إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
The parable of the life of this world is that of water which We send down from the sky. It mingles with the earth’s vegetation from which humans and cattle eat. When the earth puts on its luster and is adorned, and its inhabitants think they have power over it, Our edict comes to it, by night or day, whereat We turn it into a mown field, as if it did not flourish the day before. Thus do We elaborate the signs for a people who reflect.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:24
[Pooya/Ali Commentary 10:24] (see commentary for verse 22)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:24-25
دو قابل تووجہ نکات
۱۔دنیا کی ناپائیداری کے لئے مثال :قرآن ایک انسان ساز اور تربیت کرنے والی کتاب ہے لہٰذا بہت سے مواقع پر حقائق ِ عقلی کو واضح کرنے کے لئے اس میں پیش کیا گئی ہے ۔بعض اوقات ایسے امور جو کوئی سال طویل ہوتے ہیں انھیں بھی ایک زود گزر اور قابل ِ غور منظر کے طور پر مجسم کرکے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔ ایک انسان یا ایک نسل کی بھر پور زندگی کی تاریخ کہ جو کبھی ایک سو سال پر مشتمل ہوتی ہے کا مطالعہ عام افراد کے لئے کوئی آسان کام نہیں لیکن جب بہت سے نباتات کی زندگی کہ جو چند ماہ میں ختم ہو جاتی ہے ( پیدائش ، نشوونما ، خوبصورتی اور پھر نابودی )کا منظر اس کے سامنے پیش کردیا جائے تو وہ بہت بڑی سہولت سے اپنی زندگی کی کیفیت اس صاف و شفاف آئینہ میں دیکھ سکتا ہے ۔ اس منظر کو ٹھیک طرح سے اپنی آنکھوں کے سامنے لائیے کہ ایک باغ ہے جو درختوں ، سبزہ زاروں سے بھر اپڑا ہے ۔ سب کے سب درخت پھل دار ہیں ۔ باغ میں ہر طرف زندگی مچل رہی ہے مگر کسی تاریک رات میں یا روز روشن میں اچانک سیاہ بادل آسمان پر امنڈ آتے ہیں ۔باد ل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے طوفان موسلادھار بارش اور زبر دست ژالہ باری شروع ہو جاتی ہے ۔باغ تباہ و بر باد ہو جاتا ہے ۔ دوسرے روز جب باغ میں آتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ درخت ٹوٹے پڑے ہیں ۔سبزہ زار ویران اور پژمردہ ہو چکے ہیں اور ہر چیز برباد ہو کر زمین پر پڑی ہے ،ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ وہی سر سبز اور آباد باغ ہے جو کل ہر ابھرا او ر کھلا ہواتھا۔ جی ہاں انسان کی زندگی کا بھی یہی ماجرا ہے خصوصاً ہمارے زمانے میں کہ کبھی ایک زلزلہ یا چند گھنٹوں کی ایک جنگ یا ایک آباد اور خوش و خرم شہر کو اس طرح سے بر باد اور ویران کردیتی ہے کہ اس میں ایک ویرانے کے اور کچھ ٹکڑے جسموں کے کچھ باقی نہیں رہتا۔ وہ لوگ کس قدر غافل ہیں جنہوں نے ایسی ناپائیدار زندگی سے دل لگایا ہے ۔ ۲۔”اختلط بہ نبات الارض“ کامفہوم :اس جملے میں توجہ کرنی چاہئیے کہ اختلاط اصل میں ،جیسا کہ راغب نے کہا ہے دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو جمع کرنا ،چاہے وہ مانع ہوں یا ٹھوس ۔ ” امتزاج“ کی نسبت ” اختلاط“ عام ہے ( کیونکہ امتزاج عموماً مایعات میں ہوتا ہے ) لہٰذا جملہ کا معنی یہ ہوگا کہ بارش کے ذریعے ہر طرح کے نباتات ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں وہ نباتات جو انسان کے کام آتے ہیں ۔۱ یہ جملہ ضمنی طور پر اس حقیقت پر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ خدا بارش کے پانی سے جو ایک ہی طرح کا ہوتا ہے ،انواع و قسام کے نباتا اگاتا ہے کہ جو انسانوں اور جانوروں کی مختلف ضروریات کے لئے مختلف قسم کے غذائی مواد مہیا کرتے ہیں ۔ ۲۶۔ لِلَّذِینَ اٴَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَةٌ وَلاَیَرْھَقُ وُجُوھھُمْ قَتَرٌ وَلاَذِلَّةٌ اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ الْجَنَِّ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ ۔ ۲۷۔ وَالَّذِینَ کَسَبُوا السَّیِّئَاتِ جَزَاءُ سَیِّئَةٍ بِمِثْلِھا وَتَرْھَقُھمْ ذِلَّةٌ مَا لَھمْ مِنْ اللهِ مِنْ عَاصِمٍ کَاٴَنَّمَا اٴُغْشِیَتْ وُجُو ھھم قِطَعًا مِنْ اللَّیْلِ مُظْلِمًا اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ۔ ترجمہ ۲۶۔جولوگ نیکی کرتے ہیں وہ اس کے لئے اچھی اور زیادہ جزا رکھتے ہیں اور تاریکی و ذلت ان کے چہروں کو نہیں ڈھانپتی ۔وہ بہشت کے ساتھی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔ ۲۷۔ باقی رہے وہ لوگ جو گناہوں کاارتکاب کرتے ہیں وہ اس کے برابر جزا رکھتے ہیں اور ذلت و خواری ان کے چہروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور کوئی چیز انھیں خدا ( کی سزا) سے نہیں بچا سکتی( ان کے چہرے اس قدر سیاہ ہیں کہ ) گویا تاریک رات کے ٹکڑوں نے ان کے چہروں کاڈھانپ رکھا ہے ۔ وہ آگ کے ساتھی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔ ۱۔کچھ سطور بالامیں کہا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ”بہ“ میں ”باء“ سببیت کے معنی میں ہے لیکن بعض نے یہ احتمال ذکرکیا ہے کہ یہ ”مع“ کے معنی میں ہے یعنی پانی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور نباتات سے مل جاتا ہے اور انھیں رشدو نمو دیتا ہے لیکن یہ احتمال آیت کے اس حصے سے مناسبت نہیں رکھتا جس میں کہا گیا ہے ” مما یاکل الناس و الانعام “ کیونکہ اس جملے کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اختلاط مختلف قسم کے نباتات کے درمیان مراد ہے نہ کہ پانی اور نباتات کا اختلاط۔ ( غور کیجئے گا )
