وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ
The faithless say, ‘Why has not some sign been sent down to him from his Lord?’ You are only a warner, and there is a guide for every people.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 13:7
[Pooya/Ali Commentary 13:7] The Quran treats the miracles as subordinate to the moral and spiritual evidences and signs demonstrated by the Holy Prophet, who was sent as a warner. Refer to the commentary of al Baqarah: 118. "And for every people there is a guide." Thalabi in his Tafsir relates on the authority of Ibn Abbas that when this verse was revealed the Holy Prophet said: "I am the warner and Ali is the guide. O Ali, through you those who are guided will receive true guidance." This tradition has also been reported and confirmed by Ibn Marduwayh, Ibn Hatim, Tabarani, Ibn Asakir, Suyuti, Ahmad bin Hambal, Fakhruddin Razi and Abu Nu-aym. Imam Muhammad bin Ali al Baqir also said that "the warner" means the Holy Prophet and "the guide" means Ali and added "the authority to guide continues among us". This verse also points to the continued existence of a "guide", namely al Mahdi al Qa-im (refer to the commentary of al Bara-at: 32 and 33); and for "the true guides" refer to the commentary of Yunus: 35. The Holy Prophet is a warner for all people in all times, so the Imam (guide) in his progeny is also for all people in every age. The enemies of the Ahl ul Bayt try to conceal their merits, and deny their divine rights, but Allah's plan is always executed and His will invariably takes effect: They desire to put out the light of Allah with their mouths, but Allah wills to perfect His light, however the unbelievers may dislike it. (Saff: 8) Allah had willed and thoroughly purified the Ahl ul Bayt (Ahzab: 33) and established them as the only truthfuls at the time of mubahilah (Ali Imran: 61). Aqa Mahdi Puya says: There are three interpretations of the last passage of this verse: (i) The Holy Prophet is a warner and a guide for every nation. (ii) The Holy Prophet is a warner and every nation had a guide. (iii) The Holy Prophet is a warner and every nation has a guide. In view of the above-noted tradition reported by a large number of Muslim scholars the last interpretation must be accepted.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:7
دو سوال اور ان کے جواب
۱۔ کافروں کا جواب کیسے ہوا ؟ سوال پیدا ہوا کہ ” إ ِنَّمَا اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ“کس طرح کافروں کی معجزہ طلبی کا جواب ہو سکتا ہے ۔ جو بات مندرجہ بالا سطور میں کہی گئی ہے اس کی طرف توجہ دینے سے سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پیغمبر ایک ایسی شخصیت نہیں کہ ہر تقاضے، ہر مقصد اور ہر مراد کے لئے معجزہ ایجاد کردے ۔پہلے تو ا س کی ذمہ دای ہے ” انذار“ اور انہیں ڈرانا جو بے راہ چلتے ہیں اور صراط مستقیم کی دعوت دینا ۔ البتہ جس مقام پر انذار اور ڈرانے کی تکمیل کے لئے اور گمراہوں کی صراط مستقیم پر لانے کے لئے معجزے کی ضرورت ہو مسلم ہے کہ پیغمبر کوتاہی نہیں کرے گا ۔ البتہ ان ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں ہر گز اس کی ایسی کوئی ذمہ داری نہیں جو بالکل راستے پر نہیں آتے۔ در اصل قرآن کہتا ہے کہ یہ کفار پیغمبر کی اصلی ذمہ داری بھول چکے ہیں اور وہ ہے انذار ، ڈرانا اور خدا کی طرف دعوت دینا اور انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اس کی بنیادی ذمہ داری معجزہ دکھانا ہے ۔ ۲۔”لکل قوم ھاد“ سے کیا مراد ہے ؟ کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں صفات” منذر“ ہادی“اور پیغمبر اکرم کی طرف لوٹتی ہیں ۔ ان کے خیال میں در اصل یہ جملہ یوں ہے : انت منذر و ھاد لکل قوم تو ہر قوم اور ہر گروہ کے لئے ڈرانے والا او ر ہادی ہے۔ لیکن یہی تفسیر مندر جہ بالا آیت کے ظاہرکے خلاف ہے کیونکہ واوٴ نے ” لکل قوم ھاد“ کو” انما انت منذر“سے جدا کردیا ہے ۔ ہا ں البتہ اگر لفظ ”ھاد“ ”لکل قوم“ سے پہلے ہوتا تو یہ معنی پورے طور پر قابلِ قبول تھا لیکن ایسانہیں ہے ۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں مقصد یہ تھا حق کی طرف دعوت کرن ے والوں کی دو قسمیں بیان کی جائیں ۔ پہلی قسم ان کے دعوت کرنے والوں کی جو انذار کریں اور ڈرائیں اور دوسری قسم ان دعوت کرنے والوں کی جو ہدایت کریں ۔ حتماً آپ سوال کریں گے کہ ” انذار“ اور” ہدایت “میں کیا فرق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ” انذار“ اس لئے کہ گمراہی اور بے راہ روی سے راستے کی طرف پلٹا یا جائے اور صراطِ مسقتیم پر پہنچایا جائے لیکن ”ہدایت “ اس لئے ہے کہ لوگوں کو راستے پر آجانے کے بعد آگے لے جایا جائے۔ حقیقت میں ” منذر“” علت محدثة“ یعنی ایجاد کرنے والے سبب“ کی طرح ہے اور ”ہادی“ ” علت مبقیة“ یعنی باقی رکھنے والے اور آگے لے جانے والے سبب “ کی مانند ہے اور یہ وہی چیز ہے جسے ہم ” رسول “ اور ” امام “ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ رسول ِ شریعت کی بنیاد رکھتا ہے اور امام شریعت کا محافظ اور نگہبان ہے ( اس میں شک نہیں کہ دیگر مواقع پر خود ذاتِ پیغمبرپر لفظ ”ہادی“ کا اطلاق ہوا ہے لیکن زیر بحث آیت میں ” منذر“ کے ذکر کے قرینے سے ہم سمجھتے ہیں کہ ” ہادی “ سے یہاں مراد وہ شخص ہے جو راہ پیغمبر کو جاری وساری رکھے اور اس کی شریعت کا محافظ و نگہبان ہو)۔ متعدد روایات کہ جو پیغمبر اسلام سے مروی ہیں اور شیعہ سنی کتب میں موجود ہیں ان میں آپ نے فرمایا ہے کہ : میں منذر ہو ں اور علی ہادی ہیں ۔ یہ روایات مندرجہ بالا تفسری کی مکمل طور پر تائید کرتی ہیں ۔ چند ایک روایات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں : ۱) اسی آیت کے ذٰل میں فخر الدین رازی ابن عباس سے نقل کرتے ہیں : وضع رسول اللہ یدہ علی صدرہ فقال انا المنذر، ثم اوماٴ الی منکب علی (ع) و قال انت الھادی بک یھتدی المھتدون من بعدی رسول اللہ نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر مارا اور فرمایا : میں منذر ہو ں ۔ پھر علی کے کندھے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایاتو ہادی ہے اور تیرے ذریعے میرے بعد ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے ۔ ۱ یہ روایت اہل سنت کے مشہور عالم علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اسی طرح علامہ ابن صباغ مالکی نے ” فصول المہمہ “ میں ، گنجی شافعی نے کفایة الطالب میں ، طبری نے اپنے تفسیر میں ، ابو حیان اندلسی نے اپنی تفسیر ” بحر المحیط“ میں ، علامہ نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں اور اسی طرح دیگر بہت سے علماء نے نقل کی ہے ۲)حموینی جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں اپنی کتاب” فرائد السمطین “ میں ابو ہریرہ اسلمی سے اس طرح نقل کرتے ہیں : ان المراد بالھادی علی (ع) ہادی سے مراد حضرت علی (ع) ہیں ۳) ” حبیب السیر“ کے مولف میر غیاث الدین اپنی کتاب کی دوسری جلد ص۱۲ پر اس طرح لکھتے ہیں : قد ثبت بطرق متعددہ انہ لما نزل قولہ تعالیٰ ” انما انت منذر و لکل قوم ھاد“ قال لعلی ” انا المنذر و انت الھادی بک یا علی یھتدی المھتدون من بعدی“۔ متعدد طریق سے نقل ہوا ہے کہ جب آیت ” انما انت منذر و لکل قوم ھاد“ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے حضرت علی (ع) سے فرمایا:” میں منذر ہو ں اور تو ہادی ہے او رمیرے بعد ہدایت پانے والوں کی تیرے ذریعے ہدایت ہو گی “۔ آلوسی نے ” روح المعانی “ میں ، شبلنجی نے”نور الابصار“ میں اور شیخ سلیمان قندوزی نے ” ینابع المودة“ میں یہی حدیث انہیں الفاظ میں یا اس کے قریب قریب الفاظ میں نقل کی ہے ۔ اکرثر روایات میں اس حدیث کے راوی اگر چہ ابن عباس ہیں تا ہم یہ روایت ابن عباس میں منحصر نہیں ہے بلکہ حموینی کی نقل کے مطابق خود حضرت علی (ع) سے بھی مروی ہے ، آپ (ع) فرماتے ہیں : المنذر النبی و الھادی رجل من بنی ھاشم یغنی نفسہ منذر پیغمبر ہیں ہادی بنی ہاشم میں سے ایک شخص ہے کہ اس سے مراد خود آپ کی ذات ہے ۔ 2 ۸۔ اللهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اٴُنثَی وَمَا تَغِیضُ الْاٴَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَکُلُّ شَیْءٍ عِنْدَہُ بِمِقْدَارٍ ۔ ۹۔ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشّھََادَةِ الْکَبِیرُ الْمُتَعَالِی ۔ ۱۰۔ سَوَاءٌ مِنْکُمْ مَنْ اٴَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَ بِہِ وَمَنْ ھُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّیْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّھَارِ ۔ ترجمہ ۸۔خدا ان تمام جنیوں سے آگاہ ہے جن کا ہر مادہ انسان یا مادہ جانور حامل ہے اور جسے رحم کرتے ہیں ( اور مقررہ مدت سے پہلے جتنے ہیں ) اور جسے زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کی مقدار معین ہے ۔ ۹۔ وہ غیب و شہود سے آگاہ ہے او ربزرگ و متعال ہے ۔ ۱۰۔ اسے فرق نہیں پڑتا کہ تم میں سے کچھ پنہاں گفتگو کرتے ہیں یا آشکار اور وہ جو رات کو خفیہ حر کت کرتے ہیں یا دن کی روشنی میں ۔ ۱۔تفسیر کبیر فخر رازی جلد ۱۹ ص۱۴۔ 2۔ اس حدیث میں اگر چہ مسئلہ ولایت اور خلافتِ بلا فصل کی تصریح نہیں کی گئی تا ہم اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ہدایت اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے حضرت علی (ع) میں منحصر نہ تھی بلکہ تمام سچے علماء اور رسول اللہ کے خاص اصحاب یہ کام انجام دیتے تھے ، معلوم ہوتا ہے کہ ”ہادی “ کے طور پر حضرت علی (ع) کی تعارف آپ کے خاص امتیاز اور خصوصیت کی وجہ سے ہے ۔ آپ (ع) بہترین اور افضل ترین ہادی کے مصداق ہیں اور اس قسم کامطلب ولایت اور خلافتِ پیغمبر سے جدا نہیں ہو سکتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:7
پھر بہانہ سازی
گزشتہ آیات میں کچھ اشارہ مسئلہ ٴ توحید کے متعلق کئے گئے ہیں اور ایک اشارہ مسئلہ ” معاد کی طرف کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد زیر بحث آیت میں ہٹ دھرم مشرکین کی طرف سے ” نبوت“ کے بارے میں ایک اعتراض بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہو تا ہے : کفار کہتے ہیں : اس کے پروردگار کی طرف سے اس پرکیوں کوئی معجزہ او ر نشانی نازل نہیں ہوئی(وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْہِ آیَةٌ مِنْ رَبِّہِ )۔ واضح ہے کہ پیغمبر کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنی حقانیت کی سند کے طور پر اور وحی الہٰی سے اپنے تعلق کے ثبوت میں معجزات پیش کرے اور متلاشیانِ حق نبوت کی دعوت میں شک و تردید کے موقع پر حق رکھتے ہیں کہ معجزے کا مطالبہ کریں لیکن اگر نبوت کے دلائل دوسرے طریقے سے آشکار اور واضح ہو ں تو پھر وہ حق نہیں رکھتے لیکن ایک نکتہ کی طرف بھر پور توجہ کرنا چاہئیے کہ مخالفین ِ انبیاء ہمیشہ حسنِ نیت کے حامل نہیں ہوتے تھے معجزات حق معلوم کرنے کے لئے طلب نہیں کرتے تھے بلکہ ہٹ دھرمی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے لئے بھی ہر وقت معجزے اور عجیب و غریب خارق ِ عادت کا تقاضا کرتے تھے۔ ایسے معجزات کہ جنہیں ” معجزات ِ اقتراحی“ کہا جاتا ہے ہر گز کشفِ حقیقت کے لئے نہیں تھے ۔ اسی لئے انبیاء ان کا تقا ضا تسلیم نہیں کر تے تھے ۔ در حقیقت ان ہٹ دھرم کفار کا یہ خیال تھا کہ پیغمبر (ص) کا دعویٰ ہے کہ میں ہر چیز انجام دینے پر قادر ہو ں اور معجزہ گر ہوں اور یہاں بیٹھا ہوں جو شخص بھی کسی معجزے کا تقاضا کرے گا وہ پیش کرودوں گا ۔ لیکن انبیاء یہ حقیقت بیان کرکے ایسے لوگوں کی خواہشات ٹھکرادیتے تھے کہ معجزات خدا کے ہاتھ میں ہیں اوراس کے حکم سے انجام پاتے ہیں اور ہماری ذمہ داری لوگوں کی تعلیم و تربیت ہے ۔ اسی لئے زیر بحث آیت میں ہے کہ خدا تعالیٰ اس گفتگو کے بعد فرماتا ہے : اے پیغمبر تو ُتو صرف ڈرانے والا ہے اور ہر قوم و ملت کے لئے ہادی و رہنما ہوتا ہے ( إ ِنَّمَا اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ)۔