وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
And if We defer their punishment until a certain time, they will surely say, ‘What holds it back?’ Look! On the day it overtakes them it shall not be turned away from them, and they will be besieged by what they used to deride.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:8
[Pooya/Ali Commentary 11:8] (In continuation of the preceding verse) the disbelievers think that all this talk of punishment is nonsense, there is no such thing. Ummatin has been used here as a distinguished time to show that there is a reckoned time of respite. It does not refer to resurrection.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:8-11
۱۔ امتِ معدودہ اور یارانِ مہدی علیہ السلام:
وہ متعدد روایات جو طریق اہلِ بیت(علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں ”امت معدودہ“ سے مراد بہت تھوڑے افراد اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے یار وانصار کی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے، لہٰذا اس ترتیب سے پہلی آیت کا مطلب اس طرح ہوگا: اگر ہم ستمگروں اور بدکاروں کی سزا وعذاب حضرت مہدی(علیه السلام) اور ان کے یاروانصار کے قیام تک ملتوی کردیں تو وہ (منکرین) کہتے ہیں کہ کس چیز نے عذابِ خدا کو روک رکھا ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں آیت کے ظاہری معنی میں ”امتِ معدودہ“ محدود ومعیّن زمانہ کے معنی میں آتا ہے اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے بھی اس آیت کی تفسیر میں جو روایت نقل ہوئی ہے اس میں ”امت معدودہ“ کی یہی تفسیر بیان ہوئی ہے ۔ بنابریں ممکن ہے منقولہ روایت آیت کے دوسرے معنی یا بطن آیت کی طرف اشارہ ہو، البتہ اس صورت میں ظالموں اور ستمگروں کے بارے میں ایک قانون کلّی کا بیان ہوگا نہ کہ زمانہٴ پیغمبر اکرم کے مشرکین اور مجرموں سے مربوط مسئلہ ہوگا، نیز ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی آیات مختلف معانی رکھتی ہیں، ممکن ہے اس کا پہلا اور ظاہری مطلب کسی خاص مسئلہ یا گروہ سے متعلق ہو، لیکن اس کا دوسرا معنی ایک عام معنی ہو جو کسی زمانہ یا گروہ میں منحصر نہ ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:8-11
۲۔ کوتاہ فکری کے چار مظاہر
مندرجہ بالا آیت نے مشرکین اور گنہگاروں کے روحانی وباطنی حالات کی تین صورتوں میں تصویر کشی کی ہے اور ان میں ان کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں ۔ اوّلین یہ کہ وہ نعمتوں کے منقطع ہونے کی صورت میں ”یَئُوس“ یعنی بہت ہی ناامید ہوجاتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ”کفور“ یعنی بہت ہی ناشکرے ہیں ۔ اس کے بر عکس جب وہ نعمت میں مستغرق ہوتے ہیں یہاں تک کہ اگر چھوٹی سی نعمت بھی ان تک پہنچتی ہے تو وہ خوشی میں اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں اور لذّت ونشاط میں غرق ہوکر ہر چیز سے غافل ہوجاتے ہیں، بادہٴ لذّت وغرور کی یہ سرمستی انھیں فتنہ وفساد اور حدود الله سے تجاوز کی طرف کھینچ لے جاتی ہے ۔ مزید برآں ایسے لوگ ”فخور“ یعنی نعمت کے حصول پر بہت متکبر اور مباہات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ بہر کیف یہ چار صفات کوتاہ فکری اور کم ظرفی کی بناپر معرض وجود میں آتی ہیں اور یہ بے ایمان اور گناہگار افراد کے کسی ایک گروہ سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ سب کے لئے عمومی اوصاف کے ایک سلسلہ میں سے ہیں ۔ البتہ صاحبِ ایمان لوگ جو بلند فکر، اعلیٰ ظرف، کشادہ دل اور عظیم روح کے حامل ہوتے ہیں انھیں نہ زمانہ کی دگرگونیاں لرزاتی ہیں نہ نعمتوں کا چھن جانا انھیں شکری ومایوسی کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور نہ ہی نعمتوں کا ان کی طرف رُخ کرنا انھیں غرور وغفلت میں مبتلا کرتا ہے ۔ اسی لئے آیت میں استثنائی صورتِ حال کے پیش نظر لفظ ایمان کے بجائے صبر واستقامت استعمال کیا گیا ہے (غور طلب نکتہ ہے) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:8-11
