أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ شُرَكَاءَ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
Look! To Allah indeed belongs whoever is in the heavens and whoever is on the earth. What do they pursue who invoke partners besides Allah? They merely follow conjectures and they just make surmises.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:66
[Pooya/Ali Commentary 10:66]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:66-67
چند قابل توجہ نکات
۱۔ رات آرام و سکون کے لئے ہے : رات کے بناے کا مقصد آیت میں آرام و سکون قرار دیا گیا ہے یہ ایک مسلم علمی ہے جسے آج کے علم سے درجہ ٴ ثبوت تک پہنچا یا ہے کہ تاریکی کے پر دے نہ صرف دن بھر کے کام کاج کے لئے جبری تعطیل ہیں بلکہ انسان اور دوسرے جانداروں کے اعصاب پر ان کا مستقیم اثر ہے اور انھیں اسراحت، نیند اور سکون بخشتے ہیں کس قدر ناداں ہیں وہ لوگ کہ جو رات کو ہوس رانی میں بسر کردیتے ہیں اور دن کو ِخصوصاً نشاط انگیز صبح کو نیند میں گزار دیتے ہیں ۔ اسی بناء پر ایسے لوگوں کے اعضاء ہمیشہ غیر معتدل اور بے آرام رہتے ہیں ۔ ۲۔ ”و النھار مبصراً“ کا مفہوم : مادہ ”ابصار“ بینائی کے معنی میں ہے ۔ اس طرح ” و النھار مبصراً“ کا مفہوم یہ ہوگا کہ خدانے ” دن کو بینا قرار دیا ہے “حالانکہ دن بینا کرنے والا ہے نہ کہ خود بینا ہے یہ ایک خوبصورت تشبیہ او رمجاز ہے جو ” توصیف سبب با اوصاف مسبب “ کے قبیل سے ہے ۔ جیسا کہ رات کے بارے میں بی کہا جاتا ہے کہ ” لیل نائم “ یعنی سوئی ہوئی رات “ حالانکہ رات تو نہیں سوتی بلکہ رات سبب ہے لوگوں کے لئے سونے کا۔ ۳۔کیا آیت ہر طرح کے ظن کی نفی کرتی ہے : زیر نظر آیات میں ظن اور گمان کی ایک مرتبہ مذمت کی گئی ہے اور ا سے مردود قر ار دیا گیا ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گفتگو بت پرستوں کے بے ہودہ اور بے بنیاد خیالات کے بارے میں ہے ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں ” ظن“ عقلی اعتبار سے سوچے سمجھے گمان کے معنی میں نہیں ہے کہ جو بعض مواقع پر مثلاً شہادت و شہود ، ظاہر ِ الفاظ ، اقرار اور تحریروں میں حجت ہے لہٰذا یہ آیات ” ظن “ کے حجت نہ ہونے پر دلیل نہیں ہوسکتیں ۔ ۶۸۔ قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا سُبْحَانَہ ُھُوَ الْغَنِیُّ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ إِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِھَذَا اٴَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ۔ ۶۹۔ قُلْ إِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ لاَیُفْلِحُونَ ۔ ۷۰۔ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ إِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیقُھُمْ الْعَذَابَ الشَّدِیدَ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ۔ ترجمہ ۶۸۔ انھوں نے کہا کہ خدا نے اپنے لئے بیٹا چنا ہے (وہ ہر عیب ، نقص اور احتیاج سے ) منزہ ہے ، وہ بے نیاز ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے لئے ۔ تمہارے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ کیا خدا کی طرف ایسی نسبت دیتے ہو جسے جانتے نہیں ہو ۔ ۔ ۶۹۔ کہہ دو کہ جو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں (وہ کبھی بھی ) فلاح نہیں پائیں گے ۔ ۷۰۔ ( زیادہ سے زیادہ ) انھیں دنیا کا فائدہ ہو گا پھر ان کی باز گشت ہماری طرف ہے ۔ اس کے بعد ان کے لئے عذاب ِ شدید ہے ، ان کے کفر کے بدلے کہ جو ہم انھیں چکھائے گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:66-67
تفسیر
