يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ
‘Go, my sons, and look for Joseph and his brother, and do not despair of Allah’s mercy. Indeed no one despairs of Allah’s mercy except the faithless lot.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 12:87
[Pooya/Ali Commentary 12:87] (see commentary for verse 3)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:87-93
کو شش کرو اور مایوس نہ ہو
مصر اور اطراف ِ مصر جس میں کنعان بھی شامل تھا میں قحط ظلم ڈھا رہا تھا ۔ اناج بالکل ختم ہو گیا تو حضرت یعقوب (علیه السلام) نے دوبارہ اپنے بیٹوں کو مصر کی طرف جانے اور غلہ حاصل کرنے کا حکم دیا لیکن اس مرتبہ اپنی آرزوٴں کی بنیاد پر یوسف (علیه السلام) اور ان کے بھائی بنیامین کی تلاش کو قرار دیا اور کہا : ” میرے بیٹو! جاوٴ اور یوسف (علیه السلام) اور ا س کے بھائی کو تلاش کرو“ ( یَابَنِیَّ اذْھَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَاٴَخِیہ) ۔ حضرت یعقوب (علیه السلام) کے بیٹے چونکہ اس بارے میں تقریباً مطمئن تھے کہ یوسف (علیه السلام) موجود ہی نہیں اس لئے وہ باپ کی اس نصیحت اور تاکید پر تعجب کرتے تھے ۔ یعقوب ان کے گوش گزار کرتے رہے تھے : ” رحمت الٰہی سے کبھی مایوس نہ ہونا “ کیونکہ اس کی قدرت تمام مشکلوں اور سختیوں سے مافوق ہے (وَلاَتَیْئَسُوا مِنْ رَوْحِ اللهِ) ۔کیونکہ صرف بے ایمان کافر کہ جو قدرت ِ خدا سے بے خبر ہیں ا س کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں ( إِنَّہُ لاَیَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ ) ۔ ” تحسس“ مادہ ” حس“ سے ہے اور یہ قوت حس کے ذریعے کسی چیز کی جستجو اور تلاش کے معنی میں ہے ۔ او ریہ کہ ” تجسس“ میں اور اس میں کیا فرق ہے ، اس سلسلے میں مفسرین اور ارباب ِ لغت کے درمیان اختلاف ہے ۔ ابن ِ عباس سے منقول ہے کہ ” تحسس“امور ِ خیر میں ہے اور تجسس“ امور شر میں ۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ ” تحسس“ افراد اقوام کی سر گزشت جاننے کے لئے کو شش کرنے کے معنی میں ہے اور تجسس“ عیوب و نقائص کی جستجو کرنے کے معنی میں ہے ۔ بعض دیگر احباب نے دونوں سے ایک ہی معنی مراد لیا ہے ۔ لیکن اس حدیث کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جس میں فرمایا گیا ہے : لاتجسسوا ولا تحسسوا . واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں آپس میں مختلف ہیں ۔ نیز ان دونوں کے درمیان فرق کے بارے میں ، زیربحث آیت کے معنی میں ، ابن عباس کانظریہ مناسب معلوم ہوتا ہے او راگر ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث میں دونوں سے منع کیا گیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ اس طرف اشارہ ہو کہ لوگوں کے کاموں او رمعاملات کی ٹوہ میں نہ رہو نہ ان کے اچھے کاموں کی ٹوہ میں اور نہ ہی برے کاموں کی ٹوہ میں ۔ ”روح “ رحمت “ راحت ، سہولت اور کشائش ِ کارکے معنی میں ہے ۔ مفردات میں راغب کہتا ہے کہ ” روح “ ( بر وزنِ ” لوح “ ) اور ”روح “( بر وزن ”نوح “ )دونوں کا اصل میں ایک ہی معنی ہے او ریہ ”جان “ اور تنفس “ کے معنی میں ہیں ۔بعد ازاں ” روح “ ( بر وزن ”لوح “ رحمت اور کشائش کے معنی میں استعمال ہونے لگا ( اس بناء پر کہ ہمیشہ مشکلات ٹل جانے پر انسان نئی روح اور جان پاتا ہے اور آزاری کا سانس لیتا ہے ) ۔ بہر حال فرزندان یعقوب (علیه السلام) نے اپنامال و اسباب باندھا اور مصر کی طرف چل پڑے اور اب کے وہ تیسری مرتبہ داستانوں سے معمو ر اس سر زمین پ رپہنچے ۔ گزشتہ سفروں کے برخلاف اس سفر میں ان کی روح کو ایک احساس ِ ندامت کچوکے لگا رہا تھا کیونکہ مصر میں اور عزیز مصر کے نزدیک ان کا سابقہ کردار بہت برا تھا اور وہ بدنام ہو چکے تھے اور اندازہ تھا شاید بعض لوگ انہیں ”کنعان کے چور “ کے عنوان سے پہچانیں ۔ دوسری طرف ان کے پاس گندم اوردوسرے اناج کی قیمت دینے کے لئے درکار مال و متاع موجود نہیں تھا اور سا تھ ہی بھائی بنیامین کے کھو جانے اورباپ کی انتہائی پریشانی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کردیا تھا ۔ گویا تلوار ان کے حلقوم تک پہنچ گئی تھی ۔ بہت ساری مشکلات اور روح فرسا پریشانیوں نے انہیں گھیر لیا تھا ۔ ایسے میں جو چیز ان کی تسکین ِ قلب کاباعث تھی وہ صرف باپ کا آخری جملہ تھا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا کیونکہ اس کے لئے ہر مشکل آساں ہے ۔ اس عالم میں ” وہ یوسف (علیه السلام) (علیه السلام) کے پاس پہنچے اور اس وقت انتہائی پریشانی کے عالم میں انہوں نے اس کی طرف رخ کیا اور کہا: اے عزیز ! ہمیں او رہمارے خاندان کو قحط، پریشانی اور مصیبت نے گھیر لیا ہے “ ( فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَیْہِ قَالُوا یَااٴَیّھَا الْعَزِیزُ مَسَّنَا وَاٴَھْلَنَا الضُّر) ۔” اور ہمارے پاس صرف تھوڑی سی کم قیمت پونجی ہے “ (ُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ ) ۔۱ لیکن پھربھی ہمیں تیرے کرم اور شفقت پر بھروسہ ہے ” اور ہمیں توقع ہے کہ تو ہمارا پیمانہ بالکل پورا کرے گا “( فَاٴَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ) ۔” اور ا س معاملے میں ہم پر احسان کرتے ہوئے صدقہ کر“ (وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا) ۔ اور اپنا اجر و ثواب ہم نے لے بلکہ اپنے خدا سے لے کیونکہ خدا کریموں اور صدقہ کرنے والوں کو اجر خیر دیتا ہے (إِنَّ اللهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِینَ ) ۔ یہ قابل توجہ ہے کہ برادران یوسف (علیه السلام) کو باپ نے تاکید کی تھی کہ پہلے یوسف (علیه السلام) اور اس کے بھائی کے لئے جستجو کریں اور بعد میں اناج حاصل کریں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ا س بات کی طرف چنداں توجہ نہیں کی اور سب سے پہلے انہوں نے عزیز مصرسے اناج کا تقاضہ کیا ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ انہیں یوسف (علیه السلام) کے ملنے کی چنداں امید نہ تھی یا ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو کہ بہتر ہے کہ اپنے کو اناج کے خرید داروں کے طور پر پیش کریں جو کہ زیادہ طبعی اور فطری ہے اور بھائی کی آزادی کا تقاضا ضمناًرہنے دیں تاکہ یہ چیز عزیز مصر پر زیاد ہ اثر انداز ہو۔ بعض نے کہا کہ ” تصدق علینا “ سے مراد وہی بھائی کی آزادی ہے ورنہ وہ انا ج بغیر معاوضے کے حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے کہ اسے ”تصدق “ قرار دیا جاتا ۔ روایات میں بھی ہے کہ بھائی باپ کی طرف سے عزیز مصر کے نام ایک خط لے کر آئے تھے اس خط میں حضرت یعقوب (علیه السلام) نے عزیز مصر کے عدل و انصاف کاتذکرہ کیا ۔ اپنے خاندان سے ا س کی محبتوں اور شفقتوں کی تعریف کی ۔ پھر اپنا اور پانے خاندان نبوت کا تعارف کروایا ۔ اپنی پریشانیوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی اس کے ضمن میں اپنے بیٹے یوسف (علیه السلام) اور دوسرے بیٹھے بنیامین کے کھوجانے اور خشک سالی سے پیدا ہونے والی مصیبتوں کا ذکر کیا ۔ خط کے آخر میں اس سے خواہش کی گئی تھی کہ بنیامین کو آزاد کردے اور تاکید کی تھی کہ ہمارے خاندان میں چوری وغیرہ ہر گز نہ تھی اور نہ ہوگی ۔ جب بھائیوں نے باپ کا خط عزیز مصر کو دیا تو انہوں نے اسے لے کر چوما او راپنی آنکھوں پر رکھا اور رونے لگے ۔ گریہ کا عا لم یہ تھا کہ قطرات ِ اشک انکے پیراہن پر گرنے لگے ۔ 2 (یہ دیکھ کر بھائی حیرت وفکر میں ڈوب جاتے ہیں کہ عزیز مصر کو ان کے باپ سے کیا لگاوٴ ہے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کے باپ کے خط نے اس میں ہیجان و اضطراب کیون پید اکردیا ہے اور شاید اسی موقع پران کے دل میں یہ خیال بجلی کی طرح اترا ہو کہ ہو نہ ہو یہی یوسف (علیه السلام) ہو اور شاید باپ کے اسی خط کی وجہ سے یوسف (علیه السلام) اس قدر بیقرار ہو گئے کہ اب مزید اپنے آپ کو عزیز مصر کے نقاب میں نہ چھپا سکے او رجیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ بہت جلد بھائیوں سے بھائی کی حیثیت سے اپنا تعارف کروادیا ) ۔ اس موقع پر جبکہ دور آزمائش ختم ہورہا تھا اور یوسف (علیه السلام) بھی بیتاب اور پرشان نظر آرہے تھے تعارف کے لئے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بھائیوں کی طرف رخ کرکے آپ نے ” کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم جاہل و نادان تھے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا( قَالَ ھَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِیُوسُفَ وَاٴَخِیہِ إِذْ اٴَنْتُمْ جَاھِلُونَ) ۔ حضرت یوسف (علیه السلام) کی عظمت اور شفقت ملاحظہ ملاحظہ کیجئے کہ اولاً تو ان کاگناہ مجمل طور پر بیان کیا اور کہا :” مافعلتم“ ( جو کچھ تم نے انجام دیا ہے اور اب تم عاقل اور سمجھدار ہو۔ ضمناً اس گفتگو سے واضح ہو تا ہے کہ گزشتہ زمانے میں انہوں نے صرف یوسف (علیه السلام) پر ظلم نہیں ڈھایا تھا بلکہ بنیامین بھی اس دور میں ان کے شر سے محفوظ نہیں تھے اور انہوں نے اس کے لئے بھی اس زمانے میں مشکلات پیدا کی تھیں ۔ جب بنیامین مصر میں یوسف (علیه السلام) کے پاس تھے شاید ان دنوں میں انہوں نے ان کی کچھ بے انصافیاں اپنے بھائی کو بتائی ہوں ۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ زیادہ پریشان نہ ہوں اور یہ خیال نہ کریں کہ عزیز مصر ہم سے انتقام لینے والا ہے یوسف (علیه السلام) نے اپنی گفتگو کو ایک تبسم کے ساتھ ختم کیا ۔ اس تبسم کی وجہ سے بھائیوں کو حضرت یوسف (علیه السلام) کے خوبصورت دانت پوری طرح نظر آگئے ۔ جب انہوں نے خوب غور کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ دانت ان کے بھائی یوسف (علیه السلام) سے عجیب مشابہت رکھتے ہیں ۔ 3 3۔ مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔ اس طرح بہت سے پہلو جمع ہو گئے ۔ ایک طرف تو انہوں نے دیکھا کہ عزیز مصر یوسف (علیه السلام) کے بارے میں اور اس پر بھائیوں کی طرف سے کئے گئے مظالم کے بارے میں گفتگو کررہا ہے جنہیں سوائے ان کے اور یوسف (علیه السلام) کے کوئی نہیں جانتا تھا ۔