أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ
Have you not regarded how Allah has drawn a parable? A good word is like a good tree: its roots are steady and its branches are in the sky.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 14:24
[Pooya/Ali Commentary 14:24] Aqa Mahdi Puya says: Kalimatan tayyibah (a goodly word) is usually interpreted as the divine word, thought or deed, but, in a more general sense, it may be interpreted as a thought, word or deed of goodness of any other good and noble agency, other than Allah, which emanates from a true understanding and application of the religion of Allah-it is like a goodly tree which is firmly rooted and grows higher and higher with ever green branches, always yielding fruit; and the heavens is the limit. Kalimatin khabithah (an evil word), likened to an evil tree, is the opposite of the goodly tree. The Holy Prophet said: "Islam is the goodly tree. Belief in Allah is its root. Salat, sawm, zakat, khums and jihad are its branches. Reliance upon Allah, good manners, piety and abstinence from whatever is forbidden are its leaves." According to Imam Jafar bin Muhammad al Sadiq, the Holy Prophet also said: "I am the root of the goodly tree. Ali is its trunk, my divinely chosen Ahl ul Bayt are its branches and the pious followers of my Ahl ul Bayt are its leaves." Imam Ali bin Musa al Rida has quoted lmam Ali to say that root, trunk and branches are the essential parts of a tree, likewise (if Islam is compared to a goodly tree) sincere belief in the true faith, ingrained in the heart and mind of a believer, is the root, declaration is the trunk and practice of the prescribed religious laws is the leaves. The Holy Prophet said: "The parable of the evil tree refers to Bani Umayyah." Aqa Mahdi Puya says: The opposite of the goodly tree mentioned in verse 24 of this surah is the evil tree which has no root, no growth and no utility at all. The parable of the goodly tree refers to Islam, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, and the evil tree refers to enemies of Islam, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:24-27
سوره ابراهیم / آیه 24- 27
۲۴۔ اٴَلَمْ تَرَی کَیْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اٴَصْلُھَا ثَابِتٌ وَفَرْعُھَا فِی السَّمَاءِ ۔ ۲۵۔ تُؤْتِی اٴُکُلَھَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّھَا وَیَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُونَ ۔ ۲۶۔ وَمَثَلُ کَلِمَةٍ خَبِیثَةٍ کَشَجَرَةٍ خَبِیثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاٴَرْضِ مَا لَھَا مِنْ قَرَارٍ ۔ ۲۷۔ یُثَبِّتُ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ وَیُضِلُّ اللهُ الظَّالِمِینَ وَیَفْعَلُ اللهُ مَا یَشَاءُ۔ ترجمہ ۲۴۔ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے کلمہ طیبہ (اور گفتار پاکیزہ )کو پاکیزہ درکت سے تشبیہ دی ہے کہ جس کی جڑ( زمین میں ) ثابت ہے او رجس کی شاخ آسمان میں ہے ۔ ۲۵۔ وہ اپنے پروردگار کے اذن سے بر وقت اپنے پھل دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں ۔ ۲۶۔ اور ( اسی طرح ) کلمہ ٴخبیثہ کو ناپاک درخت سے تشبیہ دی ہے کہ زمین سے اکھڑ چکا ہے اور ا س کے لئے قرار و ثبات نہیں ہے ۔ ۲۷۔ جولوگ ایمان لائے ہیں اللہ ان کی گفتار اور اعتقاد کے ثبات کی وجہ سے ثابت قدم رکھے گا ، اس جہان میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ نیز اللہ ظالموں کو گمراہ کرتاہے (اور ان سے اپنا لطف و کرم چھین لیتا ہے )اور خدا جو کام چاہے (اور قرین مصلحت سمجھے )انجام دیتاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:24-27
