ہے ” قمیص “ چاہے وہ کسی بھی چیز سے بنی ہو۔ نیز بعض نے کہا ہے کہ یہ ہر قسم کے لباس کے معنی میں ہے لیکن پہلا معنی زیادہ مشہور ہے ۔ ” قطران “ لغت میں کبھی قاف پر زبر اور تا پر سکون اور کبھی قاف کے نیچے زیر اور طاء پر سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے ۔ اس کا معنی ہے ایسا مادہ جو ابہل نامی درخت سے لیا جاتا ہے تا کہ اس بیماری کے باعث ہونے والی سوزش کو ختم کیا جا سکے اور اس کے مادہ کو جڑ سے ختم کیا جا سکے ۔ بہر حال یہ ایک ایسا بد بو دار سیاہ رنگ مادہ ہے جو شعلہ ور ہو سکتا ہے ۔ ۱ ۲ بہر کیف ” سرابیلھم من قطران “ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے بدن لباس کی بجائے ایک طرح کے سیاہ رنگ بدبودار جل اٹھنے والے مادہ سے ڈھانپے جائیں گے ۔ یہ ایسا لباس ہوگا جو ویسے بھی برا ہوگا اور دیکھنے میں بھی بہت قبیح ہوگا ۔ بدبو بھی دے گا اور خود بخود جل اٹھنے والا بھی ہوگا ۔ جب لباس میں یہ چار عیب ہونگے تو گویا وہ بد ترین لباس ہوگا ۔ کیونکہ لباس زینت کے لئے بھی ہوتا ہے اور گرمی سردی سے بچنے کے لئے بھی جبکہ یہ لباس برا اور قبیح صورت بھی ہوگا اور جلانے والا بھی ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ لباس گناہ پہن کی مجرم اس جہان میں بارگاہ الہی میں بھی اپنے تئیں رو سیاہ کرتے ہیں اور ان کے گنا کا تعفن اس معاشرے کو بھی آلودہ کرتا ہے ۔ نیز ان کے اعمال اس معاشرے میں فساد وگناہ کی آگ بھڑکنے کا باعث بنتے ہیں ۔ یہ ” قطران “ کہ جس کا لباس انہیں اس جہان میں پہنایا جائے گا گویا ان کے اس جہان اعمال کی تجسیم ہے ۔ یہ جو آیت میں ہے کہ آگ کے شعلے ان کے چہروں کو ڈھانپ دیں گے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس حصہ پر ” قطران “ نہیں ہوگا وہ اس کے شعلوں میں جلے گا ۔ یہ اس لئے ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ہر شخص اس کے کئے کے مطابق سزا دے ( لِیَجْزِیَ اللَّہُ کُلَّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ ) ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ ” انہیں ان کے اعمال کی سزا دے گا “ بلکہ کہتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے انجام دیا ہے ، انہیں جزا کے طور پر دے گا ۔ دوسرے لفظوں میں ان کی جزا ان کے اعمال مجسم ہونا ہے ۔ اس خاص تعبیر کے باعث یہ آیت تجسیم اعمال کی ایک اور دلیل ہے ۔ آخر میں فرمایا گیا ہے: اللہ سریع الحساب ہے ۔ (إِنَّ اللَّہَ سَریعُ الْحِسابِ )۔ بالکل واضح ہے کہ جب انسان کے اعمال ختم نہ ہوں اور چہرہ بدل کر انسان کے پاس آ جائیں تو اس سے زیادہ جلدی حساب اور کیا ہوگا اور در اصل انسان کا حساب اس کے ساتھ ساتھ ہی ہے ۔ بعض روایات میں ہے ۔ ان اللہ تعالیٰ یحساب الخلائق کلھم فی مقدار لمح البصر اللہ تعالیٰ چشم زدن میں تمام مخلوقات کا حساب کر لے گا ۔ اصولی طور پر پروردگار کی طرف سے محاسبہ مدت کا محتاج نہیں ۔ مذکورہ بالا روایت نے در اصل مختصر ترین زمانے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۲ ص ۴۵۔ ( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔ یہ سورہ اور تمام قرآن چونکہ لوگوں کو دعوت توحید دیتا ہے ، احکام الہی کی تبلیغ کرتا ہے اور احکام الہی کی خلاف ورزیوں سے ڈراتا ہے لہذا اس سورہ کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے : قرآن کا ابلاغ سب لوگوں کے لئے عمومی ہے ( ھذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ ) ۔اور انہیں ڈرانے والا ہے ( وَ لِیُنْذَرُوا بِہِ ) ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ جان لیں کہ ان کا معبود بس وہی ایک ہے (وَ لِیَعْلَمُوا اٴَنَّما ھُوَ إِلہٌ واحِدٌ ) ۔ نیز ہدف یہ ہے کہ صاحبان عقل و فکر متوجہ ہوں (وَ لِیَذَّکَّرَ اٴُولُوا الْاٴَلْبابِ ) ۱ ۔تفسیر کبیر ، فخر الدین رازی جلد ۱۹ ص۱۴۸۔ ۲ ۔فرید وجدی دائرة المعارف میں قطران کے مادہ میں کہتا ہے : یہ ایسا مایع ہے کو پتھر کو کوئلہ کی تقطیر کے وقت ہاتھ آتا ہے جبکہ ایک خاص گیس حاصل کرنے کے لئے عمل تقطیر کیا جاتا ہے اور نباتی قطران بعض درختوں سے لیا جاتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