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:24-25
دنیاوی زندگی کی دور نمائی
گزشتہ آیات میں دنیاوی زندگی کی ناپائیداری کی طرف اشارہ ہواہے زیر نظر آیت میں اس حقیقت کو ایک عمدہ مثال کے ذریعے بیان کیا گیا ہے تاکہ غرور اور غفلت کے پردے غافل اور طغیان گروں کی نظروں کے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں ۔ ارشاد ہوتا ہے : دنیاوی زندگی کی مثال اس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمانوں سے نازل کیا ہے (إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اٴَنْزَلْنَاہُ مِنْ السَّمَاءِ ) ۔ بارش کےیہ حیات بخش قطرہ آمادہ زمینوںپر گرتے ہیں اور ان کے ذریعے طرح طرح کے نباتات اگتے ہیں ان میں سے بعض انسانوں کے لئے مفید ہیں اور بعض جانوروں کے لئے ( فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْاٴَرْضِ مِمَّا یَاٴْکُلُ النَّاسُ وَالْاٴَنْعَامُ ) ۔ یہ نباتات زندہ موجودات کے لئے غذا بھی فراہم کرتے ہیں اور علاوہ ازین سطح زمین کو بھی ڈھانپ دیتے ہیں اور اسے زینت بخشتے ہیں یہاں تک کہ زمین بہترین زیبائی حاصل کرتی ہے اور مزین ہو جاتی ہے ( حَتَّی إِذَا اٴَخَذَتْ الْاٴَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیَّنَت) ۔ اس طرح شکوفہ شاخساروں کو زینت بخشتے ہیں ، پھول کھلتے ہیں ، سبزہ زار نور آفتاب سے چمکنے لگتے ہیں ، تنے اور شاخیں ہواوٴں کے چلنے سے رقص کرنے لگتے ہیں ۔اناج کے دانے اور پھل آہستہ آہستہ نکلنے لگتے ہیں اور صحنِ دنیا میں بھر پور زندگی مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے، دل امید سے اور آنکھیں سرور سے معمور ہو جاتی ہے ،پھولوں سے بھی استفادہ کریں گے اور حیات بخش دانوں سے بھی ( وَظَنَّ اٴَھْلُھَا اٴَنَّہُمْ قَادِرُونَ عَلَیْھَا) ۔ لیکن اچانک ہمارا حکم آپہنچتا ہے ( سخت سردی، شدید ژالہ باری یا تباہ کن طوفان ان پر مسلط ہو جاتا ہے ) اور ہمیں انہیں اس طرح سے کاٹ دیتے ہیں گویا وہ اصلاً تھے ہیں نہیں ( اٴَتَاھَا اٴَمْرُنَا لَیْلًا اٴَوْ نَھَارًا فَجَعَلْنَاھَا حَصِیدًا کَاٴَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْاٴَمْسِ) ۔ ”تغن“ مادہ ”غنا“ سے ، کسی جگہ قیام کرنے کے معنی میں ہے ، اسی بناء پر ” لم تغن بالامس “ کا معنی ہے ” کل وہ اس مکان میں نہ تھا “ اور یہ کنایہ کے طور پر اس چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اس طرح سے بالکل ختم ہو جائے کہ گویا اس کا ہر گز وجود ہی نہ تھا ۔ آیت کے آخر میں زیادہ تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: یوہم تفکر کرنے والوں کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں ( کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔ جوکچھ کہا جاچکا ہے وہ نائیدار ، پر فریب اور زرق و برق مادی دنیا کی واضح اور بدلتی تصویر ہے ۔اس زندگی کا مقام پائدار ہے ، نہ ثروت اور نہ ہی یہ امن و سلامتی کی جگہ ہے لہٰذا بعد والی آیت میں ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس کے مد مقابل دوسری زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا دار السلام ، صلح و سلامتی اور امن و آشتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ( وَ اللهُ یَدْعُو إِلَی دَارِ السَّلَامِ ) ۔وہ جگہ کہ جہاں مادی زندگی کے ان غارت گروں کی کشمش کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی خدا سے بے خبر ذخیرہ اندوزوں کی احمقانہ مزاحمت کا کوئی پتہ اور نہ ہی وہاں جنگ ، خونریزی ، استعمار اور استمشار ہے اور یہ تمام مفاہیم لفظ” دار السلام“ ( یعنی امن و سلامتی کا گھر ) جمع ہیں ۔ اگر دنیا کی زندگی بھی توحیدی اور آخرت والی شکل اختیار کرلے تو یہ بھی دار السلام میں تبدیل ہو جائے اور اس کی صورت ” مزرعہ بلا دیدہ و طوفان زدہ “ والی نہیں رہے گی ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیاہے : خدا جسے چاہے ( اور اہل پائے ) راہ ِ مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے کہ جو راہ ِ دار السلام ہے اور جو امن و آشتی کے مرکز تک جا پہنچتی ہے (وَیَھْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیم) ۔