قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
Say, ‘Who is the Lord of the heavens and the earth?’ Say, ‘Allah!’ Say, ‘Have you then taken others besides Him for guardians, who have no control over their own benefit or harm?’ Say, ‘Are the blind one and the seer equal? Are darkness and light equal?’ Have they set up for Allah partners who have created like His creation, so that the creations seemed confusable to them? Say, ‘Allah is the creator of all things, and He is the One and the All-paramount.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 13:16
[Pooya/Ali Commentary 13:16] For "the Lord of the heavens and the earth" see commentary of al Fatihah: 2. See commentary of Ma-idah: 100; Anam: 50 for the good and the bad; the blind and the seeing.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:16
بت پرستی کیوں ؟
گزشتہ آیات میں وجودِ خد اکی معرفت کے بارے میں بہت سی بحثیں تھیں ۔ اس آیت میں بت پرستوں کے اشتباہ کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور اس کے بارے میں مختلف پہلووٴں سے گفتگو کی گئی ہے ۔ پہلے پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان سے پوچھوکہ آسمانوں اور زمین کاپر وردگار اور مدبر کون ہے ( قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ) ۔ اس کے بعد بغیر اس کے کہ پیغمبر ان کے جواب کے انتظار میں رہے حکم دیا گیا ہے کہاس سوال کا جواب خود دو، کہو : ”اللہ “(قل اللہ ) ۔ پھر انھیں یو ںملامت کی گئی ہے : ان سے کہو : کیا تم نے غیر خدا کو اپنے لئے اولیاء ،سہارا اور معبود قرار دے لیا ہے حالانکہ یہ بت تو اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ( قُلْ اللهُ قُلْ اٴَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِہِ اٴَوْلِیَاءَ لاَیَمْلِکُونَ لِاٴَنفُسِھمْ نَفْعًا وَلاَضَرًّا ) ۔ در حقیقت پہلے ” خدا کی ربوبیت “ کے حوالے سے بحث کی گئی ہے نیز یہ کہ وہی عالم ک امالک و مدبر ہے ہر خیر و نیکی اسی کی جانب سے ہے اور وہی ہر شر کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے یعنی جب کہ تم یہ بات قبول کرتے ہوکہ خالق اور پرور دگار وہ ہے تو اب جو مانگنا ہے اسی سے مانگو نہ کہ بتوں سے کہ جہ جو تمہاری کوئی مشکل حل نہیں کرسکتے۔ پھر اس سے بھی پڑھ کر فرمایاگیا ہے کہ وہ تو اپنے نفع و نقصان تک کے مالک نہیں ہیں چہ جائیکہ تمہارے ۔ ان حالات میں وہ تمہاری کونسی مشکل آسان کرسکتے ہیں جس کی بناء پر تم ان کی پرستش کرتے ہو جب وہ اپنے لئے بے بس ہیں تو تم ان سے کیا توقع رکھتے ہو۔ اس کے بعد دو واضح اور صریح مثالوں کے ذریعے ” موحد“ اور ”شرک“ کی کیفیت بیان کی گئی ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : کہو: کیا نابینا اور بینا برابر ہیں (قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاٴَعْمَی وَالْبَصِیرُ ) ۔ جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہیں اسی طرح کافر اور مون بھی برابر نہیں ہیں اور بتوں کو ”اللہ “ کا شریک قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ دوسرا یہ کہ : کیا ظلمات اور نور برابر ہیں (اٴَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ) ۔ وہ ظلمت کہ جو انحراف ، گمراہی ، اشتباہ اور خوف و خطر کا مر کز ہے اسے اس نور کے برابر کیسے سمجھا جا سکتا ہے جو رہنما اور حیات بخش ہے ۔ کس طرح سے بتون کو کہ جو محض ظلمات ہیں خدا کے ساتھ شریک کیا جا سکتا ہے کہ جو عالم ہستی کا نور مطلق ہے ۔ ایمان اور توحید کہ جو روحِ نور ہے اسے شر ک و بت پرستی سے کیانسبت کہ جو ظلمت کہ روحِ رواں ہے ۔ اس کے بعد ایک طریقے سے مشرکین کے عقیدے کابطلان ثابت کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہو تا ہے : وہ کہ جنہوں نے خدا کے لئے شریک قرار دئے ہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی خدا کی طرح خلق کیا ہے او ریہ خلق کیا ہے اور یہ خلقت ا س کے لئے مشتبہ ہو گئی اور انہیں یہ گمان ہو گیا ہے کہ بت بھی خدا کی طرح عبادت کے مستحق ہیں کیونکہ ان کی نظر میں بت بھی وہی کام کرتے ہیں کہ جو خدا کرتا ہے (اٴَمْ جَعَلُوا لِلَّہِ شُرَکَاءَ خَلَقُوا کَخَلْقِہِ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَیْھِمْ ) ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ بت پرست بھی بتوں کے بارے میں ایساعقیدہ نہیں رکھتے ۔ وہ بھی خدا کو تمام چیزوں کا خالق سمجھتے ہیںاور عالم خلقت کو فقط اس سے مربوط شمار کرتے ہیں ۔ اسی لئے فوراً فرمایا گیاہے : کہہ دو خدا ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہے یکتا و کامیاب(قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَھُوَ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:16
چند اہم نکات
۱۔ خالقیت و ربوبیت معبودیت سے مر بوط ہے :زیر نظر آیت سے پہلے تو یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ جو خالق ہے وہ رب اور مدبر ہے بھی ہے کیونکہ خلقت ایک دائمی اور مسلسل امر ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ خدا وند عالم موجودات کو پیداکرکے ایک طرف بیٹھ جائے بلکہ فیضِ ہستی خدا کی طرف سے دائمی طور پر ہوتا ہے اور ہر موجود اس کی پاک ذات سے ہستی اور وجود حاصل کرتا رہتا ہے ۔ اس بناء پر آفرینش کا پر وگرام اور عالم ہستی خدا کی تدبیر ابتدائے خلقت کی طرح خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سود زیاں اور نفع و نقصان کامالک وہی ہے اور اس کے علاوہ جس کے پاس جو کچھ بھی ہے اسی کی طرف سے ہے ۔ اس کے باوجود کیا خدا کے علاوہ کوئی عبودیت کا اہل ہے۔ ۲۔ خود ہی سوال اور خود ہی جواب : محل بحث آیت سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کو کیونکر حکم دیتا ہے کہ مشرکین سے سوال کریں کہ آسمان و زمین کا پر ور دگار اور مالک کون ہے اور ا سکے بعد بغیر جواب کا انتظار کئے اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ وہ ا س سوال کا جواب دیں اور اس کے بعد بلا فاصلہ ان مشرکین کو سر زنش کی گئی ہے کہ وہ بتوں کی پر ستش کیوں کرتے ہیں ۔ یہ سوا ل و جواب کا کیسا طریقہ ہے ؟ایک نکتہ کی طرف تو جہ کرنے سے اس سوال کا جوا ب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات ایک سوال کا جواب اس در واضح ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا محتاج نہیں ہوتا کہ مدمقابل کے جواب کا انتظار کیا جائے ۔ مثلا ًیہ کہ ہم کسی سے سوال کرتے ہیں کہ اس وقت رات یا دن اور پھر بلا فاصلہ ہم خود جواب دیتے ہیں کہ یقینارات ہے ۔ یہ در اصل اس امر کے لئے ایک لطیف کنایہ ہے کہ یہ بات اس قدر واضح ہے کہ جواب کے انتظار کرنے کی محتاج نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں مشرکین خالقیت کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے تھے اور وہ ہر گز یہ بات نہیں کہتے تھے کہ بت پرست زمین و آسمان کے خالق ہیں بلکہ ان کا عقیدہ تھا کہ وہ شفیع ہیں اور انسان کو نفع و نقصان پہونچانے پر قادر ہیں اور اسی بناء پر ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کی عبادت کرنا چاہئیے ۔ لیکن چونکہ ”خالقیت“ اور ”ربوبیت“ ( عالم ہستی کی تدبیر اور اس کے نظام کو چلانا)ایک دوسرے سے جد انہیں ہے لہٰذا مشرکین پر یہ اعتراج کیا جا سکتا ہے اور انہیں کہا جا سکتا ہے کہ تم خالقیت کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہو تو ربوبیت کو بھی اس کے ساتھ مخصوص سمجھو اور اس کے ساتھ عبادت بھی اسی سے مخصوص ہو گئی ہے ۔ ۳۔چشم بینا اور روشنی لازم و ملزوم ہیں : آیت میں ” نابینا و بینا “ اور ”ظلمات و نور “ دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ گویا یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ایک حقیقت ِ عینی کے مشاہدہ کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے ۔ چشم بیناکی بھی اور نور کی شعاعوں کی بھی ۔ ان میں سے کوئی ایک نہ ہو تو مشاہدہ ممکن نہیں ۔ لہٰذا سوچنا چاہئیے کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہو گی کہ جو ان دونوں سے محروم ہوں ، بینائی سے بھی اور نور سے بھی ۔ اس کا حقیقی مقصداق مشرکین ہیں کہ جن کی چشم بصیرت بھی اندھی ہے او ر جن کی زندگی کو بھی کفر و بت پرستی کی تاریکی نے گھیر لیارکھا ہے اسی لئے وہ تاریک گھاٹیوں اور گڑھوں میں سر گرداں ہیں ۔ جب ان کے بر عکس مومنین نگاہِ بینا رکھتے ہیں ۔ ان کا پر و گرام واضح ہے اور انہوں نے نورِ وحی اور تعلیماتِ انبیاء کی مدد سے اپنی زندگی صحیح راستے پر دال لیا ہے ۔ ۴۔ کیا خدا کی خالقیت جبر و اکراہ کی دلیل ہے ؟زیر نظر جبر کی بعض طرفداروں نے محل بحث آیت کے جملے ” اللہ خالق کل شیء “ سے اپنا مقصد ثابت کرنے کے لئے استدلال کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ کاموں کا خالق بھی خدا ہے یعنی ہمارا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ اس بات کو دو طریقوں سے جواب دیاجا سکتا ہے : پہلا یہ کہ اس آیت کے دوسرے جملے اس بات کی پورے طور پر نفی کرتے ہیں کیونکہ ان میں بت پرستوں کی بڑی ملامت کی گئی ہے اگر واقعا ً ہم اپنے اعمال میں کوئی اختیار نہیں رکھتے تو پرتنبیہ اور سر زنش کس بناء پر ؟اگر خدا چاہتا کہ ہم بت پرست رہین تو پھر وہ کیون سر زنش کرتا ہے او رکیوں ہدایت کے لئے اور راہ بدلنے کے لئے استدلال کرتا ہے ۔ یہ سب چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ لوگ اپنی راہ انتخاب کرنے میں آزاد اور مختار ہیں ۔ دوسرایہ کہ ہر چیز میں خالقیت بالذات خدا کے ساتھ مخصوص ہے لیکن پھر بھی یہ چیز اپنے افعال میں ہمارے مختار ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ ہماری طاقت اور ہماری عقل بلکہ ہمارے ارادے کی آزادی سب کے سب اسی کی جانب سے ہیں ۔ اس بناء پر ایک لحاظ سے وہ بھی خالق ہے ( تمام چیزوں کا خالق حتی کہ ہمارے افعال و اعمال کا خالق ) اور ہم بھی فاعل مختار ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے طول میں ہیں کہ کہ عرض میں ۔ وہ فعل کے تمام وسائل اور ذرائع پیدا کرنے والا ہے اور ہم خیر و شر کے راستے پر ان وسائل سے استفادہ کرنے والے ہیں ۔ یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح سے کوئی شخص بجلی گھر یا پانی پلائی کا مر کز تیار کرکے ہمارے اختیار میں دے دیتا ہے ۔ مسلم ہے کہ ہم اس بجلی سے کسی قریب المرگ بیمار کے لئے آپریشن تھیٹر کو روشن کریں یا ایک برائی کے مرکز کو ۔ اسی طرح پانی سے کسی تشنہ لب کو سیراب کریں اور پھولوں کے پودوں کی آبیاری کریں یا کسی بے گناہ کے گھر کی بنیادوں میں پانی ڈال کر اسے تباہ کردیں ۔ ۱۷۔ اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ اٴَوْدِیَةٌ بِقَدَرِھَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَابِیًا وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْہِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَةٍ اٴَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُہُ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَاٴَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَاءً وَاٴَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاٴَرْضِ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ۔ ترجمہ ۱۷۔ خدا نے آسمان سے پانی بھیجا اور ہر درّہ اور دریا سے ان کی مقدار کے مطابق سیلاب امند پڑا پھر پانی کے ریلوں پر جھگ پیدا ہو گئی اور جن (بھٹیوں ) میں زیرات یا اسباب زندگی تیار کرنے کے لئے آگ روشن کرتے ہیں ان سے بھی جھاگ نکلنے لگی ۔ اس طرح خدا حق او رباطل کے لئے مثال بیان کرتا ہے ۔لیکن جھگ ایک طرف ہو جاتی ہے او رلوگوں کے لئے فائدہ رساں چیز ( پانی یا خالص دھات ) زمین میں باقی رہ جاتی ہے ۔ خدا اسی سے مثال بیان کرتا ہے ۔