حضرت ابراهیم (ع) کی هجرت
ہجرت آخر کار نمرود کی ظالم حکومت کی مشیزی کو اس بات کا احساس ہوا کہ یہ جوان آہستہ آہستہ حکومت کے لئے خطرے کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے سوچا کہ اس کی زبان گویا ، فکر توانااور منطق رسا کہیں پسے ہوئے محروم عوام کی بیداری اور آگاہی کا باعث نہ بن جائے کہیں لوگ استعمار کی زنجیر توڑ کی ان کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں لہذا حکومت نے فیصلہ کر لیا کہ بت پرستوں کے جاہلانہ تعصب کا سہارا لے کر ابراہیم کو راستے سے ہٹا دیا جائے ۔ انہیں ایک خاص انداز اور حالات پیدا کر کے لوگوں کے سامنے آگ کے دریا میں پھینکنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ سورہ انبیا میں اس واقعہ کی تفصیل آئیں گی ۔یہ آگ در حقیقت لوگوں کی جہالت اور حکمران نظام کے ظلم کے ایندھن سے جلائی گئی تھی ۔ حکومت اس طرح اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے آسودہ فکر کرنا چاہتی تھی ۔ لیکن جب آگ حکم خدا سے خاموش ہو گئی اور ابراہیم اس سے صحیح و سالم نکل آئے تو نمرود کے نظام حکومت میں لرزہ پیدا ہو گیا ۔ اب ابراہیم ایک اور حیثیت سے سامنے آئے ۔ وہ ایک عام تفرقہ پرواز انسان نہ تھے کہ جسے وہ قتل کرنا چاہتے تھے ۔ وہ تو ایک خدائی رہبر تھے وہ ایک ایسے بہادر ہیرو تھے جو تن تنہا خالی ہاتھ طاقتور ظالم حکمرانوں پر حملہ کر سکتے تھے ۔ لہذا عوام کا خون چوسنے والے نمرود اس کے درباریوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پوری قوت سے ابراہیم کا مقابلہ کریں گے اور جب تک انہیں ختم نہ کر لیں آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔ دوسری طرف ابراہیم یہاں اپنا کردار ادا کر چکے تھے ۔ آمادہ دل لوگ ان پر ایمان لا چکے تھے ۔ انہوں نے مناسب سمجھا کہ موٴمنین اور اپنے حامیوں کو ساتھ لے کر بابل سے نکل جائیں اور اپنی دعوت حق کو دور دور تک پھیلانے کے لئے شام ، فلسطین اور فرعون کی سر زمین مصر کی طرف روانہ ہوں ۔ آپ نے ان علاقوں میں حقیقت توحید کی تبلیغ کی اور بہت سے لوگ خدائے واحد پر ایمان لائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
قرآن اور ابراہیم کا مقام بلند
قرآن اور ابراہیم کا مقام بلند آیات قرآن مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو بہت بلند مقام عطا فرمایا تھا ۔ ایسا بلند مقام اللہ تعالیٰ نے کسی اور گزشتہ نبی کو عطا نہیں فرمایا تھا ۔ اس پیغمبر خدا کی عظمت ان تعبیرات سے واضح طور پر معلوم کی جا سکتی ہے : ۱۔ خدا نے ابراہیم کی ایک ” امت “ قرار دیا ہے اور ان کی شخصیت کو ایک امت کی مانند گردانا ہے ( نحل ۔ ۱۲۰ ) َ ۔ ۲ ۔اللہ نے آپ کو خلیل اللہ کا مرتبہ عطا فرمایا ہے : واتخذ اللہابراھیم خلیلا (نساء ۔ ۱۲۵) ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ بعض روایات میں ہے : یہ مقام انہیں اس بناء پر حاصل ہوا کہ ابراہیم نے خود کبھی کسی چیز کے لئے کسی کے سامنے دست دراز بلند نہ کیا اور کبھی کسی سائل کو محروم نہیں لوٹایا ۔ 2 ۳ ۔ قرآن کے مطابق وہ نیک ۱ صالح ۲ قانتین میں سے ، ۳ صدیقین میں سے ، ۴ صابرین میں سے ۵ اور ایفائے عہد کرنے والوں میں سے تھے ۔ 1 ۱ ۔ ص ۴۷ ۲ ۔ نحل ۔ ۱۲۲ ۳ ۔ نحل ۱۲۰ ۴ ۔ مریم ۔ ۴۱ ۵ ۔ توبہ ۱۱۴ ۶ ۔ نجم ۔ ۳۷ ۷ ۔ ذاریات ۲۴ تا ۲۷ یہاں تک کہ بعض روایات میں انہیں ابوا ضیاف ( مہمانوں کا باپ یا مہمانوں کا ساتھی ) کا لقب دیا گیا ہے ۔ 3 ۸ ۔ سفینة البحار جلد ۱ ص ۷۴ جب ہت دھر قوم آپ کو آگ کے سمندر میں پھینک رہی تھی ۔ فرشتوں نے خواہش کی تھی کہ ہم آپ کو بچا لیں ۔ ابراہیم نے ان کے اس تقاضے کو قبول نہ کیا ۔ تاریخ میں اس بات کا تذکرہ موجود ہے ۔ آپ (علیه السلام) نے کہا : میں سر تا نیاز و احتیاج ہوں لیکن مخلوق سے نہیں صرف خالق سے ، 4 ۶۔ شجاعت و بہادری میں بے مثال تھے ۔ بت پرستوں کے دہاڑتے ہوئے سیلاب کے سامنے تنہا کھڑے ہو گئے ، ان کا دل لمحہ بھر کے لئے ان سے وحشت زدہ نہ ہوا ۔ آپ نے ان کے بتوں کا مذاق اڑایا اور ان کے بت کدے کو ڈھا کر پتھروں کا ڈھیر بنا دیا نیز نمرود اور اس کے جلادوں کے بڑی جراٴت سے بات کی جو قرآنی آیات میں موجود ہے ۔ ۷۔ ابراہیم بڑی منطق سے بات کرتے تھے ۔ آپ نے گمراہوں کو بہت مختصر ، محکم ، دندان شکن استدلال سے جواب دئے اور اپنے مطقی استدلال سے مخالفین کو رسواکر دیا ۔ آپ کبھی سختی و خشونت سے پیش نہیں آتے تھے بلکہ بڑے اطمینان سے بات کرتے ۔ آپ کا یہ انداز آپ کی عظیم روحانی قوت کا ترجمان تھا ۔ آپ نے گفتار و کردار سے مخالفین کو شکست دی ۔ نمرود کے سامنے آپ کی بات چیت اور اپنے چچا آزر سے آپ کی گفتگو بابل کے قاضیوں سے مناظرہ بڑی وضاحت سے مرقوم ہے ۔ بابل کے قاضی آپ کو خدا پرستی اور بت شکنی کے جرم میں سزا دینا چاہتے تھے آپ نے بڑے اعتماد اور اطمینان سے مدلل جواب دئے ۔ اس سلسلے میں سورہ انبیاء کی مندرجہ ذیل آیات کو غور سے پڑھنا چاہیے : قاضیوں نے آپ سے پوچھا : کیا وہ تم ہی ہو جس نے ہمارے خداوٴں کے سر پر یہ مصیبت ڈھائی ہے اور ان سب چھوٹے بڑے بتوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے ۔ قالو ا اٴانت فعلت ھٰذا بالٰھتنا یاابراھیم ( کہنے لگے : اے براہیم کیا وہ تم ہی ہو جس نے ہمارے خداوٴں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے )؟ ۔ آپ نے انہیں ایسا جواب دیا کہ ان کےلئے بچ نہ نکلنے کی کوئی راہ نہ رہی ۔قرآن کے الفاظ میں : قال بل فعلہ کبیرھم ھٰذا فاسئلوھم ان کانوا ینطقون بولے :ہوسکتا ہے کہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہو اگر یہ بات کرسکتے ہیں تو انہیں سے پوچھو ۔ اس ایک ہی جملہ سے آپ نے اپنے دشمنوں کے لئے تمام راستے بند کردئے ۔ اب اگر وہ کہیں کہ بت گونگے ہیں ، لب پستہ ہیں او ربا ت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ، تو ان کے گونگے اور بے عزت خدا وٴں کی کتنی رسوائی ہے اورا گر کہیں کہ یہ با ت کر سکتے ہیں تو پھر ان کے پوچھنا پڑتا او رانہیں جواب دینا پڑتا ۔ اس پر ان کا کوابیدہ وجدان جاگ اٹھا ۔ ان کے اندر آواز آئی : تم ظالم اور خود پرست ہو ، نہ اپنے اوپر رحم کرتے ہو اور نہ اپنے معاشر پر ۔ قرآن الفاظ میں : فارجعوا الیٰ انفسھم فقالوا انھم انتم الظالمون بہرحال جواب تو انہیں دینا ہی تھا ۔ ثم نکثو ا علی روٴسھم لقد علمت ما ھووٴلاء ِ ینطقون بڑی بے دلی سے سر شکستہ ہو کر کہنے لگے : تم تو جانتے ہی ہو کہ یہ بات نہیں کرسکتے ۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیه السلام) بات ان کے سر پر بجلی بن کر گری ۔ آپ نے پکار کر کہا : اف لکم و لما تعبدون من دون اللہ افلا تعقلون حیف ہے تم پراور ان پر کہ خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو ۔ کیا گیاہے تمہاری عقلوں کو؟ ۔ آخر کا رجب انہوں نے دیکھا کہ وہ ابراہیم (علیه السلام) قوی منطق کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتے تو انہوں پھر تمام جھوٹے سر کشوں کی طرح طاقت کا سہارا لیا اور کہنے لگے :تمہیں چاہئیے کہ انہیں جلادو: اس کام کے لئے انہوں بت پرستوں کے جاہلانہ تعصبات سے مدد لی او رپکا رکر کہا : اگر تم میں طاقت ہے تو اسے جلا دو اور اپنے خداوٴں کی مدد کےلئے تیار ہو جاوٴ۔ ”قالوا حرقوہ و انصروا الٰھتکم ان کنتم فاعلین “17 یہ ابراہیم (علیه السلام) کی رسا ،استدالالی اور قاطع منطق کا ایک نمونہ تھا ۔ ۸۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ایک اعزازیہ شمار کرتا ہے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں 5 اور قرآن کہتا ہے کہ ان ہی نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ۔ 6 یہاں تک کہ مسلمانوں کو شوق دلانے کے لئے ان کے چند کے احکام پر عمل در آمد کی دعوت دیتا ہے او رکہتا ہے کہ تمہیں ابراہیم او ران کے انصا رکی اقتدا کرنا چاہئیے ۔ 7 ۹۔ اس عظمت و شکوہ سے مراسم حج کی بنیاد حکم الٰہی سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے رکھی ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مراسم حج میں ابراہیم کا نام ، ان کے کی یاد اور ان کا ذکر موجود ہے ۔ 8 ۱۰۔ ابراہیم (علیه السلام) کی شخصیت اس قدر بلند ہے کہ ہر گروہ کی کوشش تھی کہ انہیں اپنے میں سے قرار دیں ۔ یہودی اور عیسائی ابراہیم (علیه السلام) کے ساتھ اپنے تعلق پر بہت زور دیتے تھے یہاں تک کہ قرآن ان کے جواب میں یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ وہ ایک مسلمان اور سچے موحد تھے یعنی وہ ہر امر میں حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم تھے ، اس کے علاوہ انہیں کوئی سوچ نہ تھی اور بس اسی کی راہ میں قدم اٹھاتے تھے ۔ 9 1۔ ابراہیم بہت مہمان نواز تھے ۔ 13 2 ۔ ان کا توکل بے مثال تھا یہاں تک کہ کسی کام اور کسی مشکل میں خدا کے علاوہ کسی پر نظر نہیں رکھتے تھے ۔ جو کچھ بھی مانگتے خدا ہی سے مانگتے اور اس کے علاوہ کسی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے تھے 15 3- شعراء ۷۸ تا ۸۲ 4 ۔ کامل بن اثیر جلد ۱ ۔ ص ۹۹ ۔ 5۔انبیاء ۶۳ ۔تا ۔ ۶۷۔ 6۔ ملة ابیکم ابراھیم حج ۷۸۔ 7۔ ملة ابیکم ابراھیم حج ۷۸۔ 8۔ ممتحنة ۔۴۔ 9۔ سورہ حج ۲۷۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
بت پرستوں سے مقابلہ
بت پرستوں سے مقابلہ بابل کے لوگ اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کے علاوہ سورج ، چاند اور ستارے جیسے آسمانی موجودات کی پرستش کرتے تھے ۔ حضرت ابراہیم نے عزم صمیم کر لیا کہ واضح منطق اور استدلال کے ذریعہ ان کے خوابیدہ وجدان کو پیدا کیا جائے اور ان کی پاک فطرت کے چہرے سے غلط تعلیمات کے تاریک پردے ہٹا دئے جائیں تا کہ نور فطرت چمک اٹھے اور وہ توحید پرستی کے راستے پر گامزن ہو سکیں ۔ انہوں نے مدتوں آسمان و زمین کی خلقت پر غور کیا تھا ، ان پر حکمران قدرت کا مطالعہ کیا تھا اور آسمان و زمین کے شگفت انگیز اور تعجب خیز نظام کے بارے میں فکر کی تھی ۔ نور یقین ان کے دل میں چمک رہا تھا ( انعام ۔ ۷۵) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
۲۔سورہ ابراہیم کا آغاز اور اختتام
۲۔سورہ ابراہیم کا آغاز اور اختتام: جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے سورہ ابراہیم قرآن کے ایک حساس موضوع سے شروع ہوتی ہے اور یہ موضوع ہے انسان کو جہالت اور شرک کے اندھیروں سے علم و توحید کی طرف نکال لے جانا ۔ اس سورت کا اختتام تمام لوگوں کو جہالت و شرک کے نتائج سے ڈرانے ، تعلیم توحید اور اولوا الباب کو متوجہ کرنے پر ہوتا ہے ۔ اس ابتداء اور انتہاء سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو کچھ بھی ہم چاہتے ہیں وہ اسی قرآن میں موجود ہے ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : فیہ ربیع القلب و ینابیع العلم دلوں کی بہار اور علوم و دانش کے سوتے اسی قرآن سے پھوٹتے ہیں 1 اسی طرح تمام فکری ، اخلاقی اجتماعی اور سیاسی بیماریوں کا علاج اسی قرآن میں تلاش کرنا چاہئے ۔ بقول امیر المومنین : فاستشفوہ من ادوائکم اسی قرآن سے اپنی بیماریوں کی دوا حاصل کرو ۔ 2 یہ بیان اس امر کی دلیل ہے کہ آج کے مسلمان جو سمجھتے ہیں کہ قرآن صرف ایک ایسی مقدس کتاب ہے جو پڑھنے اور ثواب حاصل کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اس کے بر عکس یہ ایک ایسی کتاب ہے جو انسانوں کی ساری زندگی کے دستور العمل کے طور پر نازل ہوئی ہے ۔ یہ آگہی عطا کرنے والی اور بیدار کرنے والی کتاب ہے ۔ خلاصہ یہ کہ یہ ایسی کتاب ہے جو عالم اور دانشور کو متوجہ کرتی ہے اور عامة الناس اس سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ۔ چاہیے کہ یہ کتاب مسلمانوں کی زندگی میں جگہ پائے اور ان کی زندگی کا آئین بن جائے ۔ نیز ضروری ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر عمل کرنے کے لئے تحقیق ، مطالعہ اور غور و خوض کا موضوع بنی رہے ۔ مسلمانوں کے زوال اور پس ماندگی کا موثر عامل اور سبب یہ ہے کہ انہوں نے اس عظیم آسمانی کتاب کو فراموش کر دیا اور مشرق و مغرب کے انحرافی مکاتب فکر کی رخ کر لیا ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام نے کیا عمدہ فرمایا ہے : واعلموا انہ لیس علی احد بعد القرآن من فاقة ولا لاحد قبل القرآن من غنی ۔ یقین جانیے کہ آپ میں سے کوئی شخص بھی حامل قرآن ہو جائے تو اسے ذرہ بھر فقر و احتیاج نہیں رہے گی اور حامل قرآن ہونے سے پہلے بے نیازی اور تونگری ممکن نہیں ۔ 3 کس قدر درد ناک ہے ۔ قرآن سے ہماری بیگانگی اور بے گانوں کی قرآن سے آشنائی ۔ کس قدر تکلیف دہ ہے ۔ کہ بہترین وسیلہٴ سعادت ہمارے گھر میں موجود ہے اور ہم اس سعادت کے لئے دنیا کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ کس قدر اندوہناک ہے ۔ کہ آب حیات کا چشمہ ہمارے پاس ہو اور ہم تشنہ کام جان دے دیں یا تپتے ہوئے بے آب بیابانوں میں سیراب کے پیچھے بھاگتے رہیں ۔ خدا وندا ! ہمیں وہ عقل و ایمان عطا فرما جس کے ذریعے ہم سعادت کا یہ عظیم وسیلہ کھو نہ بیٹھیں جو تیری راہ کے شہداء نے ہم تک پہنچایا ہے ۔ اور ہمیں وہ شعور مرحمت فرما کہ ہم جان لیں کہ ہماری گمشدہ متاعیں اسی عظیم کتاب میں ہیں ۔ تا کہ ہم کبھی اس کے سامنے اور کبھی اس کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے پھریں ۔ ۱ ۔نہج البلاغہ 2 ۔نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶ 3 ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
۳۔ اول و آخر ۔ توحید
۳۔ اول و آخر ۔ توحید : زیر نظر آیات کا ایک پہلو توحید پر تاکید ہے ۔ یہاں آخری ذکر بھی توحید کا ہے اور اسی کی طرف اولوا الباب کو متوجہ کیا گیا ہے ۔ جی ہاں ۔ توحید اسلام کی عمیق بنیاد ہے ۔ عقیدہ توحید اسلام کا وہ شجرہے جس کی جڑیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ۔ اسلامی تعلیم و تربیت کے سب راستے اسی پر اختتام پذیر ہوتے ہیں ۔ اسلام کی ابتداء بھی توحید ہے اور انتہاء بھی توحید ۔ اسلام کا تانا بانا توحید ہی سے بنا گیا ہے ۔ توحید کا تعلق فقط معبود اور اللہ کے عقیدہ ہی سے نہیں بلکہ اس کے ہر نظریے ، عقیدہ اور پروگرام کا ہدف بھی توحید ہی ہے ۔ ہر ایک کی بنیاد توحید پر ہے ۔ آج مسلمانوںکی عظیم ابتلا کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے توحید کو عملی طور پر اسلام سے حذف کر دیا ہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عرب ممالک کہ جہاں اسلام پروان چڑھا ۔آج شرک آلود نعروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ آج وہ نسل پرستی ، عرب تفاخر ، احیاء عربیت اور عظمت عرب کے بھنور میں گرفتار ہےں ۔اسی طرح دوسرے ممالک میں سے بھی ہر کسی نے اپنے لئے اسی قسم کا کوئی بت تراش لیا ہے ۔ انہوں نے اسلامی توحید کو اپنے سے باکل الگ کر دیا ہے کہ جس نے کسی وقت مشرق و مغرب کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا تھا ۔ اس طرح یہ سب ممالک اپنے آپ میں ڈوب کر خود اپنے آپ سے بے گانہ ہو گئے ہیں ۔ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان کی آپس میں جنگ خون کے پیاسے دشمنوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہ بات کتنی شرمناک ہے کہ ہم سنیں کہ عرب ممالک کی باہیمی جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد اسرائیلی یہودیوں کے مقابلے میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس وقت جب کہ ان کا ایک مشترک خطرناک دشمن ہے تو ان کے انتشار کا یہ عالم ہے اگر ایسا دشمن نہ ہوتا تو ان کی کیا حالت ہوتی ۔ اس وقت جبکہ ہم تفسیر کا یہ حصہ لکھ رہے ہیں حکومت عراق نے بڑی بے رحمی سے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کر دیا ہے اور بہانہ بھی اس کے پاس سرحد کا معمولی سا تنازعہ ہے جو یقینا مذاکرات سے حل ہو سکتا تھا ۔ یہ وہی حکومت عراق ہے کہ جس نے اسرائیلی سپاہیوں پر آج تک ایک بھی گولی نہیں چلائی ۔ آج اس نے اس سفا کی سے حملہ کیا ہے کہ جیسے دو قوموں کا آپس میں کوئی رشتہ ہی نہ ہو ۔ جیسے یہ نہ آپس میں ہمسایہ ہیں ، نہ ان میں تہذیب و ثقافت کا کوئی رشتہ ہے اور نہ گہرا دینی تعلق ہے ۔ ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ مشترک دشمن یہودی خوش ہو کر کہتا ہے : اس سے بہتر منصوبہ کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ عراق ایران پر حملہ کر دے اور دونوں میں شدید تباہ کن طولانی جنگ شروع ہو جائے اور ہمیں ایک مدت کے لئے آسودگی مل جائے ۔ یہ وہ مقام ہے کہ ایک موحد ، متعہد اور صاحب ایمان مسلمان پر لازم ہے کہ ان طاغوتو ں کا شر ختم کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ایسے شرک آلود ، نفاق ڈالنے والوں ، تباہیاں پھیلانے والوں اور دشمن کو خوش کرنے والوں کو قعر جہنم میں پہنچائے ۔ ۱ - سورہ ابراہیم آیہ ۳۷ تا ۴۱
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
سوره ابراهیم / آیه 46- 52
۴۶۔ وَ قَدْ مَکَرُوا مَکْرَھُمْ وَ عِنْدَ اللَّہِ مَکْر ھُمْ وَ إِنْ کانَ مَکْرُھُمْ لِتَزُولَ مِنْہُ الْجِبالُ ۔ ۴۷۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّہَ مُخْلِفَ وَعْدِہِ رُسُلَہُ إِنَّ اللَّہَ عَزیزٌ ذُو انتِقامٍ ۔ ۴۸۔ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاٴَرْضُ غَیْرَ الْاٴَرْضِ وَ السَّماواتُ وَ بَرَزُوا لِلَّہِ الْواحِدِ الْقَھَّارِ ۔ ۴۹۔ وَ تَرَی الْمُجْرِمینَ یَوْمَئِذٍ مُقَرَّنینَ فِی الْاٴَصْفادِ ۔ ۵۰۔ سَرابیلُھمْ مِنْ قَطِرانٍ وَ تَغْشی وُجُوھھُمُ النَّارُ ۔ ۵۱۔ لِیَجْزِیَ اللَّہُ کُلَّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ إِنَّ اللَّہَ سَریعُ الْحِسابِ ۔ ۵۲۔ ھذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوا بِہِ وَ لِیَعْلَمُوا اٴَنَّما ھُوَ إِلہٌ واحِدٌ وَ لِیَذَّکَّرَ اٴُولُوا الْاٴَلْبابِ ۔ ترجمہ ۴۶۔ انہوں نے اپنا پورا مکر کیا اور ان کے سارے مکر ( اور سازشیں ) خدا کے سامنے آشکار ہیں اگر چہ ان کے مکر سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں ۔ ۴۷۔ اور یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ان وعدوں کی خلاف ورزی کرے گا جو اس نے اپنے رسولوں سے کئے ہیں کیونکہ خدا قادر و منتقم ہے ۔ ۴۸۔ وہ دن کہ جب یہ زمین دوسری زمین میں بدل جائے گی اور آسمان ( دوسرے آسمانوں میں ) تبدیل ہو جائیں گے اور خدائے واحد و قہار کی بارگاہ میں ظاہر ہوں گے ۔ ۴۹ ۔ اور تو اس دن مجرموں کو اکھٹا طوق و زنکیر میں دیکھے گا ( ایسے طوق و زنجیر جن سے ان کے ہاتھ اور گردنیں اکھٹی بندھی ہونگی ) ۔ ۵۰۔ اور ان کا لباس قطران ( جلانے والا چپکا ہوا بدبد دار مادہ ) کا ہوگا اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ۔ ۵۱۔ تا کہ خدا ہر شخص کو جو کچھ اس نے انجام دیا ہے اس کی جزا دے کیونکہ خدا سریع الحساب ہے ۔ ۵۲۔ یہ ( قرآن ) ( سب ) لوگوں کے لئے اعلان ہے تا کہ سب کو تہدید ہو جائے اور ( سب ) جان لیں کہ وہ اکیلا معبود ہے نیز اس لئے کہ صاحبان عقل (اور غور و فکر کرنے والے ) نصیحت حاصل کریں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
بت شکن پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر
ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر حضرت ابراہیم (علیه السلام) یہ وہ صورت ہے جو قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے موسوم ہے اگر چہ ان کے حالات زندگی صرف اسی صورت میں نہیں ہیں بلکہ مختلف مناسبتوں سے دیگر صورتوں میں بھی خدا کے اس عظیم پیغمبر کا ذکر موجود ہے ۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ مکتب توحید کے اس ہیرو کی پر افتخار زندگی کے مختصر حالات زندگی اس سورہ کے آخر میں پیش کر دیں تا کہ اس سلسلہ میں آنے والی مختلف آیات کی تفسیر میں قارئین محترم کے لئے مدد گار ثابت ہو سکیں کیونکہ ان میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی زندگی کے مختلف پہلووٴں پر تفصیل کی ضرورت پیش آئے گی ۔ زندگی کے تین دور حضرت ابراہیم کی زندگی کو واضح طور پر تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : ۱۔ قبل بعثت کا دور ۲۔ دور نبوت اور بابل کے بت پرستوں سے مقابلہ ۔ ۳۔ بابل سے ہجرت اور مصر ، فلسطین اور مکہ میں مساعی کا دور ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
آزر سے گفتگو
آزر سے گفتگو ایک اور مرحلہ آیا ۔ ابراہیم کی اپنے چچا آزر سے بحث ہونے لگی ۔ کبھی بہت مضبوط انداز سے ، محبت کے سلیقے سے اور کبھی تنبیہ و سر زنش کے لہجے میں ، آپ نے اسے بت پرستی کے بارے میں خبر دار کیا اور اس سے کہا : تو ایسی چیز کی پرستش کیوں کرتا ہے جو نہ سن سکتی ہے ، نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ ہی تیری کوئی مشکل حل کر سکتی ہے ؟ آپ (علیه السلام) نے چچا سے کہا : اگر تو میری پیروی کے تو میں تجھے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کروں ۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر تو شیطان کی پیروی کرتا ہے تو کہیں تجھے عذاب الہی دامن گیر نہ ہو جائے ۔ یہاں تک کہ ان کا چچا ان نصیحتوں کے جواب میں انہیں سنگسار کرنے کی دھمکی دیتا ۔ آپ (علیه السلام) ” سلام علیک “ کہتے ہوئے اسے جواب دیتے ہیں : میں تمہارے لئے استغفار کروں گا ۔ اس طرح آپ کوشش کرتے کہ اس سنگ دل کے دل میں کوئی گنجائش نکل آئے ۔ (مریم ۔ ۴۷ )
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
حضرت ابراهیم (علیه السلام کا بچپن
بچپن حضرت ابراہیم بابل میں پیدا ہوئے ۔ یہ دنیا کا حیرت انگیز اور عمدہ خطبہ تھا ۔ اس پر ایک ظالم و جابر اور طاقتور حکومت مسلط تھی ۱ حضرت ابراہیم نے آنکھ کھولی تو بابل پر نمرود جیسا جابر و ظالم بادشاہ حکمران تھا ۔ وہ اپنے آپ کو بابل کا بڑا خدا سمجھتا تھا ۔ البتہ بابل کے لوگوں کے لئے یہی ایک بت نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں مختلف مواد کے بنے ہوئے مختلف شکلوں کے کئی ایک بت تھے ۔ وہ ان کے سامنے جھکتے اور ان کی عبادت کرتے تھے ۔ حکومت وقت سادہ لوح افراد کو بیوقوف بنانے اور انہیں افیون زدہ رکھنے کے لئے بت پرستی کو ایک موثر ذریعہ سمجھتی تھی لہذا وہ بت پرستی کی سخت حامی تھی ۔ وہ کسی بت کی اہانت کو بہت بڑا نا قابل معافی جرم قرار دیتی تھی ۔ حضرت ابراہیم کی ولادت کے بارے میں مورخین نے عجیب و غریب داستان نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے : بابل کے نجومیوں نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو نمرود کی غیر متنازعہ طاقت سے مقابلہ کرے گا ۔ لہذا اس نے اپنی تمام قوتیں اس بات پر صرف کر دیں کہ ایسا بچہ پیدا نہ ہو اس کی کوشش تھی کہ ایسا بچہ پیدا ہو بھی جائے تو اسے قتل کر دیا جائے ۔ لیکن اس کی کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی اور یہ بچہ آخر کار پیدا ہو گیا ۔ اس بچہ کی جاء ولادت کے قریب ہی ایک غار تھی ۔ اس کی ماں اس کی حفاظت کے لئے اسے اس میں لے گئی اور اس ک ی پرورش ہونے لگی ۔ یہاں تک کہ اس کی عمر کے تیرہ برس وہیں گزر گئے ۔ اب بچہ نمرود کے جاسوسوں سے بچ بچا کر نو جوانی میں قدم رکھ چکا تھا ۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس عالم تنہائی کو چھوڑ دیا جائے اور لوگوں تک وہ درس توحید پہنچائے جو اس نے باطنی الہام اور فکری مطالعہ سے حاصل کیا تھا ۔ ۱ ۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ آپ ملک بابل کے شہر آور میں پیدا ہوئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
