وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ فَنَذَرُ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
Were Allah to hasten ill for mankind with their haste for good, their term would have been over. But We leave those who do not expect to encounter Us bewildered in their rebellion.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:11
[Pooya/Ali Commentary 10:11] Refer to the commentary of verse 7 of this surah; also refer to the commentary of al Baqarah : 15 (8 to 20).
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 10:11-20
1. God hastens in rewarding but not in punishing. Thus, His mercy preponderates His wrath. 2. Man is ungrateful, prays to God in adversity and is indifferent in prosperity. 3. The Prophet’s genuine behaviour is borne out by God. 4. Disputation – disagreeing from the Imam’s (Divine Light’s) decision has led to formation of sections as decisions of a Divine Light is Knowledge on truth, being Divine Revelation, and difference therefrom is a result of guess work, involving fancy, doubt, or approximation and therefore erroneous, resulting in misguidance and destruction.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:11-12
خود غرض انسان
ان آیات میں بھی بد کاروں کی پاداش کے بارے میں گفتگو جاری ہے ۔ پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے : اگر خدا بد کار لوگوں کو جلدی اور اسی جہان میں سزا دےدے اور جیسے وہ نعمت اور خیر کے بارے کے حصول میں جلدی کرتے ہیں خدا بھی ان کی سزا میں تعجیل کرے تو سب کی عمر ختم ہو جائے اور ان کا نام و نشان تک بھی باقی نہ رہے (وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللَّہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجالَھم بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ إِلَیْھمْ اٴَجَلُھمْ) لیکن خدا لطف چونکہ تمام بندوں کے شامل حال ہے یہاں تک کہ بد کاروں ، کافروں اور مشرکوں کے لئے بھی ہے اس لیے وہ ان کی سزا میں جلدی نہین کرتا کہ شاید وہ بیدار ہوں جائیں ، توبہ کر لیں اور بے راہ روی سے پلٹ آئیں ۔ علاوہ ازیں اگرسزا اتنی جلد مل جاتی تو اختیاری حالت جو کہ مسوٴلیت کی بنیاد ہے ، تقریبا ً ختم ہوجاتی اور اطاعت گزاروں کی اطاعت بھی ، پھر اضطراری کیفیت میں ہوتی کیونکہ خلاف ورزی کی صورت میں فوراً وہ درد ناک سزا کا سامنا کرتے ۔ اس جملے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ ہٹ دھرم کفار ایسے تھے جو انبیاء سے کہتے تھے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو جتنا جلدی ہوسکے خدا سے کہو، ہمیں نابود کر دے یا سزا دے اس بات کو قرآن نے ذکر کیا ہے اب اگر خدا ان کے اس تقاضے کو قبول کر لیتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا . لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔ آیت کے آخر مین قرآن فرماتا ہے : ان کے لئے یہی سزا کافی ہے کہ جو لوگ قیامت اور ہماری ملاقات پر ایمان نہیں لائے انھیں ہم ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے طغیان میں حیران و سرگردان رہیں ، نہ حق کو باطل سے جدا کر سکیں اور نہ راہ کو چاہ سے ۔ ( فَنَذَرُ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنا فی طُغْیانِھمْ یَعْمَھُونَ )۔ اس موقع پر آدمی کی فطرت اور روح کی گہرائی میں نور توحید کے وجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : جب انسان کو کوئی نقصان اور ضرر پہنچتا ہے اور ہر جگہ اس کا ہاتھ کوتاہ ہوجاتا ہے تو ہماری طرف ہاتھ بلند کرتا ہے اور جب وہ پہلو کے بل سوتا ہے یا بیٹھاتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے ، ہر حالت میں ہمیں پکارتا ہے ۔ (وَ إِذا مَسَّ الْإِنْسانَ الضُّرُّ دَعانا لِجَنْبِہِ اٴَوْ قاعِداً اٴَوْ قائِماً ) جی ہاں ! مشکلات اور دردناک حواث کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی پاک فطرت سے پردوں اور حجابوں کو بر طرف کر دیتے ہیں ۔ حوادث کی بھٹی میں تمام سیا ہ پردے جنہوں نے اس فطرت کو چھپا رکھا ہوتا ہے ، جل جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں اور ایک عرصہ کے لئے چاہے وہ کتنا ہی کم ہو اس نور توحیدی کی چمک آشکار ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ باقی رہے یہ لوگ ، تو یہ اس قدر کم ظرف اور بے عقل ہیں کہ -- ” اتنی دیر میں کہ ہم بلا و پریشانی ان سے بر طرف کر دیں ، اس طرح غفلت میں ڈوب جاتے ہیں گویا انھوں نے ہم سے کوئی بالکل تقاضا ہی نہ کیا تھا ، اور ہم نے بھی جیسے ان کی کوئی مدد نہیں کی (فَلَمَّا کَشَفْنا عَنْہُ ضُرَّہُ مَرَّ کَاٴَنْ لَمْ یَدْعُنا إِلی ضُرٍّ مَسَّہُ ) جی ہاں ! اس طرح سے مسرفین کے اعمال کو ان نظر میں مزین کیا گیا ہے ۔ (کَذلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفینَ ما کانُوا یَعْمَلُونَ )۔ ایسے افراد کے اعمال کو ان کی نظر میں کون مزین کرکے پیش کرتا ہے ؟ اس بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد پنجم سورہ انعام کی آیہ ۱۲۲ کے ذیل میں صفحہ ۳۴۳ ( اردو ترجمہ ) پر بحث کر چکے ہیں اس بحث کا اجمالی خاکہ یہ ہے کہ زینت دینے والا خدا ہے لیکن اس طرح سے کہ اس نے برے اور قبیح اعمال میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ جس قدر انسان ان سے آلودہ ہوجاتا ہے اس قدر ان کا زیادہ عادی ہو جاتا ہے اور نہ صرف ان کی برا ئی اور قباحت اس کی نظر میں ختم ہو جاتی ہے بلکہ وہ اسے آہستہ آہستہ اچھے معلوم ہونے لگتے ہیں ۔ یہ کہ ایسے افراد کو زیر نظر آیت میں ” مسرفین “ ( اسراف کرنے والے ) کیوں کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ اسراف کیا ہو گا کہ اپنے وجود کا اہم ترین سرمایہ یعنی عمر ، سلامتی ، جوانی اور اپنی مختلف صلاحیتوںکو فضول کاموں میں اور گناہ ، عصیان اور نا فرمانی میں برباد کر دے یا اس دنیا کے لئے بے وقعت اور نا پائیدار مال و متاع کے حصول میں ضائع کر دے اور اس سرمایہ کے بدلے میں اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو ... کیا یہ کام اسراف نہیں ہے اور کیا ایسے لوگ مسرف شمار نہیں ہوتے ؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:11-12
انسان قرآن کریم کی نظر میں
انسان کے بارے میں قرآن مجید میں مختلف تعبیرات آئی ہیں : بہت سی آیات میں انسان کے لئے لفظ ” بشر “ استعمال ہوا ہے ۔ بہت سی دیگر آیات میں لفظ ” انسان “ آیا ہے ۔ کچھ آیات میں ” بنی آدم “ کی تعبیر آئی ہے ہاں البتہ بہت سے مواقع پر اس کے لئے مذموم صفات ذکر ہوئی ہیں ۔ مثلا ً زیر بحث آیات میں انسان کا تعارف ایک زود فراموش اور حق شناس موجود کے طور پر کروایا گیا ہے ۔ ایک اور مقام پر اسے ایک ضعیف اور کمزور موجود موجود کہا گیا ہے : خلق الانساان ضعیفاً ۔ ( نساء۲۸ ) ایک اور جگہ اسے ستم گراور کفر کرنے والا قرار دیا گیا ہے : ان الانسان لظلوم کفار۔ ( ابراھیم ۔ ۳۴ ) ایک اور مقام پر انسان کو بخیل کہا گیا ہے : و کان الانسان قتوراً ۔ ( بنی اسرائیل۔ ۱۰۰) ایک اور جگہ جلد باز کہا گیا ہے : و کان الانسان عجولاً ۔ ( بنی اسرائیل۔ ۱۱) دوسری جگہ کفران کرنے والے قرار دیا گیا ہے : و کان الانسان کفوراً۔ ( بنی اسرائیل۔ ۶۷ ) ایک اور مقام پر اسے جھگڑالو کہا گیا: کان الانسان اکثر شیء جدلاً ۔ ( کھف۔ ۵۴) ایک اور جگہ انسان کو ظلوم اور جہول کہا گیا ہے : انہ کان ظلوما جھولاً ۔ ( احزاب۔ ۷۲ ) ایک اور جگہ اسے واضح کفر کرنے والا کہا گیا ہے : ان الانسان لکفور مبین ۔ ( زخرف۔