۱۔ کیا آخرت سے مراد قبر ہے ؟
۱۔ کیا آخرت سے مراد قبر ہے ؟ بہت سی روایات میں ہے کہ جب انسان قبر میں پہنچتا ہے اور فرشتے اس سے اس کی حقیقت کے متعلق سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے ایمان کے راستے پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اس کا یہی معنی ہے : یُثَبِّتُ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ ان میں سے بعض روایا ت میں صراحت کے ساتھ لفظ” قبر “ آیاہے ۔ 1 جبکہ بعض دوسری روایات میں ہے کہ شیطان موت کے وقت صاحب ِ ایمان کے پاس آتا ہے اور کبھی داہنی طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے اسے گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن خدا اسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ مومن کو گمراہ کرے ” یثبت اللہ الذین اٰمنوکا یہی مفہوم ہے ۔ امام صادق علیہ السلام کی اس روایت کا بھی یہ مفہوم ہے : ان الشیطان لیا تی الرجل من اولیاء ناعند موتہ عن یمینہ و عن شمالہ لیضلہ عما ھو علیہ فیاٴبی اللہ عزو جل لہ ذٰلک قول اللہ عزو جل یثبت اللہ الذین اٰمنوا بالقول الثابت فی الحیٰوة الدنیا و فی الآخرة۔2 مفسر عظیم طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ اکثر مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دار ِ آخر نہ لغزش کی جگہ ہے اور نہ عمل کی بلکہ صرف نتائج اعمال کا سامنا کرنے کا مقام ہے لیکن وہ لمحہ کہ جب موت آپہنچے اور حتی کہ عالم بر زخ ( وہ جہان کہ جو اس عالم اور عالم ِ آخرت کے درمیان ہے )میں تھوڑا بہت لغزش کا امکان ہے ۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں لطف ِ الہٰی انسا ن کی مدد کو آپہنچتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسے ثابت قدم رکھتا ہے ۔ 1۔تفسیر نور الثقلین جلد ۲ صفحہ ۵۴۰ و ۵۴۱۔ 2۔ نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۳۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:24-27
۲۔ ثبات و استقامت کا اثر
۲۔ ثبات و استقامت کا اثر : شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ کی تمام صفات میںسے کہ جو مندرجہ بالا آیات میں ذکر ہوئی ہیں سب سے زیادہ ثبات و عدم ثبات کا مسئلہ سامنے آتا ہے ۔ یہاں تک کہ شجرہ طیبہ کے ثمر کے طور پر آخری زیر بحث آیت میں فرمایا گیا ہے کہ خدا صاحب ِ ایمان افراد کو اپنے ثابت قدم و مستحکم عقیدے کی بناء پر دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے ۔ ا س سے ثبات اور اس کی تاثیر کے مسئلے کی انتہائی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔ عظیم لوگوں کی کامیابی کے عوامل کے بارے میں بہت گفتگو ہوتی ہے لیکن ان تمام میں سے استقامت و پامردی کا درجہ پہلاہے ۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سمجھ بوجھ اور استعداد کے لحاظ سے درمیانے درجے کے ہوتے ہیں یا عمل میں پیش قدمی کے لحاظ سے اوسط درجے کے ہوتے ہیں لیکن انہیں زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں ان کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان کی کامیابیوں کی وجہ سے ثبات و استقامت کو ختم کرنے پر صرف ہوتی ہے ۔ اصولی طور پر حقیقی مومنین کو زندگی کے سخت حوادث اور طوفان کے مقابلے میں ان کے ثبات و استقامت کے حوالے سے پہچاننا چاہئیے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:24-27
”شجرہ طیبہ“اور” شجرہ خبیثہ“
