قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
Their apostles said to them, ‘Indeed we are just human beings like yourselves; but Allah favours whomever of His servants that He wishes. We may not bring you an authority except by Allah’s leave, and in Allah let all the faithful put their trust.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 14:11
[Pooya/Ali Commentary 14:11] Tawakkal means reliance on Allah in trial and tribulation and never seeking help from any other than Allah except from the sources and in the way approved by Him. Imam Musa bin Jafar al Kazim said: "Tawwakal means to happily accept what Allah wills with the conviction that no created being can ever give you or take away from you anything, and there can be no help available from any one unless Allah so wills."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:11-12
۱۔ مومنین اور متوکلین
۱۔ مومنین اور متوکلین : زیر بحث پہلی آیت میں ہے کہ مومنین کو اللہ پر توکل کرنا چاہیئے اور دوسری آیت میںہے کہ متوکلین کو اللہ پر توکل کرنا چاہئیے ۔ گویا دوسرا جملہ پہلے کی نسبت زیادہ وسعت کا حامل ہے یعنی مومنین کے لئے تو آسان ہے کیونکہ خدا پر ایمان ہو تو یہ ایمان اس کی قدرت ، حمایت اور اس پر توکل کے ایمان سے جد ا نہیں ہوسکتا حتی کہ غیر مومنین اور سب لوگوں کے پاس خدا کے علاوہ کوئی سہار ا نہیں ہے ۔ کیونکہ جس کی طرف بھی نگاہ کریں اسکے پاس خود اپنی طرف سے تو کچھ بھی نہیں تمام نعمتیں ، طاقتیں اور عنایتیں اس کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہیں پس انہیں بھی اس کے آستان پر سر جھکا نا چاہیئے اور اس سے طلب کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ توکل انہیں اللہ پر ایمان کی دعوت بھی دے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:11-12
صرف اللہ پر توکل کرو
صرف اللہ پر توکل کرو ان دو آیات میں انبیاء کے ہٹ دھرم دشمنوں کی بہانہ سازیوں کا جواب دیا گیا ہے کہ جن کا ذکر گزشتہ آیات میں کیا گیا تھا ۔ وہ کہ جو کہتے تھے کہ تم نوعِ بشر میںسے کیوںہو، ان کے جواب میں پیغمبران ِ گرامی نے کہا یقینا ہم تمہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے اور اسے نعمت عطا کرتا ہے ( قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ إِنْ نَحْنُ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ وَلَکِنَّ اللهَ یَمُنُّ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ) ۔ یعنی یہ امر فراموش نہ کرو کہ اگر بشر کی بجائے فرشتے کا انتکاب ہوتا تو اس کے پاس بھی اپنی طرف سے کچھ نہ ہوتا ۔ تمام نعمات کہ جن میںسے ایک رسالت و رہبری کی ہے ، خدا کی طرف سے ہیں ۔ تو جو ایسا مقام فرشتے کو دے سکتا ہے وہ انسان کو بھی دے سکتا ہے ۔ واضح ہے کہ اللہ کی طرف سے ایسی نعمت کی عطا بلا وجہ نہیں ہے اور ہم نے با رہا کہا ہے کہ خدا کی مشیت اس کی حکمت سے ہم آہنگ ہے یعنی ہم جہاں بھی پڑھیں کہ ” خدا جسے چاہتا ہے “ تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ” خدا جسے چاہتا ہے اور اہل پاتا ہے “ یہ ٹھیک ہے کہ مقام رسالت بالآخرخدائی نعمت ہے لیکن اہلبیت (علیه السلام) بھی ذات پیغمبر میں حتماً موجود ہوتی ہے ۔ اس کے بعد دوسرے سوال کاجواب دیتے ہوئے تیسرے سوال کا جواب دیاگیاہے گویا آباوٴ اجداد کی سنت کو بطور دلیل پیش کرنا اس قدر کمزور اور بے بنیاد تھا کہ ہر عاقل انسان تھوڑے سے غور و فکر سے اس کی کمزوری کو جان لیتاہے ۔ علاوہ ازہم قرآن کی دیگر آیات میں اس کا جواب دیا جاچکا ہے ۔ بہر حال تیسرے سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے : معجزات لانا ہمارا کام نہیں ۔ ہم کوئی جادو گر نہیں کہ ایک طرف بیٹھ جائیں اور جو شخص بھی من پسند کے معجزے کی فرمائش کرے اسے پیش کرتے رہیں اور معجزہ بے ار زش کھیل کود ہو کر رہ جائے بلکہ ” ہم کوئی معجزہ حکم الہٰی کے بغیر نہیں لاسکتے “ ( وَمَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نَاٴْتِیَکُمْ بِسُلْطَانٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ ) ۔ علاوہ ازیں ہر پیغمبر لوگوں کے تقاضا کے بغیر بھی اس قدر معجزہ پیش کردیتا ہے جوکافی ہوتا کہ وہ ایک کی حقانیت کے اثبات کی سند ہو ۔ اگر چہ ان کے دعوت کے مضامین اور انکا مکتب خود تنہا عظیم ترین معجزہ ہے لیکن بہانہ تراش عام طور پر ان باتوپر کان دھرتے اور ہر روز ایک نئی فرمائش کرتے ہیں اور پیغمبر اسے قبول نہ کریں تو شور و غوغا بر پا کردیتے ہیں ۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ ان کی دھمکیوں کابھی قاطع جواب دیا جائے انبیاء اپناموقف بیان کرتے ہوئے کہتے :” تمام باایمان افراد کو صرف خدا پر بھروسہ کرنا چاہئیے “ وہی خدا کہ جس کی قدرت کے مقابلے میں تمام قدرتیں ناچیز اور حقیر ہیں ( وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) ۔ پھر مسئلہ توکل کو ایک واضح استدلال کے ساتھ بیان کرتے : ہم اللہ پر توکل کیوں نہ کریں اور تمام مشکلات میں اس کی پناہ کیوں نہ لیں ، ہم ناچیز طاقتوں اور دھمکیوں سے کیوں ڈریں جب کہ اس نے ہماری ہدایت سعا دت کی راہوں کی طرف کی ہے ( وَمَا لَنَا اٴَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللهِ وَقَدْ ھَدَانَا سُبُلَنَا ) ۔ اس نے جب کہ ہمیں سعادت کی راہوں کی طرف ہدایت ، کی افضل ترین نعمت عطا کی ہے تو یقینا وہ ہر قسم کی جارحیت ، کارشکنی اور مشکل میں ہمیں اپنی حمایت کے زیر سایہ رکھے گا ۔ پھر وہ اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہتے : اب جب کہ ہمارا سہارا خدا ہے ایسا سہار کہ جوناقابل ِ شکست ہے اور سب سے بلند ہے تو ”ہم یقینی طورپر تمہاری سب اذیتوں کے مقابلے میں پامردی اور صبر و شکیبائی دکھائیں گے “ (وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَی مَا آذَیْتُمُونَا ) ۔ اور وہ اپنی بات یوں ختم کرتے: تمام توکل کرنے والوں کو صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیئے (وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:11-12
سوره ابراهیم / آیه 11- 12
۱۱۔ قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ إِنْ نَحْنُ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ وَلَکِنَّ اللهَ یَمُنُّ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ وَمَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نَاٴْتِیَکُمْ بِسُلْطَانٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ۔ ۱۲۔ وَمَا لَنَا اٴَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللهِ وَقَدْ ھَدَانَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَی مَا آذَیْتُمُونَا وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ ۔ ترجمہ ۱۱۔ ان کے رسولوں نے ان سے کہا : یہ ٹھیک ہے کہ تم جیسے بشر ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ( اور اسے اہل پاتا ہے ) نعمت عطا کرتا ہے ( اور اسے مقام ِ رسالت پر فائز فرماتا ہے ) اور ہم حکم خدا کے بغیر ہر گز معجزہ نہیں لاسکتے ( او رہم تمہاری دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ) اور باایمان افراد کی طرح صرف اللہ پر توکل کرنا چاہتے ہیں ۔ ۱۲۔ ہم اللہ پر کیوں توکل نہ کریں جب کہ اس نے ہمیں ہماری ( سعادت کی) راہوں کی طرف رہبری کی ہے اور ہم تمہاری ایذا سانیوں پریقینا صبر کریں گے ( اور اپنی رسالت کی انجام دہی سے دستبر دار نہیں ہوں گے )اور توکل کرنے والوں کی صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:11-12
توکل کا فلسفہ