ان آیات میں بی اسی طرح مشرکین کے بارے میں بحث جاری ہے یہاں خدا کی ذات ِ مقدس کے بارے میں انکی ایک تہمت بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : انھوں نے کہا کہ خدا نے اپنے لئے ایک بیٹا چنا ہے ( قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا) ۔ یہ بات سب سے پہلے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں کی ۔ پھر زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں نے فرشتوں کے بارے میں کی ، وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں خیال کرتے ہیں اور اسی طرح یہود یوں نے حضرت عزیر کے بارے میں یہ بات کی۔ قرآن ان لوگوں کا جواب دو طریقوں سے دیتا ہے ۔ پہلا یہ کہ خد اہر قسم کے عیب اور نقص سے منزہ ہے اور تمام چیزوں سے بے نیاز ہے ( سُبْحَانَہ ُھُوَ الْغَنِیُّ) ۔ یہ اس طرف اشارہ کہ اولاد کی ضرورت یا تو جسمانی قوت کی احتیاج اور مدد کے طور پر ہوتی ہے اور یا روحانی اور ضذباتی ضرورت کے تحت اور چونکہ خدا ہر عیب و نقص اور ہر وجعی کمی سے منزہ ہے اور اس کی ذات پا ک غنی اور بے نیاز ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ وہ اپنے لئے بیٹے کا انتخاب کرے ”وہ آسمانوں او رزمین میں موجود تمام تر موجودات کا مالک ہے “ ( لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ ) ۔ اس صورت میں اس کے لئے بیٹے کا کیا مفہوم وہ رہ جاتا ہے کہ جو اسے سکون بخشے یا اس کی مدد کرے ۔ امر جاذب نظر ہے کہ یہاں” اتخذ “ ( انتخاب کیا اور اختیار کیا ) استعمال ہو ا۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ ان کا نظر یہ تھا کہ خدا سے بیٹا پیدا نہیں ہو بلکہ وہ کہتے تھے کہ خدا نے ایک موجود کو اپنے فرزند کے طو ر چن لیا ہے جیسے بعض لوگوں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو وہ کسی بچہ کسی پر ورش گاہ وغیرہ سے گود لے لیتے ہیں بہر حال یہ کوتاہ نظر جاہل خالق و مخلوق کے موازنہ میں اشتباہ میں پڑ گئے تھے اور انھوں نے خدا کی بے نیاز ذات کو اپنے ضرورت مند اور نیاز مند وجود کی طرح سمجھ لیا تھا ۔ دوسرا جواب جو قرآن انھیں دیتا ہے یہ کہ جو شخص بھی کوئی دعویٰ کرتا ہے اسے اپنے دعویٰ پرکوئی دلیل پیش کرنا چاہتا ہئیے ۔ ” کیا تمہارے پاس اس بات کی کوئی دلیل ہے “۔ نہیں تمہارے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے ( إِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِھَذَا اٴَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ) ۔ یعنی بالفرض اگر تم پہلی دلیل کو قبول نہیں کرتے تو پھر بھی تم اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے کہ تمہاری با ت ایک تہمت ہے او رایسا قول ہے جس کی بنیاد میں کوئی علم نہیں ہے ۔ اگلی آیت میں خد اپر تہمت باندھنے کے منحوس انجام کا تذکرہ ہے ۔ خدا تعالیٰ روئے سخن اپنے پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے ان کہہ دو: وہ لوگ جو خدا پر افتراء باند ھتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ہ رگز فلاح کا منہ نہیں دیکھیں گے ( قُلْ إِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ لاَیُفْلِحُونَ ) ۔ فرض کریں کہ وہ اپنے جھوٹ اور تہمتوں سے چند دن کے لئے دنیا کے مال و منال تک پہنچ بھی جائیں تو یہ صرف اس جہان کا ایک زود گزر مال و متاع ہی ہے ۔ اس کے بعد یہ ہماری طرف پلٹ کر آئیں گے او رہم ان کے کفر کی وجہ سے انھیں عذابِ شدیدکا مزہ چکھائیں گے ( مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ إِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیقُھُمْ الْعَذَابَ الشَّدِیدَ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ) ۔ در حقیقت اس آیت میں اور اس سے پہلے کی آیت میں خدا کی طرف بیٹے کے انتخاب کی نسبست دینے والے جھوٹوں کے لئے دو قسم کی سزائیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ جھوٹ اور افتراء کبھی ان کی فلاح کا سبب نہیں بنے گا اور کبھی انھیں ان کے مقصد تک نہیں پہنچائے گا بلکہ وہ بے راہ ویوں میں سر گرداں رہیں گے اور بد بختی اور شکست انھیں دامن گیر ہو گی ۔ دوسرا یہ کہ فرض کریں کہ وہ ان باتوں سے چند لوگوں کو غفلت میں رکھ لیں اور بت پرستی کے مذہب سے کوئی مقصد حاصل کرلیں تاہم اس مفاد میں دوام و بقاء نہیں ہے اور خدا کا دائمی عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:66-67
عظمت الہٰی کی کچھ نشانیاں
