وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ
Do not suppose that Allah is oblivious of what the wrongdoers are doing. He is only granting them respite until the day when the eyes will be glazed.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 14:42
[Pooya/Ali Commentary 14:42] "Think not" is addressed to the people through the Holy Prophet.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 14:42-52
Clear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:42-45
۲۔ ” یوم یاتیھم العذاب “ سے کون سا دن مراد ہے ؟
۲۔ ” یوم یاتیھم العذاب “ سے کون سا دن مراد ہے ؟ زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ رسول اللہ کو اس بات پر مامور کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اس دن سے درائیں جس دن عذاب ان کی طرف آئے گا ۔ اس دن سے کونسا دن مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین نے تین احتمالات ذکر کئے ہیں : پہلا ۔ یہ کہ یہ قیامت کا دن ہے ۔ دوسرا ۔یہ کہ یہ موت آنے کا دن ہے کہ جس دن عذاب الہی کا مقدمہ ظالموں کا رخ کرے گا ۔ تیسرا ۔یہ کہ کچھ دنیاوی سزاوٴں کے نزول کا دن ہے ۔ مثلا ً جس روز قوم لوط ، قوم عاد و ثمود ، قوم نوح اور فرعونیوں پر عذاب ہوا ۔ یہ لوگ دریا کی دھاڑتی ہوئی موجوں کا شکار ہوئے ، یا غرقِ طوفان ہوئے یا زلزلوں سے تباہ ہوئے ، یا شدید ویران گر آندھیوں سے برباد ہوئے ۔ اگر چہ بہت سے مفسرین نے پہلے احتمال کو ترجیح دی ہے لیکن بعد میں آنے والے جملے واضح طور پر تیسرے احتمال کو تقویت دیتے ہیں اور نشاندہی کرتے ہیں کہ مراد دنیاوی نوبود کرنے والے عذاب ہیں ۔ اور ان کا شکار ہونے والے کہتے ہیں کہ پروردگارا ! ہمیں تلافی کے لئے تھوڑی سی مہلت دے دے ۔ ” اخرنا “ (ہمیں تاخیر میں ڈال دے ) ۔ یہ تغیر دنیاوی زندگی جاری رکھنے کی درخواست کے لئے واضح قرینہ ہے ۔ اگر وہ یہ بات روز قیامت آثار عذاب دیکھ کر کہتے تو انہیں کہنا چاہیے تھا : خدا وندا : ہمیں دنیا کی طرف لوٹا دے ، جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۲۷ میں ہے : وَ لَوْ تَری إِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ فَقالُوا یا لَیْتَنا نُرَدُّ وَ لا نُکَذِّبَ بِآیاتِ رَبِّنا وَ نَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنین۔ اگر تو انہیں سد عالم میں دیکھے کہ جب وہ آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو تو دیکھے گا کہ وہ کہتے ہیں : کاش ! ہم دنیا کی طرف پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کی تکذیب نہ کرتے اور ہم مومنین میں سے ہوجاتے ( تو تجھے ان کی حالت پر افسوس ہوگا ) ۔ کیونکہ فورا ً بعد والی آیت میں ان کا جواب اس طرح دیا گیا ہے : وَ لَوْ رُدُّوا لَعادُوا لِما نُہُوا عَنْہُ وَ إِنَّہُمْ لَکاذِبُونَ ۔ یہ جھوٹ کہتے ہیں اگر لوٹ بھی جائیں تو انہیں اعمال میں مشغول ہو جائیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے ۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے ، وہ یہ کہ اگر یہ آیت عذاب دنیا سے ڈرانے کے لئے ہے جبکہ اس سے پہلی آیت”ولا تحسبن اللہ غافلاً --“ میں تو عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے تو یہ امر ایک دوسرے سے کس طرح سے مناسبت رکھتا ہے ؟ نیز لفظ ” انما “ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں صرف قیامت میں سزا دی جائے گی اور وہاں ان پر عذاب ہوگا نہ کہ اس دنیا میں ۔ لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ سے جواب واضح ہو جاتا ہے کہ وہ سزا اور عذاب کہ جس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہے عذاب قیامت ہے جو سب ظالموں کو لاحق ہوگا لیکن دنیاوی سزائیں ایک تو عمومیت نہیں رکھتیں اور دوسرا بازگشت کے بھی قابل ہیں ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ تباہ کن دنیاوی عذاب مثلاً وہ المناک عذاب جو قوم نوح یا آل فرعون اور ان جیسے لوگوں کو دامن گیر ہوا ۔ ایسا عذاب شروع ہوجائے تو توبہ کے دروازہ بند ہو جاتے ہیں اور لوٹ آنے کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب گنہگار لوگ ایسی سزاوٴ ں کا سامنا کرتے ہیں تو اظہار پشیمانی کرتے ہیں لیکن یہ در حقیقت ایک اضطراری ندامت ہوتی ہے جس کا کوئی وزن نہیں ۔ لہذا ایسا عذاب شروع ہونے سے پہلے تلافی کے در پے ہونا چاہیے ۔ ۱ 1-مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم سورہ نساء آیہ ۱۸۔ کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:42-45
سوره ابراهیم / آیه 42- 45
۴۲۔ وَ لا تَحْسَبَنَّ اللَّہَ غافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّما یُؤَخِّرُھمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فیہِ الْاٴَبْصارُ ۔۔ ۴۳۔ مُھْطِعینَ مُقْنِعی رُؤُسِھِمْ لا یَرْتَدُّ إِلَیْھِمْ طَرْفھُمْ وَ اٴَفْئِدَتُھُمْ ھَواء ٌ ۔ ۴۴۔ وَ اٴَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاٴْتیھِمُ الْعَذابُ فَیَقُولُ الَّذینَ ظَلَمُوا رَبَّنا اٴَخِّرْنا إِلی اٴَجَلٍ قَریبٍ نُجِبْ دَعْوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ اٴَ وَ لَمْ تَکُونُوا اٴَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ ما لَکُمْ مِنْ زَوالٍ۔ ۴۵۔ وَ سَکَنْتُمْ فی مَساکِنِ الَّذینَ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَھُمْ وَ تَبَیَّنَ لَکُمْ کَیْفَ فَعَلْنا بِھمْ وَ ضَرَبْنا لَکُمُ الْاٴَمْثالَ۔ ترجمہ ۴۲۔ اور یہ گمان نہ کرکہ خدا ظالموں کے اعمال سے غافل ہے ( ایسا نہیں ہے بلکہ اس نے ) ان کے لئے ( سزا کو ) اس دن کے لئے موخر کیا ہے کہ جس دن ( خوف و وحشت کے مارے ) آنکھیں پتھرا جائیں گی ۔ ۴۳ ۔ وہ گردنیں اوپر کی اور سر اٹھائے ہوں گے اور ان کی آنکھیں بے حرکت ہوکر رہ جائیں گی ( کیونکہ وہ جدھر دیکھیں گے عذاب کی نشایاں نظر آئیں گی ) اور ان کے ( ڈوبتے ہوئے ) دل بالکل ویران ہونگے ۔ ۴۴۔ اور لوگوں کو اس دن سے ڈراوٴ جس روز عذاب الھی ان کی طرف آئے گا وہ دن کہ جب ظالم کہیں گے : پروردگارا ! ہمیں تھوڑی سی مدت کے لئے مہلت دے دے تا کہ ہم تیری دعوت قبول کر لیں اور رسولوں کی اتباع کر لیں ( لیکن انہیں فوراً جواب دیا جائے گا کہ ) کیا پہلے تم قسم کھا کر نہ کہتے تھے کہ تمہارے لئے زوال و فنا نہیں ہے ۔ ۴۵۔ ( کیا وہ تمہی نہ تھے کہ ) جنہوں نے ان لوگوں کے گھروں ( اور محلات ) میں سکونت اختیار کی کہ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا جبکہ تم پر یہ امر آشکار ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ہم نے تم سے ( گزشتہ لوگوں کے انجام کی ) مثالیں بیان کردی تھیں ( پھر بھی تم بیدار نہ ہوئے ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:42-45
