وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ
It is He who created the heavens and the earth in six days—and His Throne was [then] upon the waters—that He may test you [to see] which of you is best in conduct. Yet if you say, ‘You will indeed be raised up after death,’ the faithless will surely say, ‘This is nothing but plain magic.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:7
[Pooya/Ali Commentary 11:7] Refer to the commentary of Araf: 54 for the creation of the universe, and al Baqarah: 255 for the seat of divine authority. The creation of the universe is not a sport, nor a whim, on the part of Allah. This life is testing time, but the disbelievers, who do not believe in a future life of the hereafter, think all talk of it is like a sorcerer's talk, empty of reality. Aqa Mahdi Puya says: Water, the perennial matter, from which the physical universe (terrestrial and celestial bodies) has been formed, is described as liquid, amenable to take any form, to prove that there is no limit to the possibility of development or, change in the matter, which implies a free competition in the process of continuity and progress. However perfect one may be, the possibility of further perfection is always there to try and attain, for which the Quran asks the Holy Prophet to pray in verse 114 of Ta Ha. After dealing with the process and purpose of creation, the reference to "raising up after death" may either refer to the present state in which man is (when he is nothing, unworthy of mention-Dahr: 1) or to the resurrection as the consequence of the life of this world. The raising up after death through an evolutionary process, which the Quran frequently mentions, appears as a fascinating but unreliable statement to the ignorant disbelievers, therefore they say it is a sorcery.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:7
مقصدِ خلقت
اس آیت میں تین اساسی نکات پر بحث کی گئی ہے، اوّل جہانِ ہستی کی آفرینش، خصوصاً آغاز آفرینش کہ جو پروردگار کی قدرت کی نشانی اور اس کی عظمت کی دلیل ہے، ”وہ ایسی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا“ (وَھُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ) ۔ اس وضاحت کی ضرورت نہیں کہ یہاں دن سے مراد چوبیس گھنٹے والا دن ہے اس لئے کہ جس زمانے کی بات ہورہی ہے اس وقت زمین وآسمان وجود میں آئے تھے نہ کرہٴ ارض تھا اور نہ ہی اس کی اپنے گرد چوبیس گھنٹوں کی گردش، بلکہ جیسا کہ پہلے کہاجاچکا ہے اس سے مراد ایک ”دورانیہ“ ہے اب خواہ یہ دورانیہ چھوٹا ہو یا بہت طویل اور کروڑوں سالوں پر مشتمل ہو، سورہٴ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں اس بات کی جامع اور مفصل تشریح بیان کی جاچکی ہے لہٰذا تکرار کی ضرورت نہیں ہے ۔ (۱) نیز وہاں ہم نے یاددہانی کروائی تھی کہ خدا قدرت وطاقت رکھتا تھا کہ تمام عالم کو ایک ہی لحظہ میں پیدا کرے لیکن متواتر اور پے درپے چھ ادوار میں اس لئے پیدا کیا ہے کہ یہ تدریجی خلقت جو ہر وقت رنگِ نو اور چہرہ تازہ دکھاتی ہے ، قدرت وعظمتِ خداوندی کو بیشتر اور بہتر انداز میں متعارف کرواتی ہے ۔ خدا چاہتا تھا کہ اپنی قدرت کو ہزراوں رُخ میں نمایاں کرے ایک ہی رُخ میں نہیں اور اپنی قدرت وحکمت کی پہچان آسان تر اور زیادہ واضح ہو اور اس کی معرفت کے دلائل ماہ و سال صدیوں اور زمانوں کی تعداد کے برابر ہمارے پاس موجود ہیں ۔ پھر فرمایا کہ ”اس (خدا) کا عرش پانی پر تھا“ (وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ) ۔ اس جملے کی تفسیر سمجھنے کے لئے ان دو الفاظ ”عرش“ اور ”ماء‘’‘ کے مفہوم سے آشنا ہونا چاہیے ۔ ”عرش“ دراصل ”چھت“ یا ”چھت نما“ چیز کے معنی میں آیا ہے سلاطینِ گزشتہ کے بلند تختوں کو بھی عرش کہا جاتا ہے، اسی طرح ان بلند دیواروں اور مقامات کو بھی عرش کہتے ہیں جن پر بیل دار پودوں کو چڑھایا جاتا ہے، نیز بعد میں یہ کلمہ ”قدرت“ کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا جیسا کہ لفظ تخت فارسی زبان میںاسی استعمال ہواہے ۔ عربی میں کہتے میں : ”فلان استویٰ علیٰ عرشہ، اٴو، تُلّ عرشہ“ یعنی فلان آدمی تخت پر بیٹھا یا اس کا تخت گرگیا ۔ عربی زبان کا یہ کنایہ کہ اسے اقتدار مل گیا یا اس کا اقتدار ختم ہوگیا فارسی زبان میں استعمال ہوتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلان شخص کو لوگوں نے تخت پر بٹھادیا ہے یا فلاں کو تخت سے اتاردیا ہے ۔ (۲) اس نکتہ کی جانب توجہ رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات عرش مجموعہ عالمِ ہستی کے معنی میں بھی آیا ہے کیونکہ قدرت کا تخت اس پورے جہاں پر محیط ہے ۔ باقی رہا لفظ ”ماء“ اس کا عام معنی تو پانی ہے لیکن بعض اوقات مائع اور بہنے والی اشیاء مثلاً بہنے والی دھاتوں کو بھی ”ماء“ کہا جاتا ہے ۔ ان دو الفاظ کے تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء خلقت میں جہانِ ہستی پگھلے ہوئے مادّہ یا تہ بہ تہ بہنے والی گیس کی شکل میں تھا جس کے بعد اس مانندِ آب ٹکڑے میں سخت مدّ وجزر اورشکست وریخت پیدا ہوئی اور اس کے بعض حصّے سطح سے باہر آپڑے، اتصال، پیوستگی اور جدائی کا عمل شروع ہوا اور یکے بعد دیگرے سیّارے، ستارے اور منظومے (SILAR SYSTEMS) تشکیل پانے لگے، اس لئے جہانِ ہستی اور قدرت کا تخت سب سے پہلے پانی کی مانند (مثل آبگینہ) اس عظیم مادّہ پر قرار پایا ۔ سورہٴ انبیاء کی آیت ۳۰ میں بھی اسی طرف اشارہ ہوا ہے: <اٴَوَلَمْ یَرَی الَّذِینَ کَفَرُوا اٴَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاھُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ”کیا وہ جو خدا کا انکار کرتے ہیں علم ودانش کی آنکھ سے اس حقیقت کو نہیں دیکھتے کہ آسمان وزمین ابتدا میں ایک دوسرے سے پیوست تھے پھر ہم نے انھیں جدا کیا اور ہر زندہ موجود کو ہم نے پانی سے خلق کیا“ نہج البلاغہ کے خطبہ اوّل میں بھی اسی معنی کی طرف واضح اشارے ملتے ہیں ۔ دوسرا مطلب جس کی طرف مندرجہ بالا آیت اشارہ کرتی ہے، وہ جہانِ ہستی اور عالمِ وجود کی خلقت کا ہدف ومقصد ہے، وہی ہدف کہ جس کا اہم ترین حصّہ اس جہان کا گل سرسبد یعنی انسان ہے، وہ انسان کہ جسے تعلیم وتربیت کی راہ اپنانا اور تکامل وارتقاء کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ وہ ہر لمحہ خدا کے قریب ہوتا جائے ۔ خداوندعالم فرماتا ہے، باعظمت خلقت اس لئے معرضِ وجود میں آئی تاکہ تمھاری آزمائش کرے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اعمالِ حسنہ انجام دیتا ہے (لِیَبْلُوَکُمْ اٴَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلًا) ۔ ”لِیَبْلُوَکُمْ“مادہ ”بلاء وابتلاء“ سے آزمائش کے معنی میں ہے، جیسا کہ قبل ازیں اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا کی طرف سے آزمائش کشفِ ا ۔حوال اور لوگوں کی داخلی، روحانی اور فکری وضعیت وکیفیت معلوم کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ پرورش اور تربیت کرنے کے لئے ہے (اس موضوع کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی آیت۱۵۵ کے ذیل میں بیان ہوچکی ہے) توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں انسان کی قدر وقیمت کو اس کے ”حسنِ عمل“ سے مربوط کیا گیا ہے نہ کہ اس کے کثرتِ عمل سے، یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام ہر جگہ کیفیتِ عمل پر نظر رکھتا ہے کثرت وکمیّت اور مقدار پر نہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اسی سلسلہ میں ایک حدث نقل ہوئی ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: لیس یعنی اکثر عملاً ولٰکن اٴصوبکم عملا، وانّما الاصابة خشیة الله، والنیة الصادقة، ثمّ قال الابقاء علی العمل حتّی یخلص اشد من العمل، والعمل الخالص، الذی لاترید اٴن یحمدک علیہ اٴحد الّا الله عزّوجل. خدا کثرتِ عمل نہیں چاہتا بلکہ عمل کی درستی چاہتا ہے اور درستی عمل خدا ترسی اور نیک نیّتی سے مربوط ہے ۔ اس کے بعد فرمایا: عمل کو ریاکاری اور بد نیّتی کی آلودگیوں سے پاک رکھنا خود عمل سے کہیں زیادہ مشکل تر ہے اور عملِ خالص خالص یہ ہے کہ تُو نہ چاہے کہ خدا کے سوا کوئی اور تیری (اس عمل پر) ستائش کرے ۔ تیسرا موضوع جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ”معاد“ ہے جو آفرینش جہاں کے مسئلہ اور ہدف خلقت سے نہ ٹوٹنے والا رشتہ رکھتا ہے کیونکہ خلقتِ عالم کا مقصد انسانوں کا تکامل وارتقاء ہے اور انسانوں کا ارتقاء انھیں ایک وسیع تر اور کامل تر جہاں میں زندگی گزارنے کے لئے تیار کرتا ہے، اسی لئے فرمایا: اگر ان سے کہا جائے کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاوٴگے تو کافر از روئے تعجب کہتے ہیں کہ اسے باور نہیں کیا جاسکتا اور اس میں کوئی حقیقت وواقعیت نہیں ہے بلکہ یہ ایک واضح جادو ہے (وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّکُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ ھٰذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ) ۔ ”کلمہٴ ”ھذا“ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی معاد وقیامت کے بارے میں گفتگو کی طرف اشارہ ہے یعنی کافروں کے نزدیک پیغمبر کا معاد کے بارے میں یہ دعویٰ جادو ہے اس بناء پر لفظ ”سحر“ یہاں حقیقت سے عاری بے بنیاد گفتگو اور سادہ وعام تعبیر کے مطابق فریب وشعبدہ بازی کے مترادف ہے کیونکہ جادوگر عموماً حقیقت وواقعیت سے عاری چیزیں دکھاتے ہیں لہٰذا لفظ ”سحر“ حقیقت سے خالی چیز کے معنی میں استعمال ہوسکتا ہے ۔ رہا یہ مسئلہ کہ بعض لوگوں کے نردیک ”ھذا“ قرآن مجید کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ قرآن اپنے سننے والوں میں ایک سحر انگیز نفوذ وجذب رکھتا ہے صحیح نظر نہیں آتا، کیونکہ آیت میں بحث معاد وقیامت کے بارے میں ہے نہ کہ قرآن کے متعلق اگرچہ قرآن کی غیر معمولی قوتِ جذب سے انکار نہیں ۔ ۸ وَلَئِنْ اٴَخَّرْنَا عَنْھُمَ الْعَذَابَ إِلیٰ اٴُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَیَقُولُنَّ مَا یَحْبِسُہُ اٴَلَایَوْمَ یَاٴْتِیھِمْ لَیْسَ مَصْرُوفًا عَنْھُمْ وَحَاقَ بِھِمْ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُون ۹ وَلَئِنْ اٴَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاھَا مِنْہُ إِنَّہُ لَیَئُوسٌ کَفُورٌ ۱۰ وَلَئِنْ اٴَذَقْنَاہُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی إِنَّہُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ۱۱ إِلاَّ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلٰئِکَ لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَاٴَجْرٌ کَبِیرٌ ترجمہ ۸۔ اور اگر عذاب کو ایک محدود وقت کے لئے ان سے ٹال دیں (تو بطور استہزا) کہتے ہیں کہ اس میں کون سی رکاوٹ ہے؟ آگاہ رہو جس دن اس کی طرف سے عذاب آئے گا تو کوئی چیز اس کے آگے رکاوٹ نہیں بنے گی اور جس کا مذاق اڑاتے تھے وہی انھیں دامنگیر ہوجائے گا ۔ ۹۔ اور اگر انسان کو ہم نعمت شکر کا مزہ چکھانے کے بعد وہ (نعمت) اس سے واپس لے لیں تو بہت ہی ناشکر اور ناامید ہوجاتا ہے ۔ ۱۰۔ اور اگر شّدتِ ناراحتی کے بعد اس تک نعمتیں پہنچائیں تو کہتا ہے کہ مشکلات مجھ سے برطرف ہوگئی ہیں جو دوبارہ نہیں آئیں گی اور خوشی، غفلت اور فخر میں مستغرق ہوجاتا ہے ۔ ۱۱۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے (سچّے ایمان کے سائے میں) صبرو استقامت دکھائی اور عملِ صالح انجام دیئے ہیں ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے ۔ ۱۔ تفسیر نمونہ، ج۶. ۲۔ البتہ بعض اوقات تخت کرسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس کا ایک دوسرا مفہوم ہے جسے ہم نے تفسیر نمونہ جلد۲، سورہٴ بقرہ میں آیت الکرسی کے ذیل میں ذکر کیا ہے ۔