۞وَإِن تَعۡجَبۡ فَعَجَبٞ قَوۡلُهُمۡ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدٍۗ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ ٱلۡأَغۡلَٰلُ فِيٓ أَعۡنَاقِهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
If you are to wonder [at anything], then wonderful is their remark, ‘When we have become dust, shall we be [ushered] into a new creation?’ They are the ones who defy their Lord; they shall have iron collars around their necks, they shall be the inhabitants of the Fire, and they shall remain in it [forever].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 13:5
[Pooya/Ali Commentary 13:5] After seeing the signs in nature and in revelation, only an obstinate disbeliever denies the creator, and refuses to appreciate the process of raising the dead up again after being reduced to dust-he must know that He who has once created him has the power to create him again. Refer to Ya Sin: 78 and 79 wherein the reply to the disbelievers contains this argument. Aqa Mahdi Puya says: After knowing the process of creation and development, man is expected to marvel at the grandeur of the eternal and beyond the human comprehension powers of the creator, but no reasonable human being will deny the possibility of a new state of life in the process of development or evolution.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:5-6
چند اہم نکات
۱۔ خلقت ِ نو کے بارے میں تعجب کیوں؟ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی مشکلات میں سے ایک مشرک قوموں کے سامنے معادِ جسمانی کے اثبات کا مسئلہ تھا کیونکہ وہ لوگ ہمیشہ اس بات پر تعجب کرتے تھے کہ کس طرح انسان مٹی ہونے کے بعد دوبارہ حیات کی طرف پلٹ آئے گا ۔ یہ جو محل بحث آیات میں ہے : ء اذا کنا تراباً ء انّا لفی خلق جدید کیا جب ہم مٹی ہو جائیں تو دوبارہ حیات ِ نو پائیں گے۔ ایسی تعبیرات تھوڑے بہت فرق کے ساتھ قرآن کی سات دیگر آیات میں موجود ہیں ، جو یہ ہیں : مومنون ۔۳۵۔ مومنون ۸۲ نمل ۔۶۷ صافات ۔۵۳ ق ۳ اور واقعہ ۔۴۷ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اعتراض ان کی نگاہ میں بہت ہی اہم تھا ۔ تبھی تو ہر جگہ اسی کا سہارا لیتے تھے لیکن قرآن مجید بہت ہی مختصر عبارتوں میں انہیں دو ٹوک اور قاطع جواب دیتا ہے ۔ مثلا ً سورہ ٴ اعراف کی آیہ ۲۹ میں : کمابداء کم تعودون جیسا کہ ابتداء میں تمہیں پیدا کیا گیا ہے اسی طرح پھر لوٹا ئے جاوٴ گے۔ چند الفاظ میں یہ ایک دندان شکن جواب ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے : وھو اھوان علیہ تمہاری بازگشت تو تمہارے آغاز سے بھی سادہ اور آسان ہے ۔ ( روم ۔۲۷) کیونکہ ابتداء میں تم کچھ بھی نہیں تھے لیکن اب کم از کم بوسیدہ ہڈی یا مٹی کی صورت میں تو تم موجود ہو۔ بعض مقامات پر قرآن لوگوں کو ہاتھ پکڑ کر وسیع کائنات زمین و آسمان میں عظمت قدرتِ خدا کا مشاہدہ کرواتا ہے او رکہتا ہے : کیا وہ ذات جو یہ سب کرات ، کہکشائیں ، ثوابت اور سیارے پیدا کرسکتی ہے اس کے اعادہ پر قادر نہیں ہے ۔(یٰسٓ۔۸) ۲۔کیا خدا ستمگر وں کو بخش دیتا ہے :مندرجہ بالاآیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ پر ور دگار لوگوں کے ظلم کے باوجود صاحبِ مغفرت و بخشش ہے۔ مسلم ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ خد ااپنی عفو و بخشش ان ظالموں کے شامل حال کرتا ہے جو اپنے ظلم پر اصرار کرتے ہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ظالموں کو بھی اس وسیلے سے بازگشت اور اپنی اصلاح کا امکان فراہم کرے ورنہ دوسرے جملے میں ان کے انجام کی طرف اشارہ موجود ہے کہ ” تیرا پر ور دگار شدید العقاب ہے “۔ ضمنا ً اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہانِ کبیرہ ( کہ جن میں سے ایک ظلم ہے ) بھی قابل بخشش ہیں ( تمام تر شرائط کے ساتھ ) یہ آیت اور اس جیسی دیگر آیات اس غلط بات کا دو ٹوک اور قاطع جواب دیتی ہے جو قدیم زمانے سے معتزلہ کے حوالے سے نقل ہو ئی ہے کہ جو کہتے ہیں کہ گناہاں کبیرہ کبھی بھی نہیں بخشے جائیں گے ۔ بہر حال پروردگار کی ” وسیع مغفرت“ اور اس کے ” شدیدعقاب“ کا ذکر در حقیقت سب کو میانہ راہ پر اور خوف و رجا کے درمیان لے آتا ہے کہ جس کا اہم عامل انسان کی تربیت ہے کہ نہ بالکل رحمتِ الہٰی سے مایوس ہو جائے چاہے اس کا جرم سنگین بھی ہو اور نہ ہی کبھی اپنے آپ کو اس کی سزا سے مامون سمجھے چاہے اس کا گناہ خفیف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لئے ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے روایت ہے : لولا عفو اللہ وتجا وزہ ما ھنا احد العیش ، ولولا وعید اللہ و عقابہ لاتکل کل واحد اگر خدا کی عفو و بخشش نہ ہوتی تو زندگی ہر گز کسی کے حلق میں گوارانہ ہوتی اور اگرخدائی تہدیدیں اور سزائیں نہ ہوتیں تو ہر شخص اس کی رحمت کے نام پر جو چاہتا انجام دیتا۔1 یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو لوگ گناہ انجام دیتے ہوئے بڑے غرور سے کہتے ہیں کہ ” خد اکریم ہے “ در حقیقت انہوں نے خدا کے کرم پر بھروسہ نہیں کیا وہ جھوٹ بولتے ہیں اور اصل میں وہ پروردگار کی سزا اور عذاب سے بے اعتنائی کرتے ہیں ۔ ۷۔وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْہِ آیَةٌ مِنْ رَبِّہِ إِنَّمَا اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ۔ ترجمہ ۷۔ اور وہ جو کافر ہو گئے کہتے ہیں کہ اس کے پر وردگار کی طرف سے اس پر آیت( اور معجزہ) کیوں نازل نہیں ہوا۔ تُوتو صرف ڈرانے والاہے اور ہر گروہ کے لئے ہدایت کرنے والا ہوتا ہے ( اور یہ تو سب بہانے ہیں نہ کہ حقیقت کی جستجو)۔ 1۔ مجمع البیان ص ۲۷۸ جلد ۵ و ۶ زیر بحث آیت کے ذیل میں ، تفسیر قرطبی جلد ۶ ص ۳۱۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:5-6
قیامت کے بارے میں کافروں کا تعجب
عظمت الہٰی کی نشانیوں کے بارے میں جو آیات گزری ہیں ان کے بعد زیر بحث پہلی آیت میں مسئلہ معاد پیش کیا گیا ہے او ر مسئلہ مبداء و معاد میں جو خاص ربط اور تعلق ہے اس کی بنیاد پر اس بحثکو پختگی دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اگر تم کسی چیز پر تعجب کرنا چاہتے ہو تو ان کی اس بات پر تعجب کرو کہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو ہمیں نئی خلقت دی جائے گی (وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُھُمْ اٴَئِذَا کُنَّا تُرَابًا اٴَئِنَّا لَفِی خَلْقٍ جَدِید)۔۱ یہ وہی تعجب ہے جو تمام جاہل قوموں کو مسئلہ معاد کے بارے میں تھا ۔ وہ موت کے بعد حیات ِ نواور خلقت ِ جدید کو محال سمجھتے تھے حالانکہ گزشتہ آیات میں اور دیگر قرآنی آیات میں اس مسئلے کا اچھی طرح سے جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ آغاز ِ خلقت اور تجدید ِ خلقت میں کیا فرق ہے وہ ذات جو آغاز ِ خلقت میں انہیں پیدا کرنے پر قادرتھی وہ اس پر بھی قادر ہے کہ ان کے بدن کو حیات نو عطا کرے ۔ گویا یہ اپنی خلقت کی ابتدا کو بھول چکے ہیں تبھی تو اس کی تجدید کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ پہلے کہتا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پر ور دگار کے کافر ہو گئے ہیں ( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّھِمْ)۔کیونکہ اگریہ لوگ خدا کو اور اس کی ربوبیت کو قبول کرتے توپھر معاد اور تجدید حیاتِ انسانی کے بارے میں شک نہ کرتے لہٰذا مسئلہ معاد میں ان کی خرابی مسئلہ توحید و ربوبیت ِ الہٰی کے بارے میں ان کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔ دوسرا یہ کہ کفر اور بے ایمانی اختیار کرنے کی وجہ سے اور توحید کے پر چم آزادی کے سائے سے نکل جانے کی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو طوق و زنجیر میں گرفتار کر لیا ہے ۔ انہوں نے بت پرستی ، ہوسپرستی ، مادہ پرستی اور جہالت و خرافات کے طوق اپنے ہاتھوں اپنی گردن میں ڈالے ہیں ” اور ان کی گردن میں یہ طوق ہیں “ ( وَاٴُوْلَئِکَ الْاٴَغْلَالُ فِی اٴَعْنَاقِھمْ)۔ ” اور اس کیفیت اور کردار کی وجہ سے ایسے لوگ یقینا اہل دوزخ ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے“ اور ان کے لئے اس کے سوا کوئی نتیجہ اور توقع نہیں ہے (وَاٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ )۔ بعد والی آیت میں مشرکین کی ایک اور غیر منطقی بات پیش کی گئی ہے ۔ فرمایا : بجائے اس کے کہ وہ تیرے ذریعے خدا سے رحمت کا تقاضا کرتے عذاب ، کیفر کردار اور سزا میں تعجیل کا تقاضا کرتے ہیں ( وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ)۔ یہ قوم اس قدر ہٹ دھرم اور جاہل کیوں ہے ۔ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر تو سچ کہتا تو ہم اس طرح یا س رحمت ِ خدا نازل کر ، الٹا کہتے ہیں کہ اگر تیری بات سچی ہے تو ہم پر عذاب ِ خدا نازل کر۔ کیا ان کا خیا ل ہے کہ خدا کی سزا اور عذاب کی بات غلط ہے ” حالانکہ گزشتہ زمانوں میں سر کش امتوں پر عذاب نازل ہو ئے “ جن کی خبریں صفحاتِ تاریخ پر اور زمین کے دل پر ثبت ہیں ( وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھمْ الْمَثُلَاتُ )۔ 2 اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : لوگوں کی برائیوں ، قباحتوں اور ظلم و ستم کے مقابلے میں خدا صاحبِ مغفرت ہے اور شدید العقاب بھی ہے (وَإِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَی ظُلْمِھمْ وَإِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیدُ الْعِقَابِ)۔ اس کی شدت عقاب و سزا اس کی رحمت ِ عام کے لئے ہر گز رکاوٹ نہیں جیسا کہ اس کی رحمت ِ عام شد ِت عقاب و سزا کا وٹ نہیں ہے ۔ یہ اشتباہ نہیں ہو نا چاہئیے کہ وہ ظالموں کو موقع دیتا ہے کہ جو کچھ وہ چاہیں کریں کیونکہ ایسے مواقع پرتو وہ شدید العقاب ہے ۔ پر وردگار کی یہ دو صفات یعنی ”ذو مغفرة“ اور ” شدید العقاب“ کے آثار کا تعلق خود انسان کے وجود سے ہے ۔ ۱۔”ان تعجب فعجب قولھم“ ۔ اس جملے کا در حقیقت یہ معنی ہے کہ اگر تو چاہتا ہے کہ کسی چیز کے بارے میں تعجب کرے تو ا ن کی بات پر تعجب کرو کیونکہ یہ بہت ہی تعجب کی بات ہے اور ” فعجب قولھم“ در اصل جملہ شرطیہ کی جزا ہے ۔ 2۔”مثلات“مثلة“کی جمع ہے ۔ یہ بلاوٴںاور سزا وٴں کے معنی میں ہے جو گزشتہ امتوں پر اس طرح سے نازل ہوئیں کہ ضرب المثل ہوگئیں۔