إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
Indeed We have given you abundance.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 108:1
[Pooya/Ali Commentary 108:1] When the Holy Prophet's son, Tahir, born to Khadijah al Kubra, died, Amr bin As and Hakam bin As taunted the Holy Prophet by calling him abtar-tail-less, whose progeny has been cut off. This surah was revealed to give glad tidings to the Holy Prophet that abundance of unbounded grace, wisdom and knowledge, mercy and goodness, spiritual power and insight, in highest degrees, and of progeny has been given to him. It is mentioned in Sahih Bukhari, Sahih Muslim, Musnad of Ahmad ibn Hambal and other books of renowned Sunni scholars that the Holy Prophet said: "Kawthar is a stream of super excellence, exclusively belonging to me. Only the righteous believers (among my followers) will be allowed to drink from it. Ali shall distribute the water from it to them. On the day of judgement I will see some of my companions driven, like cattle, away from Kawthar. It will be announced that they are those who, after my departure from the world, deviated from the true religion and introduced innovations (based upon conjecture) to corrupt the faith." From that day Ali was known and referred to by the companions as saqi al kawthar. Kawthar also means abundance of descendants. The countless descendants of the Imams of the Ah ul Bayt, in the progeny of Ali and Fatimah are known as sayyids. They are the descendants of the Holy Prophet. Aqa Mahdi Puya says: This chapter guarantees abundance in every type of growth and profit to the Holy Prophet. In gratitude of the grant of "abundance", the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt demonstrated highest standard of devotion in prayers and in giving everything they had in the cause of Allah. The sacrifice of Imam Husayn, his grandson, has been described as dhibin azim in verse 107 of Saffat (see commentary 3. For their salat see commentary of Baqarah: 3, 43, 45; Ta Ha: 132. In some degree or other, according to the grade of their submission, all the believing men and women receive some portion from the "abundance" given to the Holy Prophet, therefore they are commanded to pray salat regularly and sacrifice whatever they have in the cause of Allah whenever necessary. Aqa Mahdi Puya says: Nahr, in verse 2, means sacrifice. It may also mean "raising of hands" in prayer whenever Allahu akbar is said. In verse 3 it is said that the enemies of the Holy Prophet (and his Ahl ul Bayt as explained in the commentary of Baqarah: 2 to 5, page 51) will be lost in oblivion. It is a divine prophesy.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 108:1-3
Ladies visting shrines of Divine Lights should strictly observe Pardah, circumperambulation about the shrine by the faithful is highly appreciated and the first to was Dhul Janah. They should also avoid when men congregate densely. Intercession depends on sincere affection of Ahl al-Bayt, displayed by participation in their sorrows and joys (such as birthdays) by Shias who uphold every member (young or old) who participated in the Tragedy of karbala, holding like attributes, proving them on the eventful day and after.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 108:1-3