۱۔ پیغمبر اکرم سے خطاب کیوں ہے ؟
۱۔ پیغمبر اکرم سے خطاب کیوں ہے ؟ اس میں شک نہیں کہ پیغمبر کبھی تصور بھی نہیں کرتے کہ خدا ظالموں کے کام سے غافل ہے لیکن اس کے باوجود زیر نظر آیات میں رسول اللہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : کہیں یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ظالموں کے اعمال سے غافل ہے ۔ یہ در حقیقت بالواسطہ طور پر دوسروں کو پیغام دیا گیا ہے اور یہ بھی فصاحت کا ایک فن ہے کہ کبھی کسی ایک شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے لیکن مراد دوسرا شخص یا دیگر اشخاص ہوتے ہیں ۔ علاوہ از ایں یہ تعبیر در اصل تہدید کے لئے کنایہ ہے ۔ مثلا ً کبھی ہم کسی قصور وار سے کہتے ہیں : ” فکر نہ کرو ہم تیری تقصیریں بھول چکے ہیں “ یعنی موقع پر ہم تیرا حساب چکائیں گے ۔ بہر حال اس دنیا کی اساس اس پر ہے کہ تمام افراد کو کافی حد تک مہلت دی جائے تاکہ جو کچھ ان کے اند ر ہے ظاہر ہو جائے اورآزمایش اور تکامل کا میدان وسیع ہو ۔ یہ اس لئے ہے کہ کسی کے لئے عذر و بھانہ باقی نہ رہے اور سب کو باز گشت ، اصلاح اور تلافی کا موقع دیا جائے ۔ اسی لئے گنہگاروں کو مہلت دی جاتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:42-45
۳۔ مہلت کا تقاضا کیوں قبول نہیں کیا جاتا ؟
۳۔ مہلت کا تقاضا کیوں قبول نہیں کیا جاتا ؟ قرآن مجید کی مختلف آیات میں ہے کہ برے عمل کرنے والے اور ظالم مختلف مواقع پر تقاضا کریں گے کہ انہیں اپنے گزشتہ کی تلافی کے لئے پھر سے دنیاوی زندگی مل جائے ۔ ان میں سے بعض آیات روز قیامت سے مربوط ہیں مثلاً سورہ انعام کی آیہ ۲۸ - جس کی طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے ۔ بعض دیگر آیات وقت موت آ پہنچنے سے مربوط ہیں مثلا ً سورہ مومنون کی آیہ ۹۹۔ اس میں فرمایا گیاہے : حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحاً فیما ترکت یہی حالت رہتی ہے یہاں تک کہ جب کہ کسی کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے : خدا وندا! مجھے پلٹا دے ۔ شاید میں اپنے کئے کی تلافی کر سکوں اور عمل صالح انجام دوں ۔ کچھ آیات تباہ کن عذاب کے موقع سے مربوط ہیں ۔ مثلا ً زیر بحث آیات میں ہے کہ نزول عذاب کے وقت ظالم مہلت کا تقاضا کریں گے ۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ ان تمام مواقع پر جواب نفی میں ہے ۔ اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ ان میں سے کوئی تقاضا بھی حقیقی نہیں ہے یہ سب اس اضطراری حالت اور انتہائی پریشانی کا رد عمل ہےں جو ان بت ترین افراد کو لاحق ہوگی ۔ ان کے یہ تقاضے کسی داخلی انقلاب اور زندگی میں تغیر کے لئے عزم حقیقی کی دلیل نہیں ہیں ۔ یہ تو بالکل ان مشرکین کی سی حالت ہے جو دریاوٴں کے ہولناک گردابوں میں پھنس جائیں تو بڑے خلوص سے خدا کو پکارتے ہیں لیکن طوفان رکتے ہی اور ساحل نجات تک پہنچتے ہی سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ اسی لئے قرآن مذکورہ آیات میں صراحت سے کہتا ہے : ولو ردو العادوا لما نھو عنہ اگر یہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جائیں تو پھر وہی طرز عمل جاری رکھیں گے ان کی روش میں تبدیلی پیدا نہ ہوگی ۔ یعنی ۔ وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وسواب بھی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:42-45
