وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمۡ عَمَلُكُمۡۖ أَنتُم بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعۡمَلُ وَأَنَا۠ بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ
If they deny you, say, ‘My deeds belong to me and your deeds belong to you: you are absolved of what I do and I am absolved of what you do.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:41
[Pooya/Ali Commentary 10:41]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 10:41-60
God has reminded the faithless any amount of their worldly possessions, will not avert their distinctive fate of Dooms Day and therefore they should embrace faith before death. These are tidings for Shias in which God sent Prophet Mohammad as a Divine Grace or Bounty and Ali as Divine Mercy. They had better be pleased and contented there with no preference to be wealthy sects as their enemies who have forsaken them. Note: The Prophet said Fazl of God is he and Rahmat of God is Ali. Please not Kalbi has reported similarly from Abu Saleh who, from Ibn Abbas, gives this version.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:41-44
اندھے اوربہرے
گزشتہ آیات میں ہٹ دھرمی پر مبنی مشرکین کے انکار کے بارے میں بحث آئی ہے ۔ یہاں بھی اسی بحث کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔ پہلی آیت میں ایک نئے طریقے سے پیغمبر کو مقابلے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اگر وہ تیری تکذیب کریں تو ان سے کہہ دو کہ مریا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ( وَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ لِی عَمَلِی وَلَکُمْ عَمَلُکُم) ۔ جو میں انجام دیتا ہوں اس سے تم بیزار ہو اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو میں اس سے بیزار ہوں (اٴَنْتُمْ بَرِیئُونَ مِمَّا اٴَعْمَلُ وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ) ۔ بیزاری اور بے اعتنائی کا یہ اعلان جس سے اپنے مکتب پر قطعی اعتماد اور ایمان جھلکتا ہے خاص طور پر ہٹ دھرمی منکرین پر ایک مخصوص نفسیاتی اثر رکتھا ہے یہ اعلان ان پر واضح کرتا ہے کہ اس مکتب کو قبول کرنے میں کوئی اصرار اور جبر نہیں ہے وہ حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو محرومیت کی طرف لے گئے ہیں اور اس طرح صرف اپنے ہی کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ایسی تعبیریں قرآن کی دیگر آیات میں بھی ہیں ۔ جیسا کہ سورہٴ کافرون میں ہے :۔ لکم دینکم ولی دین ۔ تمہارا دین تمہارے لئے او رمیرا دین میرے لئے ۔ اس بیان سے واضح ہو جا تا ہے کہ ایسی آیات کا مفہوم مشرکین کے مقابلے میں تبلیغ او رجہاد کے حکم کے منافی نہیں کہ ہم انھیں منسوخ سمجھنے لگیں بلکہ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ یہ بے اعتنائی او ربے نیازی کے انداز میں ہت دھر م او رکینہ پر ور افراد سے ایک منطقی مقابلہ ہے ۔ بعد والی آیات میں حق سے ان کے احراف او رعدم تعلیم کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ایک انسان کی ہدایت کے لئے صرف صحیح ، ہلادینے والی اور پر اعجاز آیات اور واضح دلائل کافی نہیں ہیں بلکہ قبول کرنے کے لئے آمادہ گی اور قبولیت حق کی لیاقت بھی ضروری ہے جیسا کہ سبزہ پھول اگانے کے لئے صرف تیارشدہ بیج کافی نہیں ہے ۔ آمادہ زمین بھی ضروری ہے ۔ اسی لئے پہلے فرمایا گیا: ان میں سے ایک گروہ تیری طرف کان تو دھر تاہے لیکن گویا یہ لوگ بہرے ہیں (ومنھم یستمعون الیک ) ۱ باوجودیکہ وہ سننے والا کان نہیں رکھتے ، کیا تم ان بہروں کے کانوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہو، چاہے وہ عقل و ادراک نہ رکھتے ہوں (افانت تسمع الصم ولوکانوا لایعقلون ) ۔ ” اور ایک گروہ تیرے طرف آنکھ لگائے ہوئے ہے اور تیرے اعمال دیکھتا رہتا ہے کہ جن میں سے ہر ایک تیری حقانیت او رراست گوئی کی نشانیوں کو دیکھ سکتاہے لیکن گویا یہ لوگ اندھے ہیں “ (وَمِنْھُمْ مَنْ یَنْظُرُ إِلَیْک) ۔ کیا اس کے باوجود تو ان نابینوں کو ہدایت کرسکتا ہے اگر چہ ان کے پاس کوئی بصیرت نہ ہو ( اٴَفَاٴَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوا لاَیُبْصِرُونَ) ۔