ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِن قَبْلُ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ
Then after him We sent [other] apostles to their people. They brought them manifest proofs, but they would not believe something they had denied before. Thus do We seal the hearts of the transgressors.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:74
[Pooya/Ali Commentary 10:74] For sealing of the hearts of the disbelievers see commentary of al Baqarah: 7, and Araf: 100. The sealing of hearts take place as a consequence of the disbelievers persistence in disobedience.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:74
حضرت نوح (ع) کے بعد آنے والے انبیاء
حضرت نوح کی سر گزشت کے بارے میں اجمالی گفتگو کے بعد ان کے بعد لوگوں کی ہدایت کے لئے آنے والے انبیاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ ان انبیاء کا تذکرہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے آئے مثلاًابراہیم (ع) ، ہود (ع) ، صالح(ع) ، لوط (ع) اور یو سف(ع) ۔ ارشاد ہو تا ہے : پھر نوح کے بعد ہم نے کچھ رسول ان کی قوم اور جمیعت کی طرف بھیجے ( ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِہِ رُسُلًا إِلَی قَوْمِھِمْ ) ۔ ” وہ واضح ، روشن اور آشکار دلائل لے کر اپنی اپنی قوم کی طرف ائے “ اور نوح کی طرف ح ان کے پاس بھی منطق و اعجاز کے تربیت کنندہ ہتھیار اور پروگرام تھے ( فَجَائُوھُمْ بِالْبَیِّنَات) ۔ ” لیکن وہ لوگ جو عناد اور ہٹ دھرمی کی راہ چل رہے تھے اور گزشتہ انبیاء کی تکذیب کے لئے بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ انھوں نے ان انبیاء کی بھی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہ لائے ( فَمَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا بِہِ مِنْ قَبْلُ ) ۔ اور یہ اس بناء پر تھا کہ گناہ اور حق دشمنی کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردہ پڑا ہو اہے ” جی ہاں ہم اس طرح تجاوز کرنےوالوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں “(کَذَلِکَ نَطْبَعُ عَلَی قُلُوبِ الْمُعْتَدِینَ) ۔ دوقابل توجہ نکات ۱۔ ہٹ دھرم گروہ : ” فما کانوا لیوٴمنوا بما کذبوا بہ من قبل “ یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ امتوں میں کچھ ایسے گروہ بھی تھے جو کسی پیغمبر اور مصلح کی دعوت پر سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے اور اسی طرح اپنی بات پر اڑے رہتے تھے انبیاء کی بار بار کی دعوت سے ان پر ذرہ بھی بھی اثر نہیں ہوتا تھا لہٰذا مذکورہ ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے دو مختلف گروہوں کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ ایک گروہ حضرت نوح (ع) کے زمانے میں تھا اور ان کی دعوت کی تکذیب کرتا تھا جب کہ دوسرا گروہ اس کے بعد آیا جو انبیاء کی تکذیب میں پہلے گروہ کا پیرو کار تھا ۔ اس بناء پر جملے کا معنی اس طرح ہو گا : دوسری قوموں کے تجاوز کرنے والوں نے اس چیز پر ایمان لانے سے منہ پھیر لیا کہ جس سے پہلی قوموں نے رو گر دانی کی تھی ۔ البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کی مخالفت کرنے والے طوفان کے دوران ختم ہو گئے تھے دوسرا احتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے بہر حال اس کا لازمہ یہ ہے کہ ہم جملے کی ضمیروں کے مرجع (کانوا،لیوٴمنوا ،اور کذبوا ، میں جمع کی واوٴ ) میں تفکیک اور الگ الگ ہونے کے قائل ہوں ۔ ۲۔ ” کذٰلک نطبع علیٰ قلوب المعتدین “ جبر کی دلیل نہیں : واضح ہے کہ یہ جملہ جبر کی دلیل نہیں ہے اور اس کی تفسیر خود اسی میں موجود ہے کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ ہم تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگادیتے ہیں تاکہ وہ کسی چیز کا ادراک نہ کرسکیں ۔ یعنی پہلے وہ احکام الہٰی اور حق و حقیقت کے بارے میں پے در پے تجاوز اور زیادتیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کی یہ زیادہ تیاں تدریجاً ان کے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان سے حق کی تشخیصکی قدرت چھین لیتی ہیں ان کا معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ سر کشی ، نافرمانی اور گانہ ان کی عادت اور طبیعت ِ ثانیہ بن جاتا ہے چنانچہ اب وہ کسی حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے ۔ ۱ ۷۵۔ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ مُوسَی وَھَارُونَ إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِہِ بِآیَاتِنَا فَاسْتَکْبَرُوا وَکَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِینَ۔ ۷۶۔ فَلَمَّا جَائَھُمْ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ ھَذَا لَسِحْرٌ مُبِینٌ۔ ۷۷۔ قَالَ مُوسَی اٴَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَائَکُمْ اٴَسِحْرٌ ھَذَا وَلاَیُفْلِحُ السَّاحِرُونَ۔ ۷۷۔ قَالُوا اٴَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا وَتَکُونَ لَکُمَا الْکِبْرِیَاءُ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِینَ۔ ترجمہ ۷۵۔ ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی آیات دے کرفرعون اور اس کے آس پا س والوں کی طرف بھیجا لیکن انھوں نے تکبر کیا ( اور حق قبول نہ کیا کیونکہ ) وہ مجرم گروہ تھا۔ ۷۶۔ اور جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا تو کہنے لگے یہ واضح جادو ہے ۔ ۷۷۔( لیکن ) موسیٰ نے کہا کیا اس حق کو تم جادو شمار کرتے ہو جو تمہاری طرف آیاہے ؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادو گر تو رست گار ( اور کامیاب ) نہیں ہوں گے ۔ ۷۸۔ کہنے لگے کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہمیں اس سے پھیر دے جس پر ہمارے آباوٴ اجداد تھے اور تو روئے زمین کی بزر گی ( اور حکومت حاصل کرلے ) ہم تم دونوں پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ ۱۔اس مطلب کی تفصیل ہم جلد اول میں سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۸ کے ذیل میں پیش کرچکے ہیں ۔