دور نبوت
دور نبوت حضرت ابراہیم کب مبعوث نبوت ہوئے ، اس سلسلے میں ہمارے پاس کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے ۔ البتہ سورہ مریم سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ نے اپنے چچا آزر سے بحث چھڑی تو آپ مقام نبوت پر فائز ہو چکے تھے کیونکہ سورہ کہتی ہے : و اذکر فی الکتاب ابراھیم انہ کا صدیقاً نبیا ً اذ قال لابیہ یا ابت لم تعبد مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئاً ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ بت پرستوں کے ساتھ شدید معرکہ آرائی اور آپ کو آگ میں ڈالے جانے سے پہلے کا ہے ۔ بعض موٴرخین نے لکھا ہے کہ آگ میں ڈالے جانے کے وقت حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی عمر ۱۶۔ سال تھی ۔ ہم اس کے ساتھ یہ اضافہ کرتے ہیں کہ یہ عظیم کا رسالت آغاز نو جوانی ہی میں آپ کے دوش پر آن پڑا تھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:46-52
عملی مقابلے کا آغاز
عملی مقابلے کا آغاز بہر حال بت پرستوں کے ساتھ حضرت ابراہیم کی معرکہ آرائی روز بروز شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئی ۔ یہاں تک کہ ایک روز موقعہ پا کر آپ نے بابل کے بت خانے کے بڑے بت کے علاوہ تمام بت توڑ دئے ۔ یہاں سے زبانی محاذ آرائی عملی مقابلے کی شکل اختیار کر گئی ۔ سلطان جابر کے سامنے حضرت ابراہیم (علیه السلام)کی مخالفت اور محاذ آرائی کا ماجرا آخر کار نمرود کے کان تک پہنچ گیا ۔ آپ (علیه السلام) کو دربار میں حاضر کیا گیا تا کہ وہ بزعم خویش پند و نصیحت کے ذریعے ، یا ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے یا پھر دھمکی سے کام لے کر انہیں خاموش کردے ۔ نمرود بہت چالاک تھا ۔ اس نے حضرت ابراہیم (علیه السلام) سے پوچھا : اگر تو ان بتوں کی پوجا نہیں کرتا تو پھر تیرا پروردگار کون ہے ؟ آپ نے کہا : وہی جس کے قبضہ میں موت و حیات ہے ۔ وہ چلا کر کہنے لگا : اے بے خبر ! یہ تو میرے ہاتھ میں ہے ۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ جس مجرم کو قتل کی سزا ملی ہو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں اور ایسے قیدی کو جسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ، میں چاہوں تو اسے قتل کر دیتا ہوں ۔ حضرت ابراہیم (علیه السلام) دندان شکن جواب میں بہت مشہور تھے ۔ نبوت کی طاقت سے مدد لیتے ہوئے آپ نے اس سے کہا : خدا کے ہاتھ میں صرف موت و حیا ہی نہیں بلکہ تمام عالم ہستی اس کے تابع فرمان ہے ۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ ہر صبح سورج اس کے حکم سے افق مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور وقت شام اس کے حکم سے مغرب میں ڈوب جاتا ہے ۔ اگر تو عالم ہستی کی اس وسعت کا فرماں روا ہے تو کل معاملہ اس کے بر عکس کر دے تو کہ سورج مغرب سے نکلے اور مشرق میں ڈوب جائے ۔ نمرود مبہوت ہو گیا ۔ ایسا چکرایا کہ اس کی زبان میں جواب کی سکت نہ رہی ( بقرہ ۔ ۲۵۸ ) اس میں شک نہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) خوب جانتے تھے کہ موت و حیات پر قدرت کے بارے میں نمرود کا دعویٰ بس چکر بازی اور تیز طراری ہے لیکن استدلال پر آپ کی مہارت اجازت نہ دیتی تھی کہ اس موضوع پر بات کرتے رہیں کہ جسے مکار دشمن نے دیتاویز بنا لیا ہے لہذا اسے چھوڑ کر فورا ً ایسے موضوع پر بات شروع کی کہ جس پر وہ ہاتھ پاوٴں مارنے کی طاقت بھی نہ رکھتا تھا ۔