”شجرہ طیبہ“اور” شجرہ خبیثہ“ یہاں حق و باطل، ایمان وکفر او رطیب و خبیث کو ایک نہایت عمیق اور پر معنی مثال کے ذریعے مجسم کرکے بیان کیا گیا ہے ۔ یہ آیات اس سلسلے کی گزشتہ آیات کی بحث کو مکمل کرتی ہیں ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : کیا تو نے دیکھا نہیں کہ خد انے کس طرح پاکیزہ کلام کے لئے مثال دی ہے اور اسے طیب و پاکیزہ در خت سے تشبیہ دی ہے ( اٴَلَمْ تَرَی کَیْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ ) ۔ پھر اس شجرہ طیبہ یعنی پاکیزہ و با بر کت درخت کی خصوصیات بیان کی گئی ہے اور مختصر عبارت میں ا س کے تمام پہلووٴں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم قرآن میں موجود اس شجرہ کی خصوصیات کا مطالعہ کریں “ ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ ”کلمہ طیبہ“ سے مراد کیا ہے ۔ بعض مفسرین نے اس کو کلمہ ٴ توحید او رجملہ ” لاالہ الا اللہ “سے تفسیر کی ہے جب کہ بعض دوسرے اسے اوامر و فرمین الٰہی کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔بعض اسے ایمان سمجھتے ہیں کہ جو لاالہ الااللہ کامعنی و مفہوم ہے ۔ بعض دوسروں سے اس کی ” موٴمن “‘ سے تفسیر کی ہے اور بعض نے اس کا مفہوم اصلاحی و تربیتی روش او رلائحہ عمل بیان کیا ہے ۔۱ لیکن ”کلمہٴ طیبہ“ کے مفہوم و معنی کی وسعت کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس میں یہ تمام تفاسیر شامل ہیں کیونکہ لفظ ”کلمہ “ کے وسیع معنی میں تمام موجودات شامل ہیں ۔ اسی بناء پر مخلوقات کو ”کلمة اللہ “ کہا جاتا ہے ۔ ۲ نیز ”طیب“ ہر قسم کی پاک و پاکیزہ چیز کو کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:24-27
۳۔ روایات اسلامی میں شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ
۳۔ روایات ِ اسلامی میں شجرہ یبہ اور شجرہ خبیثہ : جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ”طیبہ “اور خبیثہ “ کہ جنہیں دو درختوں سے تشبیہ دی گئی ہے ایک وسیع مفہوم رکتھے ہیں او ریہ ہر طرح کے شخص ، پروگرام ، مکتب ، فکر و نظر ، سوچ بچار اور گفتار و عمل پر محیط ہے لیکن بعض اسلامی روایات میں اس کی خاص حوالوں سے تفسیر کی گئی ہے ۔ واضح ہے کہ مفہوم ِ آیت ان میں منحصر نہیں ہے ۔ ان میں سے ایک روایت امام صادق علیہ السلام مروی ہے آپ ”اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء “ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : رسول اللہ اصلھا و امیر المومنین فرعھا ، و الائمہ من ذریتھما اغصانھا ، و علم الائمہ ثمر ھا ، و شیعتھم الموٴمنون ورقھا، ھل فیھا فضل؟ قال : قلت لا واللہ ، قال و اللہ ان المومن لیولد فتورق ورقة فیھا و ان الموٴمن لیموت فتسقطو رقة منھا ۔ رسول اللہ اس درخت کی جڑ ہیں ۔ امیر المومنین علی (علیه السلام) اس کا تنا ہیں اور وہ امام جو ان دونوں کی ذریت میں سے ہیں ا س کی ٹہنیاں ہیں اور آئمہ کا علم اس درخت کا پھل ہے اور ان کے صاحب ِ ایمان شیعہ اس کے پتے ہیں ۔ پھر امام نے فرمایا کیاکوئی اور چیز باقی رہ جاتی ہے ؟ راوی کہتا ہے : میں نے کہا نہیں ، خدا کی قسم ۔ فرمایا: و اللہ جس وقت ایک صاحب ِ ایمان پیدا ہوتا ہے تو اس درخت پر ایک پتے کا اضافہ ہو جاتا ہے اور جس وقت کوئی حقیقی مومن مرجاتا ہے اور جس وقت کوئی حقیقی مومن مر جاتا ہے تو اس درخت کا ایک پتہ گر جاتا ہے ۔ 3 ایک روایت میں یہی مضمون امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔ اس میں ہے : راوی نے سوال کیا :” توٴتی اکلھا کل حین باذن ربھا“کا کیا مفہوم ہے ۔ امام (علیه السلام) نے فرمایا: آئمہ کے علم کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر سال اور ہر علاقے میں تم تک آپہنچتا ہے ۔ 4 ایک اور روایت میں ہے : ” شجرہ طیبہ “ رسول اللہ ، علی ، حسن اور حسین اور ان کے فرزند ان ِ گرامی ہیں اور ” شجرہ خبیثہ “بنی امیہ ہیں ۔ 5 نیز بعض روایا ت میں یہ بھی شرط ہے کہ ” شجرہ طیبہ “ کھجور کا درخت ہے اور ”شجرہ خبیثہ “ حنظل“ ( تُمّہ ) کا درخت ہے ۔6 بہر حال ان تفاسیر میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے ۔ جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے او رجو کچھ ہم نے آیہ کے عمومی معنی میں ذکر کیا ہے اس میں ہم آہنگی موجود ہے کیونکہ یہ تو اس عمومی مفہوم کے مصادیق میں سے ہیں ۔ 3۔نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸۔ 4۔نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸۔ 5۔ المیزان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ،بحوالہ تفسیر در منثور ۔