حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ
When Our edict came and the oven gushed [a stream of water], We said, ‘Carry in it a pair of every kind [of animal], along with your family—except those [of them] against whom the edict has already been given—and those who have faith.’ And none believed with him except a few.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:40
[Pooya/Ali Commentary 11:40] When the ark was completed, Nuh received Allah's command to bring into the ark every living thing of all flesh, two of every sort, a male and a female to keep them alive with him, and his family and believers. Nuh's three sons with their families came into the ark but Kanan, one of his sons, born to a hypocrite wife, refused to come and was drowned when the great flood came. Aqa Mahdi Puya says: Tanur means oven, or the surface of the earth, or its high lands. The deluge was a wrath of Allah, so fierce and overwhelming that with the catastrophic downpour of rain, water simultaneously gushed forth from the underground, even from ovens in the houses of the people.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:40-43
آغاز طوفان
گذشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کس طرح حضرت نوح (علیه السلام) اور سچے مومنین نے کشتی نجات بنانا شروع کی اور انھیں کیسی کیسی مشکلات آئیں اور بے ایمان مغرور اکثریت نے ان کا کس طرح ان کا تمسخر اڑایا، اس طرح تمسخراڑانے والوںنے کس طرح اپنے آپ کو اس طوفان کے لئے تیار کیا جو سطح زمین کو بے ایمان مستکبرین کے نجس وجود سے پاک کرنے والا تھا ۔ زیر بحث آیات میں اس سر گزشت کے تیسرے مرحلے کے بارے میں ہیں، یہ آیات گویا اس ظالم قوم پر نزول عذاب کی بولتی ہوئی تصویریں ہیں ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ صورت حال یونہی تھی یہاں تک کہ ہمارا حکم صادر ہوا اور عذاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے ، پانی تنور کے اندر سے جوش مارنے لگا (حَتَّی إِذَا جَاءَ اٴَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ ) ۔ ”تنور“ (نون کی تشدید کے ساتھ) وہی معنی دیتا ہے جو آج کل فارسی زبان میں مستعمل ہے، یعنی روٹی پکانے کی جگہ۔ (۱) اس بارے میں کہ طوفان کے نزدیک ہونے سے تنور سے پانی کا جوش مارنا کیا مناسبت رکھتا ہے مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تنور سے پانی کا جوش مارنا خدا کی طرف سے حضرت نوح(علیه السلام) کے لئے ایک نشانی تھی تاکہ وہ اصل واقعہ کی طرف متوجہ ہوں اور اس موقع پر وہ اور ان کے اصحاب ضروری اسباب و وسائل لے کر کشتی میں سوار ہوجائیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں ”تنور“ مجازی اور کنائی معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ غضب الٰہی کے تنور میں جوش پیدا ہوا اور وہ شعلہ ور ہوا اور یہ تباہ کن خدائی عذاب کے نزدیک ہونے کے معنی میں ہے، ایسی تعبیریں فارسی اور عربی زبان میں استعمال ہوتی ہیں کہ شدت غضب کو آگ کے جوش مارنے اور شعلہ ور ہونے سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ ان احتمالات میں یہ احتمال زیادہ قوی ہوتا ہے کہ یہاں ”‘تنور“ اپنے حقیقی اور مشہور معنی میں آیا ہے اور ہوسکتا ہے اس سے مراد کوئی خاص تنور بھی ہو بلکہ ممکن ہے کہ اس سے یہ نکتہ بیان کرنا مقصود ہوکہ تنور جو عام طور پر آگ کا مرکز ہے جب اس میں سے پانی جوش مارنے لگا تو حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے اصحاب متوجہ ہوئے کہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اورانقلاب قریب تر ہے ۔