۱۵) ایک اور جگہ اسے کم ظرف اور متلون مزاج کہا گیا ہے کہ جو دم بہ دم بدلتا رہتا ہے ، نعمت ملے تو بخیل ہو جاتا ہے اور مصیبت کے وقت رونا پیٹنا شروع کر دیتا ہے : ان الانسان خلق ھلوعاً اذا مسہ الشر جزوعاً و اذا مسہ الخیر منوعاً۔ (معارج ۱۹ ، ۲۰ ، ۲۱ ،) ایک اور جگہ اسے مغرور یہاں تک کہ خدا کے سامنے بھی مغرور بتایا گیا ہے : یا ایھا الانسان ما غرک بربک الکریم۔ ( انفطار ۔ ۶) ایک اور مقام پر اسے ایک ایسا موجود بتایا گیا ہے کہ جو نعمت کے وقت طغیان و سرکشی کرتا ہے : ان الانسان لیطغی ان راٰہ استغنیٰ ۔ ( علق ۶،۷ ) اس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں انسان کو ایک ایسا موجود کہا گیا ہے جو بہت زیادہ منفی پہلو رکھتا ہے اور جس میں کمزوری کے بہت سے نقطے موجود ہیں ۔ کیا یہ وہی انسان ہے جسے انسان ہے جسے خدا نے ” احسن تقویم “ اور بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ۔ ( التین ۔ ۴) کیا یہ وہی انسا ن ہے جس کا معلم اور استاد خدا تھا اور جس چیز کو وہ نہیں جانتا تھا اللہ نے اسے اس کی تعلیم دی : علم الانسان مالم یعلم ۔ (علق۔ ۵ ) کیا یہی وہ انسان ہے جسے خدا نے بیان سکھایا ہے -: خلق الانسان علمہ البیان ۔ ( رحمن ۔ ۳ ،۴ ) کیا یہ وہی انسان ہے جسے خدا نے اپنی راہ میں کاوش کے لئے ابھارا ہے : یا ایھا الانسان انک کادح الیٰ ربک کدحاً ۔ ( انشقاق ۔۶ ) یہ بات قابل غور ہے کہ خدا کی طرف سے ایسے شرف اور ایسی محبت کے حامل انسانوں میں کمزوری کے یہ پہلو کیسے آ گئے ۔ ظاہراً یہ ہے کہ تمام مباحث ایسے انسانوں کے بارے میں ہیں جو خدائی رہبروں کے زیر تربیت نہیں رہے بلکہ انھوں نے خود رو پودوں کی طرح پرورش پائی ہے ان کا نہ کوئی معلم تھا نہ رہبر و راہنما اور نہ انھیں کوئی بیدار کرنے والا تھا ۔ ان کی خواہشات آزاد تھیں اور وہ ہوا و ہوس میں غوطہ زن تھے ۔ واضح ہے کہ ایسے انسان نہ صرف یہ کہ فراواں وسائل اور اپنے وجود کے سرمایہ عظیم سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ انھیں انحرافی راستوں اور غلط کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔ یوں وہ ایک خطرناک موجود کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور آخر کار ناتواں و بے نوا وجود بن جاتے ہیں ۔ ورنہ وہ انسان جو ہادیان بر حق کے وجود سے استفادہ کرتے ہیں ، اپنی فکر و نظر سے استفادہ کرتے ہیں اور تکامل و ارتقاء اور حق و عدالت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، وہ مرحلہ آدمیت میں قدم رکھ کر بنی آدم ہونے کی اہلیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس طرح وہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ خدا کے علاوہ انھیں کچھ نہیں سوجھتا ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے : و لقد کرمنا بنی آدم و حملناھم فی البر و البحر و رزقناھم من الطیبات و فضلناھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلاً ۔ ہم نے بنی آدم کو تکریم و عزت بخشی اور خشکی اور دریا کو ان کی جولان گاہ قرار دیا اور انھیں پاکیزہ رزق دیا اور انھیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ( بنی اسرائیل ۔۷۰ ) ۱۳۔ وَ لَقَدْ اٴَھْلَکْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَ جاء َتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّناتِ وَ ما کانُوا لِیُؤْمِنُوا کَذلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمینَ ۔ ۱۴ ۔ ثُمَّ جَعَلْناکُمْ خَلائِفَ فِی الْاٴَرْضِ مِنْ بَعْدِھِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُونَ ۔ ترجمہ ۱۳۔تم سے پہلے کی امتوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا حالانکہ ان کے پیغمبر واضح دلائل لیکر ان کے پا آئے تھے مجرم گروہ کو ہم اس طرح سے جز ادیتے ہیں ۔ ۱۴۔ان کے بعد پھر ہم نے تمہیں روئے زمین پر ان کا جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو ۔