۳۔ خُدا کے لیے جمع کی ضمیر کس لیے ہے؟
قا بل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں بھی اور قرآن مجید کی اور بہت سی دوسری آیات میں بھی صیغہ” متکلم مع الغیر“( جمع متکلم) کے ساتھ اپنا ذکر کرتا ہے فرماتا ہے:”ہم“ نے تجھے کوثر عطا کیایہ تعبیر اور اس قسم کی تعبیریںعظمت و قدرت کو بیان کرنے کے لیے ہوتی ہیں کیو نکہ بزرگ اور بڑی ہستیاں جب اپنے بارے میں بات کرتی ہیں، تووہ صرف اپنے بارے میںہی نہیں، بلکہ اپنے ماموریں کا رندو ں کے بارے میں بھی خبر دیتی ہیں، اور یہ قدرت و عظمت اور ان کے اوامرکے مقابلہ میں فرمانبر داری کرنے والوں سے کنا یہ ہے زیر بحث آیت میں لفظ ” ان “ بھی اس معنی پرایک دوسری تاکید ہے۔ ” اٰتیناک “ کے بجائے ” اعطیناک“ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ خدا نے پیغمبر کو کو ثر بخش دےا ہے اور عطا کردیا ہے ۔ اور یہ پیغمبر اکرم کے لئے ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ کو دشمنوں کی بیہودہ باتوں سے آپ کا قلب مبارک آزردہ نہ ہو ۔ اور آپ کے آہنی عزم میں سستی اور کماور کمزوری پیدا نہ ہونے پائے ۔ اور دشمن یہ جالیں کہ آپ کی تکیہ گاہ وہ خدا ہے ، جو تمام خیرات کا منبع ہے اور اس نے خیر کثیر آپ کو بخش دی ہے ۔ خدا ندا! ہمیں اس خیر کثیر کی بر کات سے جو تو نے اپنے پیغمبر کو مرحمت فرمائی ہے ، بے نصیب نہ کرنا ۔ پروردگارا ! تو جانتا کہ ہم آنحضرت اور آپ کی ذریت طاہرہ کو خلوص دل کو ساتھ دوست رکھتے ہیں ، لہٰذا ہمیں انہیں کے ساتھ محشور کرنا۔ بار الہٰا آنحضرت اور آپ کے دین و ائیں کی بہت بڑی عظمت ہے، اس عظمت و عزت و شوکت میں روز بروز اضافہ فرما۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 108:1-3
ہم نے تجھے فرا واں خیر و بر کت دی
اس تمام سورے میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے ( جیسا کہ سورہ والضحیٰ اور سورہ الم نشر ح میں ہے) اور تینوں سوروں کے اہداف و مقا صد میں سے ایک آنحضرت کے دل کو درد ناک انبوہ حوادث میں تسلی دینا اور دشمنوں کے بار بار لگائے ہوئے زبان کے زخموں کے مقا بلہ میں تشفی بخشنا ہے۔ پہلے فرماتا ہے:” ہم نے تجھے کو ثر عطا کیا“( اِنّا اعطینا ک الکوثر)” کوثر“ وصف ہے جو کثرت سے لیا گیا ہے، اور فراواں خیر وبرکت کے معنی میں ہے اور” سخی“ افراد کو بھی” کوثر“ کہا جا تا ہے۔ اس بارے میں کہ یہاں کوثر سے کیا مراد ہے، ایک روایت میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نازل ہوا، پیغمبر اکرم منبر پر تشریف لے گئےاور اس سورہ کی تلاوت فرمائی۔ اصحاب نے عرض کیا یہ کیا چیز ہے جو خدا نے آپ کو عطا فرمائی ہے؟ آپ نے فر مایا کہ یہ جنت میں ایک نہر ہے ،جو دودھ سے زیادہ سفید اور قدح( بلور) سے زیادہ صاف ہے، اس کے اطراف میں دُر و یا قو ت کے قبے ہیں ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ ا لسلام سے آیا ہے کہ آپ نے فر مایا: ” کوثر جنت میں ایک نہر ہے جو خدا نے اپنے پیغمبر کو ان کے فرزند( عبد اللہ جو آپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے) کے بدلے میں عطا کی ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد وہی” حوضِ کوثر“ ہے جو پیغمبر سے تعلق رکھتا ہے، اور جس سے مومنین جنت میں داخل ہونے کے وقت سیراب ہو گے۔ بعض نے اس کی نبوت سے تفسیر کی ہے، بعض دوسروں نے قرآن سے، بعض نے اصحاب و انصار کی کثرت سے اور بعض نے کثِر ت اولاد اور ذُریّت سے، جوسب آپ کی دُختر نیک اختر فا طمہ زہرا علیہا السّلام سے وجود میں آئی اور اس قدر بڑھ گئی ہے کہ حساب و شمار سے باہر ہو گئی ہے اور دامنِ قیا مت تک پیغمبر اسلام کے وجود کی یاد گار ہے۔ بعض نے اس کی ”شفا عت“ سے بھی تفسیر کی ہے اور اس سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث بھی نقل کی ہے یہاں تک کہ فخر رازی نے ” کو ثر“ کی تفسیر میں ” پندرہ قول“ نقل کیے ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اس وسیع معنی کے واضح مصادیق کا بیا ن ہے، کیو نکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے” کوثر“ ” خیر کثیر اور فراداں نعمت“ کے معنی میں ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ خدا وند تعا لیٰ نے پیغمبر اکرم کو بہت ہی زیادہ نعمتیں عطا فر مائی ہیں اور جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ان میںسے ہر ایک اس کے مصاد یق میں سے ایک واضح مصداق ہے اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مصداق ہیں، جنہیں آیت کی مصداقی تفسیر کے عنوان سے بیان کیا جا سکتا ہے- بہر حال تمام میدانوں میں پیغمبر اکرم کی ذات پر تمام نعمتیں۔ یہاں تک کہ دشمنوں کے ساتھ جنگوں میں آپ کی کامیابیوں میں،یہاں تک کہ آپ کی اُ مّت کے علماء جو ہر عصر اور ہر زمانہ میں قرآن واسلام کی مشعلِ فروزاں کی پا سداری کر تے ہیں، اوراسے دنیا کے ہر گوشہ میں لے جاتے ہیں۔ سب اس خیر کثیر میں شامل ہیں- اس بات کو نہیں بھولنا چا ہئیے کہ خدا اپنے پیغمبر سے یہ بات اس وقت کہہ رہا ہے کہ ابھی تک اس خیر کثیر کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسی خبر اور پیش گوئی تھی جو مستقبل بعید کے لئے کی جا رہی تھی۔ یہ ایک اعجاز آمیز اور رسو لِ اکرم کی دعوت کی حقا نیت کو بیان کرنے والی خبر ہے۔ اس عظیم نعمت اور خیر فر اداں کے لئے بہت ہی زیا دہ شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے، اگر چہ مخلوق کا شکر ادا کرنا خا لق کی نعمت کے حق کو ہر گز ادا نہیں کرتا، بلکہ شکر گزاری کی تو فیق اس کی طرف سے خُود ایک اور نعمت ہے، لہٰذا فرماتا ہے:” اب جب کہ ایسا ہے تو صرف اپنے پرور دگا ر کے لئے نماز پڑھ اور قر بانی دے “( فصل لربّک وانحر( ہاں! نعمت کا بخشنے والا وہی ہے اسی بناء پر نماز، عبادت اور قر بانی جو ایک قسم کی عبادت ہے، اس کے علاوہ کسی اور کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی خصو صاََ” رب “کے مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو نعمتوں کے دوام اور پروردگار کی تد بیر و ربو بیت کو بیان کرتا ہے خلا صہ یہ کہ” عبادت“ خواہ نماز کی صورت میں ، ہو یا قربانی کرنے کی صورت میںوہ رب اور ولی نعمت کے ساتھ ہی مخصوص ہے اور وہ خدا کی ذاتِ پاک سے وا بستہ ہے یہ بات مشرکین کے اعمال کے مقابلہ میں جو اپنی نعمتوںکوتو خدا ہی کی طرف سے سمجھتے تھے لیکن سجدہ اور قربانی بتوں کے لئے کر تے تھے بہر حال’ لربّک‘ کی تعبیر عبادات میں قصدِ قر بت کے لازم ہو نے کے مسئلہ پر ایک واضح دلیل ہے بہت سے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ نماز سے مرادعید قربان کے دن کی نماز ہے اور قربانی کرنا بھی اسی دن ہے لیکن ظاہراََ آ یت کا مفہوم عام اوروسیع اگر چہ عید کے دن کی نماز اور قر بانی بھی اس کا ایک وا ضح مصداق ہے۔ ”وانحر“” نحر“ کے مادّہ سے، اُو نٹ کو حلال کر نے کے ستاتھ مخصوص ہے۔ یہ بات شاید اس بناء پر ہے کہ قر با نیوں میں سے اونٹ کی قر بانی سب سے زیاد ہ اہمیت رکھتی تھی۔ اورپہلے پہل مسلمان اس سے زیادہ لگاوٴ رکھتے تھے اور اُونٹ کی قربانی دینا ایثار و قربانی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اوپر والی آیت کے لیے یہاں دو اور تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ ۱۔” وانحر “کے جملہ سے مراد نماز کے وقت رُو بقلیہ کھڑا ہو نا ہے، چو نکہ ” نحر“ کا مادّہ گلے والی جگہ کے معنی میں ہے اس کے بعد عربو ںنے اسے ہر چیز کے آمنے سامنے ہونے کے معنی میں استعمال کیا ہے ، لہٰذا وہ کہتے ہیں:” منا زلناتتناحر“یعنی ہمارے گھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ ۲۔ اس سے مراد تکبیر کے وقت ہاتھوں کو بلند کرنا اور گلے اور چہرے کے سامنے لانا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے:” جس وقت یہ سورہ نازل ہوا، تو پیغمبر اکرم نے جبرئیل سے سوال کیا:یہ ” نُحیرہ“ جس کے لئے میرے پروردگار نے مجھے مامور کیا ہے، کیا ہے؟” جبرئیل“ نے عرض کیا: ” یہ نحیرہ نہیں ہے، بلکہ خدا نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ جس وقت نماز میں داخل ہو تو تکبیر کہتے وقت اپنے ہاتھو ں کو بلند کریں، اور اسی طرح جب رکوع کریں، یا رکوع سے سر اُٹھا ئیں، یا سجدہ کریں، اس وقت بھی، کیو نکہ ہماری اور سات آسما نو ں کے فر شتو ں کی نماز اسی طرح کی ہے۔ اور ہر چیز کی ایک زینت ہوتی ہے، اور نماز کی زینت ہر تکبیر کے وقت ہاتھوں کو بلند کر نا ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السّلام سے آیا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کر تے ہوئے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ نماز کے آغاز میں ہاتھو ںکو اس طرح بلند کرو کہ ان کی ہتھیلیاں رُو بقبلہ ہو“ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے، کیو نکہ اس سے مراد بُت پرستوں کے اعمال کی نفی ہے جو غیر خدا کے لئے عبادت و قربانی کرتے تھے۔ لیکن اس کے با وجود ان تمام روایات اور مطالب کے درمیان جمع کرنا، جو اس سلسلہ میں ہم تک پہنچی ہیں کوئی مانع نہیںہے۔ خا ص طور سے تکبیرات کے وقت ہاتھ بلند کرنے کے سلسلہ میں تو شیعہ اور اہلِ سنّت کی کتا بوں میں متعدد روایات نقل ہوئی ہے۔ اس طرح سے ایک آیت جا مع مفہو م رکھتی ہے جو ان کو بھی شامل ہے۔ اور اس سورہ کی آخری آیت میں، اس نسبت کی طرف تو جہ دیتے ہوئے، جو شرک کے سر غنے آنحضرت کی طرف دیتے تھے، فرماتا ہے :” اَ بتر اور بلا عقب و مقطوع النسل نہیں ہے۔ بلکہ تیرا دشمن اَبتر، بلا عقب اور مقطوع النسل رہے گا۔“( انّا شا نئک ھو الابتر) ” شا نی“ ”شنئان“ ( بر وزن ضربان) کے مادّہ سے عداوت و دشمنی، کِینہ ورزی اور بد خلقی کر نے کے معنی میںہے اور ” شا نی“ اس شخص کو کہتے ہیں جو اس صفت کا حامل ہو۔ قا بِل تو جہ بات یہ کہ ” ابتر “ اصل میں ” دُم کٹے جا نور“ کے معنی میں ہے، اور دُ شمنانِ اسلام کی طرف سے اس تعبیر کا انتخاب آنحضرت کی ہتک حرمت اور تو ہین کر نے کے لئے تھا۔ اور” شانی “ کی تعبیر اسی و اقعیت کو بیان کرتی ہے کہ وہ اپنی دشمنی میں کم سے کم آداب کی رعا یت تک بھی نہیں کرتے تھے۔ یعنی ان کی عداوت و دشمنی قساوت و ر ذالت سے آمیختہ تھی۔ حقیقت میں قرآن یہ کہتا ہے کہ یہ لقب خود تمہارا ہے نہ کہ پیغمبر اکرم کا۔ دوسری طرف۔ جیسا کہ سو رہ کی شانِ نزول میں بیان کیا گیا ہے۔ قر یش پیغمبر اکرم ، اور اسلام کی بسا ط کے اُلٹ جانے کے انتظار میں تھے، کیو نکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کے پیچھے کوئی او لاد نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ تو بلا عقب اور بے اولاد نہیں ہے بلکہ تیرے دشمن ہی بلا عقب اور بے اولاد ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 108:1-3