یعنی کہاں آگ اور کہاں پانی ۔ بالفاظ دیگر جب انھوں نے یہ دیکھا کہ زیرزمین پانی کی سطح اس قدر اوپر آگئی ہے کہ وہ تنور کے اندر سے جو رعام طور پر خشک، محفوظ اوراونچی جگہ بنایا جاتا ہے، جوش ماررہاہے تو وہ سمجھ گئے کہ کوئی اہم امر درپیش ہے اور قدرت کی طرف سے کسی نئے حادثے کا ظہور ہے ۔ اور یہی امر حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے اصحاب کے لئے خطرے کا الارم تھا کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور تیار رہیں ۔ شاید غافل اور جاہل قوم نے بھی اپنے گھروں کے تنور میں پانی کو جوش مارتے دیکھا ہو بہرحال وہ ہمیشہ کی طرح خطرے کے ان پُر معنی خدائی نشانات سے آنکھ کان بند کئے گزرگئے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے آپ کو ایک لمحہ کے لئے بھی غور وفکر کی زحمت نہ دی کہ شاید شرف تکوین میں کوئی حادثہ پوشیدہ ہو اور شاید حضرت نوح (علیه السلام) جن خطرات کی خبر دیتے تھے ان میں سچائی ہو۔ اس وقت نوح کو” ہم نے حکم دیا کہ جانوروں کی ہر نوع میں سے ایک جفت (نر اور مادہ کا جوڑا) کشتی میں سوار کرلو“ تاکہ غرقاب ہوکر ان کی نسل منقطع نہ ہوجائے ( قُلْنَا احْمِلْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ)، ”اور اسی طرح اپنے خاندان میں سے جن کی ہلاکت کا پہلے سے وعدہ کیا جاچکا ہے ان کے سوا باقی افراد کو سوار کرلو نیز مومنین کو کشتی میں سوار کرلو“( وَاٴَھْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ)،” لیکن تھوڑے سے افراد کے سوا لوگ ان پر ایمان نہیں لائے تھے“، ( وَمَا آمَنَ مَعَہُ إِلاَّ قَلِیل) ۔ یہ آیت ایک طرف حضرت نوح (علیه السلام) کی بے ایمان بیوی اور ان کے بیٹے کنعان کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی داستان آئندہ آیات میں آئے گی کہ جنھوں نے راہ ایمان سے انحراف کیا اور گنہگاروں کا ساتھ دینے کی وجہ سے حضرت نوح (علیه السلام) اپنا رشتہ توڑ لیا، وہ اس کشتی میں سوار ہونے کا حق نہیں رکھتے تھے کیونکہ اس میں سوار ہونے کی پہلی شرط ایمان تھی ۔ دوسری طرف یہ آیت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) نے جو اپنے دین وآئین کی تبلیغ کے لئے سالہاسال بہت طویل اور مسلسل کوشش کی اس نتیجہ بہت تھوڑے سے افراد مومنین کے سوا کچھ نہ تھا بعض روایات کے مطابق ان کی تعداد صرف اسی افراد تھی یہاں تک کہ بعض نے تو اس سے بھی کم تعداد لکھی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس عظیم پیغمبر نے کس حد تک استقامت اور پامردی کا مظاہرہ کیا ہے کہ ان میں سے ایک ایک فرد کے لئے اوسطاً کم از کم دس سال زحمت اٹھائی، اتنی زحمت تو ہم لوگ اپنی اولاد تک کی ہدایت اور نجات کے لئے نہیں اٹھاتے ۔ بہرحال حضرت نوح (علیه السلام) نے جلدی سے اپنے وابستہ صاحب ایمان افراد اور اصحاب کوجمع کیا اور چونکہ طوفان اور تباہ کن خدائی عذابوں کا مرحلہ نزدیک آرہا تھا ”انھیں حکم دیا کہ خدا کے نام سے کشتی پر سوار ہوجاؤاور کشتی کے چلتے اور ٹھہرتے وقت خدا کانام زبان پر جاری کرو اور اس کی یاد میں رہو ( بِاِسْمِ اللهِ مَجْرَاھَا وَمُرْسَاھَا) ۔ (2) کیوںکہا گیا کہ ہر حالت میں اس کی یاد میں رہو اور اس کی یاد اور اس کے نام سے مدد لو”اس لئے کہ میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے“( إِنَّ رَبِّی لَغَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔ اس نے اپنی رحمت کے تقاضے سے تم اہل ایمان بندوں کو یہ وسیلہ نجات بخشا ہے اور اپنی بخشش کے تقاضے سے تمہاری لغزشوں سے درگزر کرے گا ۔ بالآخر آخری مرحلہ آپہنچا اور اس سرکش قوم کے لئے عذاب اور سزا کا فرمان صادر ہوا تیرہ وتار بادل جو سیاہ رات کے ٹکڑوں کی طرح تھے سارے آسمان پرچھا گئے اور اس طرح ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ہوئے کہ جس کی نظیر اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی تھی، پے در پے سخت بادل گرجتے خیرہ کن بجلیاں پورے آسمان پر کوندتیں آسمانی فضا گویا ایک بہت بڑے وحشتناک حادثے کی خبر دے رہی تھی ۔ بارش شروع ہوگئی اور پھر تیز سے تیزتر ہوتی چلی گئی، بارش کے قطرے موٹے سے موٹے ہوتے چلے گئے جیسا کہ قرآن سورہٴ قمر کی آیہ ۱۱ میں کہتا ہے: گویا آسمان کے تمام دروازے کھل گئے اور پانی کا سمندر ان کے اندر سے نیچے گرنے لگا ۔ دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی کہ ہر طرف سے پرجوش چشمے ابل پڑے، یوں زمین وآسمان کا پانی آپس میں مل گیا اور زمین، پہاڑ، دشت، بیابان اور درہ غرض ہرجگہ پانی جاری ہوگیا، بہت جلد زمین کی سطح ایک سمندر کی صورت اختیار کرگئی، تیز ہوئیں چلنے لگیں جن کی وجہ سے پانی کو کوہ پیکر موجویں امنڈنے لگیں اس عالم میں” کشتی نوح پیکر موجوں کا سینہ چیرتے ہوئے بڑھ رہی تھی“(وَھِیَ تَجْرِی بِھِمْ فِی مَوْجٍ کَالْجِبَالِ ) ۔ پسر نوح ایک طرف اپنے باپ سے الگ کھڑا تھا، نوح نے پکارا: میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ رہو ورنہ فنا ہوجاؤ گے (وَنَادیٰ نُوحٌ ابْنَہُ وَکَانَ فِی مَعْزِلٍ یَابُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنَا وَلَاتَکُنْ مَعَ الْکَافِرِینَ) ۔ پیغمبر بزرگوار حضرت نوح (علیه السلام) نے نہ صرف پاک کی حیثیت سے بلکہ ایک انتھک پر امید مربی کے طور پر آخری لمحے تک اپنی ذمہ داریوں سے دستبرداری نہ کی، اس امید پر کہ شاید ان کی بات سنگ دل بیٹے پر اثر کرجائے لیکن افسوس کہ بری ساتھی کی بات اس کے لئے زیادہ پر تاثیر تھی لہٰذا دلسوز پاک کی گفتگو اپنا مطلوبہ اثر نہ کر سکی، وہ ہٹ دھرم اورکوتاہ فکر تھا ، اسے گمان تھا کہ غضب خداکا مقابلہ بھی کیا جاسکتا تھا، اس لئے”اس نے پکار کر کہا: ابا! میرے لئے جوش میں نہ آؤ میں عنقریب پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جس تک یہ سیلاب نہیں پہنچ سکتا ( قَالَ سَآوِی إِلیٰ جَبَلٍ یَعْصِمُنِی مِنَ الْمَاءِ) ۔ نوح (علیه السلام) پھر بھی مایوس نہ ہوئے، دوبارہ نصیحت کرنے لگے کہ شاید کوتاہ فکر بیٹا غرور اور خود سری کے مرکب سے اتر آئے اور راہ حق پر چلنے لگے ”انھوں نے کہا: میرے بیٹے! آج حکم خدا کے مقابلے میں کوئی طاقت پناہ نہیں دے سکتی“( قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ )،”نجات صرف اس شخص کے لئے ہے رحمت خدا جس کے شامل حال ہو“(إِلاَّ مَنْ رَحِمَ) ۔ پہاڑ تو معمولی سی چیز ہے، خود کرہ ارض بھی معمولی سی چیز ہے، سورج اور تمام نظام شمسی اپنی خیرہ کن عظمت کے باوجود خدا کی قدرت لایزال کے سامنے ذرہ بے مقدار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، کیا بڑے سے بڑے پہاڑ کرہ زمین کے مقابلے میں چھوٹے سے ابھار سے زیادہ رکھتے ہیں ان کی حیثیت تو ایسے ہے جیسے ناشپاتی کی بالائی سطح ہوتی ہے جب کہ خود زمین کی حیثیت یہ ہے کہ اسے ایک ملین اور دوہزار گنا بڑا کیا جائے تو پھر جاکر وہ کرہ آفتاب کے برابر ہوتی ہے ، وہ آفتاب آسمان میں جس کی حیثیت ایک معمولی سے ستارہ کی سی ہے جب کہ وسیع عالم خلقت میں اربوں کھربوں سارے موجود ہیں پس کس قدر خام خیالی ہے کہ پہاڑ پانہ دے سکے گا ۔ اسی دوران ایک موج اٹھی اور آگے آئی، مزید آگے بڑھی اور پسر نوح کو ایک تنکے کی طرح اس کی جگہ سے اٹھایا اور اپنے اندر درہم برہم کردیا اور باپ بیٹے کے درمیان جدائی ڈال دی اور اسے غرق ہونے والے میں شامل کردیا ( وَحَالَ بَیْنَھُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِینَ) ۔ ۱۔اردو میں بھی ”تنور“ کا یہی معنی مستعمل ہے ۔ (مترجم) 2۔ ”مجرا“ اور”مرسا“ دونوں اسم زمان ہیں اور ان کا معنی”چلتے وقت“ اور ”ٹھہرتے وقت“ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:40-43
۱۔ کیا طوفان نوح عالمگیر تھا:
بہت سی آیات کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کسی خاص علاقے کے لئے نہیں تھا بلکہ پوری زمین پر رونماہوا تھا کیونکہ لفظ ”ارض“ (زمین) مطلق طور پر آیا ہے: رَبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاٴَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا خداوندا! روئے زمین پر ان کافروں میں سے کسی کو زندہ نہ رہنے دے کہ جن کے بارے میں اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے ۔ (نوح: ۲۶) اسی طرح ہود کی آیہ ۴۴ میں یوں ہے: وَقِیلَ یَااٴَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ ۔۔۔۔ اپنے زمین اپنا پانہ نگل لے بہت سی تواریخ سے بھی طوفان نوح کے عالمگیر ہونے کی خبر ملتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ موجودہ تمام نسلیں حضرت نوح (علیه السلام)کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث کی اولادمیں سے ہیں جو کہ زندہ رہے تھے ۔ طبیعی تاریخ میں سیلابی بارشوں کے نام سے ایک دور کا پتہ چلتا ہے، اس دور کو اگر لازمی طورپر جانداروں کی پیدائش سے قبل سے مربوط نہ سمجھے تو وہ بھی طوفان نوح پر منطبق ہوسکتا ہے ۔ زمین کی طبیعی تاریخ میں یہ نظر بھی ہے کہ کرہ زمین کا محور تدریجی طور پر تغیر پیدا کرتا ہے یعنی قطب شمالی اور قطب جوبی خط استوا میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور خط استوا قطب شمالی اور قطب جنوبی کی جگہ لے لیتا ہے، واضح ہے کہ جب قطب شمالی وجنوبی میں موجود بہت زیادہ برف پگھل پڑے تو دریاؤں اور سمندروں کے پانی کی سطح اس قدر اوپر آجائے گی کہ بہت سی خشکیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور پانی زمین جہاں جہاں اسے گنجائش ملے گی ابلتے ہوئے چشموں کی صورت میں نکلے گا، پانیوں کی یہی وسعت بادلوں کی تخلیق کا سبب بنتی ہے اور پھر زیادہ سے زیاہ بارشیں انھیں بادلوں سے ہوتی ہیں ۔ یہ امر کہ حضرت نوح (علیه السلام) زمین کے جانوروں کے نمونے بھی اپنے ساتھ لئے تھے طوفان کے عالمگیر ہونے کا مویدہے ۔ جیسا کہ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح(علیه السلام) کوفہ میں رہتے تھے دوسری طرف بعض روایات کے مطابق طوفان مکہ اور خانہ کعبہ تک پھیلا ہوا تھا تو یہ صورت بھی اس بات کی موید ہے کہ طوفان عالمگیر تھا ۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود اس امر کی بھی بالکل نفی نہیںکی جاسکتی کہ طوفان نوح ایک منطقے کے ساتھ مخصوص تھا کیوں لفظ”ارض“ (زمین) کا اطلاق قرآن میں کئی مرتبہ زمین کے ایک وسیع قطعے پر بھی ہوا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی سرگزشت میں ہے: وَاٴَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاٴَرْضِ وَمَغَارِبَھَا ۔ ہم نے زمین کے مشارق اور مغارب بنی اسرائیل کے مستضعفین کے قبضے میں دئےے ۔ (اعراف:۱۳۷) کشتی میں جانوروں کو شاید اس بنا پر رکھا گیا ہو کہ زمین کے اس حصے میں جانوروں کی نسل منقطع نہ ہو خصوصا اس زمانے میں جانوروں کا دور دراز علاقوں سے منتقل ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ (غور کیجئے گا) اسی طرح دیگر مذکوہ قرائن اس بات پر منطبق ہوسکتے ہیں کہ طوفان نوح ایک منقطعہ ارض پر آیا ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ طوفان نوح تواس سرکش قوم کی سزا اور عذاب کے طور تھا اور ہمارے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں جس کی بنا پر یہ کہا جاسکے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کی دعوت تمام روئے زمین پہنچی تھی ۔ اصولی طور پر اس زمانے کے وسائل وذرائع کے ساتھ ایک پیغمبر کی دعوت کا (اس کے اپنے زمانے میں)زمین کے تمام خطوں اور علاقوں تک پہنچنا بعید نظر آتا ہے ۔ بہر حال اس عبرت خیز واقعے کو بیان کرنے سے قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اہم تربیتی نکات بیان کئے جائےں جو اس میں چھپے ہوئے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہ واقعہ عالمی ہویا کسی ایک علاقے تعلق رکھتا ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:40-43
۳۔طوفان نوح میں عبرت کے درس
جیسا کہ ہم جانتے ہیں قرآن گذشتہ لوگوں واقعات درس عبرت دینے کے لئے اور اصلاح وتربیت کے لئے بیان کرتا ہے، ہم نے حضرت نوح (علیه السلام) کی داستان کا جتنا حصہ پڑھا ہے اس میں بہت سے درس پوشیدہ ہیں، ان میں سے ہم بعض کی ذیل میں اشارہ کرتے ہیں ۔ الف۔ روئے زمین کو پاک کرنا:یہ صحیح ہے کہ خدا رحیم اور مہربان ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ وہ اس کے باجود حکیم بھی ہے، اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی قوم وملت فاسد ہوجائے اور نصیحت کرنے والوں اور تربیت کرنے والے خدائی نمائندوں کی دعوت ان پر اثر نہ کرے تو انھیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، ایسے مواقع پر خدائے تعالیٰ بالآخر معاشرتی یا طبیعی اور فطری انقلابات کے ذریعے ان کی زندگی کے کارخانے کو درہم برہم کر کے انھیں نابود کردیتا ہے ۔ یہ بات نہ قوم نوح میں منحصر تھی اور نہ کسی اور زمانے یا معین وقت میں، یہ ہرزمانے اور ہرقوم کے لئے ایک خدائی سنت ہے یہاں تک کہ ہمارے زمانے کے لئے بھی اور ہوسکتا ہے پہلی اور دوسری عالمی جنگیں اس پاک سازی کی مختلف شکلیں ہوں ۔ ب۔طوفان کے ذریعے انقلاب کیوں؟