أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
Have you not regarded those who have changed Allah’s blessing with ingratitude, and landed their people in the house of ruin?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 14:28
[Pooya/Ali Commentary 14:28] Aqa Mahdi Puya says: There were selfish and ungrateful men who responded to Allah's favours with disobedience to Him and His Prophet. It refers not only to the disbelievers but also to those who did not fulfil the covenant they accepted as true and final at Ghadir Khum, and also led others astray.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 14:28-41
It is for this prayer of Abraham that a section of Shia Muslims (not all of them) are attached to the immaculate family of the Prophet.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:28-30
کفران ِ نعمت کا انجام
کفران ِ نعمت کا انجام ان آیات میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف سے ہے ۔ در اصل ان میں شجرہٴ خبثہ کے ایک موقع کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ِ الہٰی میں تبدیل کردیا ہے ( اٴَلَمْ تَرَی إِلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللهِ کُفْرًا ) ۔ اور بالآخرہ انہوں نے اپنی قوم کو دار البوار او رہلاکت کے گڑھے کی طرف دھکیل دیا (وَاٴَحَلُّوا قَوْمَھُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) ۔ یہ و ہی شجرہ خبیثہ کی جڑیں اور کفر و انحراف کے رہبر ہیں جن کے دامن میں نعمتیں تھیں مثلاً وجود ، پیغمبر کی سی نعمت کہ جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہ تھی ۔ چاہے تویہ تھا کہ وہ ان سے استفادہ کرتے اور شب بھر میں سوسال کی مسافت طے کرلیتے لیکن اندھے تعصب ، ہٹ دھرمی ، خود غرضی اور خود پسندی کے سبب وہ اس عظیم ترین نعمت سے استفادہ نہ کرسکے ۔ وہ نہ فقط خود کفران ِ نعمت کے مرتکب ہوئے بلکہ اپنی قوم کو بھی وسوسہ میں مبتلا کیا اور ہلاکت و بد بختی کی انہیں سوغات دی ۔ بزرگ مفسرین نے منابع ِ اسلامی میں آنے والی روایات کے پیش نظر کبھی اس نعمت کو وجود ِپیغمبر کہا ہے ، کبھی آئمہ اہل بیت (علیه السلام) اور کفران ِ نعمت کرنے والے کبھی بنو امیہ قرار دئیے ہیں ۔کبھی بنی مغیرہ اور کبھی زمانہٴ پیغمبر کے سب کفار لیکن آیت کا مفہوم یقینا وسیع ہے او ریہ کسی معین گروہ کے لئے مختص نہیں ہے اور اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خدا کی کسی نعمت کا کفران کریں ۔ ضمناًمندرجہ بالا آیت سے یہ حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ خدائی نعمتوں خصوصاً عظیم ہادیوں اور رہبری کی نعمت کہ جو اہم ترین نعمتوں میں سے ہے ، سے استفادہ کرنا خود انسان کے فائدے میں ہے ۔ اب ان نعمتوں کا کفران اور آخری رہبری سے منہ پھیرنا سوائے ہلاکت اور دار البوار میں گرنے کے اور کچھ نہیں ہے ۔ اس کے بعد قرآن ”دار البوار “ کی تفسیر کرتا ہے : یہ جہنم ہے کہ وہ جس کے جلاڈالنے والے شعلوں میں جاگریں گے اور یہ بد ترین ٹھکانا ہے ( جَھَنَّمَ یَصْلَوْنَھَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ ) ۔۱ اگلی آیت میں کفران ِ نعمت کی ایک بد ترین قسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،کہ جس کے وہ مر تکب ہوتے تھے ۔ارشاد ہوتا ہے :انہو ں نے خدا کے لیے شریک قراردیئے تا کہ اس طریقے سے لو گوں کو اس کی راہ سے گمراہ کریں(وجعلواللہ انداً لیضلوا عن سبیلہ ) شرک و کفر اختیار کر کے اورلو گوں کو دین و طریق حق سے منحرف کرکے وہ لوگوںپر چند روزہ مادی اقتدار کوئی حا صل کرتے ہیں ۔ اے رسول !ان سے کہو: اس ناپائیدار اور بے وقعت مادی زندگی سے فائدہ اٹھا لولیکن یہ جان لو کہ تمہارا انجام ِ کار آگ ہے ( وَجَعَلُوا لِلَّہِ اٴَندَادًا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِہِ قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِیرَکُمْ إِلَی النَّارِ ) ۔ نہ تمہاری یہ زندگی ہے بلکہ بدبختی ہے او رنہ تمہارا یہ اقتدار کوئی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تباہ کاری مصیبت ہے لیکن اس کے باوجود اپنے انجام کے بدلے تم اس سے فائدہ اٹھا لو ۔ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے : قل تمتع بکفرک قلیلاً انک من اصحابِ النار کہہ دو : اپنے کفر سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے آخر کار تو اصحاب ِ نار میں سے ہے ۔(زمر ۔ ۸) ۱۔”یصلون “ ” صلی “مادہ سے آگ جلانے ، آگ میں جلنے، آگ میں مبتلا ہونے اور آگ میں جل کر کباب ہونے کے معنی میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:28-30
سوره ابراهیم / آیه 28- 30
۲۸۔ اٴَلَمْ تَرَی إِلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللهِ کُفْرًا وَاٴَحَلُّوا قَوْمَھُمْ دَارَ الْبَوَارِ ۔ ۲۹۔ جَھَنَّمَ یَصْلَوْنَھَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ ۔ ۳۰۔ وَجَعَلُوا لِلَّہِ اٴَندَادًا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِہِ قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِیرَکُمْ إِلَی النَّارِ ۔ ترجمہ ۲۸۔ کیا تونے ( انہیں )نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کی نعمت کو نا شکری میں بدل دیا او راپنی قوم کو ہلا کت کے گڑھے کی طرف کھینچ لے گئے ۔ ۲۹۔ ( دار البوار وہی ) جہنم ہے کہ جس کی آگ میں وہ داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے ۔ ۳۰۔ انہوں نے خدا کے ہمسر قرار دئیے تاکہ ( لوگوں کو ) اس کی راہ سے ( منحرف اور)گمراہ کریں ۔ ان سے کہہ دو (کہ چنددن )دنیا کی زندگی (اور اس کی لذتوں سے) فائدہ اٹھا لو مگر بالا ٓخر تمہیں ( جہنم کی ) آگ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:28-30
چند اہم نکات
۱۔ نعمت کوکفر میں بدل دیا : عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نعمت ِ الہٰی کا کفران کیا لیکن زیر بحث آیت میں ہے : انہوں نے نعمت ِ خد اکو کفر میں تبدیل کیا اور کفران کیا“۔ہوسکتا ہے یہ خاص تعبیر دو میں ایک وجہ کی بناء پر ہو: الف :مراد ہے ”شکر نعمت “ کو” کفران “ میں تبدیل کرنا یعنی ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ پر وردگار کی نعمتوں پر شکر گزارہوں لیکن انہوننے اس شکر کو کفران میں تبدیل کردیا ۔ حقیقت میں لفظ شکر مقدر ہے اور تقدیر میںاس طرح تھا ، الذین بدلوا شکر نعمتہ اللہ کفراً ب:مراد یہ ہے کہ انہوں نے خود نعمت کو کفر میں تبدیل کردیا ۔ درحقیقت خدائی نعمتیں وسیلہ ہیں ۔ ان سے استفادہ کا طریقہ کود انسان کے ارادہ سے وابستہ ہے ۔ جیسا کہ ممکن ہے نعمتوں سے ایمان ، خوش بختی او رنیکی کی راہ میں فائدہ اٹھایا جائے اسی طرح ا ہیں کفر، ظلم اور برائی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے یہ نعمتیں خام مال کی طرح ہیں جن میں سے مختلف قسم کی چیزیں تیار کی جا سکتی ہیں اگر اصل میں یہ خیر و سعادت کے لئے پید اکی گئی ہیں ۔ ۲۔ نعمت سے سوئے استفادہ کفران ِ نعمت ہے : کفران ِ نعمت صرف یہ نہیں کہ انسان خدا کی ناشکری کرے بلکہ نعمت سے ہر طرح کا انحرافی فائدہ حاصل کرنا اور سوئے استفادہ کفران ِ نعمت ہے ۔ اصولی طور پر کفرانِ نعمت کی حقیقت یہی ہے ۔ ناشکری اور شکر ادا نہ کرنا تو دوسرے مرحلے کی بات ہے ۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ نعمت کو اس مقصد کے مطابق صرف نہ کرنا جس کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے کفران ِ نعمت ہے اور زبانی شکر گزاری ثانوی حیثیت رکھتی ہے ۔ اگر آپ ہزار مرتبہ زبان سے ” الحمد للہ“ کہیں لیکن عملی طو رپر نعمت سے سوء ٴ استفادہ کریں تو کفرانِ نعمت او رکیا ہے ۔ دورِ حاضر میں نعمت کو کفران میں تبدیل کرنے کے انتہائی واضح نمونے دکھائی دیتے ہیں ۔ فطرت کی بہت سے قوتیں انسان کی خدا داد بصیرت اور پیش قدمی کی وجہ سے انسان کے ہاتھ لگی ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرنا اب انسان کی دسترس میں ہے ۔ سائنسی انکشاف اور صنعتی ایجادات نے پوری دنیا کا رخ ہی بدل کر دکھ دیا ہے ۔ ان انکشافا ت و ایجادات نے انسان کے کندھوں بہت بھاری بوجھ اتار کر کار خانوں کے پہیوں پر ڈال دیا ہے ۔ آج نعمات ِ الہٰی ہر دور سے زیادہ ہیں ۔ آج انسان اپنے افکار اور عالم کو پوری دنیا میں پھیلاسکتا ہے ۔ ساری دنیا کی خبروں سے آگاہی حاصل کرسکتا ہے ۔ اب چاہیئے تو یہ تھا کہ اس دور میں لو گ ہر زمانے سے زیادہ خوشحال ہوتے ، مادی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی۔ آج خد انے ان عظیم نعمتوں کو کفر میں تبدیل کرنے کا راستہ اپنا یا گیا ہے ۔ مادے کے عجیب و غریب توانائیوں کو ظلم و طغیان کی راہ میں استعمال کیا جارہاہے ۔ انکشافات و ایجادات کو برائی اور تخریبی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ ہر نیا صنعتی شاہکار پہلے تکریبی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس کی تعمیری پہلو کی نوبت بعد کی بات ہو جاتی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ یہ عظیم نا شکری ہے جو انبیاء الہٰی کی اصلاحی اور تر بیتی تعلیما ت سے دور رہنے کا نتیجہ ہے اور ایسا کرنے والے اپنی قوم کو نعمات ِ الہٰی کا کفران کر کے اسے دار البوار کی طر ف کھینچے لے جارہے ہیں ۔ ۳۔ ” انداد“ کا مفہوم : ”انداد“ جمع ہے ”ند“ کی ۔ اس کا معنی ہے ”مثل“ لیکن جیسا کہ راغب نے مفردات میں اور زبیدی نے تاج العروس میں (بعض اہل لغت سے ) نقل کیا ہے ”ند“ اس چیزکو کہا جاتا ہے جو دوسری چیز سے شاہت جو ہری رکھتی ہولیکن ” مثل“ کا اطلاق ہر قسم کی شباہت پر ہوتا ہے ۔ لہٰذا ”ند“ کااستعمال ” مثل “ کی نسبت زیادہ عمیق ، رسا اور عمدہ ہے ۔ اس معنی کے مطابق زیر نظر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ کفر کی کوشش تھی کہ خدا کے کچھ ایسے شریک بنائیں کہ جنہیں جوہر ِ ذا میں خدا کا شبیہ قرار دیں تاکہ مخلوق کو خدا کی پر ستش سے روک سکیں اور اس طرح اپنے منحوس مقاصد پورے کرسکیں ۔ بعض اوقات وہ قربانیوں کا کچھ حصہ ان کے لئے قرار دیتے او رکبھی نعمات الہٰی کا کچھ حصہ ( جیسے بعض جانور ) بتوں کے لئے مخصوص کردیتے اور کبھی پرستش وعبادت کے ذریعے انہیں خدا کا ہم پلہ خیال کرتے ۔ سب سے بڑھ کر وقبیح یہ بات تھی کہ زمانہٴ جاہلیت میں مراسم حج میں کہ جو دین ِ ابراہیمی کے مطابق تھا اس میں انہوں نے بہت سی خرافات شامل کردی تھیں یہاں تک کہ ” لبیک “ کہتے ہوئے یوں کہتے تھے : لبیک لاشریک لک ، الا شریک ھولک ، تملکہ و ماھلک ، میں تیری دعوت کو قبول کرتا ہوں ، اے خد اکہ جس کا کوئی شریک نہیں ۔ سوائے اس شریک کے کہ جو تیرا شریک ہے ۔ اس کا بھی تو مالک ہے اور جس کاوہ مالک ہے اس کا بھی ۔1 1۔تفسیر فخر الدین رازی ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