وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
When Our manifest signs are recited to them, those who do not expect to encounter Us say, ‘Bring a Quran other than this, or alter it.’ Say, ‘I may not alter it of my own accord. I follow only what is revealed to me. Indeed should I disobey my Lord, I fear the punishment of a tremendous day.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:15
[Pooya/Ali Commentary 10:15] For "meeting with Us" refer to the commentary of verse 7 of this surah. Some notable idolworshippers like Abdullah bin Ubayy, Walid bin Mughirah, Amr bin Abdullah and As bin Amir asked the Holy Prophet to bring another Quran which did not so vehemently and uncompromisingly denounce the idols and idol worship, or to make some changes therein, by way of compromise, to suit their taste. The Holy Prophet never said anything of his own will. Whatever he said was revelation revealed. See An Najm: 3 and 4. So there was no possibility of accommodating the wild wishes of the idolaters. He could not, on his own authority, effect any change in the verses of the Quran. Prophet Isa had also mentioned this unique and exclusive quality of the Holy Prophet: "When he comes who is the spirit of truth, he will guide you into all the truth; for he will not speak on his own authority, but will tell only what he hears." (John 16: 13) Aqa Mahdi Puya says: In many verses the Quran asserts that the Holy Prophet does not do anything or say any word on his own authority but he follows that which is revealed to him. All his sayings are also revelation, though not the part of the Quran, as made clear in verse 101 to 103 of al Nahl, but equally decisive and binding.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:15-17
شان نزول
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیات چند بت پرستوں کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں ۔ وہ خدمت پیغمبر میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے جو کچھ قرآن میں ہمارے بڑے بتوں لات ، عزٰی ، منات اورھبل کی عبادت کرنے اور ان کی مذمت میں نازل ہوا ہے ، ہمارے لئے قابل برداشت نہیں ہے اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہاری پیروی کریں تو دوسرا قرآن لے آوٴ جس میں ایسی کوئی بات نہ ہو یا پھر کم از کم موجودہ قرآن میں سے ایسی باتیں نکال دو ۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ہیں اور انھیں جواب دیا گیا ہے ۔ تفسیر گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی مبداء اور معاد سے مربوط مسائل سے متعلق بحث جاری ہے ۔ پہلے بت پرستوں کے ایک بہت بڑے اشتباہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں جو لوگ قیامت اور ہماری ملاقات پر ایمان نہیں رکھتے ، کہتے ہیں : اس کی بجائے کوئی دوسرا قرآن لے آوٴ یا پھر کم از کم اس قرآن میں تبدیل کر دو (وَ إِذا تُتْلی عَلَیْھِمْ آیاتُنا بَیِّناتٍ قالَ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِھذا اٴَوْ بَدِّلْہ) یہ بے خبر بے نوا پیغمبر کی رہبری کو قبول نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے خرافات اور باطل افکار کی پیروی کی دعت دیتے تھے۔ آنحضرت سے ایسے قرآن کی خواہش کرتے تھے جو ان کے انحراف کے تابع ہو نہ کہ ان کے معاشرے کا اصلاح کنندہ ہو ۔ وہ نہ صرف یہ کہ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور اپنے کاموں میں احساس مسوٴلیت نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی یہ گفتگو نشاندہی کرتی تھی کہ انھوں نے نبوت کے مفہوم کو بالکل سمجھا ہی نہ تھا یا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے ۔ قرآن صراحت کے ساتھ انھیں اس عظیم اشتباہ سے باہر نکالتا ہے اور پیغمبر اکرم کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو : میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ میں خود اس میں تبدیلی کر دوں ( قُلْ ما یَکُونُ لی اٴَنْ اٴُبَدِّلَہُ مِنْ تِلْقاء ِ نَفْسی) ۱ اس کے بعد تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : میں فقط اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے ( إِنْ اٴَتَّبِعُ إِلاَّ ما یُوحی إِلَیَّ) نہ صرف یہ کہ میں اس آسمانی وحی میں تبدیلی نہیں کر سکتا بلکہ میں اگر اپنے پروردگار کے حکم سے تھوڑا سا بھی تخلف کروں تو ( قیامت کے ) اس عظیم دن کی سزا سے ڈرتا ہوں ( إِنِّی اٴَخافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذابَ یَوْمٍ عَظیمٍ ) اگلی آیت میں اس بات کی دلیل پیش کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے ، ان سے کہہ دو : ” اس کتاب میں میرے ارادے کا ذرہ بھر بھی دخل نہیں ہے اور اگر خدا چاہتا تو ان کی آیات کی میں تمہارے سامنے تلاوت نہ کرتا اور تمھیں اس سے آگاہ نہ کرتا “ ۔(قُلْ لَوْ شاء َ اللَّہُ ما تَلَوْتُہُ عَلَیْکُمْ وَ لا اٴَدْراکُمْ ) اس لئے کہ میں نے قبل ازیں بہت عرصہ تم میں زندگی گزاری ہے اور تم نے کبھی بھی مجھ سے ایسی باتیں نہیں سنیں اگر یہ آیات میری طرف سے ہوتیں تو لازماً اس چالیس سال کی مدت میں میری فکر سے میری زبان پر جاری ہوتیں ۔ کم از کم ان کا کچھ حصہ تو بعض لوگ ہم سے سنتے ( بِہِ فَقَدْ لَبِثْتُ فیکُمْ عُمُراً مِنْ قَبْلِہ) کیا یہ واضح بات نہیں سمجھ سکتے (اٴَ فَلا تَعْقِلُونَ ) پھر مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے : میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ ظلم کی بد ترین قسم یہ ہے کہ کوئی شخص خدا پر افتراء باندھے ۔ ”اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے کہ جو خدا کی طرف جھوٹی نسبت دے “ (فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَری عَلَی اللَّہِ کَذِباً )۔ لہذا کیونکر ممکن ہے کہ میں ایسے بڑے گناہ کا مرتکب ہوں اسی طرح جو شخص آیات الہی کی تکذیب کرے .. تو یہ بھی بہت بڑا ظلم ہے ( اٴَوْ کَذَّبَ بِآیاتِہ) اگر تم آیات حق کی تکذیب اور انکار کے گناہ کی عظمت سے بے خبر ہو تو میں بے خبر نہیں ہوسکتا ۔ بحر حال تمہارا یہ کام بہت بڑا ظلم ہے ” اور مجرم کبھی فلاح اور کامیابی حاصل نہیں کرستے “ ( إِنَّہُ لا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ) چند اہم نکات ۱۔ مشرکین کی دو متبادل خواہشوں میں فرق : مشرکین پیغمبر خدا سے یہ خواہش کرتے تھے کہ یا تو قرآن کو کسی اور کتاب سے بدل دیں یا قرآن میں تبدیلی کردیں ان دونوں کے درمیان فرق واضح ہے ۔ ان کے پہلے تقاضے میں ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ کتاب بالکل ختم ہو جائے اور اس کی جگہ پیغمبر کی طرف سے دوسری کتاب آجائے لیکن دوسرے تقاضے میں وہ چاہتے تھے کہ کم از کم وہ آیات جو بتوں کے خلاف ہیں وہ تبدیل ہو جائیں تا کہ انھیں اس طرف سے کسی قسم کی پریشانی لا حق نہ ہو ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کیسے قطعی لہجہ میں انھیں جواب دیتا ہے کہ نہ کتاب کا تبادلہ پیغمبر کے اختیار میں ہے نہ رد و بدل اور نہ وحی تاخیر یا جلدی ۔ واقعاً ان کے افکار و نظریات کسیے پست اور ناقص تھے وہ ایسے پیغمبر کی اطاعت کرنا چاہتے تھے کہ جو ان کے خرافات اور ہوا و ہوس کا پیرو ہو نا کہ جو خود پیشوا، رہبر ، مربی اور رہنماء ہو ۔ ۲۔ پیغمبر اکرم کے جواب پر ایک نظر :یہ بات قابل توجہ ہے کہ پیغمبر خدا ان کے دو تقاضوں کے جواب میں صرف ان کی دوسری خواہش کے انجام دینے کی توانائی نہ رکھنے کا ذکر کرتے ہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں کویہ ردّ و بدل نہیں کر سکتا ۔ اس بیان سے در اصل ان کی پہلی خواہش کی بطریق اولیٰ نفی ہوجاتی ہے کیونکہ جب بعض آیات میں تغیر و تبدل پیغمبر کے اختیار میں نہیں تو کیا اس ساری آسمانی کتاب کو بدل دینا اس کے لئے ممکن ہے اس تعبیر میں ایک خاص وضاحت پائی جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ایک بھی اضافی جملہ یا لفظ کہے بغیر انتہائی جچے تلے اور مختصر الفاظ میں تمام مسائل بیان کرتا ہے ۔ ۳ ۔ ایک اشکال اور اس کی وضاحت : ہو سکتا ہے کہا جائے ۔ جو دلیل قرآن کے پیغمبر کی طرف سے ہونے کی نفی کے لئے اور اس کے حتماً خدا کی طرف سے ہونے کے بارے میں زیر نظر آیات میں پیش کی گئی ہے وہ مطمئن کرنے والی نہیں ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ اگر یہ کتاب پیغمبر کی طرف سے ہو تو حتماً اس جیسا کلام انہوں نے اس سے قبل آپ سے سنا ہو ۔ لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کیونکہ جو کچھ ماہرین نفسیات کہتے ہیں اس کے مطابق نبوغ ، ایجاد اور تخلیق کی صلاحیتوں کااظہار عموماً انسان میں بیس سال کی عمر میں شروع ہو جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پینتیس سے چالیس سال تک رہتا ہے یعنی اگر انسان اس عمر تک اپنی ان صلاحیتوں سے کام نہ لے تو اس کے بعد عام طور پر ممکن نہیں رہتا ۔ یہ امر جو آج کل علم نفسیات کے حوالے سے معلوم ہوا ہے مثلاً اس سے پہلے اس حد تک واضح نہیں تھا مگر اکثر لوگ فطرت کی ہدایت سے اس امر کی طرح توجہ رکھتے ہیں کہ معمول کے مطابق ممکن نہیں ہے کہ ایک انسان ایک روش ، مکتب اور نظریہ رکھتا ہو اور چالیس سال ایک قوم میں زندگی گزار لے اور بالکل اسے ظاہر نہ کرے قرآن بھی اسی نبیاد کا سہارا لیتا ہے کہ اس سن و سال میں کس طرح ممکن تھا کہ اپیغمبر ایسے افکار و نظریات رکھتا ہو اور انہیں بالکل چھپا ئے رکھے ۔ ۴ ۔ سب سے زیادہ ظالم کون ہے ؟ : جیسا کہ ہم سورہ انعام کی آیہ ۲۱ ۔ کے ذیل میں اشارہ کرچکے ہیں کہ قرآن میں بہت سے موقع پر کسی ایک گروہ کو سب سے بڑھ کر اظالم ( اظلم ) قرار دیا گیا ہے ۔ ابتداء میں شاید یہ نظر آئے کہ ان میں ایک دوسرے سے تضادپایا جاتا ہے کیونکہ جب ایک گروة کو سب سے زیادہ ظاکم قرار دیا جائے تو ہھر دوسرے کو کیسے یہی کچھ کہا جا سکتا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ تمام عناوین در اصل ایک یہی عنوان کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ ہے شرک ، کفر ، عناد آیات خدا وندی کی تکذیب اور خدا پر افتراء۔ زیر بحث آیت میں بھی یہی صورت ہے ۔ مزید وضاحت کے لئے جلد پنجم ص ۱۶۰ ( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ۔ ۱۸ ۔ وَ یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ ما لا یَضُرُّھُمْ وَ لا یَنْفَعُھُمْ وَ یَقُولُونَ ہؤُلاء ِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّہِ قُلْ اٴَ تُنَبِّئُونَ اللَّہَ بِما لا یَعْلَمُ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْاٴَرْضِ سُبْحانَہُ وَ تَعالی عَمَّا یُشْرِکُونَ ۔ ترجمہ ۱۸۔ اور خدا کی بجائے کچھ چیزوں کی پرستش کرتے ہیں کہ جونہ انہیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ فائدہ دیتی ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کے پاس یہ ہمارے شفیع ہیں ، کہہ دو : کیا تم خدا کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ آسمانوں اور زمین میں نہیں جانتا ۔ وہ ان شریکوں سے منزہ اور بلند و بر تر ہے جو تم قرار دیتے ہو ۔ ۱- ۔ لفظ ” تلقاء “ مصدر ہے یا اسم مصدر ہے یہ مقابلے اور آمنے سامنے کے معنیٰ میں آیا ہے اس آیت میں اور ایسے مقامات پر یہ نزدیک اور ماحیہ کے معنی میں ہے یعنی میں اپنی طرف سے اور خود سے تبدیلی نہیں کر سکتا ۔