: یہ صحیح ہے کہ ایک فاسد اور بری قوم کو نابود ہونا چاہیئے چاہے وہ کسی ذریعے سے نابود ہو اس میں فرق نہیں پڑتا لیکن آیاتِ قرآنی میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عذاب وسزا اور قوموں کی گناہوں میں ایک قسم کی مناسبت تھی اور ہے ۔ (غور کیجئے ) فرعون نے عظیم دریائے نیل اور اس کے پر برکت پانی کو اپنی قوت وطاقت کا ذریعہ بنا رکھا تھا ، یہ بات جاذب نظر ہے کہ وہی اس کی نابودی کا سبب بنا ۔ نمرود کو اپنے عظیم لشکر پر بھروسہ تھا اور ہم جانتے ہیں کہ حشرات الارض کے چھوٹے سے لشکر نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو شکست دی ۔ قوم نوح زراعت پیشہ تھی ان کی کثیر دولت کا دارومدار زراعت پر ہی تھا ہم جانتے ہیں کہ ایسے لوگ اپنا سب کچھ بارش کے حیات بخش قطروں کو سمجھتے ہیں لیکن آخرکاربارش ہی نے انھیں تباہ وبرباد کردیا ۔ یہاں سے اچھی طرح واضح ہوگیا کہ خدائی فیصلوں میں کس قدر تدبیر اور تدبر کارفرما ہوتا ہے، اسی طرح اگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے سرکش انسان پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے جدید ترین اسلحوں کے ذریعے نیست ونابود ہوتے ہیں تو یہ بات ہمارے لئے باعث تعجب نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ پسے ہوئے محروم انسانوں کے وسائل لوٹنے کے لئے ان کی استعماری طاقتوں نے اپنی اس ٹیکنالوجی اور مصنوعات پر ہی بھروسہ کررکھا تھا ۔ ج۔خدا کا نام۔ہر حالت میں او رہر جگہ: مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ خدا کا نام کشتی کے رکتے اور چلتے وقت فراموش نہ کریں، سب کچھ اس کے نام سے، اس کی یاد کے ساتھ اور اس کی پاک ذات سے مدد طلب کرتے ہوئے ہونا چاہیئے، ہر حرکت، ہر سکون میں، حالت آرام میں اور طوفان میں سب کچھ اسی کے نام سے شروع ہونا چاہیئے کیونکہ جو کام اس کے نام کے بغیر شروع ہوگا وہ ابتر اور دم بریدہ ہوگا، جیسا کہ رسول اللہ کی مشہور حدیث میں ہے: کل امر ذی بال لم یذکر فیہ بسم اللّٰہ فھوابتر۔ ہر اہم کام جس میں نام خدا نہ لیا جائے بد انجام اور دم بریدہ ہوگا ۔ (1) اہم بات یہ ہے کہ نام خدا کا ذکر تکلفات اور تشریفات کے لئے نہ ہو بلکہ مقصد کے طور پر ہو یعنی جو کام خدائی مقصد کے تحت نہیں ہوگا اور اس کا ہدف خدا نہیں ہوگا وہ ابتر اور دم بریدہ ہوگا کیونکہ سارے مقاصد تو ختم ہوجاتے ہیں لیکن الٰہی مقاصد ختم ہونے والے نہیں ہوتے، مادی اہداف جب اپنے کمال کو پہنچ جائیں تو ختم ہوجاتے ہیں لیکن خدائی اہداف اس کی پاک ذات کی طرح دائمی اور جاوداں ہوتے ہیں ۔ د۔ کمزور سہارے: عام طور پر ہر شخص اپنی زندگی کی مشکلات میں کسی چیز کا سہارا لیتا ہے اور پناہ گاہ ڈھونڈتا ہے، کچھ لوگ اپنی دولت وثروت کو سہارا سمجھتے ہیں، کچھ مقام ومنصب کو، کچھ اپنی جسمانی طاقت کو اور بعض اپنی قوت فکر کو، لیکن جیسا کہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہیں اور تاریخ نشاندہی کرتی ہے حکم خدا کے سامنے ان میں سے کسی چیز کی ذرہ برابر حیثیت نہیں ہے، ارادہ الٰہی کے سامنے ان میں سے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی جیسے تار عنکبوت شدیدآندھی میں فوراً درہم برہم ہوجاتی ہے ۔ پیغمبر خدا حضرت نوح (علیه السلام) کا نادان اور سرپھرا بیٹا بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھا، اس کا خیال تھا کہ خدا کے طوفان غضب کے مقابلے میں پہاڑ اسے پناہ دے گا لیکن یہ اس کا کتنا بڑا اشتباہ تھا، طوفان کی ایک لہر نے اس کا کام تمام کردیا اور اسے ملک عدم میں پہنچا دیا، یہی وجہ ہے کہ ہم بعض دعاؤں میں پڑھتے ہیں : ھا رب منک الیک۔ (2) میں تیرے غضب سے تیری طرف بھاگتاہوں ۔ یعنی اگر تیرے غضب کے مقابلے میں کوئی پناہ گا ہے تو وہ بھی تیری ذات پاک ہے اور بازگشت تیری ہی طرف ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔ ر۔کشتئی نجات: کشتئی نجات کے بغیرکسی طوفان سے نہین بچا جاسکتا، ضروری نہیں کہ وہ کشتی لکڑی اور لوہے کی بنی ہو بلکہ بعض اوقات یہ کشتی ایک کارساز، حیات بخش اور مثبت مکتب ومذہب ہوتا ہے جو انحرافی افکار کی طوفانی موجوں سے مقابلہ کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو ساحل نجات تک پہنچا دیتا ہے، اسی بنا پر شیعہ اور سنی کتب میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے جو روایات نقل ہوئی ہیں ان میں آپ کے خاندان یعنی ائمہ اہل بیت (علیه السلام) اور حاملین مکتب اسلام کا”کشتئی نجات“ کی حیثیت سے تعارف کروایا گیا ہے ۔ حنش بن مغیرہ کہتا ہے: میں ابوذر کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس آیا ، ابوذر نے بیت اللہ کے دروازے کے حلقہ میں ہاتھ ڈالا اور بلند آواز سے کہا: میں ابوذر ہوں جو شخص مجھے نہیں پہچانتا پہچان لے، میں وہی جندب ہوں (ابوذر کا اصلی نام جندب تھا)، میں رسول اللہ کا صحابی ہوں ، میں نے اپنے کان سے آپ کو کہتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: مثل اھل بیتی مثل سفینة نوح من رکبھا نجیٰ۔ یعنی ۔ میرت اہل بیت کی مثال کشتیٴ نوح کی سی ہے جو اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی ۔ (3) حدیث کے دوسرے طرق میں اس جملے کا اضافہ ہوا ہے: فمن تخلف عنھا غرق۔ اور جو اس سے دور رہا اور جس نے تخلف کیا وہ غرق ہوا ۔ (4) بعض جگہ یہ جملہ بھی ہے: من تخلف عنھا ھلک۔ (5) یعنی ۔ جو اس سے دور رہا وہ ہلاک ہوا ۔ رسول خدا کی یہ حدیث صراحت سے کہتی ہے کہ جس وقت فکری، عقائدی اور معاشرتی طوفان اسلامی معاشرے کا رخ کریں تو ایسے میں واحد راہ نجات اس میں مکتب میں پناہ لینا ہے، اس مسئلے کو ہم نے ملت ایران کے عظیم الشان انقلاب میں اچھی طرح سے آزمایا ہے کہ غیر اسلامی مکاتب کے پیروکاروں نے طاغوت کے مقابلے میں شکست کھائی اور صرف وہی لوگ کامیاب ہوئے جنھوں نے پناہ گاہ اسلام اور اہل بیت (علیه السلام) کے مکتب اور ان کے انقلابی پروگراموں کو بنایا ۔ ۴۴ وَقِیلَ یَااٴَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ وَیَاسَمَاءُ اٴَقْلِعِی وَغِیضَ الْمَاءُ وَقُضِیَ الْاٴَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ۔ ترجمہ ۴۴۔اور کہا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان رک جا، اور پانی نیچے چلا گیا اور معاملہ ختم ہوگیا اور وہ (کشتی) جودی (پہاڑ کے دامن) میں ٹھہرگئی اور (اس وقت )کہا گیا: دور ہو ظالم قوم۔ 1۔ سفینة البحار، ج۱، ص ۶۶۳۔ 2۔ دعائے ابوحمزہ ثمالی ۔ 3۔ ابن قیتبہ دینوری جو مشہور علماء اہل سنت میں سے ہیں انھوں نے یہ حدیث عیون الاخبار ، ج۱، ص ۲۱۱ پر لکھی ہے ۔ 4۔ معجم الکبیر تالیف حافظ طبرانی، ص۱۳۰، (مخطوط) 5۔ یہ حدیث بہت سے علماء اہل سنت مثلا ًحاکم نیشاپوری نے مستدرک میں ، ابن منازلی نے مناقب امیرالمومنین میں، علامہ خوارزمی نے مقتل الحسین میں، حموینی نے فرائد المسلمین۰ میں اور دیگر بہت سے علماء نے اپنی کتب میں نقل کی ہے (مزید وضاحت کے لئے احقاق الحق ، ج۹، ص ۲۸۰، طبع جدید کی طرف رجوع فرمائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:40-43