توکل کا فلسفہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے ا س کی طرف توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ : اولاً: توکل علی اللہ زندگی کے سخت حوادث و مشکلات میں اس ناقابل ِ فنا منبعٴ قدرت پر توکل انسان کی استقامت و مقاومت کا سبب بنتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانون نے میدانِ احد میں سخت ضرب لگائی اور دشمن میدان چھوڑنے کے بعد راستے میں سے پلٹ آئے تاکہ مسلمانوں پر آخری ضرب لگائیں اور یہ خبر مسلمانوں کو پہنچی تو قرآن کہتا ہے کہ صاحب ایمان افراد اس خطر ناک لمحے میں وحشت زدہ ہوئے جب کہ وہ اپنی فعال قوت کاایک اہم حصہ کھو چکے تھے بلکہ ” توکل “ اور قوت ِ ایمانی نے ان کی استقامت کے نمونے متعد آیات میں نظر آتے ہیں ۔ ان میں سے آلِ عمران کی آیت ۱۲۲ میں قرآن کہتا ہے : توکل علی اللہ نے مجاہدین کے دو گروہوں کو میدانِ جہاد میں سستی سے بچا یا ۔ سورہ ابراہیم کی آیہ ۱۲ مین دشمن کے حملوںاور نقصانات کے مقابلے میں توکل اور صبر کا باہم ذکر ہوا ہے ۔ آل ِ عمران کی آیہ ۱۵۹ میں اہم کاموں کی انجام دہی کے لئے پہلے مشورے کا ، پھر پختہ ارادے کا اور پھر توکل علی اللہ کا حکم دیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ قرآن کہتا ہے : انہ لیس لہ سلطان علی الذین اٰمنوا وعلی ربھم یتوکلون شیطانی وسوسوں کا صرف وہ لوگ مقابلہ کرسکتے ہیں اور ا س کے نفوذسے بچ سکتے ہیں کہ جو ایمان اور توکل کے حامل ہوں ۔( نحل۔ ۹۹) ان آیات سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شدید مشکلات میں انسان ضعف اور کمزوری محسوص نہ کرے بلکہ اللہ کی بے پایاں قدرت پر بھروسہکرتے ہوئے اپنے آپ کو کامیاب اور فاتح سمجھے ۔ گویا توکل امید آفرین ، قوت بخش ، تقویت پہنچانے والااور استقامت مین اجافے کا سبب ہے ۔ توکل کا مفہوم اگر گوشہ نشینی اختیار کرنا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا ہوتا تو مجاہدین اور اس قسم کے لوگوں میں تحرک پیدا کرنے کا باعث نہ بنتا ۔ اگر کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عالم اسباب اور طبیعی عوامل کی طرف توجہ روح ِ توکل سے مناسبت نہیں رکھتی تو وہ انتہائی غلط فہمی میں مبتلاہیں کیونکہ طبیعی عوامل کے اثرات کو ارادہ ٴ الہٰی سے جدا کرنا ایک طرح کا شرک ہے ۔ کیا ایسا نہیں کہ عوامل طبیعی کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کاہے اور سب کچھ اسی کے ارادے اور فرمان کے تحت ہے ۔ البتہ اگر عوامل کو ایک مستقل طاقت سمجھا جائے اور انہیں اس کے ارادے کے مد مقابل قرار دیا جائے تو یہ وہ مقام ہے جو روحِ توکل سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ کیسے ممکن ہے کہ توکل کی ایسی تفسیر کی جائے حالانکہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو متوکلین کے سید و سردار ہیں اپنے اہداف کی پیش رفت کے لئے کسی موقع ، صحیح منصوبہ، مثبت تکنیک اور مختلف ظاہری وسائل سے غفلت نہیں برتتے تھے ۔ یہ سب چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ توکل کا وہ منفی مفہوم نہیں ہے ۔ ثانیاً:توکل علی اللہ انسان کو ان وابسگتیوں سے نجات دیتا ہے کہ جو ذلت و غلامی کا سر چشمہ ہیں اور اسے آزادی اور خود اعتمادی بخشتا ہے ۔ ”توکل “ اور ”قناعت “ ہم ریشہ ہیں اور فطرتاًان دونون کا فلسفہ بھی کئی پہلووٴں سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتا ہے ۔ اس کے باوجود ان میں فرق بھی ہے ۔ یہاں ہم چند ایک اسلامی روایات پیش کرتے ہیں جن سے توکل کا حقیقی مفہوم اور اصلی بنیاد واضح ہو سکے ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ان الغنی و العز یجولان فاذا ظفرا بمواضع التوکل او طنا بے نیازی اور عزت محوِ جستجو رہستی ہیں جہاں توکل کو پالیتی ہیں وہیں ڈیرے ڈال دیتی ہیں اور اسی مقام کو اپنا وطن بنا لیتی ہیں ۔ ۱ اس حدیث میں بے نیازی اور عزت کا اصلی وطن” توکل “ بیان کیا گیا ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام) نے فرمایا: میں نے وحی الہٰی کے قاصد جبرئیل سے پوچھا کہ توکل کی اہے تو اس نے کہا : العلم بان المخلوق لایضر ولاینفع ، ولا یعطی ولایمنع ، واستعمال الیاٴس من الخلق فاذا کان العبد کذٰلک لم یعمل لا حد سوی اللہ فھٰذا ھو التوکل ۔ جب بندہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ے کہ مخلوق نقصان پہنچاسکتی ہے نہ فائدہ اور عطا کرسکتی ہے نہ روک سکتی ہے اور وہ مخلوق کے ہاتھ سے آنکھ اٹھالیتا ہے تو پھر وہ خدا کے علاوہ کسی کے لئے کام نہیں کرتا اور اس کے سوا کسی سے امید نہیں باندھتا تو یہ ہے حقیقتِ توکل ۔ ۲ کسی نے حضرت امام علی ابن موسیی رضا علیہ السلام سے پوچھا : ماحد التوکل ؟ تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ان لاتخاف مع اللہ احداً ( سفینة البحار ، جلد ۲ ص ۶۸۲) ۔ یہ کہ تو خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی سے نہ ڈرے ۔ 3 ۱۔اصول کافی ، جلد ۲ ، باب ” “ حدیث ۳ ۔ ۲۔ بحار الانوار ،جلد ۱۵، حصہ ۲ ص ۱۴چاپ قدیم 3۔توکل کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے کتاب ” انگیزہٴ پیدا ئش ِ رجوع کریں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:11-12
۳۔ توکل کی حقیقت اور فلسفہ
۳۔ توکل کی حقیقت اور فلسفہ : ”توکل“ در اصل ”وکالت“ کے مادہ سے وکیل انتخاب کرنے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا وکیل وہی ہے کو کم از کم چار صفات کا حامل ہو: ۱۔ کافی علم و آگاہی ۔ ۲۔ امانت داری ۔ ۳۔ طاقت و قدرت ۔ ۴۔ ہمدردی شاید یہ امر بھی یا دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ مضتلد کاموں کے لئے ایک مدافع کا انتخاب اس موقع پر ہوتا ہے کہاں انسان ذاتی طور پر دفاع پر قادر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس موقع پر دوسری قوت سے استفادہ کرتا ہے اور اس کی طاقت و صلاحیت سے اپنی مشکل حل کرتا ہے ۔ لہٰذا خد اپر توکل کرنے کا اس کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں کہ انسان زندگی کی مشکلات وحوادث ، مخالفین کی دشمنیوں اور سختیوں ،پیچیدگیوں اور کبھی اہداف کے راستے میں حائل رکاوٹوں میں جب خود انہیں دور کرنے کی طاقت نہ ررکھتا ہو تو اسے پنا وکیل قرار دے اور اس پر بھروسہ کرے اور خود بھی ہمت و کوشش سے باز نہ رہے بلکہ جہاں کسی کام کو خود انجام دینے کی طاقت رکھتا ہووہاں بھی موٴ ثر حقیقی خداہی کو جانے کیونکہ ایک موحد کی چشم بصیرت کے دریچے سے دیکھا جائے تو تمام قدرتوں او ر قوتوں کا سر چشمہ وہی ہے ۔ ” توکل علی اللہ “ کا نقطہ مقابل یہ ہے کہ اس کے غیر پر بھروسہ کیا جائے ۔ یعنی کسی غیر پر تکیہ کرکے جینا ، دوسرے سے وابستہ ہونا اور اپنی ذات میں استقلال و اعتماد سے عاری ہونا ۔ علماء اخلاق کہتے ہیں کہ خد اکی توحید افعالی کا ثمرہٴ مستقیم توکل ہے کیونکہ جیسے ہم نے کہا ہے کہ ایک موحد کی نظر میں ہر حرکت ، ہو کوشش، ہر جنبش اور عالم میں صورت پذیر ہونے والی ہر چیز آخرکار اس جہان کی پہلی علت یعنی ذات ِ پاک خدا سے ارتباط رکھتی ہے ۔ لہٰذا ایک موٴحد کی نگاہ میں تمام طاقتیں اور کامیابیاں اسی کی طرف سے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:11-12
۲۔ انبیاء اور معجزات
۲۔ انبیاء اور معجزات: زیر بحث آیات ایسے لوگوں کے لئے واضح جواب ہیں کہ جو انبیاء سے معجز کی نفی کرتے ہیں یا قرآن حکیم کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے معجزات کا انکار کرتے ہیں ۔ یہ آیات ہمیں سمجھاتی ہیں کہ انبیاء یہ ہر گز نہیں کہتے تھے کہ ہم معجزہ نہیں لائیں گے بلکہ وہ کہتے تھے کہ ہم حکم خدا اور اذن الہٰی کے بغیر یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ معجزہ اس کاکام ہے ، ا س کے اختیار میں ہے اور جب وہ قرینِ مصلحت سمجھتا ہے ہمیں معجزہ دیتا ہے ۔