۲ لیکن جان لو اور وہ بھی جالیں کہ یہ فکری نارسائی، عدم بصیرت ، حق کا چہرہ دیکھنے کے بارے میں اندھا پن او رکلام الہٰی کے لئے ناشنوائی کو ئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جسے وہ شکم مادر سے اپنے ساتھ لائے ہیں اورخدا نے ان پر کوئی ظلم کیا ہو خود انہیں نے اپنے غلط اعمال ، حق دشمنی اور گناہوں سے اپنی روح کو تاریک کرکے اپنی دیکھنے والی آنکھے اور اہنے سننے والے کان کو بیکار کردیا ہے ، کیونکہ ” خد اکسی شخص پر ظلم کرتا لیکن یہ لوگ ہیں جو خود اپنے اوپر ظلم روا رکھتے ہیں “ ( إِنَّ اللهَ لاَیَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَلَکِنَّ النَّاسَ اٴَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ) ۔ ۱ ۔ اس آیت میں درحقیقت ” کانھم صم لایسمعون “ کا جملہ مقدر ہے ۔ ۲یہاں ” کانھم عمی لا یبصرون “ جا جملہ مقدر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:41-44
دو قابل توجہ نکات
۱۔”من یستمعون “ اور ” من ینتظر“ سے کیا مراد ہے : یہ جو دوسری آیت میں ہے کہ ” ان میں سے کچھ لوگ تیری بات سنتے ہیں “ او رتیسری آیت میں ہے کہ ” ان میں سے کچھ نہیں جو تیری طرف دیکھتے ہیں “اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان میںسے کچھ لوگ تیری اعجاز نما باتوں کو سنتے ہیں او رکچھ سنتے ہیں اور کچھ دوسرے ہیں جو تیرے معجز نشان اعمال دیکھتے ہیں کہ جو سب کے سب تیری صدق ِ گفتار او رتیری دعوت کی حقانیت کی دلیل ہیں لیکن کان دھرنے او ردیکھنے والے ان دونوں گروہوں میںسے کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھا تا ، کیونکہ ان کی نگاہ فہم و ادراک کی نگاہ نہیں ہے ، بلکہ تنقید ، عیب جوئی ، اور مخالفت کی نظر ہے ۔ وہ کان دھر کے سننے سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے کوینکہ ان کا مقصد مفہوم سخن نہیں ہوتا بلکہ وہ تو تکذیب او رانکار کے لئے بہانے تلاش کرتے پھر تے ہیں او رہم جانتے ہیں کہ انسان کے اعمال کی بنیاد اس کا رادہ اور نیت ہی ہے ۔ نیت اور ارادہ ہی انسانی اعمالک ے اثرات کو دگر گون کردیتا ہے ۔ ۲۔ ” ولوکانوا لایعقلون“ اور ”ولوکانوا لایبصرون “ کا مفہوم : زیر نظرا لفاظ سننا کافی نہیں بلکہ دوسری آیت کے آخر میں ” ولو کانوا لایعقلون “ آیا ہے ۔ اور تیسری آیت کے اختتام پر ”ولو کا نوا لا یبصرون “ آیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ فقط کانوں سے تفکرو تدبر بھی ضروی ہے تاکہ انسان الفاظ کے مفاہیم سے فائدہ اٹھائے اسی طرح کسی چیز کو آنکھوں سے صرف دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ بصیرت او رجن چیزوں کو انسان دیکھتا ہے انھیں سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ ان کی گہرائی تک پہنچے اور ہدایت حاصل کرے ۔ ۴۵۔وَیَوْمَ یَحْشُرھُمْ کَاٴَنْ لَمْ یَلْبَثُوا إِلاَّ سَاعَةً مِنْ النَّھَارِ یَتَعَارَفُونَ بَیْنَھُمْ قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللهِ وَمَا کَانُوا مُھْتَدِینَ۔ ۴۶۔ وَإِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُھُمْ اٴَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِلَیْنَا مَرْجِعُھم ثُمَّ اللهُ شَہِیدٌ عَلَی مَا یَفْعَلُونَ ۔۔ ۴۷۔ وَلِکُلِّ اٴُمَّةٍ رَسُولٌ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَیُظْلَمُونَ۔ ترجمہ ۴۵۔ اس دن کو یاد کرو جب انھیں جمع ( اور محشور) کرے گا اور انھیں ایسا محسوس ہو گا جیسے ( دنیا میں ) انھوں نے دن کی ایک گھڑی سے زیادہ توقف نہیں کیا۔ بس اتنی مقدار کہ ایک دوسرے کو ( دیکھیں اور ) پہچان لیں ۔ وہ کہ جنہوں لقائے الہٰی ( اور روز قیامت ) کا ناکر کیا وہ خسارے میں رہے ، اور انھوں نے ہدایت حاصل نہ کی ۔ ۴۶۔ اور گار ہم کچھ سزائیں کہ جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ( تیری زندگی میں ) تجھے دکھائیں یا ( قبل اس کے کہ وہ عذاب میں گرفتار ہوں ) تجھے دنیا سے لے جائیں ، بہر حال ان کی با زگشت ہماری طرف ہے ۔ اس کے بعد خدا اس پر گواہ ہے جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں ۔ ۴۷۔ اور ہدایت کے لئے ایک رسول ہے ۔ جب ان کا رسول ان کی طرف آئے تو خدا ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کرتا ہے اور ان پر ظلم نہیں ہوگا ۔