وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَى مِن دُونِ اللَّهِ وَلَكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
This Quran could not have been fabricated by anyone besides Allah; rather, it is a confirmation of what was [revealed] before it, and an elaboration of the Book, there is no doubt in it, from the Lord of all the worlds.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:37
[Pooya/Ali Commentary 10:37] Refer to the commentary of al Baqarah: 2 and Aqa Mahdi Puya's essay "The genuineness of the holy Quran."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:37-40
جہالت اور انکار
جیسا کہ مندر جہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر زیادہ تر حق کی مخالفتوں ، دشمنیوں اور حق کے خلاف جنگ کا سر چشمہ جہا لت اور نادانی ہے ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ جہالت کا انجام کفر ہے ۔ پہلا فریضہ جو ہر حق طلب انسان کے ذمہ ہے یہ ہے کہ جسے وہ جانتا اس کے بارے میں سکوت اور خاموشی اختیار کرے ، انتظار کرے اور تحقیق و سجتجو کے لئے اٹھ کھڑا ہو، جس مطلب کو نہیں جانتا اس کے تمام پہلووٴ کا مطالعہ کرے تحقیق کرے ۔ جب تک اس کی نفی پر کوئی قطعی دلیل نہ مل جائے اس کی نفی نہ کرے جیسا کہ بغیر قطعی دلیل کے اثبات بھی نہ کرے ۔ مر حوم طبری نے مجمع البیان میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس سلسلے میں ایک نہایت عمدہ حدیث نقل کی ہے ۔ آپ نے فرمایا : اللہ نے قرآں کی دو آیات میں اس امت کو دو اہم درس دئیے ہیں ۔ پہلا یہ کہ جسے جانتے ہو اس کے سوا کوئی بات نہ کہو اور دوسرا یہ کہ جسے جانتے نہیں ہو اس کا انکار نہ کرو۔ اس کے بعد آپ (ع) نے یہ دو آیات تلاوت کیں : الم لیوٴخذ علیھم میثاق الکتاب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق ۔ کیا خدا نے ان سے آسمانی کتاب کا عہد وپیمان نہیں لیا کہ خدا کے بارے میں حق کے سواکچھ نہ کہیں ۔ بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ۔ مشرکین نے ایسی چیزوں کا انکار کیا کہ جن آگاہی نہیں رکھتے تھے جب کہ جہالت کسی چیز کے انکار کے لئے دلیل نہیں ہے ۔ ۴۱۔ وَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ لِی عَمَلِی وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ اٴَنْتُمْ بَرِیئُونَ مِمَّا اٴَعْمَلُ وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ۔ ۴۲۔ وَمِنْہُمْ مَنْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْکَ اٴَفَاٴَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ کَانُوا لاَیَعْقِلُونَ ۔ ۴۳۔ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْظُرُ إِلَیْکَ اٴَفَاٴَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوا لاَیُبْصِرُونَ۔ ۴۴۔ إِنَّ اللهَ لاَیَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَلَکِنَّ النَّاسَ اٴَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ۔ ترجمہ ۴۱۔ انھوں نے تیری تکذیب کی ہے تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمارے لئے ۔ جو کچھ میں انجام دیتا ہوں تم اس سے بیزار ہو اور میں اس سے بیزار ہو ں جو تم کرتے ہو۔ ۴۲۔ اور ان میں سے ایک گروہ تیری طرف کان دھرتا ہے ( لیکن گویا وہ بالکل نہیں سنتا اور بہرہ ہے ) کیا تو اپنی بات بہروں کے کانوں تک پہنچا سکتا ہے ،اگر وہ نہ سمجھیں ۔ ۴۳ ۔اور ان میں ایک گروہ تیری طرف دیکھتا ہے ( لیکن گویا وہ بالکل نہیں دیکھتا ) کیا تو نابینوں کو ہدایت کرسکتا ہے ۔ ۴۴۔خدا انسانوں پربالکل ظلم نہیں کرتا لیکن انسان ہیں کہ جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:37-40
دعوت ِقرآن کی عظمت اور حقانیت
