قَالُوا يَاهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
They said, ‘O Hud, you have not brought us any manifest proof. We are not going to abandon our gods for what you say, and we are not going to believe you.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:53
[Pooya/Ali Commentary 11:53] (see commentary for verse 50)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:53-57
دو اہم نکات
۱۔ ”ناصیة“ کا مفہوم ”ناصیة“ اصل میں سر کے اگلے حصے کے بالوں کے معنی میں ہے اور ”نصا“(بروزن” نصر “) کے مادہ سے اتصال اور پیوستگی کے مفہوم میں آیا ہے،”اخذ ناصیة“ (سر کے اگلے حصے کے بال پکڑنا) کسی چیز پر تسلط اور قہر وغلبہ کے لئے کنایہ ہے، یہ جو مذکورہ آیت میں خدا فرماتا ہے کہ ”کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر یہ کہ ہم اس کی ”ناصیة“ پکڑ لیتے ہیں“ ہر چیز پر اس کی قدرت قاہرہ کا اشارہ ہے یعنی کوئی موجود اس کے ارادے کے سامنے ٹھہرنے کی تاب نہیں رکھتا کیونکہ عام طور پر جب کسی انسان یا حیوان کے سر کے اگلے بالوں کو پکڑ لیاجائے تو اس میں مقابلے کی طاقت نہیں رہتی ۔ یہ تعبیر اس لئے ہے کہ مغرور مستکبرین، خود پسند بت پرست اور ظالم حکومت کے خواہاں یہ نہ سوچیں کہ اگر چند دن کے لئے انھیں موقع مل گیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ پروردگار کے خلاف کچھ قیام کرنے لگیں، انھیں اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے اور مرکب غرور سے نیچے اترنا چاہیئے ۔ ۲۔” ان ربی علیٰ صراط مستقیم“کا مطلب یہ جملہ نہایت خوبصورت ہے اور خدا کی ایسی قدرت جو عدالت اامیز ہے اس کے بارے میں یہ زیبا ترین تعبیرات میں سے ہے کیونکہ عموماً طاقتور جھوٹے اور ظالم ہوتے ہیں لیکن اللہ اپنی بے انتہا قدرت کے باوجود ہمیشہ عدالت کی صراط مستقیم پر ہے، اس کا راستہ ہمیشہ حکمت، نظم اور حساب وکتاب کا صاف وشفاف راستہ ہے ۔ اس نکتہ کو بھی نگاہ سے دور نہیں رہنا چاہیئے کہ حضرت ہود(علیه السلام) کی باتیں مشرکین کے سامنے یہ حقیقت بیان کر رہی تھیں کہ ہٹ دھرم دشمن جس قدر اپنی ہٹ دھرمی میں اضافہ کریں ایک حقیقی رہبر کو چاہیئے کہ وہ اپنی استقامت وپامردی میں اتنا ہی اضافہ کرے، قوم نے حضرت ہود(علیه السلام) کو بتوں سے بہت زیادہ خائف کرنے کی کوشش کی تھی لہٰذا انھوں نے بھی اس کے مقابلے میں انھیں شدید ترین طریقے سے خدا کی قدرت قاہرہ سے ڈرایا ۔ آخرکا حضرت ہود(علیه السلام) ان سے کہتے ہیں : اگر تم راہ حق سے روگردانی کرو گے تو اس میں مجھے کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ میں نے اپنا پیغام تم تک پہنچادیا ہے ( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اٴَبْلَغْتُکُمْ مَا اٴُرْسِلْتُ بِہِ إِلَیْکُمْ )، یہ جو اس طرف اشارہ ہے کہ گمان نہ کرو کہ اگر میری دعوت قبول نہ کی جائے تو میرے لئے کوئی شکست ہے، میں نے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اور فریضے کی انجام دہی کامیابی ہے اگرچہ میری دعوت قبول نہ کی جائے ۔ دراصل یہ سچے رہبروں اور راہ حق کے پیشواؤں کے لئے ایک درس ہے کہ انھیں اپنے کام پر کبھی بھی خستگی وپریشانی کا احساس نہیں ہونا چاہیئے چاہے لوگ ان کی دعوت قبول نہ کریں ۔ جیسا کہ بت پرستوں نے آپ کو دھمکی دی تھی، اس کے بعد آپ انھیں شدید طریقے سے عذاب الٰہی کی دھمکی دیتے ہوئے کہتے ہیں: اگر تم نے دعوت حق قبول نہ کی تو خدا عنقریب تمھیں نابود کردے گا اور کسی دوسرے گروہ کو تمہارا جانشین بنا دے گا اور تم اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے (وَیَسْتَخْلِف رَبِّی قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَاتَضُرُّونَہُ شَیْئًا) ۔ یہ قانون خلقت ہے کہ جس وقت لوگ نعمت ہدایت یا خدا کی دوسری نعمتیں قبول کرنے کے اہل نہ ہوں تو وہ انھیں اٹھا لیتا ہے اور ان کی جگہ کسی دوسرے اہل گروہ کو لے آتا ہے ۔ اور یہ بھی جان لو کہ میرا پروردگار ہر چیز کا محافظ ہے اور ہر حساب وکتاب کی نگہداری کرتا ہے ( إِنَّ رَبِّی عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ حَفِیظٌ)، نہ موقع اس کے ہاتھ سے جاتا ہے اور نہ وہ موقع کی مناسبت کو فراموش کرتا ہے، نہ وہ اپنے انبیاء اور دوستوں کو طاق نسیاں کرتا ہے اور نہ کسی شخص کا حساب وکتاب اس کے علم سے اوجھل ہوتا ہے بلکہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہرچیز پرمسلط ہے ۔ ۵۸ وَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا ھُودًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّیْنَاھُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِیظٍ۔ ۵۹ وَتِلْکَ عَادٌ جَحَدُوا بِآیَاتِ رَبِّھِمْ وَعَصَوْا رُسُلَہُ وَاتَّبَعُوا اٴَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ۔ ۶۰ وَاٴُتْبِعُوا فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَلَاإِنَّ عَادًا کَفَرُوا رَبَّھُمْ اٴَلَابُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ ھُودٍ۔ ترجمہ ۵۸۔اور جس وقت ہمارا فرمان آپہنچا تو ہود اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے انھیں اپنی رحمت سے ہم نے نجات دی اور عذاب شدید سے انھیں بچالیا ۔ ۵۹۔اور یہ قوم عاد ہی تھی کہ جنھوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ستمگر، حق کے دشمن کے حکم کی پیروی کی ۔ ۶۰۔اس جہان میں ان کے پیچھے لعنت (اور رسوائی رہی) اور قیامت میں (کہا جائے گا کہ) جان لو کہ عاد نے اپنے پروردگار سے کفر وانکار کیا، دُور ہو عاد قوم ہود (خدا کی رحمت اور خیروسعادت سے)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:53-57
حضرت ہود (علیه السلام) کی قوی منطق
اب دیکھتے ہےںکہ اس سر کش اور مغرور قوم نے ، یعنی قوم عاد نے اپنے بھائی ہود ، ان کے پند ونصائح اور ہدایت و رہنمائی کے مقابلہ میں کیا رد عمل ظاہر لیا ۔ ”انھوں نے کہا: اے ہود ! تو ہمارے لئے کوئی وضح دلیل نہےں لاےا“(قَالُوا یَاھُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ) ، ہر گزتےری باتو پر اپنے بتوں اور خداؤں کا دامن نہےں چھوڑے گے ( وَمَا نَحْنُ بِتَارِکِی آلِھَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ )اور ہم ہر گز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے (وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِینَ) ۔ ان تین غیر منطقی جملوں کے بعد انھوں نے مزید کہا:”ہمارا خیال ہے کہ تو دےوانہ ہو گیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ تو ہمارے خداؤں کے غضب کا شکار ہوا ہے اور انھوں نے تےری عقل کو آسیب پہچایا ہے“( إِنْ نَقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاکَ بَعْضُ آلِھَتِنَا بِسُوءٍ ) ۔ اس میں شک نہیں کہ جیسے تمام انبیاء کا طریقہ کار ہوتا ہے اور ان کی ذمہداری ہے حضرت ہود نے انھیں اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لے کئی ایک معزے دیکھائے ہو ںگے، لیکن انھوں نے اپنے کبرو غرور کی وجہ دے دیگر ہٹ دھرم قوموں کی طرح معجزات کا انکار کیا اور انھیں جادو قرار دیا اور انھیں اتفاقی حوادث گردانا کی جنہیں کسی معاملے میں دلیل قرار نہیں دےا جا سکتا ۔ ان باتوں سے قطع نظر بت پرستی کی نفی کے لے تو کسی دلےل کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اور جو شخص بھی تھوڑی سی عقل شعور رکھتا ہو اور اپنے آپ کو تعصب سے دور کرلے تو وہ اچھی طرح سے اس کا بطلان سمجھ سکتا ہر، فرض کرےں کہ اس کے لے دلیل کی ضرورت ہے تو کیا یہ مسئلہ منطقی و عقلی دلائل کے علاوہ کسی معجزہ کا بھی محتاج ہے ۔ دوسرے لفظوں میں جو کچھ حضرت ہود(علیه السلام) کے سلسلے میں گزشتہ آیات میں آیا ہے وہ خدائے یگانہ کی طرف دعوت، اس کی طرف بازگشت، بگناہوں سے استغفار اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی ہے، یہ سب ایسے مسائل ہیں جنہیں عقلی دلیل سے بالکل ثابت کیا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا اگرچہ”بینة“ سے نفی سے ان کی مراد عقلی دلیل کی نفی تھی، بہرحال انھوں نے یہ جو کہا تھا کہ ہم ہرگز تیری باتوں کی وجہ سے اپنے بتوں کو فراموش نہیں کریں گے ان کی ہٹ دھرمی کی بہترین دلیل ہے کیونکہ عقل مند اور حق جو انسان حق کی بات کسی کی طرف سے ہو اسے قبول کرلیتا ہے، خصوصا یہ جملہ کہ انھوں نے حضرت ہود(علیه السلام) کو ”جنون“ کہ تہمت لگائی ۔ اور ”جنون“ بھی وہ جو ان کے زعم میں ان کے خداؤں کے غضب کا نتیجہ تھا، ان کے بیہودہ پن اور خرافات پرستی کی خود ایک بہترین دلیل ہے ۔ بے جان اور بے شعور پتھر اور لکڑیاں جو خود اپنے”بندوں“ کی مدد کی محتاج ہیں وہ ایک عقلمند انسان سے کس طرح اس کا عقل وشعور چھین سکتی ہے ۔ علاوہ ازیں ان کے پاس ہود (علیه السلام) کے دیوانہ ہونے کی کونسی دلیل تھی، سوائے اس کے کہ انھوں نے ان کی سنت شکنی کی اور ان کے ماحول کے بیہودہ رسم ورواج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، اگر یہ دیوانگی کی دلیل ہے تو پھر تمام مصلحین جہان اور انقلابی لوگ جو غلط روش اور طریقوں کے خلاف قیام کرتے ہیں سب دیوانے ہونے چاہیئں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، گزشتہ سور اور آج کی تاریخ نیک اندیش اور بدعت شکن مردوں اور عورتوں کی طرف یہ نسبت دئےے جانے سے بھری پڑی ہے، کیونکہ وہ خرافات اور استعمار اور اس کے ہتھکنڈوں اور شکنجوںکے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔ بہرحال حضرت ہود(علیه السلام)کی ذمہ دارہ تھی کہ اس گمراہ اور ہٹ دھرم قوم کو دندان شکن جواب دیتے، ایسا جواب جو منطق کی بنیاد پر بھی ہوتا اور طاقت سے بھی ادا ہوتا، قرآن کہتا ہے کہ انھوں نے ان کے جواب میں چند جملے کہے: ”میںخدا کو گواہی کے لئے بلاتا ہوں اور تم سب بھی گواہ رہو کہ میں ان بتوں اور تمھارے خداؤں سے بیزار ہوں“(قَالَ إِنِّی اٴُشْھِدُ اللهَ وَاشْھَدُوا اٴَنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ۔من دونہ)، یہ اس طرف اشارہ تھا کہ اگر یہ بت طاقت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ مجھے ختم کردیں، میں جو ان کے خلاف علی الاعلان جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ہوں اور یہ اعلانیہ ان سے بیزاری اور تنفر کا اعلان کررہا ہوں تو وہ کیوں خاموش اور معطل ہیں، کس چیز کے منتظر ہیں اور کیوں مجھے نابود اور ختم نہیں کرتے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا کہ نہ فقط یہ کہ ان سے کچھ نہیں ہوسکتا بلکہ تم بھی اتنی کثرت کے باوجود کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے”اگر سچ کہتے ہو تو تم سب ہاتھوں میں ہاتھ دے کر میرے خلاف جو سازش کر سکتے ہو کرگزرو اور مجھے لمحہ بھر کی بھی مہلت نہ دو“( فَکِیدُونِی جَمِیعًا ثُمَّ لَاتُنْظِرُون) ۔ میں تمہاری اتنی کثیر تعداد کو کیوں کچھ نہیں سمجھتا اور کیوں تمہاری طاقت کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، تم کہ جو میرے خون کے پیاسے ہو اور ہر قسم کی طاقت رکھتے ہو، اس لئے کہ میرا رکھوالا اللہ ہے، وہ کہ جس کی قدرت سب طاقتوں سے بالا تر ہے، ”میں نے خدا پر توکل کیا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے“(انِّی تَوَکَّلْتُ عَلَی اللهِ رَبِّی وَرَبِّکُمْ ) ۔ یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا ، یہ اس امر کی نشانی ہے کہ میں نے دل کسی اور جگہ نہیں باندھ رکھا، اگر صحیح طور پر سوچو تو یہ خود ایک قسم کا معجزہ ہے کہ ایک انسان تن وتنہا بہت سے لوگوں کے بیہودہ عقائد کے خلاف اٹھ کھڑا ہو جب کہ وہ طاقتور اور متعصب بھی ہوں یہاں تک کہ انھیں اپنے خلاف قیام کی تحریک کرے اس کے باوجود اس میں خوف وخطر کے کوئی آثار نظر نہ آئیں اور پھر نہ اس کے دشمن اس کے خلاف کچھ کرسکتے ہوں ۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ نہ صرف تم بلکہ” عالم وجود میں کوئی چلنے پھرنے والا نہیں کہ جو خدا کے قبضہ قدرت اور فرمان کے ماتحت نہ ہو“ اور جب تک وہ نہ چاہے ان سے کچھ نہیں ہوسکتا (مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ ھُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا ) ۔ لیکن یہ بھی جان لوکہ میرے خدا کی قدرت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کود سری اور خود خواہی کہ بنیاد پر عمل میں آئے اور وہ اسے غیر حق صرف کرے بلکہ ”میرا پروردگار ہمیشہ صراط مستقیم اور جادہ عدل پر ہے”اور وہ کوئی کام حکمت کے برخلاف انجام نہیں دیتا (إِنَّ رَبِّی عَلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ) ۔