زیر نظر آیات دوبارہ مسئلہ توحید و شرک کی طرف لوٹتی ہیں یہ مسئلہ اسلام اور ا س سورہ کے اہم ترین مباحث میں سے ہے ۔ ان آیات میں مشرکین کی خبر لی گئی ہے اور انکی عاجزی و ناتوانی کو ثابت کیا گیا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : آگاہ ہو کہ وہ تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے لئے ہیں ( اور اس کی ملکیت ہیں ) ( اٴَلاَإِنَّ لِلَّہِ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔ جہاں اشخاص اس کی ملکیت ہوں اور اس کے لئے ہوں وہاں اشیاء اس جہاں میں بدرجہ اولیٰ اس کی ہیں اور اس کے لئے ہیں اس بناء پر وہ تمام عالم ہستی کا مالک ہے اس حالت میں کیونکہ ممکن ہے کہ اس کے مملوک اس کے شریک ہوں ۔ مزید ارشاد ہوتا ہے : جو لوگ غیر خدا کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں وہ دلیل و منطق کی پیروی نہیں کرتے اور ان کے پاس اپنے قول کے لئے کوئی سند اور شاہد نہیں ہے (وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ شُرَکَاءَ ) ۔ وہ صرف بے بنیاد تصورات اور گمانوں کی پیروی کرتے ہیں ( إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّن) ۔ بلکہ وہ تو صرف تخمینے سے بات کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ( وَإِنْ ھمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ ) ۔ ” خرص “ لگت میں ” جھوٹ“ کے معنی میں بھی آیا ہے اور تخمین او روہم و خیال کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ دراصل جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے کہ یہ پھلوں کی جمع آوری کے معنی میں ةے اور بعد ازاں حساب کے لئے جمع کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ نیز درختوں پر پھلوں کا تخمینہ اور اندازہ لگانے کو کہتے ہیں اور چونکہ کبھی کبھی تخمینہ غلط نکل آتا ہے لہٰذا یہ مادہ ” جھوٹ “ کے معنی میں بھی آیاہے ۔ اصولی طور پر بے بنیاد گمان کی پیروی کی یہ خاصیت ہے کہ آخر کار انسان جھوٹ کی وادی میں جاپہنچتا ہے ۔ جنہوں نے بتوں کو خدا کا شریک قرار دیا تھا ان کی بیاد اوہام سے بڑھ کر نہ تھی ۔ وہ اوہام کہ جن کا تصور کرنا ہمارے لئے مشکل ہے کہ کیونکہ ممکن ہے کہ انسان بے روح شکلیں اور مجسمے بنائے اور پھر اپنی بنائی ہوئی چیز کو اپن ارب اور صاحب ِ اختیار سمجھنے لگے ، اپنی تقدیر اس کے سپرد کردے اور اپنی مشکلات کا حل اس سے طلب کرے ۔ کیا یہ چیز جھوٹ اور جھوٹ قبول کرلینے کے سوا کچھ اور کہلاسکتی ہے ۔ اس آیت میں تھوڑا سے غور کرکے اس سے ایک عمومی قانون اخذ کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ جو شخص بے بنیاد گمان کی پیروی کرتا ہے آخر کار جھوٹ تک جا پہنچتا ہے ۔ صداقت اور سچائی یقین کی بنیاد پر استوار ہے اور جھوٹ کی عمارت بے بنیاد وہم و گمان کے سہارے قائم ہے ۔ اس کے بعد بحث کی تکمیل ، راہ خدا شناسی کی نشاندہی اور شرک و بت پرستی سے دوری کے لئے خدائی نعمات کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، یہ پہلو نظام خلقتاور اللہ کی عظمت ، قدرت اور حکمت کی نشاندہی کرتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے کہ : وہ وہ ہے جس نے رات کو تمہارے لئے باعثِ سکون قرار دیا ہے (ھُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ اللَّیْلَ لِتَسْکُنُوا فِیہِ ) ۔اور دن کو روشنی بخش بنا یا ہے (وَالنّھَارَ مُبْصِرًا ) ۔ نور ظلمت کا یہ نظام جسکا ذکر قرآن میں بار ہا آیا ہے ، حیرت انگیز اور پر بار نظام ہے جس میں کچھ عرصہ میں تابش ِ نور سے انسانوں کے صح حیات کو روشن کیا گیا ہے ۔ یہ عرصہ حرکت آفرین ہے اور انسا ن کو جستجو اور عمل پر آمادہ کرتا ہے ۔ دوسرا عرصہ سیاہ پردوں میں لپٹی ہوئی آرام بخش رات کا ہے ۔ اس رات کے ذریعے تھکی ہو ئی روح اور جسم کا کام اور حرکت کے لئے پھر سے تیار ہوتا ہے ۔ جی ہاں اس حساب شدہ نظام میں پر وردگار کی قدرت کی آیات اور نشانیاں ہیں لیکن ان کے لئے جو سننے والے کان رکھتے ہیں اور حقائق کو سنتے ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ) ۔وہ جو سنتے اور ادراک کرتے ہیں اور جو ادراکِ حقیقت کے بعد اسے استعمال میں لاتے ہیں او رکام کرتے ہیں ۔