يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ
O mankind! There has certainly come to you an advice from your Lord, and a cure for what is in the breasts, and a guidance and mercy for the faithful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:57
[Pooya/Ali Commentary 10:57] Allah has sent the reminder (Quran) as a mercy. Ali ibn abi Talib said: "Seek remedy as well as answers to all questions and difficulties from the Quran. It cures the worst diseases like infidelity, hypocrisy and deviation." (Nahj al Balagha). Aqa Mahdi Puya says: Heart is the seat of all feelings and emotions. What is felt by the cognitive self has an immediate effect on the heart. In case of extreme grief, or envy, or hatred et cetera, the nervous system is effected so as to cause strain in the breast. The Quran refers to such feelings when it is said: "What is in the breast", and invites man to get rid of them by following the guidance given in its verses. Sharah sadr, to expand the breast, actually means expansion of the human vision.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:57-58
قرآن خدا کی عظیم رحمت ہے
بعض گزشتہ آیات میں قرآ ن کے بارے میں کچھ مباحث آئی ہیں اور ان میں مشرکین کی مخالفت کا کچھ ذکر آیا ہے ۔ زیر بحث آیات میں بھی اسی مناسبت سے قرآن کے بارے میں گفتگو آئی ہے ۔ پہلے ایک ہمہ گیر عالمی پیغام کے حوالے سے تمام انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : اے لوگوں تمہارے لئے تمہارے پر ور دگار کی طرف سے وعظ و نصیحت آئی ہے (یَااٴَیّھَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّکُم) ۔اور ایسا کلام کہ جو تمہارے دلوں کی شفاء کا سبب ہے ( وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُور) ۔ ایسی چیز کہ جو ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہے (وَھُدًی) اور مومنین کے لئے رحمت ہے ( وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ) ۔ اس آیت میں قرآن کی چار صفات بیان ہو ئی ہیں ، انھیں سمجھنے کے لئے پہلے ان کے لغوی معانی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ” وعظ“ ( اور ”موعظہ“) جیسا کہ مفردات میں آیا ہے ، ایسی نہین کو کہتے ہیں جسمیں تہدید کی آمیزش ہو لیکن ظاہراً ”موعظہ “ کا معنی اس سے وسیع تر ہے جیسا کہ مشہور عرب دانشر خلیل کا قول مفردات ہی میں لکھا ہے کہ ” موعظہ “ نیکیوں کا تذکراور یادہانی ہے جس میں رقت ِ قلب بھی موجود ہو۔ در حقیقت ہرقسم کی پند و نصیحت جو مخالطب پراثر کرے ، اسے برائیوں سے ڈرائے یا اس کے دل کے نیکیوں کی طرف متوجہ کرے اسے ”وعظ “ اور ”موعظہ“کہتے ہیں البتہ اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ ہرموعظہ کا اثر ہو نا چاہئیے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ آمادہ دلوں پر اس طرح سے اثر کرے ۔ دلوں کی بیماری سے شفاے کا باعث یا قرآن کی تعبیر میں اس سے شفاء کا سبب جو سینوں میں ہے اس سے مراد معنوی اور روحانی آلودگیوں سے شفاء ہے ۔ مثلاً بخل، کینہ ، حسد، بزدلی ،شرک اورنفاق وغیرہ سے شفاءکہ جو سب کی سب روحانی بیمار یاں ہیں ۔ ”ہدایت“ سے مرادہے مقصود کی طرف راستہ مل جانا۔ یعنی انسان کاتکل ، ارتقاء او رپیش رفت تمام مثبت پہلووٴں کے سلسلے میں ۔ نیز” رحمت“ سے مراد خدا کی بخشی ہو ئی وہ مادی اور معنوی نعمتیں ہیں جو اہل انسانوں کو میسر آتی ہیں جیساکہ مفردات میں ہے کہ ” رحمت “ کی جب خدا کی طرف نسبت دی جائے تو اس کا معنی نعمت بخشنا ہے اور جب انسانوں کی طرف اس کی نسبت ہو تو اس کا مطلب ہے رقت طلبی اور مہربانی ۔ قرآن کے سائے میں انسان کی تربیت اور اس کے تکامل و ارتقاء کو مندرجہ بالا آیات میں در حقیقت چار مراحل میں بیان کیا گیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:57-58
پہلا مرحلہ موعظہ اور پندو نصیحت ہے ۔
دوسرا مرحلہ طرح طرح کے اخلاقی رذائل سے روح ِ پاک انسانی کو پاک کرنا ہے ۔ تیسرامرحلہ ہدایت کا ہے جو پاکسازی کے بعد انجام پاتا ہے اور چوتھامرحلہ وہ ہے کہ انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ پروردگار کی رحمت و نعمت اس کے شامل حال ہو۔ ان میں سے مرحلہ دوسرے کے بعد آتا ہے اور جاذبِ نظر یہ ہے کہ یہ سب مراحل قرآن کے زیرسایہ انجام پاتے ہیں ۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کو پند و نصیحت کرتا ہے ، قرآن ہے کہ جو گناہ کے زنگ او ربری صفت کو اس کے دل سے دھوتا ہے ۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کے دلوں میں نور ہدایت کی روشنی کرتا ہے ، اور قرآن ہی ہے جو فر اور معاشرے پر خدائی نعمتوں کے نزول کا باعث ہے ۔ نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جامع گفتگو میںنہایت خوبصورت انداز میں اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے ، آپ (ع) فرماتے ہیں : فاستشفعوہ من ادوائکم و استعینوا بہ علی لاوائکم فان فیہ شفاء من اکبر الداء وھو الکفر و النفاق و الغی و ضلال ۔ قرآن سے اپنی بیماریوں کی شفاء طلب کرو اور اپنی مشکلات کے حل کے لئے اس سے مدد طلب کرو کیونکہ قرآن میں سب بڑی بیماری یعنی کفر، نفاق گمراہی کی شفاء ہے ۔ ( نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶) ۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ قرآن ایک ایسا نسخہ ہے جو فرد اور معاشرے کی مختلف اخلاقی اور اجتماعی بیماریوں کے علاج کے لئے کار گر ہے اور یہ وہ حقیقت ہے ، جس مسلمان بھلا چکے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اس شفاء بخش دواسے فائدہ اٹھائیں ، اپنا علاج دوسرے مکاتب میں تلاش کرتے پھرتے ہیں اور انھوں نے اس عظیم آسمانی کتاب کو فقط پڑھنے کے لئے رکھ چھوڑا ہے اور یہ نہیں کہ وہ اس میں غور و فکر کریں اور اس پر عمل کریں ۔ اگلی آیت میں بحث کی تکمیل کے لئے اور اس عظیم خدائی نعمت یعنی قرآن مجید کہ جو ہر نعمت سے برتر ہے کے بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اے پیغ،بر! کہہ دو کہ لوگ پر وردگار کے فضل اور اس کی بے پایاں رحمت پر اور اس عظیم آسمانی کتاب کے نزول پر خوش ہ وجائیں کہ جو تمام نعمتوں کی جامع ہے ۔ نہ کہ دولت کے انباروں پر ، بڑے مقام و منصب پر اور قوم و قبیلہ کی کثرت پر (قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ) ۔ کیونکہ یہ سرمایہ ان تمام چیزوں سے بہتر اور بالا ترہے کہ جو انھوں نے جمع کر رکھی ہے ۔ ان میں سے کوئی بھی اس سے موازنہ کے قابل نہیں ہے (ھُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:57-58
دو قابل توجہ نکات