دوسری طرف انہوں نے دیکھا کہ یعقوب (علیه السلام) کے خط نے اس قدر مضطرب کردیا ہے جیسے اس کا یعقوب (علیه السلام) سے کوئی بہت ہی قریبی تعلق ہو۔ تیسری طر ف وہ اس کے چہرے مہرے پر جتنا غور کرتے انہیں اپنے بھائی یو سف (علیه السلام) سے بہت زیادہ مشابہت دکھائی دیتی ۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ یوسف (علیه السلام) عزیز مصر کی مسند پر پہنچ گیا ہو ۔ وہ سوچتے کہ یوسف (علیه السلام) کہا اور یہ مقام کہاں ؟ لہٰذا انہوں نے شک و تردد کے لہجے میں ” کہا : کیا تم خوف یوسف (علیه السلام) تو نہیں ( قَالُوا اٴَئِنَّکَ لَاٴَنْتَ یُوسُفُ ) ۔ یہ موقع بھائیوں پر بہت زیادہ حساس لمحات گزرا ۔ کیونکہ صحیح طور پر معلوم بھی نہیں تھا کہ عزیز ِ مصرکے سوال کے جواب میں کیا کہے گا ۔ کیا سچ مچ وہ پردہ ہٹا دے گا اور اپنا تعارف کروائے گا یا انہیں دیوانہ اور بے وقوف سمجھ کر خطاب کرے گا کہ انہوں نے ایک مضحکہ خیز بات کی ہے ۔ گھڑیاں بہت تیزی سے گزر رہی تھیں انتظار کے روح فرسا لمحے ان کے دل کو بوجھل کررہے تھے لیکن حضرت یوسف (علیه السلام) نے نہ چاہا کہ یہ زمانہ طویل ہو جائے ۔ اچانک انہوں نے حقیقت کے چہرے سے پر دہ ہٹا یا اور ” کہا: ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے “ (قَالَ اٴَنَا یُوسُفُ وَھذَا اٴَخِی) ۔لیکن اس بناء پر کہ وہ خدا کی نعمت پر شکر ادا کریں کہ جس نے یہ سب نعمات عطا فرمائی تھیں اور ساتھ ہی بھائیوں کو بھی ایک عظیم درس دیں انہوں نے مزید کہا : خدانے ہم پر احسان کیا ہے جو شخص بھی تقویٰ اور صبر اختیار کرے گا خدا اسے اس کا اجرو ثواب دے گا کیونکہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا “ (قَدْ مَنَّ اللهُ عَلَیْنَا إِنَّہُ مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ) ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ ان حساس لمحات میں کیا گزری او رجب دسیوں سال بعد بھائیوں نے ایک دوسرے کو پہچانا تو کیسا شور و غوغا بپا کیا ، وہ کس طرح آپس میں بغل گیر ہوئے اور کس طرح سے ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو امڈپڑے ۔ ان تمام چیزوں کے باوجود بھائی اپنے آپ میں شرمندہ تھے ۔ وہ یوسف (علیه السلام) کے چہرے کی طرف نظر بھر کے نہیں دیکھ پارہے تھے ۔ وہ اس انتظا رمیں تھے کہ دیکھیں ان کا عظیم گناہ بخشش و عفو کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔ لہٰذا انہوں نے بھائی کی طرف رخ کیا او رکہا :خدا کی قسم : اللہ نے تجھے ہم پر مقدم کیا ہے اور تجھے ترجیح دی ہے اور علم حلم اور عقل و حکومت کے لحاظ سے جھے فضیلت بخشی ہے ( قَالُوا تَاللهِ لَقَدْ آثَرَکَ اللهُ عَلَیْنَا) ۔4 یقینا ہم خطاکار اور گناہ گار تھے ( وَإِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ) ۔5 لیکن یوسف (علیه السلام) نہیں چاہتے تھے کہ بھائی اس طرح شرمسار رہیں خصوصاً جب کہ یہ ان کی اپنی کامیابی و کامرانی کا موقع تھا یا یہ کہ احتمالاً بھائیوں کے ذہن میں یہ بات نہ آئے کہ یوسف (علیه السلام) اس موقع پر انتقام لے گا لہٰذا فوراً یہ کہہ کر انہیں مطمئن اور پر سکون کردیا کہ ” آج تمہیں کوئی سر زنش اور توبیخ نہیں ہو گی “ ( قَالَ لاَتَثْرِیبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ ) ۔6 تمہاری فکر آسودہ رہے اور وجدان کو راحت رہے اور گذشتہ گناہوں پر غم نہ کرو۔ اس بناء پر کہ انہیں بتایا جائے کہ انہیں نہ صرف یوسف (علیه السلام) کا حق بخش دیا گیا ہے بلکہ ان کی ندامت و پشمانی کی وجہ سے اس سلسلے میں خدائی حق بھی قابل بخشش ہے ، مزید کہا: اللہ بھی تمہیں بخش دے گا کیونکہ وہ ارحم الراحمین ہے ( یَغْفِرُ اللهُ لَکُمْ وَھُوَ اٴَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ ) ۔ یہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی انتہائی عظمت کی دلیل ہے کہ نہ صرف اپنا حق معاف کردیا بلکہ اس بات پر بھی تیار نہ ہوئے کہ انہیں تھوڑی سی بھی سر زنش کی جائے چہ جائیکہ ،بھائیوں کوکوئی سزا دیتے بلکہ حق الہٰی کے لحاظ سے بھی انہیں اطمینان دلا یا کہ خدا غفور اور بخشنے والا ہے بلکہ یہ بات ثابت کرنے کے لئے یہ استدلال پیش کیا کہ وہ ارحم الراحمین ہے ۔ اس موقع پر بھائیوں کو ایک اور غم بھی ستا رہا تھا اور وہ یہ کہ باپ اپنے بیٹوں کے غم میں نابینا ہوچکا تھا اور ا س کا اس طرح رہناپورے خاندان کے لئے ایک جانکاہ رنج ہے علاوہ ازیں ان کے جرم پر ایک مسلسل دلیل ہے ۔ لہٰذا یوسف (علیه السلام) نے اس عظیم مشکل کے حل کے لئے بھی فرمایا :” میر ایہ پیراہن لے جاوٴ اور میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو تاکہ وہ بینا ہو جائے “ ( اذْھَبُوا بِقَمِیصِی ھَذَا فَاٴَلْقُوہُ عَلَی وَجْہِ اٴَبِی یَاٴْتِ بَصِیرًا) ۔”اس کے بعد سارے خاندان کے ہمراہ میرے پاس آجاوٴ “ ( وَاٴْتُونِی بِاٴَھْلِکُمْ اٴَجْمَعِینَ) ۔ ۱۔بضاعت ۔ بضع کے مادہ سے ہے بروزن جزء 2۔ مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔ 3۔” تثریب“ اصل میں ” ثرب“(بروزن ” سرد “)کے مادہ سے ہے ”ثرب“ در اصل چربی کی اس نازک اور پتلی جھلی کو کہتے ہیں جس نے معدے اور آنتوں کوچھپا رکھا ہوتا ہے اور ” تثریب “ اسے الگ کردینے کے معنی میں ہے ۔ بعد ازاں یہ سر زنش و ملامت کے معنی میں استعمال ہو نے لگا گویا اس کام سے گناہ کا پر دہ دوسرے کے چہرے سے دور کردیا جاتا ہے ( قاموس ، مفردات راغب،تفسیر فخررازی اور روح المعانی کی طرف رجوع فرمائیں ) ۔ 4۔”اٰثرک“ ایثار کے مادہ سے ہے . 5۔ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ ” خاطی “ اور ” مخطی“کے درمیان فرق یہ ہے کہ ”خاطی “ اس شخص کو کہتے ہیں جو جان بوجھ کر برے کام کرے اور ” مخطی “ اسے کہتے ہیں جو غلطی سے غلط کام کرے بیٹھے ۔ 6۔ مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:87-93
چند اہم نکات
۱۔ یوسف (علیه السلام) کی قمیص کون لے کر گیا ؟ چند ایک روایات میں آیا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے کہا : میرا شفا بخش کرتہ باپ کے پاس وہی لے کر جائے جو خون آلودہ کرتہ لے کر گیا تھا تاکہ جیسے اس نے باپ کو تکلیف پہنچائی اور پریشان کیا تھا اب کے اسے خوش و خرم کرے ۔ لہٰذا یہ کام ” یہودا“ کے سپرد ہواکیونکہ اس نے بتا تھا کہ وہ میں ہو جو خون آلودہ کرتہ لے کرباپ کے پاس گیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ آپ کے بیٹے کو بھیڑیا کھا گیا ہے ۔ ااس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ یوسف (علیه السلام) اس قدر مشکلات او رمصائب میں گرفتار رہے لیکن اخلاقی مسائل کی باریکی سے غافل نہیں رہتے تھے ۔ 6 ۲۔ یوسف (علیه السلام) کی عظمت : بعض دیگر روایا ت میں آیا ہے کہ اس ماجرے کے بعد حضرت یوسف (علیه السلام) کے بھائی ہمیشہ شرمسار رہتے تھے ۔ انہوں نے کسی کو یوسف (علیه السلام) کے پاس بھیجا او رکہلایا کہ آپ ہر صبح و شام ہمیں دستر خوا ن پر بٹھا تے ہیں اور آپ کا چہرہ دیکھ کر ہمیں شرم و خجالت محسوس ہو تی ہے کیونکہ ہم نے آپ کے ساتھ اس قدر جسارتیں کی ہیں ۔ اس بناء پر کہ انہیں نہ صرف احساس شرمندگی نہ ہو بلکہ یوسف (علیه السلام) کے دستر خوان پر ان کی موجو د گی کو یوسف (علیه السلام) کی ایک خدمت محسوس کریں ، حضرت یوسف (علیه السلام) نے انہیں بہت ہی عمدہ جواب دیا ۔ آپ نے کہا: br مصر کے لوگ اب تک مجھے ایک زر خرید غلام کی نظر سے دیکھتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے : سبحان من بلغ عبداً بیع بعشرین درھماً مابلغ پاک ہے وہ ذات جس نے اس غلام کو کہ جو بیس درہم میں بیچا گیا اس مقام تک پہنچا یا ۔ للیکن اب جب کہ تم لوگ آگئے ہو اور میری زندگی کی کتاب ان کے سامنے کھل گئی ہے تو وہ سمجھنے لگے کہ غلام نہیں تھا بلکہ میں خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہوں اور ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد میں سے ہوں اور یہ میرے لئے باعث ِ افتخار ہے ۔ 1۔ ۳۔ کامیابی کا شکرانہ :مندرجہ بالا آیات میں یہ اہم اخلاقی درس اور واضح ترین اسلامی حکم موجود ہے کہ دشمن پر کامیابی کے وقت انتقام جو اور کینہ پر ور نہ بنو ۔ یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے انہیں نہایت سخت صدمے پہنچائے تھے اور انہیں موت کی دہلیز تک پہنچا دیا تھا ۔ اگر لطف الہٰی شامل حال نہ ہوتا تو بچ جانا ان کے لئے ممکن نہ تھا صرف یہی نہیں کہ انہوں نے یوسف (علیه السلام) کو تکلیف پہنچائی تھی بلکہ ان کے والد کو بھی سخت مصیبت میں مبتلا کردیا تھا لیکن اب جب کہ وہ سب کے سب رازو نزار یوسف (علیه السلام) کے سامنے تھے اور یوسف (علیه السلام) کے پاس پوری قدرت و طاقت بھی تھی مگر حضرت یوسف (علیه السلام) کی گفتگو سے او ران کے کلمات کے اندر جھانکنے سے اچھی طرح محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل میں نہ صرف یہ کہ کوئی کینہ موجو د نہیں تھا بلکہ انہیں اس بات سے تکلیف ہوتی تھی کہ ان کے بھائی گزشتہ واقعے کو یاد کریں اور پریشان و غمزدہ ہوں اور شر مندگی محسوس کریں ۔ br یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) پوری کوشش کرتے ہیں کہ یہ احساس ان کی روح سے نکال دیں ۔ یہا ں تک کہ اس سے بھی بڑھ کر وہ چاہتے ہیں کہ انہیں یقین دلائیں کہ ان کا مصر میں آنا اس لحاظ سے باعث افتخار ہے کہ خود حضرت یوسف(علیه السلام) کے بارے میں مزید آگاہی کا سبب بنا ہے او رلوگوں کو معلوم ہوا ہے کہ وہ خاندان ِ رسالت میں سے ہیں نہ کہ ایک کنعانی غلام ہیں کہ جسے چند درہموں میں بیچا گیا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ بھائی اس طرح محسوس کریں کہ نہ صرف یہ کہ میں ان پر احسان نہیں کررہا بلکہ وہ مجھ پر احسان کررہے ہیں ۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو ایسے ہیں حالات میںپیش آئے اور فتح مکہ کے موقع پر آپ کو خونخوار دشمنوں یعنی شرک و بت پرستی کے سر غنوں پر کامیابی حاصل ہو ئی تو ابن عباس کے بقول آ پ خانہ کعبہ کے پاس تشریف لائے ۔ اس وقت مخالفین کعبہ میں پناہ لے چکے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ پیغمبر اسلام ان کے بارے میں کیا حکم صادر کرتے ہیں ۔ ایسے میں آپ نے کعبہ کے کنڈے کو پکڑ کر فرمایا: الحمد للہ الذی صدق وعدہ و نصرعبدہ و ھزم الاحزاب وحدہ شکر ہے خدا کا کہ جس کا وعدہ پورا ہوا اور اس نے اپنے بندے کو کامیاب کیا اور دشمنون کے گروہوں کو شکست دی ۔ اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا : ماذا تظنون معشر قریش اے قریش والو! کیا گمان ہے کہ میں تمہارے بارے میں حکم دو ں گا ۔ قالوا خیراً ، اخ کریم ، و ابن اخ کریم و قد قدرت انہوں نے جواب دیا : ہم تجھ سے خیر و نیکی کے علاوہ کوئی توقع نہیں رکھتے ۔ آپ کریم و شریف بھائی ہیں اور کریم و بزرگوار بھائی کے بیٹے ہیں اور اس وقت قدرت و طاقت آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ قال و انا اقول کما قال اخی یوسف : لاتثریب علیکم الیوم اس پر پیغمبر اکرم نے فرمایا : میں تمہارے بارے میں وہی کچھ کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیه السلام) نے اپنے بھائیوں کے کے بارے میں کامیابی کے وقت کہا تھا ” لاتثریب علیکم الیوم “۔ یعنی ۔ آج تمہارے لئے روز ملامت و سر زنش نہیں ہے ۔ عمر کہتے ہیں : ااس موقع پر میرے چہرے پر شرم و حیا سے پسینہ آگیا کیونکہ میں نے مکہ میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا تھا : آج کے دن میں تم سے انتقام لوں گا ۔ جب پیغمبر نے وہ جملہ فرمایا تو مجھے اپنی گفتگو پر شرم آئی ۔2 روایات اسلامی میں بھی بار ہا یہ آیا ہے کہ : کامیابی کی زکات عفو و بخشش ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : اذا قدرت علی عدوک فاجعل العفو عنہ شکراً للقدرة علیہ ۔ جس وقت تو اپنے دشمن پر کامیاب ہو جائے تو عفو بخشش کو اپنی کامیابی کا شکرانہ قرار دے ۔ 3 ۹۴۔ وَلَمَّا فَصَلَتْ الْعِیرُ قَالَ اٴَبُوھُمْ إِنِّی لَاٴَجِدُ رِیحَ یُوسُفَ لَوْلاَاٴَنْ تُفَنِّدُونِی ۔ ۹۵۔ قَالُوا تَاللهِ إِنَّکَ لَفِی ضَلَالِکَ الْقَدِیمِ ۔ ۹۶۔ فَلَمَّا اٴَنْ جَاءَ الْبَشِیرُ اٴَلْقَاہُ عَلَیوَجْھِہِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا قَالَ اٴَلَمْ اٴَقُلْ لَکُمْ إِنِّی اٴَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ۔ ۹۷۔ قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ۔ ۹۸۔ قَالَ سَوْفَ اٴَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّی إِنَّہُ ھُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ۔ ترجمہ ۹۴۔جس وقت قافلہ ( س رزمین مصر سے) جد اہوا تو ان کے باپ ( یعقوب )نے کہا : اگر مجھے نادانی اور کم عقل کی نسبت نہ دو تو مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے ۔ ۹۵۔ انہوں نے کہا: بخدا تو اسی گزشتہ گمراہی میں ہے ۔ ۹۶۔ لیکن جب بشارت دینے والاآگیا ( اور اس نے ) وہ کرتہ ) اس کے چہرے پر ڈالا تو اچانک وہ بینا ہو گیا ۔ تو اس نے کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف ایسی چیزیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے ۔ ۹۷۔ انہوں نے کہا ابا ( جان ) ! خد اسے ہمارے گناہوں کی بخشش کو خواہش کریں ، بےشک ہم خطا کار تھے ۔ ۹۸۔ اس نے کہا عنقریب میں اپنے پر ور دگار سے تمہارے لئے طلب بخشش کرو ںگا ۔ بے شک و ہ غفور و رحیم ہے ۔ 1 ۔ تفسیر فخر رازی جلد ۱۸ ص ۲۰۶۔ 2۔ تفسیر قرطبی، جلد ۵ ص ۳۴۸۷۔ 3۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ۔ جملہ ۱۱۔