۲۔ کیا نزول عذاب کے بعد توبہ ممکن ہے؟:
گذشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) طوفان شروع ہونے کے بعد تک اپنے بیٹے کو تبلیغ کرتے رہے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اگر وہ ایمان لے آتا تو اس کا ایمان قابل قبول ہوتا، یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن کی دوسری آیات کی طرف توجہ کرنے سے ، جن کے کچھ نمونے بیان کئے جاچکے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ عذاب نازل ہونے کے بعد توبہ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں کیونکہ ایسے مواقع پر تو اکثر سرکش گنہگار جو اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیتے ہیں بے اختیار ہوتے ہیں اور اضطرار کی حالت میں توبہ کرتے ہیں، ایسی توبہ جس کی کوئی قدر قیمت، اہمیت اور وقعت نہیں، ایسی توبہ جس کا کوئی مفہوم نہیں ۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ آیات بالا میں غور فکر کرنے سے اس سوال کا جواب اس طرح سے مل سکتا ہے کہ آغاز طوفان میں عذاب کی کوئی واضح نشانی موجود نہیں تھی بلکہ تیز اور اور غیر معمولی بارش نظر آتی تھی اسی تو نوح (علیه السلام) کے بیٹے نے اپنے باپ سے کہا کہ میں پہاڑ کی پناہ لے لوں گاتاکہ غرق ہونے سے بچ جاؤں ، اسے یہ گمان تھا کہ بارش اور طوفان ایک طبیعی چیز ہے، ایسے مواقع پر توبہ کے دروازوں کا کھلا ہونا کوئی عجیب مسئلہ نہیں ۔ دوسرا سوال جو حضرت نوح (علیه السلام) کے بیٹے سلسلے میں کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام)نے اس حساس موقع پر صرف اپنے بیٹے کو کیوں پکارا سب لوگوں کو دعوت کیوں نہ دی، ہوسکتا ہے یہ اس بنا پر ہو کہ وہ عمومی دعوت کا فریضہ سب کے لئے یہان تک کہ بیٹے کے لئے بھی انجام دے چکے تھے لیکن بیٹے کے بارے میں ان کی ذمہ داری زیادہ ہو کیونکہ وہ اس کے لئے نبی ہونے کے علاوہ باپ ہونے ہونے کے حوالے سے بھی مسئولیت رکھتے تھے، اسی بنا پر اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے آخری لمحات میں اپنے فرزند کے لئے مزید تاکید کررہے تھے ۔ بعض مفسرین کے بقول یہاں ایک احتمال اور بھی ہے اور وہ یہ کہ پسر نوح اس وقت نہ کفار کی صف میں تھا اور نہ مومنین کی صف میں، جملہ”وکان فی معزل“(وہ گوشہ تنہائی میں کھڑا تھا ) کو انھوں نے اس کی دلیل قرار دیا ہے، اگرچہ وہ مومنین کی صف میں شامل نہ ہونے کہ وجہ عذاب کا مستحق تھا لیکن کفار کی صف سے اس کی کنارہ کشی کا تقاضا تھا کہ طریق تبلیغ سے اس کے ساتھ لطف ومحبت کا اظہار کیا جاتا ہے، علاوہ ازیں کفار کی صف سے اس کی علحیدگی نے حضرت نوح (علیه السلام) یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید وہ اپنے کام سے پشیمان ہوچکا ہے ۔ آئندہ کی آیات پر توجہ کرنے سے یہ احتمال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پسر نوح صراحت سے اپنے باپ کی مخالفت نہیں کرتا تھا بلکہ ”منافقین“ کی صورت میں تھا اور بعض اوقات آپ کے سامنے اظہار موافقت کرتا تھا، ایسی لئے حضرت نوح (علیه السلام) نے کدا سے اس کے لئے نجات کا تقاضا کیا ۔ بہرحال مندرجہ بالا آیت ان آیات کے منافی نہیں ہے جو کہتی ہیں کہ نزول عذاب کے وقت توبہ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