وَقَالَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِن مِّصْرَ لِامْرَأَتِهِ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
The man from Egypt who had bought him said to his wife, ‘Give him an honourable place [in the household]. Maybe he will be useful to us, or we may adopt him as a son.’ Thus We established Joseph in the land and that We might teach him the interpretation of dreams. Allah has [full] command of His affairs, but most people do not know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 12:21
[Pooya/Ali Commentary 12:21] (see commentary for verse 3)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 12:21-29
Divine designs are to be appreciated; the way Joseph gets a high place and proof of his being immaculate is given in his having successfully stood evil temptation and how God granted relief, when there was not apparently any chance of escape. Thus, man should hope patiently against hope in him, in trials, praying sincerely for His protection and keeping strictly adhering to His commands and attempting to face the trial, with mean available at hand, leaving the final issue in His Hand and thus, how the real trial is to be faced. In this, is also given how the devil played his part, through women, who are especially adept, therein, as his special instrument.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:21-22
چند اہم نکات
۱۔ مصر کا نام کیوں نہیں لیا گیا: زیرِ نظر آیات میں جاذبِ توجہ مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں مصر کا نام نہیں لیا گیا ہے کہ وہ شخص جس نے مصر سے یوسف کو خریدا لیکن آیت میں یہ بےان نہیں ہوا کہ یہ شخص کون تھا، آئندہ آےات میں ہم دیکھتے ہےں کہ ایک ہی دفعہ اس شخص کے منصب سے پردہ نہیں اٹھتا بلکہ تدریجاََ اس کا تعارف کرواےا گیا ہے مثلا آیہ ۲۵ میں فرمایا گیا ہے: <والفیا سید ھا لدا الباب جس وقت یوسف نے زلیخا کے عشق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا اور بےرونی دروازے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا تو اس عورت کے شوہر کو اچانک دروزے پر دےکھا ۔ جب ان آےات سے گزرتے ہوے آیہ ۳۰ تک پنچتے ہےں تو اس میں ---”امراة العزیز“ (عزیز کی بیوی) کی تعبےر آئی ہے ۔ یہ تدرےجی بیان یا تو اس لے ہے کہ قرآن اپنی سنت کے مطابق ہر بات کو ضراری مقدار کے مطابق بیان کرتا ہے جو کہ فصاحت وبلاغت کی نشانی ہے اور ےا یہ کہ جسے آج کل بھی ادبےات کا معمول ہے کہ ایک داستان بیان کرتے ہوے اسے سر بستہ نکتے سے شروع کیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے میں تجسس پیدا ہوا ور اس کی پوری توجہ اس داستان کی طرف کھنچ جائے ۔ ۲۔ علم تعبیرِ خواب اور مصر کا محل: دسرا سوال جومذکورہ بالا آیات سے پیدا ہوتا ہے یہ ہے کہ علمِ تعبیرِ خواب اور مصر کے محل میں حضرت یوسف (علیه السلام) کی موجود گی کا کیا رابطہ ہے کہ اس کی طرف ”لنعلمہ“ کی ”لام“ کہ جو لامِ غایت ہے کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے ۔ لیکن اگر ہم اس نکتے کی طرف توجہ دیں تو ہوسکتا ہے مذکورہ سوال کا جواب واضح ہوجائے کہ خدائے تعالیٰ بہت سی علمی نعمات وعنایات گناہ سے پرہیز اور سرکش ہوا وہوس کے مقابلے میں استقامت کی وجہ سے بخشتا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ نعمات کہ جو دل کی نورانیت کا ثمرہ ہیں، ایک انعام ہیں کہ جو خدا اس قسم کے اشخاص کو بخشتا ہے ۔ ابن سیرین تعبیر خواب جاننے میں بڑے مشہور ہیں ، ان کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ کپڑا بیچا کرتے تھے اور بہت ہی خوبصورت تھے، ایک عورت انہیں اپنا دل دے بیٹھی، بڑے حیلے بہانے کرکے انہیں اپنے گھر میں لے گئی اور دروازے بند کرلئے، لیکن انہیں نے عورت کی ہوس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا اور مسلسل اس عظیم گناہ کے مفاسد اس کے سامنے بیان کرتے رہے لیکن اس عورت کی ہوس کی آگ اس قدر سرکش تھی کہ وعظ ونصیحت کا پانی اسے نہیں بجھا سکتا تھا ۔ ابن سیرین کو اس چنگل سے نجات پانے کے لئے ایک تدبیر سوجھی، وہ اٹھے اور اپنے بدن کو اس گھر میں موجود گندگی کی چیزوں سے اس طرح کثیف ، آلودہ اور نفرت انگیز کر لیا کہ جب عورت نے یہ منظر دیکھا تو ان سے متنفر ہوگئی اور انہیں گھر سے باہر نکال دیا کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ابن سیرین جو تعبیرِ خواب کے بارے میں بہت فراست نصیب ہوئی اور ان کی تعبیر سے متعلق کتابوں میں عجیب وغریب واقعات لکھے ہوئے ہیں کہ جو اس سلسلے میں ان کی گہری معلومات کی خبر دیتے ہیں ۔ اس بنا پر ممکن ہے کہ یہ خاص علم وآگاہی حضرت یوسف (علیه السلام) کو مصر کی بیوی کی انتہائی قوت جذب کے مقابلے میں نفس پر کنٹرول رکھنے کی بنا پر حاصل ہوئی ہو ۔ علاوہ ازیں اس زمانے میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار تعبیرِ خواب بیان کرنے والوں کے مرکز تھے اور یوسف (علیه السلام) جیسا ذہین نوجوان مصر کے دربارمیں دوسرے کے تجربات سے آگاہیاور علمِ الٰہی سے فیض حاصل کرنے کے لئے روحانی طور پر تیار ہوسکتا تھا ۔ بہرحال یہ نہ پہلا موقع ہے، نہ آخری کہ خدانے جہادِ نفس کے میدان میں سرکش ہوا وہوس پر کامیابی حاصل کرنے والے اپنے مخلص بندے کو علوم ودانش کی ایسی نعمات وعنایات سے نوازا ہو کہ جنہیں کسی مادی ترازو سے نہیں تولا جاسکتا، مشہور حدیث ہے: العلم نور یقذفہ اللّٰہ فی قلب من یشاء۔ علم نور ہے خدا جس کے دل میں چاہتا ہے ڈالتا ہے ۔ یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ یہ وہ علم ودانش نہیں جو استاد کے سامنے زانو تلمذ تہ کرکے حاصل کی جائے یا کسی کو بغیر کسی حساب وکتاب کے مل جائے، یہ تو انعامات ہیں، جہاد بالنفس میں سبقت لے جانے والوں کے لئے ۔ ۳۔” بلوغ اشد“کیاہے ؟: ہم کہہ چکے ہیں کہ ”اشد“ استحکام اور جسمانی وروحانی قوت کے معنی میں ہے اور ”بلوغ اشد“ اس مرحلے تک پہنچنے کے معنی میں ہے لیکن قرآن مجید میں اس کا اطلاق عمرِ انسانی کے مختلف مراحل پر ہوا ہے ۔ بعض اوقات یہ ”سنِ بلوغ“ کے معنی میں آیا ہے، مثلا ہم پڑھتے ہیں: <وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ھِیَ اٴَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ اٴَشُدَّہُ ۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ سوائے حسن طریقے سے، جب تک کہ وہ حد بلوغ کو نہ پہنچ جائے(بنی اسرائیل: ۳۴)۔ کبھی چالیس سال کی عمرتک پہنچنے کے معنی میں استعمال ہواہے مثلا: <حَتَّی إِذَا بَلَغَ اٴَشُدَّہُ وَبَلَغَ اٴَرْبَعِینَ سَنَةً ۔ یہاں تک کے بلوغ اشد کے مرحلے تک پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا،(احقاف:۱۵)۔ اور کبھی یہ لفظ بڑھاپے سے قبل کے مرحلے کے لئے آیاہے، ارشاد ہوتا ہے: <ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اٴَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُونُوا شُیُوخًا اس کے بعد خدا تمہیں عالمِ جنین سے بچوں کی شکل میں باہر نکالتا ہے پھر تم جسم وروح کے استحکام کے مرحلے میں پہنچ جاتے ہو اس کے بعد بڑھاپے کے مرحلے میں،(المومن:۶۸) تعبیرات کا یہ فرق ہوسکتا ہے اس بنا پر ہو کہ روح وجسم کے استحکام کے لئے انسان کئی مراحل طے کرتا ہے اور بلا شبہ اس میں سے ہر مرحلہ ایک حد بلوغ ہے اور چالیس سال کی عمر کے عام طور پر فکر وعقل پختہ ہوتی ہے دوسرا مرحلہ ہے اور اسی طرح انسان کی عمر ڈھلنے لگے اور وہ کمزوری کی طرف مائل ہو تو یہ ایک اور مرحلہ ہے لیکن بہرحال زیرِ بحث آیت جسمانی وروحانی بلوغ کے بارے میں ہے کہ جو حضرت یوسف (علیه السلام) میں جوانی کی ابتدا ہی میں پیدا ہوگیا تھا ، اس سلسلے میں فخرالدین رازی نے ایک بات کی ہے جو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں: چاند کی گردش کی مدت (جس میں وہ محاق تک پہنچتا ہے)۲۷دن ہیں، جب اسے چار حصوں میں تقسیم کریں تو ہر حصہ ۷ دن کا بنتا ہے (جس سے ایک ہفتہ بنتا ہے)۔ اسی لئے دانشمندوں نے بدن انسانی کے حالات کو سات سات سال پر مشتمل چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا دور اس وقت کا ہے جب انسان پیدا ہوتا ہے تو ضعیف و ناتوں ہو تا ہے جسم کے لحاظ سے بھی اور روھ کے لحاظ سے بھی، لیکن جب وہ سات سال کا ہوجاتا ہے تو اس میں فکر وہوش اور قوتِ جسمانی کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں ۔ دوسرا مرحلہ سات سال مکمل ہونے بعد شروع ہوتا ہے اور انسان اپنا تکامل وارتقاء جاری رکھتا ہے یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے چودہ سال ہورے ہوجاتے ہیں ۔ تیسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو پندرہ سال کی عمر وہ جسمانی اور روحانی بلوغ کے مرحلے میں پہنچتا ہے، اس میں جسمانی شہوت حرکت میںآتی ہے اور(اور پندہ سال کی تکمیل پر ) وہ مکات ہوجاتاہے ، پھر وہ اپنا تکامل وارتقاء جاری رکھتا ہے یہان تک کہ تیسرا دور ختم ہوجاتا ہے ۔ چوتھا دور ختم ہونے اور ۲۸ سال کی مدت پوری ہونے پر جسمانی رشد ونمو کی مدت ختم ہوجاتی ہے اور انسان ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ نیا مرحلہ توقف کا مرحلہ ہے اور یہی ”بلوغ اشد “ کا زمانہ ہے اور یہ حالتِ توقف پانچویں دور کے اختتام یعنی ۳۵سال تک جاری رہتی ہے (اور اس کے بعد تنزل کا دور شروع کا دور شروع ہوجاتا ہے )۔