یہ آیات مشرکین کی کچھ نارا باتوں کا جواب دے رہی ہیں ۔ کیونکہ وہ صرف مبداء کی پہچان کے بارے میں انحراف اور کجروی کا شکار نہ تھے بلکہ پیغمبر اسلام پر بھی افتراء باندھتے تھے کہ انھوں نے قرآن خود اپنی فکر و نظر سے بنا کر خدا کی طرف منسوب کردیا ہے ۔ اسی لئے ہم نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ وہ رسول اللہ سے تقاضا کرتے تھے کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آئیہں یا پھر کم از کم اس میں رد و بدل کردیں ۔ ان کا یہ تقاضا خو د اس امر کی دلیل ہے کہ وہ قرآن کو فکر پیغمبر کی تخلیق خیال کرتے تھے ۔ زیر بحث پہلی آیت میں فر ما یا گیا ہے : مناسب نہیں کہ وحی الہٰی کے بغیر اس قرآن کی خدا کی طرف نسبتدی جائے ( وَمَا کَانَ ھَذَا الْقُرْآنُ اٴَنْ یُفْتَرَی مِنْ دُونِ اللهِ) ۔ یہ بات کاذب نظر ہے کہ سادہ نفی کی بجائے مناسبت کی نفی کی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سادہ نفی کی بجائے ایسی تعبیر زیادہ رسا اور عمدہ ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنا دفاع کرتے ہوئے کہے کہ یہ میری شان کے خلاف ہے کہ میں جھوٹ بولوں ۔ ظاہر ہے کہ اس طرح سے کہنا یہ کہنے سے زیادہ پر معنی اور گہرائی کا حامل ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کے بعد قرآن کی اصالت اور اس کے وحی ٴ آسمانی ہونے کی دلیل کے طور پر کہتا ہے : لیکن یہ قرآن اپنے سے پہلے کی کتبِ آسمانی کی تصدیق کرتا ہے (وَلَکِنْ تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْہِ ) ۔یعنی وہ تمام بشارتیں اور حقانیت کی نشانیاں جو گزشتہ آسمانی کتب میں آئی ہیں وہ مکمل طور پر قرآن اور قرآن لانے والے پر منطبق ہوتی ہیں اور یہ امر خود اس بات ک اثبوت ہے کہ یہ خدا پر تہمت نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے ۔ اصولی طور پر قرآن خود ”آفتاب آمد دلیل آفتاب “ کے مصداق اپنے مشمولات کی سچائی پر شاہد ہے ۔ یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ کہ وہ لوگ جو اس قسم کی آیات ِ قرآن کے زمانے میں تھیں، تصدیق نہیں کرتابلکہ صرف پیغمبر اکرم اور قرآن کے بارے میں ان کتب میں جو نشانیاں تھیں ان کی تائید کرتا ہے ( غور کیجئے گا ) ۔ اس سلسلے میں مزید توضیحات تفسیر نمونہ جلد اول سورہ بقرہ کی آیت ۔۴۱۔ کے ذیل میں پیش کی جاچکی ہیں ۔ اس کے بعد اس آسمانی وحٰ کی صداقت کے بارے میں ایک اور دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اس قرآن میں گزشتہ انبیاء کی اصل کتب کی تشریح، بنیادی احکام اور اصولی عقائد بیان کیئے ہیں اور اسی وجہ سے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ پر وردگار عالمین کی طرف سے ہے ( وَتَفْصِیلَ الْکِتَابِ لاَرَیْبَ فِیہِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ) ۔ دوسرے لفظو ںمیں گزشتہ انبیاء کے پیش کردہ پر گرام سے اس کا کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ اس میں ان تعلیمات اور پر وگراموں کی تکمیل کی گئی ہے اور اگر یہ قرآن جعلی ہوتا تو یقینا ان کے مخالف اور متضاد ہوتا۔ یہیں سے معلوم ہوتا ہے ، کہ اصولی مسائل میں چاہے وہ دینی عقائد ہوں ، یا اجتماعی پروگرام ، چاہے حفظ حقوق کے معاملات ہو ں یا چاہے جہالت کے خلاف جہاد ، حق و عدالت ہو یا اخلاقی اقدار کا احیاء او ریا اس قسم کے دیگر مسائل ، ان کے بارے میں کتب آسمانی میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ سوائے اس کے کہ بعد میں نازل ہونے والی کتاب پہلی کتاب سے بالا تر اور کامل تر سطح کی تھی ۔ جیسا کہ تعلیم کی مختلف کلاسیں ہوتی ہیں ۔ پرائمری ، میٹرک ، کالج او ریونیورسٹی میں ایک ہی علم کی کتاب مختلف سطح کی ہوتی ہے ۔ اسی طرح آخری آسمانی کتاب امتوں کی دینی تعلیم کے آخری دور کے لئے مخصوص تھی جو کہ قرآن ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ احکام کی جزئیات اور فروع میں آسمانی مذاہب میں فرق ہے لیکن یہاں ہم ان کے بنیادی اصولی کی بارت کررہے ہیں جو کہ ہر جگہ ہم آہنگ ہیں ۔ اگلی آیت میں قرآن کی اصالت کے لئے تیسری دلیل پیش کی گئی ہے ۔ ارشاد ہو تا ہے : وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس قرآن کی خدا کی طرف غلط نسبت دی ہے ، ان سے کہہ دو کہ اگر سچ کہتے ہوتو تم بھی اس جیسی ایک سورت لے آوٴ اور خدا کے علاوہ جس سے چاہو مدد طلب کرلو( لیکن تم یہ کام ہر گز نہیں کرسکو گے اور اس سے ثابت ہو جائے گا کہ یہ وحی آسمانی ہے ) (اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَاٴْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِہِ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ) ۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے کہ جو صراحت سے اعجاز قرآن کا ذکر کرتی ہیں اس آیت میں نہ صرف سارے قرآن کے اعجاز کا ذکر ہے بلکہ یہاں تک کہ ایک سورت کے اعجاز کو بیان کیا گیا ہے اور بلا استثناء تمام عالمین کو دعوت دی گئی ہے ۔ کہ اگر تم یہ نظریہ رکھتے ہو کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نہیں ہیں تو اس قرآن کی مانند یا کم از کم اس کی ایک سورہ کی مثل تم بھی آیات لے آوٴ۔ جیساکہ ہم پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ ۲۳ کے ذیل میں بیان کرآئے ہیں ۔ آیاتِ قرآن میں کبھی سارے قرآن کے مقابلے کے لئے چیلنج کیا گیا ہے کبھی دس سورتوں کی دعوت دی گئی اور کبھی ایسی ایک سورت بنا کر لانے کی دعوت دی گئی ہے ۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن کا جز و اور کل سب معجزہ ہے ۔ نیز چونکہ کسی معین سورہ کا ذکر نہیں ہوالہٰذا قرآن کی ہر سورت کے مقابلے کی دعوت اس میں شامل ہے ۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ قرآن کا اعجاز فصاحت و بلاغت ، شیرینیٴ بیان اور عمدورسا تعبیرات میں منحصر نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض پہلے مفسرین کا نظریہ ہے کہ بلکہ اس کے علاوہ اس کے دینی معارف، اس وقت تک کشف نہ ہونے والے علوم کا اس میں ذکر ، اس کے احکام و قوانین ، ہر غلطی اور خرافات سے پاک گزشتہ لوگوں کی تاریخ اور اس میں تضادف و اختلاف کا نہ ہو نا بھی معجزاتی پہلو رکھتے ہیں ۔ ( برائے شرح بیشتر) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:37-40
اعجاز قرآن کا ایک نیا جلوہ
جیسا کہ مندر جہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر زیادہ تر حق کی مخالفتوں ، دشمنیوں اور حق کے خلاف جنگ کا سر چشمہ جہا لت اور نادانی ہے ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ جہالت کا انجام کفر ہے ۔ پہلا فریضہ جو ہر حق طلب انسان کے ذمہ ہے یہ ہے کہ جسے وہ جانتا اس کے بارے میں سکوت اور خاموشی اختیار کرے ، انتظار کرے اور تحقیق و سجتجو کے لئے اٹھ کھڑا ہو، جس مطلب کو نہیں جانتا اس کے تمام پہلووٴ کا مطالعہ کرے تحقیق کرے ۔ جب تک اس کی نفی پر کوئی قطعی دلیل نہ مل جائے اس کی نفی نہ کرے جیسا کہ بغیر قطعی دلیل کے اثبات بھی نہ کرے ۔ مر حوم طبری نے مجمع البیان میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس سلسلے میں ایک نہایت عمدہ حدیث نقل کی ہے ۔ آپ نے فرمایا : اللہ نے قرآں کی دو آیات میں اس امت کو دو اہم درس دئیے ہیں ۔ پہلا یہ کہ جسے جانتے ہو اس کے سوا کوئی بات نہ کہو اور دوسرا یہ کہ جسے جانتے نہیں ہو اس کا انکار نہ کرو۔ اس کے بعد آپ (ع) نے یہ دو آیات تلاوت کیں : الم لیوٴخذ علیھم میثاق الکتاب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق ۔ کیا خدا نے ان سے آسمانی کتاب کا عہد وپیمان نہیں لیا کہ خدا کے بارے میں حق کے سواکچھ نہ کہیں ۔ بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ۔ مشرکین نے ایسی چیزوں کا انکار کیا کہ جن آگاہی نہیں رکھتے تھے جب کہ جہالت کسی چیز کے انکار کے لئے دلیل نہیں ہے ۔ ۴۱۔ وَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ لِی عَمَلِی وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ اٴَنْتُمْ بَرِیئُونَ مِمَّا اٴَعْمَلُ وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ۔ ۴۲۔ وَمِنْہُمْ مَنْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْکَ اٴَفَاٴَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ کَانُوا لاَیَعْقِلُونَ ۔ ۴۳۔ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْظُرُ إِلَیْکَ اٴَفَاٴَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوا لاَیُبْصِرُونَ۔ ۴۴۔ إِنَّ اللهَ لاَیَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَلَکِنَّ النَّاسَ اٴَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ۔ ترجمہ ۴۱۔ انھوں نے تیری تکذیب کی ہے تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمارے لئے ۔ جو کچھ میں انجام دیتا ہوں تم اس سے بیزار ہو اور میں اس سے بیزار ہو ں جو تم کرتے ہو۔ ۴۲۔ اور ان میں سے ایک گروہ تیری طرف کان دھرتا ہے ( لیکن گویا وہ بالکل نہیں سنتا اور بہرہ ہے ) کیا تو اپنی بات بہروں کے کانوں تک پہنچا سکتا ہے ،اگر وہ نہ سمجھیں ۔ ۴۳ ۔اور ان میں ایک گروہ تیری طرف دیکھتا ہے ( لیکن گویا وہ بالکل نہیں دیکھتا ) کیا تو نابینوں کو ہدایت کرسکتا ہے ۔ ۴۴۔خدا انسانوں پربالکل ظلم نہیں کرتا لیکن انسان ہیں کہ جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں ۔