۱۔ کیا دل احساسات کا مر کز ہے ؟ زیر بحث پہلی آیت اور اس قسم کی بعض دیگر قرآنی آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اخلاقی بیماریوں کا مرکز دل ہے ۔ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ابتداء میں یہ اعتراض پیدا ہوتا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام اخلاقی اوصاف او ر فکری و جذباتی مسائل کا تعلق روح ِ انسانی سے ہے اور دل تو صرف ایک خود کا رپمپ کے طور پر خو ن کی نقل و انتقال اور بدن کے سالموں کی آبیاری اور انھیں غذا پہنچانے کا کام کرتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حق یہی ہے کہ دل صرف جسم انسانی کو منظم رکھنے پر مامور ہے اور نفسیاتی مسائل کا تعلق روح سے ہے لیکن ایک دقیق نکتہ موجود ہے کہ جس کی طرف توجہ کرنے سے قرآن کی اس تعبیر کا مقصد واضح ہو جائے گا اور وہ یہ کہ جسم انسانی میں مرکز موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک انسان کے نفسانی اعمال کا مظہر ہے یعنی ان دومراکز میں سے ہر ایک نفسانی فعل اور انفعال پر فوراً ردّ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ ان میں سے ایک دماغ پر ہوتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں دماغ روح کو فکری مسائل میں مدد دینے کے لئے ایک آلہ ہے ۔اسی لئے غور و فکر کرتے وقت خون دماغ میں تیزی سے حرکت کرتا ہے ، دماغ کے لئے سالمے (Molecules)زیادہ فعل و انفعال کرتے ہیں ، زیادہ غذا جذب کرتے ہیں اور زیادہ لہریں بھیجتے ہیں ۔ مگر جب معاملہ جذبات سے متعلق ہو، مثلاً عشق و محبت ، عزم غصہ ، کینہ ، حسد اور در گزر وغیرہ تو انسان کے دل میں عجیب طرح کی فعالیت پیدا ہو جاتی ہے ، بعض اوقات دل کی دھڑکن بڑی تیزی ہوجاتی ہے اور کبھی حرکت قلب اتینی کمزور پڑجاتی ہے کہ گویا اب دل کام کرنا چھوڑ دے گا ، گاہے ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا دل پھٹنے لگا ہے ۔ یہ سب کچھ اس نزدیکی تعلق کی بناء پر ہے جو دل اور ان نفسیاتی معاملات کے مابین ہے ۔ اسی بناء پر قرآن مجید ایمان کی نسبت دل کی طرف دیتا ہے ۔ ولما یدخل الایمان فی قلوبکم اور تمہارے دلوں میں ایمان ہر گز داخل نہ ہوگا ۔ ( حجرات ۱۴) اسی طرح جہالت ، ہٹ دھرمی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کو دل کے اندھے پن سے تعبیر کیا گیا ہے : ولٰکن تعمی القلوب التی فی الصدور اور لیکن وہ دل جو سینوں میں ہیں ، اندھے ہیں ۔ (حج ۴۶) یہ بات کہے بغیر نہیں نہ رہ جائے کہ انسان ہمیشہ ، کینہ یا حسد وغیرہ کے وقت ایک خاص اثر اپنے دل میں محسوس کرتا ہے یعنی ان فسیاتی مسائل کے شعلے تپش جسم انسانی میں سب سے پہلے دل میں محسوس ہوتی ہے ۔ البتہ ان تمام باتوں کے علاوہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکاہے کہ ” قلب “ کے معانی میں سے ایک معنی انسانی عقل اور روح کے بھی ہے ۔ لہٰذا اس کا معنی اسی عضو کے ساتھ مخصوص نہیں جو سینے کے اندر ہے اور یہ امر آیات قلب کے لئے خود ایک تفسیر ہے ۔ لیکن تمام آیات ِ قلب کے لئے نہیں بلکہ بعض آیات میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ دل جو سینوں میں ہیں ۔ ( غور کیجئے گا ) ۲۔ ”فضل “ اور ” رحمت “ میں کیا فرق ہے ؟ : زیر بحث دوسری آیت میں ”فضل“ اور ” رحمت “ کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟ اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے ۔ الف: بعض نے فضل الہٰی کو ظاہری نعمتوں کی طر ف اور رحمت کو باطنی نعمتوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایک نعمت ِ مادی کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا لفظ نعمت ِ معنوی کی طرف ( اور بار ہا قرآنی آیات میں ” و ابتغوا من فضلہ“ یا ” لتبتغوا من فضلہ “ تحصیل روزی اور مادی نعمتوں کے لئے آیا ہے ) ۔ ب: کچھ مفسرین نے کہا ہے کہ فضل الہٰی نعمت کا آغاز ہے اور اس کی رحمت نعمت کا دوام ہے ( البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے فضل نعمت بخشنے کے معنی میں ہے اور اس کے بعد رحمت کے ذکر میں کسی چیز کا اضافہ ہو نا چاہئیے یہ تفسیر قابل فہم ہے ) ۔ یہ جو متعدد روایات میں ہے کہ کہ فضل الہٰی سے مراد جو پیغمبر اور نعمت نبوت ہے اور رحمت پر وردگار سے مراد وجدِ علی اور نعمت ولایت ہے ، شاید اسی تفسیر کی طرف اشارہ ہو کیونکہ رسول اللہ سر آغاز اسلام ہیں ، علی (ع) کی بقاء اور حیات ِ دوام کا سبب ہیں (ایک علت محدثہ اور ایجاد کنندہ ہیں اور دوسرے علت مبقیہ اور بقائے دینے والے ہیں ) ۔۱ ج: یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ” فضل “ پر وردگار کی اس نعمت کی طرف اشارہ ہے جو دوست و دشمن کے لئے عام ہے اور گزشتہ آیت میں ” للموٴمنین ‘ ‘ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ” رحمت“ اس کی مخصوص رحمت کی طرف اشارہ ہے جو باایمان افراد سے مختص ہے ۔ د: ایک اور تفسیر جو ان دونوں الفاظ کے لئے ذکر ہوئی ہے یہ ہے کہ پر وردگار کا فضل ایمان کی طرف اشارہ ہے اور رحمت قرآن کی طرف کہ جس کے بارے میں اس سے پہلے کی آیت میں گفتگو ہو ئی ہے ۔ ان میں سے زیادہ تر معانی آپس میں تضاد نہیں رکھتے اور ہوسکتا ہے یہ سب مفاہیم فضل اور رحمت کے ایک جامع معنی میں جمع ہوں ۔ ۵۹۔ قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ مَا اٴَنْزَلَ اللهُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ اٴَاللهُ اٴَذِنَ لَکُمْ اٴَمْ عَلَی اللهِ تَفْتَرُونَ ۔ ۶۰۔ وَمَا ظَنُّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَھُمْ لاَیَشْکُرُونَ ۔ ۶۱۔ وَمَا تَکُونُ فِی شَاٴْنٍ وَمَا تَتْلُوا مِنْہُ مِنْ قُرْآنٍ وَلاَتَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُمْ شُہُودًا إِذْ تُفِیضُونَ فِیہِ وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَبِّکَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفِی السَّمَاءِ وَلاَاٴَصْغَرَ مِنْ ذَلِکَ وَلاَاٴَکْبَرَ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ۔ ترجمہ ۵۹۔ کہہ دو: کیاوہ رزق کو خدائے نے تم پر نازل کیا ہے تم نے اسے دیکھا ہے کہ اس میں سے کچھ تم نے حلال قرار دے دیا ہے اور کچھ کو حرام ۔ کہہ دو : کیا تمہیں خدا نے اجازت دی ہے یا خدا پر افتراء باندھتے ہو( اور اپنی طرف سے کسی کو حلال قرار دیتے ہو او رکسی کو حرام ) ۔ ۶۰۔ جو خد اپر افتراء باندھتے ہیں وہ روز قیامت ( کی سزا ) کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔ خدا سب لوگوں کےلئے فضل (اوربخشش) کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر گزاری نہیں کرتے ۔ ۶۱۔ تم کسی حالت ( اور فکر ) میں نہیں ہوتے، نہ قرآن کے کسی حصے کی تلاوت کرتے ہواور نہ ہی تم کوئی عمل انجام دیتے ہو مگر یہ کہ جب تم ان میں وارد ہوتے ہو ہم تم پر نگران ہوتے ہیں اور زمین و آسمان میں کوئی چیز تیرے پر وردگار سے مخفی نہیں رہتی ذرہ برابر اور نہ اس سے کم و بیش ۔ مگر یہ کہ وہ سب کچھ واضح کتاب ( اور علم خدا کی لوحِ محفوظ ) میں ثبت ہے ۔ ۱۔ ان روایات سے آگاہی کے لئے تفسیر نور الثقلین ج۲ ص ۳۰۷ اور ص ۳۰۸ کی طرف رجوع کریں ۔