۳۔ کم ظرفی کی انتہا
ایک اورنکتہ جو توجہ طلب ہے یہ ہے کہ دونوں مواقع (عطا کے بعد نعمت کے سلب ہونے اور سلب کے بعد عطا ہونے) کے لئے ”اذقنا“ جو مادہ ”اذاقة“ سے چکھنے کے معنی میں آیا ہے، کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس قدر کم ظرف ہیں کہ اگر تھوڑی سی نعمت انھیں دی جائے اور پھر اسے ان سے لے لیا جائے تو ان کی داد وفریاد اور ناشکری کی صدا بلند ہوتی ہے اور اگر تکلیف وناراحتی کے بعد ذرا سی نعمت انھیں مل جائے تو فرط وانبساط میں سرکے بل دوڑتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:8-11
۴۔ تمام نعمات عطیہ وبخشش ہیں
یہ امر توجہ طلب ہے کہ پہلی آیت میں نعمت کو لفظ ”رحمت“ سے بیان کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں لفظ ”نعمت“ استعمال ہوا ہے، ممکن ہے اس سے یہ اشارہ ہو کہ خدا کی تمام نعمتیں اس کے فضل ورحمت کے ذریعے انسان تک پہنچتی ہیں نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر اور اگر نعمتیں استحقاق کی بنیاد پر میسّر ہوتیں تو بہت ہی تھوڑے لوگوں کو میسّر ہوتیں نہ کہ کسی شخص کو میسر آتیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:8-11
۵۔ اعمالِ نیک کے اثرات
اعمالِ نیک کے دو اثرات ذکر ہوئے ہیں، زیرِ نظر آخری آیت میں باایمان، صاحب استقامت اور صالح افراد سے ”مغفرت“ اور بخشش گناہ کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور ”اجرِ کبیر“ کا بھی، یہ اس جانب اشارہ ہے کہ نیک اعمال کے دو اثر ہیں ایک گناہوں کا دھل جانا اور دوسرا بڑی جزا کا حاصل ہونا ۔ ۱۲ فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَا یُوحیٰ إِلَیْکَ وَضَائِقٌ بِہِ صَدْرُکَ اٴَنْ یَقُولُوا لَوْلَااٴُنزِلَ عَلَیْہِ کَنزٌ اٴَوْ جَاءَ مَعَہُ مَلَکٌ إِنَّمَا اٴَنْتَ نَذِیرٌ وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ۱۳ اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَاٴْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِہِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ۱۴ فَإِلَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ بِعِلْمِ اللهِ وَاٴَنْ لَاإِلَہَ إِلاَّ ھُوَ فَھَلْ اٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ترجمہ ۱۲۔ شاید بعض آیات کی تبلیغ کو جن کی تجھ پر وحی ہوئی ہے تو تاخیر میں ڈال دیتا ہے اور تیرا دل اس بناپر تنگ (اور ناراحت ) ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ کیوں اس پر خزانہ نازل نہیں ہوتا یا کیوں فرشتہ اس کے ہمراہ نہیں آیا (تبلیغ کرو اور پریشان نہ ہو کیونکہ) تم صرف ڈرانے والے (اور خدائی خطرات سے آگاہ کرنے والے) ہو اور خدا ہر چیز پر نگہبان ودیکھنے والا ہے (اور وہ ان کا حساب کتاب رکھتا ہے) ۔ ۱۳۔ بلکہ وہ کہتے ہیں یہ (قرآن کی) جھوتی نسبت (خدا کی طرف دیتا ہے، ان سے کہدو اگر سچ کہتے ہو توتم بھی ان جیسی جھوٹی مُوٹی ہی دس سورتیں لے آوٴ اور (بجز خدا) اپنی حسبِ استطاعت (اس کام کے لئے) تمام لوگوں کودعوت دو۔ ۱۴ ۔ اور اگر وہ تمھاری دعوت قول نہ کریں تو جان لو کہ (یہ کلام) علمِ الٰہی کے ساتھ نازل ہوا ہے اور اس کے سوا کوئی معبور نہیں، کیا ان حالات میں سرِتسلیم خم کروگے؟۔ شان نزول ان آیات کے لئے دوسانِ نزول مذکور ہیں جو ممکن ہے دونوں صحیح ہوں ۔ پہلا یہ کہ کفار مکّہ کا ایک گروہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے پاس آیا، وہ کہنے لگے: اگر سچ کہتے ہو کہ تم خدا کے پیغمبر ہو تو مکہ کے پہاڑ ہمارے لئے سونے کے کردو یا فرشتے لے آوٴ جو تمھاری نبوت کی تصدیق کریں، چنانچہ انکے جواب میں مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔ دوسریشان نزول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، وہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: مَیں نے خدا سے درخواست کی ہے کہ وہ میرے اور تمھارے درمیان برادری اور اخوّت قائم کرے اور یہ درخواست قبول ہوگئی ہے، نیز مَیں نے یہ درخواست کی ہے کہ تمھیں میرا وصی قرار دے اور یہ درخواست بھی مستجاب ہوگئی ہے ۔ جس وقت یہ گفتگو بعض مخالفین کے کانوں تک پہنچی تو عداوت ودشمنی کی بناء پر کہنے لگے خدا کی قسم ایک خشک مشک میں ایک من خرما بہتر ہے اس سے جو محمد نے اپنے خدا سے درخواست کی ہے، (اگر وہ سچ کہتا ہے تو) اسے کیوں خدا سے درخواست نہیں کی کہ دشمنوں کے خلاف مددکرنے کے لئے کوئی فرشتہ نازل فرمائے یا کوئی خزانہ جو فقر وفاقہ سے نجات دلائے ۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیات نازل ہوئی تاکہ دشمنوں کو جواب دیا جاسکے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:8-11
مومن عالی ظرف اور بے ایمان کم ظرف ہوتے ہیں
ان آیات میں اس بحث کی مناسبت سے کہ جو بے ایمان افراد کے بارے میں گزرچکی ہے، ایسے افراد کے نفسیاتی حالات اور اخلاقی کمزوریوں کے بعض نکات کی تشریح ہوئی ہے، وہی کمزور گوشے جو انسان کو تاریکیوں اور فساد کی راہوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔ ایسے افراد کی پہلی صفت جو ذکر کی گئی ہے وہ حقائق کا مذاق اڑانا اور حیات ساز مسائل کے بارے میں تمسخر کرنا ہے وہ جہالت ونادانی اور غرور وتکبر کی وجہ سے جس وقت خدائی نمائندوں کو، بدکاروں کی سزا کے بارے میں ڈراتے دھمکاتے ہیں، جبکہ چند روز گزرنے کے باوجود خدا اپنے لطف وکرم سے ان کے عذاب اور سزا کو تاخیر میں ڈال دیتا ہے تو بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کہتے ہیں، کس چیز نے اس خدائی عذاب اور سزا کو تاخیر میں ڈال دیا ہے؟ کیا ہُوا اس سزا کا اور کہاں گیا وہ عذاب؟ (وَلَئِنْ اٴَخَّرْنَا عَنْھُمَ الْعَذَابَ إِلیٰ اٴُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَیَقُولُنَّ مَا یَحْبِسُہُ) ۔ ”امت“ مادہ ”ام“ (بروزن قم) سے ماں کے معنی میں آیا ہے جس کا معنی در اصل مختلف اشیاء کا ایک دوسرے میں ضم ہوجانا ہے، اسی بناء پر ہر اس گروہ کو جو اپنے ہدف یا ایک ہی زمان ومکان میں جمع ہو، امت کہا جاتا ہے ۔ البتہ یہ لفظ وقت اور زمانے کے معنی میں بھی آیا ہے، کیونکہ زمانے کے اجزاء باہم پیوست ہوتے ہیں یا اس بناء پر کہ ہر جماعت یا گروہ کسی نہ کسی زمانے میں زندگی گزارتا ہے، سورہٴ یوسف کی آیت ۴۵ میں ہے: <وَادَّکَرَ بَعْدَ اٴُمَّةٍ آزاد شدہ قیدی ایک مدت کے بعد یوسف کو یاد کرنے لگا ۔ زیرِ بحث آیت میں لفظ ”امت“ انھیں معنی میں آیا ہے ، لہٰذا لفظ ”معدودہ“ سے توصیف کیا گیا ہے یعنی اگر تھوڑی مدت کے لئے ان سے عذاب موٴخر کردیا جائے تو کہتے ہیں کہ کونسی چیز اس سے مانع ہوئی ہے ۔ پس یہ شیوہ اور طریقہ تمام مغرور اور جاہلوں کا ہے جو چیز ان کے میلانات سے مطابقت نہ رکھے وہ ان کی نگاہ میں مذاق ہے، اسی لئے وہ مردانِ حق کی ہلادینے اور بیدار کرنے والی دھمکیوں کوشوخی اور مذاق سمجھتے ہیں لیکن قرآن مجید ان کو صراحت کے ساتھ جواب دیتا ہے: ”آگاہ رہو جس دن خدائی عذاب آن پہنچا کوئی اسے روک نہیں سکے گی اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ (عذاب) ان پر نازل ہوگا اور انھیں تباہ کردے (اٴَلَایَوْمَ یَاٴْتِیھِمْ لَیْسَ مَصْرُوفًا عَنْھُمْ وَحَاقَ بِھِمْ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُون) ۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ان کا نالہ وفریاد آسمان تک بلند ہوگا اور اپنی شرم انگیز گفتگو سے پشیمان ہوں گے لیکن نہ وہ نالہ وفریاد کہیں پہنچے کا اور نہ وہ پشیمانی انھیں کوئی فائدہ پہنچائے دے گی ۔ ان کمزوری کا ایک اور نکتہ، مشکلات وناراحتیوں اور برکات الٰہی کے منقطہ ہونے پر ان کی کم ظرفی ہے جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے : اور جس وقت کسی نعت اور رحمت کا مزہ ہم انسان کو چکھائیں گے اور پھر وہ اس سے واپس لے لیں تو وہ مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور کفرانِ نعمت اور ناشکری پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے ( وَلَئِنْ اٴَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاھَا مِنْہُ إِنَّہُ لَیَئُوسٌ کَفُورٌ) ۔ اگرچہ اس آیت میں گفتگو انسان کے بارے میں بطور کلی آئی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلی بھی اشارہ کیا ہے کہ لفظِ ”انسان“ سے اس قسم کی آیات میں غیر ترتیب یافتہ، خود غرض اور ناکارہ انسانوں کی طرف اشارہ ہے، اس بناء پر یہ بحث گزشتہ آیات میں بے ایمان افراد کے متعلق بحث پر منطبق ہوتی ہے ۔ۺ بے ایان افراد کی کمزوری کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جس وقت نازونعمت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں تو ان پر تکبّر اور غرور اور نفس پرستی اس قدر چھائی ہوتی ہے کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: اور مشکلات وتکالیف اب مجھ سے دور ہوگئی ہیں جو کبھی دوبارہ نہ آئیں گی ۔ اور یوں وہ پروردگار کی نعمتوں کے شکرانے سے غافل ہوجاتا ہے (وَلَئِنْ اٴَذَقْنَاہُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی إِنَّہُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ) ۔ اس آیت کے جملہ ”ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی“ میں ایک دوسرا احتمال بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب اس طرح کے لوگ شدائد ومشکلات کو نعمتوں سے بدل دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ مصائب ہمارے گناہوں کا گفارہ تھے ۔ اب ہمارے گناہ ان کی وجہ سے دھل گئے ہیں اور ہم پاک وپاکیزہ ہوگئے ہیں اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ مقربان درگاہِ خدا ہوچکے ہیں توبہ اور اس خدا کی بارگاہ میں بازگشت کے تصوّر سے عاری ہوجاتے ہیں ۔ پس فرمایا: صرف صاحبان ایمان کہ جنھوں نے زندگی کے شدائد اورسخت حوادث کے مقابلے میں صبر واستقامت کا اختیار کیا اور جو ہر حال میں اعمالِ صالح بجالانے میں کوتاہی نہیں کرتے، تنگ نظری، ناشکرگزاری اور غرور وتکبر سے کنارہ کش ہیں جو نہ تو وفورِ نعمت کے وقت مغرور ہوتے اور خدا کو فراموش کرتے ہیں اور نہ ہی شدِّت ِ مصائب کے وقت مایوسی اور کفرانِ نعمت کرتے ہیں بلکہ ان کی عظیم روح اور بلند فکر نعمت وبلا دونوں کو برداشت کرتی ہے، وہ یاد خدا اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوتے، یہی لوگ خدا کے مقرب بندے ہیں اور انہی کے لئے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے (إِلاَّ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلٰئِکَ لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَاٴَجْرٌ کَبِیرٌ) ۔