جس روز آنکھیں پتھرا جائیں گی
جس روز آنکھیں پتھرا جائیں گی گزشتہ آیات میں یوم حساب کے بارے میں گفتگو تھی ۔ اسی مناسبت سے زیر نظر آیات میں ظالموں اور ستم گروں کی کیفیت مجسم کی گئی ہے اور ان کے انجام کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جو ہلا دینے والی اور بیدار کرنے والی ہے ۔ ضمناً مسائل معاد کے اس حصہ کے ذکر سے گزشتہ مباحث توحید کی تکمیل بھی ہوتی ہے ۔ پہلے ظالموں اور ستم گروں کو تہدید کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : اے پیغمبر ! کہیں یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ظالموں اور ستم گروں کے کام سے غافل ہے ۔ (و لا تَحْسَبَنَّ اللَّہَ غافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ) ۔ یہ بات در حقیقت ان لوگوں کا جواب ہے کہ جو کہتے ہیں کہ اگر اس عالم کا کوئی عادل خدا ہے تو پھر اس نے ظالموں کو کیوں ان کی حالت پر چھوڑ رکھا ہے ۔ کیا وہ ان کی حالت سے غافل ہے یا پھر کیا وہ جانتا تو ہے لیکن انہیں روکنے کی قدرت نہیں رکھتا ؟ اس سوال کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ خدا ہر گز غافل نہیں ہے ۔ اگر وہ انہیں فوراً سزا نہیں دیتا تو اسک کی وجہ یہ ہے کہ یہ جہان میدان عمل ہے اور یہ انسان کی آزمائش و پر ورش کا مقام ہے اور یہ مقصد آزادی عمل کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا ۔ لیکن آخر کا ان کا یوم حساب آکے رہے گا ۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : خدا ان کی سزا اور عذاب ایسے دن پر اٹھا رکھا ہے جس میں خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پتھرا جائیں گی اور ایک نقطہ پر لگی بے حس و حرکت ہو کر رہ جائیں گی ( إِنَّما یُؤَخِّرُھمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فیہِ الْاٴَبْصارُ ) ۔ اس روز کی سزا اور عذاب اس قدر وحشت ناک ہو گا کہ شدت خوف کے باعث یہ ستمگر اپنی گردنیں اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ ان کی پلکیں بھی حرکت نہ کریں گی اور شدت اضطراب سے ان کے دل ویران ہو جائیں گے ( مُھْطِعینَ مُقْنِعی رُؤُسِھِمْ لا یَرْتَدُّ إِلَیْھِمْ طَرْفھُمْ وَ اٴَفْئِدَتُھُمْ ھَواء ) ۔ تشخص ” شخوص “ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے آنکھوں کا بے حرکت ہوکر ایک ہی نقطہ پر جم کر رہ جانا ۔ ”مھطعین “ ” اھطاء “ کے مادہ سے گردن اونچی کرنے کے معنی میں ہے ۔ بعض نے اسے تیز ہونے کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ذلت و عجز کے ساتھ دیکھنے کے معنی میں ہے لیکن آیت کے دیگر حصوں کی طرف توجہ کرنے سے پہلا معنی ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ”مقنعی “ ” اقناع “ کے مادہ سے آسمان کی طرف سر بلند کرنے کے معنی میں ہے ۔ ” لا یَرْتَدُّ إِلَیْھِمْ طَرْفھُمْ“ کا مفہوم یہ ہے کہ وحشت کے مارے ان کی پلکیں ایک دوسرے سے نہیں ٹکراتیں گویا مردوں کی آنکھوں کی طرح بے کار ہو چکی ہیں ۔ ”وَ اٴَفْئِدَتُھُمْ ھَواء “ان کے دلوں کے ویران ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے مجھے وحشت ناک خبر سنائی تو اچانک میرا دل بیٹھ گیا اور ویران ہو گیا ۔ گویا وہ یوں حواس کھو دیں گے کہ انہیں کسی چیز کی ہوش نہ رہے گی یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی بے خبر ہو جائیں گے گویا ان میں نہ دل ہے نہ جان ، کوئی چیز انہیں یاد نہیں ۔ یہاں ان کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں :۔ آنکھوں کا خیرہ ہونا ، گردنوں کا اونچا ہونا ، سر کا بلند ہونا ، پلکیں نہ جھپک سکنا اور سب کچھ بھول جانا ۔ یہ اضطراب و وحشت کے عالم کی انتہائی عمدہ اور بولتی ہوئی تصویر کھینچی گئی ہے ۔ اس روز ظالموں کی یہ حالت ہوگی ۔ وہ ظالم کہ جو غرور تکبر میں ہر چیز کا مذاق اڑاتے اور تمسخر کرتے تھے ۔ اس دن ان کی بے چارگی کا یہ عالم ہوگا کہ پلکیں بھی نہ جھپک سکیں گے ۔ ان ہولناک مناظر سے آنکھیں چرانے کے لئے آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوں گے کیونکہ وہ جدھر بھی دیکھیں گے وحشت ناک مناظر ان کے سامنے ہوں گے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو عقل کل خیال کرتے تھے اور دوسروں کو بے عقل تصور کرتے تھے ۔ اس روز عقل و ہوش گنواں بیٹھےں گے اور دیوانے معلوم ہوں گے بلکہ ان کی آنکھیں مردوں کی آنکھوں کی طرح ویران اور بے حرکت ہوں گی ۔ واقعاً جب قرآن کسی منظر کی تصویر کشی کرتا ہے تو نہایت مختصر عبارت میں کامل ترین تصویر پیش کردیتا ہے ۔ زیر نظر آیت بھی اس کا نمونہ ہے ۔ اس کے بعد اس لئے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ خدائی عذاب کسی خاص گروہ سے مربوط ہے خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ایک عمومی حکم دیتا ہے : تمام لوگوں کو اس دن سے ڈرا جس دن پروردگار کا درد ناک عذاب بد کاروں کا رخ کرے گا ، جس وقت ظالم اپنے اعمال کے وحشت ناک نتائج دیکھیں گے تو پریشان ہوں گے اور ان کی تلافی کے لئے سوچیں گے اور عرض کریں گے : پروردگارا !ہمیں کچھ دیر کی مہلت دے دے ( وَ اٴَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاٴْتیھِمُ الْعَذابُ فَیَقُولُ الَّذینَ ظَلَمُوا رَبَّنا اٴَخِّرْنا إِلی اٴَجَلٍ قَریب) ۔ تا کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ” ہم تیری دعوت قبول کریں اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں “ ( نُجِبْ دَعْوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ ) ۔ لیکن فورا ً ان کی بات مسترد کر دی جائے گی اور انہیں ہولناک پیغام دیا جائے گا کہ ایسا ہونا اب محال ہے ، عمل کا دور ختم ہو چکا ہے ” کیا تم ہی نہ تھے جو قسم کھایا کرتے تھے کہ تمہاری طاقت زوال پذیر نہیں ہے “ ( اٴَ وَ لَمْ تَکُونُوا اٴَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ ما لَکُمْ مِنْ زَوالٍ) ۔ تم وہی نہیں جو ان کے گھروں اور محلات میں رہتے تھے جنہوں نے ظلم کیا تھا (وَ سَکَنْتُمْ فی مَساکِنِ الَّذینَ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَھُمْ ) ۔ جبکہ تم پر حقیقت آشکار ہو چکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ( وَ تَبَیَّنَ لَکُمْ کَیْفَ فَعَلْنا بِھمْ ) ۔ اور ہم نے تم سے گزشتہ امتوں کی ہلا دینے والی مثالیں بیان کیں ( وَ ضَرَبْنا لَکُمُ الْاٴَمْثال ) ۔ لیکن ان عبرت انگیز درسوں میں سے کوئی بھی تم پر اثر انداز نہ ہو اور تم نے اسی طرح اپنے شرمناک اعمال اور طلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا اور اب جبکہ تم الہی کیفر کردار کو پہنچے ہو تو مہلت دئے جانے کا تقاضا کر رہے ہو۔ کیسی مہلت ؟ اب موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