قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ هُوَ الْغَنِيُّ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ إِنْ عِندَكُم مِّن سُلْطَانٍ بِهَذَا أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
They say, ‘Allah has taken a son!’ Immaculate is He! He is the All-sufficient. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth. You have no authority for this [statement]. Do you attribute to Allah what you do not know?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:68
[Pooya/Ali Commentary 10:68] The reference here is to the various gods of the polytheistic peoples. The doctrine of the sonship of God is not peculiar to Christians. The Arab pagans not only worshipped the angels as daughters of God but also believed that their religious leaders were the sons of God. All such false beliefs in imaginary gods have been refuted because Allah is self-subsisting. His is whatsoever is in the heavens and in the earth and in between them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:68-70
چند الفاظ کا مفہوم
۱۔ ” سلطان “: یہ لفظ یہاں ” دلیل “ کے معنی میں ہے یہ لفظ ” دلیل “ سے بھی زیادہ پرمعنی اور رسا تر ہے کیونکہ ” راہنما “ کے معنی میں ہے ۔ لیکن ” سلطان “ کا مطلب ہے وہ چیز جو انسان کو اپنے مد مقابل پر مسلط کردے ۔ یہ لفظ بحث ، مجادلہ اور گفتگو کے مواقع سے منا سبت رکھتا ہے او رسر کوبی کرنے والی دلیل کی طرف اشارہ ہے ۔ ۲۔ ”متاع “۔ اس کامعنی ہے ” وہ چیز جس سے انسان فائدہ اٹھائے “ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس میں زندگی کے تمام وسائل او رمادی نعمات شامل ہیں ۔ مفردات میں راغب کہاتا ہے : ” کلما ینتفع بہ علی وجہ ما،فھو متاع و متعة“ ہر وہ چیز جس سے انسان فائدہ اٹھائے اسے ”متاع “ یا ” متعہ “ کہتے ہیں ۔ ۳۔ ” نذیقھم “ اس کا معنی ہے ” ہم انھیں چکھائیں گے“۔ یہ تعبیر جو عذاب الہٰی کے بارے میں استعمال ہوئی ہے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سزا ان تک اس طرح پہنچتی ہے کہ گویا وہ اسے اپنی زبان سے چکھتے ہیں ۔ یہ تعبیر مشاہدہ سے حتی ٰ کہ عذاب کو مس کرنے سے بھی کہیں زیادہ مطلب دیتی ہے ۔ ۷۱۔ وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاٴَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ یَاقَوْمِ إِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ مَقَامِی وَتَذْکِیرِی بِآیَاتِ اللهِ فَعَلَی اللهِ تَوَکَّلْتُ فَاٴَجْمِعُوا اٴَمْرَکُمْ وَشُرَکَائَکُمْ ثُمَّ لاَیَکُنْ اٴَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَیَّ وَلاَتُنْظِرُونِی۔ ۷۲۔ فَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاٴَلْتُکُمْ مِنْ اٴَجْرٍ إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ وَاٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ مِنْ الْمُسْلِمِینَ ۔ ۷۳۔ فَکَذَّبُوہُ فَنَجَّیْنَاہُ وَمَنْ مَعَہُ فِی الْفُلْکِ وَجَعَلْنَاھُمْ خَلَائِفَ وَاٴَغْرَقْنَا الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِینَ۔ ترجمہ ۷۱۔ان کے سامنے نوح کا قصہ پڑھو کہ جب اس نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! حیثیت اور میرا آیات ِ الہٰی کا یاد دلانا تم پر گراں ( اور قابل بر داشت ) ہے تو جو کچھ تم سے ہو سکے کرلو ) میں نے خدا پر توکل کیا ہے اپنی فکر اور اپنے معبودوں کی قوت کو مجتمع کولو اور کوئی چیز تم پر مخفی نہ ہو پھر میری زندگی کا خاتمہ کردو ( اور لمحہ بھر کے لئے ) مجھے مہلت نہ دو ( لیکن تم اس کی قدرت نہیں رکھتے ) ۔ ۷۲ ۔ اور اگر تم میری دعوت قبولکرنے سے منہ موڑ تے ہو تو ( تم غلط کرتے ہو کیونکہ ) میں تم سے کوئی مزدوری نہیں چاہتا ۔ میرا اجر صرف خدا پر اور میرے ذمہ ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ( کہ جو خدا کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں ) ۔ ۷۳۔ لیکن انھوں نے اس کی تکذیب کی اور ہم نے اسے اور اس کے ساتھ جو کشتی میں تھے انھیں نجات دی اور انھیں ( کافروں کی جگہ ) جا نشین قرار دیا او رجن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تھی انھیں غرق کردیا پس دیکھو کہ جوڈرائے گئے تھے ( لیکن انھوں نے اللہ کی طرف سے ڈرائے جانے کو اہمیت نہ دی ) ان کا کیا انجام ہوا ؟