(1) مندرجہ بالا تقسیم اگرچہ ایک حد تک قابلِ قبول ہے لیکن دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اول تو مرحلہ بلوغ دوسرے دور کے اختتام پر نہیں ہے، اسی طرح رشد جسمانی کی انتہا، جیسا کہ آج کل ماہرین فن کہتے ہیں ، ۵۲ سال ہے اور بعض روایات کے مطابق مکمل فکری بلوغ ۴۰ سال میں ہوتا ہے ۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر جو کچھ سطور بالا میں کہا گیا ہے ایک ایساہماگیر شمارقانون شمار نہیں ہوتا جو سب اشخاص پر صادق آئے ۔ ۴۔ نعمات الٰہی انبیاء کو بھی حساب کتاب سے ملتی ہیں: آخری نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ ضروری ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں جس وقت قرآن حضرت یوسف (علیه السلام) علم وحکمت دینے کے بارے میں بات کرتا ہے مزید کہتا ہے : ”ہم اس طرح نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں“ یعنی نعماتِ الٰہی انبیاء تک جو بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ملتیں اور ہر شخص کو اس کی نیکو کاری اور اچھائی کی مقدار کے مطابق قبضِ الہٰی کے بحرِ بے کراں سے فیض ملتا ہے اور وہ اسی حساب سے اس سے بہرور ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کو ان تمام مشکلات کے مقابلے میں صبرواستقامت کرنے کی وجہ سے وافر حصہ نصیب ہوا ۔ ۲۳ وَرَاوَدَتْہُ الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا عَنْ نَفْسِہِ وَغَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اللهِ إِنَّہُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّہُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ۔ ۲۴ وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْھَانَ رَبِّہِ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ ۔ ترجمہ ۲۳۔اور جس عورت کے گھر میں یوسف رہتا تھا اس نے اس سے اپنے مطلب کے حصول کی خواہش کی اور دروازے بند کردئے اور کہا کہ اس چیز کی طرف جلدی آؤ جو تمہارے لئے مہیا ہے،(یوسف نے)کہا : مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں وہ ( مصر)میرا صاحبِ نعمت ہے اور اس نے مجھے محترم جانا(تو کیا ممکن ہے کہ مَیں اس پر ظلم کروں اور اس سے خیانت کروں)یقینا ۻظالم کامیاب نہیں ہوں گے اور فلاح نہیں پائیں گے ۔ ۲۴۔اس عورت نے تو یہ ارادہ کیا اور وہ بھی اگر پروردگار کی برھان نہ دیکھتا تو ارادہ کرتا، ہم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ بدی اور فحشاء کو اس سے دور رکھیں کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا ۔ 1۔تفسیر فخر رازی،ج ۱۸،ص۱۱۱۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:21-22
مصر کے محل میں
حضرت یوسف (علیه السلام) کی بھرپور داستان جب یہاں پہنچی کہ بھائی انہیں کنویں میں پھینک چکے تو ہر صورت بھائیوں کے ساتھ ساتھ والا مسئلہ ختم ہوگیا، اب اس ننھے بچے کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ مصر میں شروع ہوا، اس طرح سے کہ آخرکار یوسف مصر میں لائے گئے، وہاں انہیں فروخت کے لئے پیش کیا گیا، کیونکہ یہ نفیس تحفہ تھا لہٰذا معمول کے مطابق ” مصر“ کو نصیب ہواکہ جو درحقیقت فرعونوں کی طرف سے وزیر یا وزیرِ اعظم تھا اور ایسے ہی لوگ ”تمام پہلوؤں سے ممتاز اس غلام“ کی زیادہ سے زہادہ قیمت دے سکتے تھے، اب دیکھتے ہیں کہ مصر کے گھر یوسف (علیه السلام) پر کیا گزرتی ہے ۔ قرآن کہتا ہے:جس نے مصر میںیوسف کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے اس کی سفارش کی اور کہاکہ اس غلام کی منزلت کا احترام کرنا اور اسے غلاموں والی نگاہ سے نہ دیکھنا کیونکہ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہم اس غلام سے بہت فائدہ اٹھائیں گے یا اسے فرزند کے طور پر اپنا لیںگے(وَقَالَ الَّذِی اشْتَرَاہُ مِنْ مِصْرَ لِامْرَاٴَتِہِ اٴَکْرِمِی مَثْوَاہُ عَسیٰ اٴَنْ یَنفَعَنَا اٴَوْ نَتَّخِذَہُ وَلَدًا )۔(۱) اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی کوئی اولاد نہ تھی اور وہ بیٹے کے شوق میں زندگی بسر کررہا تھا، جب اس کی آنکھ اس خوبصورت اور آبرومند بچے پر پڑی تو اس کا دل آیا کہ یہ اس کے بیٹے کے طور پر ہو ۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: اس طرح اس سرزمین میںہم نے یوسف کو متمکن اور صاحب نعمت واختیار کیا(وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ)۔ یہ ”تمکین فی الارض“ اس بناء پر تھا کہ یوسف کا مصر میں آنا اور خصوصاً مصرکی زندگی میں قدم رکھنا ان کی آئندہ کی انتہائی قدرت کے لئے تمہید تھا اور یا اس بنا پر تھا کہ مصر کے محل کی زندگی کنویں کی تہ کی زندگی سے کوئی موزانہ نہ تھا ، وہ تنہائی، بھوک اور وحشت کی شدت کہاں اور یہ سب نعمت اور آسائش اور آرام وسکون کہاں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:ہم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ اسے احادیث کی تاویل کی تعلیم دیں ( وَلِنُعَلِّمَہُ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ)۔ ” تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ“سے مراد ہے، جیسا ہے کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے تعبیرِ خواب کا علم ہے کہ جس کے ذریعے یوسف آئندہ کے اسرار کے اہم حصے سے آگاہ ہوسکتے تھے اور یا اس سے مراد وحی الٰہی ہے کنونکہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی خدائی آزمائشوں کی سنگلاخ گھاٹیوں سے گزر کر دربارِ مصر میں پہنچنے تک ایسی قابلیت پیدا کرلی تھی کہ حاملِ رسالت ووحی ہوں ۔ لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے:خدا اپنے کام پرمسلط اور غالب ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے( وَاللهُ غَالِبٌ عَلیٰ اٴَمْرِہِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ )۔ خدا کے مظاہرِ قدرت میں سے ایک عجیب مظہر اور امور پر اس کا تسلط یوں ہے کہ بہت سے مواقع پر وہ انسان کی کامیابی اور نجات کے وسائل اس کے دشمنوں کے ہاتھوں فراہم کرتا ہے چنانچہ حضرت یوسف (علیه السلام) کے سلسلے میں اگر بھائیوں کا منصوبہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز کنویں میں نہ جاتے اور نہ فرعون کے عجیب خواب کا معاملہ ان کے سامنے پیش ہوتا اور نہ ہی یوسف (علیه السلام) مصر بنتے ۔ درحقیقت خدا نے بھائیوں کے ہاتھوں یوسف (علیه السلام) کو تختِ قدرت پر بٹھایا اگرچہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسے بدبختی کے کنویں میں پھینک دیا ہے ۔ اس نئے ماحول میں جو درحقیقت مصر کا ایک اہم سیاسی مرکز تھا یوسف (علیه السلام) کو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ایک طرف خیرہ کن طاقت اور طاغوتیانِ مصر کے محلات (جنہیں خواب سمجھا جاتا ) اور ان کی بے کراں ثروت کو دیکھتے ہوئے دوسری طرف بردہ فروشوں کے بازار کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا، وہ ان دونوں کا موازنہ کرتے اور دیکھتے کہ عام لوگوں کی اکثریت فراواں رنج وغم اور دکھ درد کا شکار ہے تو ان کی روح اور فکر پر بہت بوجھ پرتا اور وہ سوچتے کہ اگر مجھے طاقت حاصل ہوجائے تو یہ کیفیت ختم کردوں ۔ جی ہاں! انہوں نے بہت سی چیزیں اس شوروغل کے ماحول میں سیکھیں، ان کے دل میں ہمیشہ غم واندوہ کا ایک طوفان موجزن ہوتا تھا کیونکہ ان حالات میں وہ کچھ نہیں کرسکتے تھے، اس دور میں وہ مسلسل خود سازی اور تہذیبِ نفس میں مشغول تھے ۔ قرآن کہتا ہے: جب وہ بلوغ اور جسم وروح کے تکامل کے مرحلے میں پہنچا اور انوارِ وحی قبول کرنے کے قابل ہو گیا، تو ہم نے اسے حکم اورعلم دیا(وَلَمَّا بَلَغَ اٴَشُدَّہُ آتَیْنَاہُ حُکْمًا وَعِلْمًا )۔ اور اس طرح ہم نیکو کار لوگوں کو جزاء دیتے ہیں(وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ )۔ ”اشد“ ”شد“ کے مادہ سے مضبوط گروہ کے معنی میں ہے، یہاں جسمانی اور روحانی استحکام کی طرف اشارہ ہے، بعض نے کہا ہے کہ ”اشد“ جمع ہے جس کا مفرد نہیں ہے لیکن بعض نے اسے ”شد“ (بروزن”سد“)کی جمع کہا ہے، بہرحال اس کے معنی کا جمع ہونا قابلِ انکار نہیں ہے ۔ جو مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یوسف کی جسمانی و رحانی بلوغت پر اسے ”حکم“ اور”علم“ عطا کیا، یا تو مقامِ وحی ونبوت ہے جیسا کہ بعض مفسریننے کہا ہے اور یا ”حکم“ سے مراد عقل وفہم اور صحیح فیصلے کی قدرت ہے کہ جو ہوس پرستی اور اشتباہ سے خالی ہو اور ”علم“ سے مراد آگاہی اور دانش ہے کہ جس کے ساتھ جہالت نہ ہو، بہرحال ”حکم“ اور”علم“ جو کچھ بھی تھے دو ممتاز اور قیمتی خدائی انعام تھے کہ جو کدا نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو ان کی پاکیزگی تقویٰ ، صبر وشکیبائی اور توکل کی وجہ سے دئے تھے اور یوسف (علیه السلام) کی یہ تمام خوبیاں لفظ”محسنین“ میں جمع ہے ۔ بعض مفسرین نے ”حکم“ اور ”علم“ کے بارے میں تمام تر احتمالات کو تین احتمالات کے طور پرذکر کیا گیا ہے : ۱۔ ”حکم“ مقامِ نبوت کی طرف اشارہ ہے (چونکہ پیغمبر برحق حاکم ہے )اور علم اشارہ ہے علمِ دین کی طرف ۔ ۲۔ ”حکم“ سرکش ہواوہوس کے مقابلے میں اپنے اوپر ضبط رکھنے کے معنی میں ہے کہ جو یہاں حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے اور علم اشارہ ہے نظری حکمت وعلم ودانش کی طرف اور”حکم“ کو ”علم“ پر اس لئے مقدم کیاگیا ہے کہ انسان جب تک تہذیبِ نفس اور خودسازی نہ کرلے صحیح علم تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ۳۔” حکم “اس معنی میں ہے کہ انسان نفسِ مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جائے اور اپنے اوپر کنٹرول حاصل کرلے اس طرح کہ نفسِ امارہ اوروسوسہ پیدا کرنے والے نفس پر اسے کنٹرول ہوجائے اور علم سے مراد انوارِ قدسیہ اور فیضِ الٰہی کی شعاعیں ہیں کہ جو علم ملکوت سے پاک انسان کے دل پر پڑتی ہے (2) ۱۔ ”مثوا“ کا معنی ہے مقام، یہ مادہ ”ثوی“ سے ہے جو اقامت کے معنی میں ہے لیکن یہاں حیثیت اور مقام ومنزلت کے معنی میں ہے ۔ 2۔تفسیر کبیر، ج۱۸،ص ۱۱۱۔