وَنَادَى نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ
Noah called out to his Lord, and said, ‘My Lord! My son is indeed from my family. Your promise is indeed true, and You are the fairest of all judges.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:45
[Pooya/Ali Commentary 11:45] Aqa Mahdi Puya says: Nuh made this supplication to make it clear for ever that any relationship to the prophets without spiritual excellence does not justify the use of the term "ahl" ul Bayt. It is exclusively restricted to the thoroughly purified (Ahzab: 33) group of the Holy Prophet's household. Relationship by blood or matrimony is not applicable. True reflection of character and spiritual attainment is the basis of the thorough purification. Although Kanan was his son, Allah says to Nuh that verily he is not of his family, because he was an infidel and did not have the qualities of his father. Birth or ancestry has no value at all. Salman, an outsider, was accepted as one among his Ahl ul Bayt by the Holy Prophet on the basis of his faith and piety. It is well known that Salman was a devout follower of Ali ibn abi Talib. No other companion had achieved such a singular position except Salman. Imam Ali bin Musa ar Rida said: Like the accursed son of Nuh, whoso is of us, but does not obey Allah's commands and follow the sunnah of the Holy Prophet, ceases to be of us; and those who call themselves our followers (Shi-ahs) but do not carry out the commands of Allah and His Prophet are not our Shi-ahs at all. The same rule applies to those who claim to be Sayyids (the descendants of the holy Imams).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:45-47
۳۔ جہاں رشتہ ٹوٹ جاتا ہے
مندرجہ بالا آیات سے حضرت نوح (علیه السلام) کی سرگزشت میں سے انسانی تربیت کے حوالے سے ایک اور بلند سبق ہاتھ آتا ہے، ایسا سبق جو مادی مکتبوں میں بالکل کوئی مفہوم نہیں رکھتا لیکن ایک خدائی اور معنوی مکتب میں یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ مادی رشتے یعنی نسب، رشتہ داری، دوستی اور رفاقت آسمانی مکاتب میں ہمیشہ روحانی رشتوں کے تحت ہوتے ہیں اس مکتب میں نسبی وخاندانی رشتوں کا مکتبی وروحانی رشتوں کے مقابلے میں کوئی مفہوم نہیں ۔ جہاں مکتبی رابطے موجود ہیں وہاں دور افتادہ سلمان فارسی جو نہ خاندان پیغمبر سے ہے نہ قریشی ہے، مکی بھی نہیں اور اصلا عرب بھی نہیں، وہ خاندان رسالت کا حصہ شمار ہوتا ہے جیسا کہ مشہور حدیث ہے: سلمان منا اھل البیت یعنی ۔ سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے ۔ دوسری طرف نوح جیسے پیغمبر کا بلا فصل حقیقی بیٹا باپ سے مکتبی رشتہ ٹوڑنے کی وجہ سے اس طرح دھتکادیا جاتا ہے: انہ لیس من اھلک یہ تیرے اہل میں سے نہیں ۔ ہوسکتا ہے مادی فکر رکھنے والوں کو یہ بات بہت گراں محسوس ہو لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو تمام ادیان آسمانی میں نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث بیت (علیه السلام) میں ان شیعوں کے بارے میں صریح اور ہلا دینے والی باتیں ہیں جو صرف ام کے شیعہ ہیں لیکن اہل بیت (علیه السلام)کی تعلیمات اور ان کے عملی پروگراموں کا ان کی زندگی میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا، یہ امر بھی درحقیقت اسی روش کو واضح کرتا ہے جو قرآن نے زیر نظر آیات میں سامنے رکھی ہے ۔ امام علی بن موسیٰ رضا علیہما السلام سے منقول ہے کہ آپ نے ایک دن اپنے دوستوں اور موالیوں سے یہ پوچھا کہ :یہ لوگ اس آیت کی کس طرح تفسیر کرتے ہیں ”انہ عمل غیر صالح“ (یہ غیر صالح عمل ہے ) حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا:بعض کا نظریہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ نوح کا بیٹا کنعان ان کا حقیقی بیٹا نہیں تھا ۔ امام (علیه السلام) نے فرمایا: کلا لقد کان ابنہ ولکن لما عصی اللّٰہ نفاہ عین عن ابیہ کذا من کان منا لم یطع اللّٰہ فلیس منا ۔ یعنی ۔ ایسا نہیں ہے یقینا وہ نوح کا بیٹا تھا لیکن جب اس نے نافرمانی کی اور حکم خدا کے راستے سے منحرف ہوگیا تو خدا نے اس کے فرزند ہونے کی نفی کی، اسی طرح جو لوگ ہم میں سے ہوں لیکن خدا کی اطاعت نہ کرتے ہوں وہ ہم میں سے نہیں ہیں ۔ (۱) ۴۔دھتکارے ہوئے مسلمان: نا مناسب نہ ہوگا اگر ہم مندرجہ بالا آیت سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ اسلامی احادیث کی طرف اشارہ کریں جن میں سے بہت سے لوگوں کو، جو ظاہراً مسلمانوں کے زمرے میں ہیں یا ظاہراً مکتب اہل بیت (علیه السلام) کے پیروکار ہیں، دھتکار دیا ہے اور انھیں مومنین اور شیعوں کی صف سے نکال دیا گیا ہے ۔ ۱۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: من غش مسلما فلیس منا ۔ جو مسلمان بھائیوں سے دھوکی بازی اور خیانت کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ (۲) ۲۔ امام صادق (علیه السلام) فرماتے ہیں: لیس بولی لی من اکل مال موٴمن حراما ۔ جو مومن کا مال ناجائز طور پر کھائے وہ میرا دوست اور موالی نہیں ہے ۔ (۳) ۳۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: اٴلا ومَن اٴکرمہ الناس اتقاء فلیس منی ۔ جان لو کہ جس کے شر سے بچنے کے لئے لوگ اس کا احترام کریں وہ مجھ نہیں ہے ۔ ۴۔امام نے فرمایا: لیس من شیعتنا من یظلم الناس۔ جو لوگوں پر ظلم کرے وہ ہمارا شیعہ نہیں ۔ ۵۔ امام کاظم فرماتے ہیں: لیس منا من لم یحاسب نفسہ کل یوم۔ جو شخص ہرروز اپنا محاسبہ نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ (4) ۶۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: من سمع رجلا ینادی یا للمسلمین فلم یجبہ فلیس بمسلم۔ جو شخص کسی انسان کی آواز سے سنے جو پکار رہا ہو اے مسلمانو! میری مدد کو پہنچو، میری اعانت کرو اور اس پر لبیک نہ کہے وہ مسلمان نہیں ہے ۔ (5) ۷۔ امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص جابر تھا، آپ نے اس سے فرمایا: واعلم یا جابر بانّک لاتکون لنا ولیا حتی لو اجتمع علیک اھل مصرک وقالوا اٴنت رجل سوء لم یحزنک ذٰلک ولوقالوا انّک رجل صالح لم یسرک ذٰلک ولکن اعرض نفسک علی کتاب اللّٰہ۔ اے جابر! جان لو کہ تم اس وقت تک ہمارے دوست نہیں ہوسکتے جب تک کہ تمھارے سارے اہل شہر جمع ہوکر تم سے کہیں کہ تو برا شخص ہے اور تو اس پر غمگین نہ ہو اور سب مل کر کہیں کہ تو اچھا آدمی ہے اور تو خوش نہ ہو بلکہ اپنے آپ کو کتاب خدا قرآن کے سامنے پیش کرو اور اچھائی اور برائی کے بارے میں قوانین وضوابط اس سے لو اور پھر تم دیکھو کہ تم کس گروہ میں سے ہو۔ (6) یہ احادیث ان لوگوں کے نظریات پر خط بطلان کھینچتی ہے جو صرف نام پر گزارا کرتے ہیں مگر عمل اور مکتبی ارتباط کی ان میں کوئی خبر نہیں، یہ احادیث وضاحت سے ثابت کرتی ہیں کہ خدائی پیشواؤں کے مکتب ان کی بنیاد مکتب پر ایمان اور اس کے پروگراموں کے مطابق عمل کرنا ہے اور تمام چیزوں کو اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیئے ۔ ۴۸ قِیلَ یَانُوحُ اھْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلیٰ اٴُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ وَاٴُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِنَّا عَذَابٌ اٴَلِیمٌ۔ ۴۹ تِلْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیھَا إِلَیْکَ مَا کُنتَ تَعْلَمُھَا اٴَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِینَ۔ ترجمہ ۴۸۔ (نوح سے) کہاگیا: اے نوح ! سلامتی اور برکت کے ساتھ جو تجھ پر اور تیرے ساتھ موجود تمام امتوں پر ہے اتر آؤ کچھ ایسی امتیں ہیں جنہیں ہم اپنی نعمتوں سے سرفراز کریں گے اس کے بعد انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا ۔ ۴۹۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی (اے پیغمبر !)ہم تجھ پر وحی کرتے ہیں اور انھیں اس سے پہلے نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم لہٰذا صبر اور استقامت سے کام لو کیونکہ عاقبت پرہیزگاروں کے لئے ہے ۔ ۱۔تفسیر صافی مذکرہ آیات کے ذیل میں ۔ ۲۔ سفینة البحار، ج۲، ص ۳۱۸۔ ۳۔ وسائل، ج ۱۲، ص ۵۳۔ 4۔ بحار، ج۱۵، حصہ اخلاق (طبع قدیم) ۔ 5 اصول کافی، ج۲، ص ۱۶۴۔ 6۔ سفینة البحار، ج۲، ص ۴۹۱۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:45-47
۱۔ حضرت نوح (علیه السلام)کا بیٹا کیوں ”عمل غیر صالح “ تھا؟
بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس آیت میں ایک لفظ مقدر ہے اور اصل میں اس کا مفہوم اس طرح ہے: ”انہ ذو عمل غیر صالح“۔ یعنی تیرا بیٹا غیر صالح عمل والاہے ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بعض اوقات انسان کسی کام میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ گویا عین ومل ہوجاتا ہے، مختلف زبانوں کے ادب میں یہ چیز بہت نظر آتی ہے، مثلا ًکہا جاتا ہے: فلاں شخص سراپا ودل وسخاوت ہے یا فلاں شخص سراپا فساد ہے، گویا وہ اس عمل میں اس قدر غوطہ زن ہے کہ اس کی ذات عین وہی عمل ہوچکی ہے، یہ پسر نبی بھی بروں کی صحبت میں اس قدر بیٹھا اور برے اعمال اور ان کے غلط افکار میں اس طرح غوطہ زن ہوا کہ گویا اس وجود ایک غیر صالح عمل میں بدل گیا ۔ لہٰذا مندرجہ بالا تعبیر اگرچہ بہت ہی مختصر ہے لیکن ایک اہم حقیقت کی عکاس ہے، یعنی اے نوح ۱ اگر برائی، ظلم اور فساد اس بیٹے کے وجود میں سطحی طور پر ہوتا تو اس کے بارے میں امکان شفاعت تھا لیکن اب جب کہ یہ سراپا غرق فساد وتباہی ہے تو اہل شفاعت نہیں رہا، اس کی بات ہرگز نہ کرو۔ یہ جو بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ حقیقتاً یہ آپ کا بیٹا نہیں تھا (یا غیر شرعی بیٹا تھا یا آپ کی بیوی کا دوسرا شوہر سے غیر شرعی بیٹا تھا) ۔ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ”انہ عمل غیر صالح“کا جملہ در حقیقت”انہ لیس من اھلک“ کے لئے علت وسبب کی طرح ہے، یعنی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ”تیرے اہل میں سے نہیںہے“ اس لحاظ پر ہے کہ کردار کے لحاظ سے تجھ سے جدا ہے، گرچہ اس کا نسب تجھ سے متصل ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:45-47
پسر نوح کا دردناک انجام
ہم پڑھ چکے ہیں کہ نوح کے بیٹے نے باپ کی نصیحت نہ سنی اور آخری سانس تک اس نے ہٹ دھرمی اور بے ہودگی کو نہ چھوڑا اور آخرکار طوفان کی موجوں میں گرفتار ہوکر غرق ہوگیا ۔ زیر بحث آیات میں اس داستان کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت نوح (علیه السلام) نے اپنے بیٹے کو موجوں کے درمیان دیکھا تو شفقت پدری نے جوش مارا، انھیں چاپنے بیٹے کی نجات کے بارے میں وعدہ الٰہی یاد آیا، انھوں نے درگاہ الٰہی کا رخ کیا اور کہا: پروردگارا! میرا بیٹا میرے اہل اور میرے خاندان میں سے ہے اور تونے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے خاندان کو طوفان اور ہلاکت سے نجات دے گا اور تو تمام حکم کرنے والوں سے برتر ہے اور تو ایفائے عہد کرنے میں محکم تر ہے ( وَنَادیٰ نُوحٌ رَبَّہُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِی مِنْ اٴَھْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاٴَنْتَ اٴَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ) ۔ یہ وعدہ اسی چیزکی طرف اشارہ ہے جو اسی سورہ کی آیہ ۴۰ میں موجود ہے جہاں فرمایا گیا: ُ قُلْنَا احْمِلْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاٴَھْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْل۔ ہم نے نوح کو حکم دیا کہ جانوروں کی ہر نوع میں سے ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اسی طرح اپنے خاندان کو سوائے اس شخص کے جس کی نابودی کے لئے فرمان کدا جاری ہوچکا ہے ۔ حضرت نوح (علیه السلام) نے خیال کیا کہ”الا من سبق علیہ القول“ سے مراد صرف ان کی بے ایمان اور مشرک بیوی ہے اور ان کا بیٹا کنعان اس میں شامل نہیں ہے لہٰذا انھوں نے بارگاہ خدا وندی میں ایسا تقاضا کیا ۔ لیکن فوراً جواب ملا، ہلا دینے والا جواب اور ایک عظیم حقیقت واضح کرنے والا جواب ، وہ حقیقت جو کہ جو رشتہٴ مکتب کو نسب اور خاندان کے رشتہ سے مافوق قرار دیتی ہے،”درمایا: اے نوح وہ تیرے اہل اور خاندان میں سے نہیں ہے“( قَالَ یَانُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ اٴَھْلِکَ)،”بلکہ وہ غیر صالح عمل ہے“( إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ )، وہ نالائق شخص ہے اور تجھ سے مکتبی اور مذہبی رشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے خاندانی رشتے کی کوئی اہمیت نہیں رہی ۔ اب جب ایسا ہے تو مجھ سے ایسی چیز کا تقاضا نہ کر جس کے بارے میں تجھے علم نہیں ”فَلَاتَسْاٴَلْنِی مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ )، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہوجا“(إِنِّی اٴَعِظُکَ اٴَنْ تَکُونَ مِنَ الْجَاھِلِینَ) ۔ حضرت نوح (علیه السلام) سمجھ گئے کہ یہ تقاضا بارگاہ الٰہی میں صحیح نہ تھا اور ایسے بیٹے کی نجات کو خاندان کی نجات کے بارے میں خدا کے وعدے میں شامل نہیں سمجھنا چاہیئے تھا، لہٰذا آپ نے درگاہ پرورگار کا رخ کیا اور کہا: ”پروردگارا! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس امر سے کہ تجھ کسی ایسی چیز کی خواہش کروں جس کا علم مجھے نہیں“( قَالَ رَبِّ إِنِّی اٴَعُوذُ بِکَ اٴَنْ اٴَسْاٴَلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِہِ عِلْمٌ ) ۔ اور اگر تونے مجھے نہ بخشا اور اپنی رحمت میرے شامل حال نہ کی تو میں زیاں کاروں میں سے ہوجاؤں گا (وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی اٴَکُنْ مِنَ الْخَاسِرِین) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:45-47
۲۔ حضرت نوح (علیه السلام) اپنے بیٹے کے بارے میں کیوں کر متوجہ نہ تھے؟
مندرجہ بالا آیت میں حضرت نوح (علیه السلام) کی گفتگو اور خدا کی طرف سے انھیں دئےے گئے جواب کی طرف توجہ کرنے سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) اس مسئلے کی طرف کیوں کر متوجہ نہ تھے کہ وعدہ الٰہی میں ان کا بیٹا شامل نہیں ۔ اس سوال کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ اس بیٹے کی کیفیت پوری طرح سے واضح نہ تھی کبھی وہ مومنین کے ساتھ ہوتا اور کبھی کفار کے ساتھ، اس کی منافقانہ چال ہر شخص کو ظاہراًاشتباہ میں ڈال دیتی تھی ۔ علاوہ ازیں اپنے بیٹے سے متعلق حضرت نوح (علیه السلام) کو شدید احساس مسئولیت تھا، پھر فطری اور طبعی لگاؤ بھی تھا جو ہر اباپ کو اپنے بیٹے سے ہوتا ہے اور انبیاء بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں یہی سبب ہے کہ آپ نے اس قسم کی درخواست کی لیکن جب آپ حقیقی صورت حال سے آگاہ ہوئے تو فوراً درگاہ خداوندی میں عذرخواہی اور طلب عفو کی اگرچہ آپ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا لیکن نبوت کے مقام اور حیثیت کا تقاضا تھا کہ آپ اپنی گفتارورفتار میں اس سے زیادہ متوجہ ہوتے، اتنی عظیم شخصیت ہونے کے باعث یہ آپ کا ترک اولیٰ تھا، اسی وجہ سے آپ نے بارگاہ خداوندی میں بخشش کا تقاضا کیا ۔ یہیں سے ایک اور سوال کا جواب بھی واضح ہوگیا اور وہ یہ کہ کیا انبیاء گناہ کرتے ہیں جب کہ وہ بخشش کی دعا کرتے ہیں ۔