۱۔ حضرت فاطمہ او ر ”کوثر“
ہم بیان کر چکے ہیں کہ ” کو ثر “ ایک عظیم جا مع ااور وسیع معنی رکھتا ہے۔اوروہ” خِیرکثیر و فراداں ہے“ او ر اس کے بہت زیادہ مصادیق ہیں۔ لیکن بہت سے بزرگ شیعہ علماء نے واضح ترین مصادیق میں سے ایک مصداق” فا طمہ زہرا“( سلام اللہ علیہا) کے وجود مبارک کو سمجھا ہے۔ چو نکہ آیت کی شانِ نزول سے ظاہر ہے کہ دشمن پیغمبرِاکرم کو ابتر اور بلا عقب ہو نے سے متہم کرتے تھے۔ قرآن ان کی بات کی نفی کے ضمن میں کہتا ہے:” ہم نے تجھے کو ثر عطا کیا ہے“ اس تعبیر کا مطلب یہی بنتا ہے کہ یہ” خیر کثیر“ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہی ہیں کیو نکہ پیغمبر کی نسل اور ذریت اسی دُخترِ گرامی کے ذر یعے سا رے عالم میں منتشر ہوئی، جو نہ صرف پیغمبر کی جسمانی او لاد تھی بلکہ انہوں نے آپ کے دین اور اسلام کی تمام اقدار کی حفاظت کی اور اسے آنے والوں تک پہچایا۔ نہ صرف اہلِ بیت کے آئمہ معصومین، جن کی اپنی ایک مخصوص حیثیت تھی، بلکہ ہزارہا فرزندانِ فا طمہ عالم میں پھیل گئے، جن میں بڑے بڑے بزرگ علماء مئو لفین،فقہا،محدّ ثین، مفسّرین والا مقام، اور عظیم حکمران ہو گزرے ہیں جنہوں نے ایثار و قر بانی اور فدا کاری کے ساتھ دینِ اسلام کی حفاظت کی کو شش کی۔یہاںپر” فخر رازی“ کی ایک عمدہ بحث ہمارے سامنے آئی ہے جو اُس نے کوثر کی مختلف تفسیروں کے ضمن میں بیان کی ہے:تیسرا قول یہ ہے کہ یہ سورہ ان لوگوں کے ردّ کے عنوان سے نازل ہواہے جو پیغمبر اکرم کی اولاد کے نہ ہونے پر طعن و طنز،اور تنقید و اعتراض کرتے تھے۔ اس بنا ء پر سورہ کا معنی یہ ہوگا کہ خدا آپ کو ایسی نسل دے گا جو زمانئہ دراز تک باقی رہے گیغور تو کرو کہ لوگوں نے اہلِ بیت کے کتنے افراد کو شہید کیا لیکن اس کے با وجود دُنیا اُن سے بھری پڑی ہے جب کہ بنی اُمیہ میں سے( جو اسلام کے دشمن تھے) کوئی قابل ذکر شخص دنیا میں باقی نہیں رہا پھر آنکھ کھول کر دیکھ اور غور کر کہ فاطمہ کی اولاد کے در میان باقر و صادق و رضاو نفسِ ذکیہ / جیسے کتنے عظیم اور بزرگ علماء ہوئے ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 108:1-3
۲۔ اس سورہ کا اعجاز
در حقیقت اس سورہ میں تین پیشین گوئیاں، بیا ن کی گئی ہے ایک طرف پیغمبر کو خیر کثیر عطا کر نے کی خوش خبری دیتی ہے ( اگر چہ ” اعطینا“ فعل ما ضی کی صورت میں ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ مضارع مسلّم کی قسم سے ہو، جو ماضی کی صورت میں بیان ہوا ہے) اور یہ خیر کثیر ان تمام فتو حات، کا میا بیوں اورتوفیقات کو شامل ہے جو پیغمبر اکرم کو بعد میں نصیب ہوئی ہے اگر چہ وہ مکہ میں اس سورہ کے نزول کے وقت پیش بینی کے قا بل نہیں تھیں دوسری طرف یہ سورة اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ پیغمبر اکرم بے اولاد، بلا عقب اور مقطوع النسل نہیں ہو گے۔ بلکہ آپ کی نسل اور اولاد بڑی کثرت سے عا لم میں مو جود رہے گی۔ تیسری جانب یہ سورہ اس بات کی خبر دیتا ہے کہ آپ کے دشمن ابتر، بلا عقب اور مقطوع النسل ہو جائیں گے یہ پیش گو ئی بھی پو ری ہو گئی ہے اور آپ کے دشمن اس طرح تتر بتر اور تباہ وبرباد ہوئے کہ آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ہے حالانکہ” بنی اُمیہ“ اور ”بنی عباس“ جیسے قبائل جو پیغمبر اور ان کی اولاد کے مقابلہ میں کھڑے ہو ئے ایک وقت اتنی جمعّیت اور کثرت رکھتے تھے کہ ان کی اولاد شمار میں نہ آئی تھی، لیکن آج اگر اُن میں سے کوئی باقی رہ بھی گیا ہو تو وہ بالکل پہچانا نہیں جاتا