قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
Say, ‘O people! if you are in doubt about my religion, then [know that] I do not worship those whom you worship besides Allah. Rather, I worship only Allah, who causes you to die, and I have been commanded to be among the faithful,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:104
[Pooya/Ali Commentary 10:104]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 10:104-109
God has made this world a test to admit His Solitary Sovereignty over all allowing, by power and pomp and liberty to people to listen to His invitation, through his selected messengers, i.e. Divine Lights, and solaces His Prophet not to vex self to such an extent as to endanger his life for their not embracing faith.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:104-107
مشرکین کے بارے میں حتمی فیصلہ
جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے ” حنیف“ اس شخص کو کہتے ہیں جو انحراف اور ٹیڑھے پن سے راستی ، استقامت اور سیدھے پن کی طرف جھکے یا دوسرے لفظوں میں انحراف اور ٹیڑھے دینوں اور طور طریقوں سے آنکھیں بند کرلے اور خدا کے سیدھے اور مستقیم دین کی طرف متوجہ ہو وہی دین جو فطرت کے مطابق ہے اور فطرت سے اسی مطابقت کی وجہ سے صاف ستھرا او رمستقیم ہے ، اس بناء پر تو حید کے فطری ہونے کی طرف اشارہ اس میں پنہاں ہے کیونکہ انحراف وہ چیز ہے جو فطرت کے خلاف ہو ( غور کیجئے گا ) ۔ فطرت کے راستے شرک کے بطلان کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ایک واضح عقلی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ ” خدا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت نہ کرجو نہ فائدہ پہنچاسکتی ہیں اور نہ نقصان ۔ کیونکہ اگر تونے ایسا کام کیا تو ظالموں میں سے ہو جائے گا “ اپنے اوپر ظلم کرے گا اور ا س معاشرے پر بھی جس سے تیرا تعلق ہے ۔ ( وَلاَتَدْعُ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَنْفَعُکَ وَلاَیَضُرُّکَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِنْ الظَّالِمِینَ) ۔ کون سی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان ایسی چیزوں او رموجودات کی عبادت کرے کہ جو کسی قسم کا فائدہ اور نقصان نہیں پہنچا سکتیں اور انسانی تقدیر میں جن کا تھوڑا سا بھی اثر نہیں ہے ۔ یہاں بھی صرف نفی کے پہلو پر بس نہیں کیا گئی بلکہ مثبت پہلو کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے : اگر تمہیں خدا کی طرف سے ناراحتی اور نقصان پہنچے ( چاہے سزا کے طور پر ) ، اس کے علاوہ کوئی بھی اسے بر طرف نہیں کرسکتا( وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللهُ بِضُرٍّ فَلاَکَاشِفَ لَہُ إِلاّھُوَ) ۔اسی طرح ” اگر خدا چاہے کہ تمجے بھلائی پہنچے تو کوئی بھی اس کے فضل و رحمت کوروک نہیں سکتا “ ( وَإِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَرَادَّ لِفَضْلِہِ ) ۔ ” وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ( اور اہل سمجھے) خیر اور نیکی تک پہچاتا ہے ( یُصِیبُ بِہِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ) ۔کیونکہ اس کی بخشش اور رحمت سب پر محیط ہے اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والاہے ( وَھُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ) ۔ ۱۰۸۔ قُلْ یَااٴَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ اھْتَدَی فَإِنَّمَا یَھْتَدِی لِنَفْسِہِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا وَمَا اٴَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیلٍ۔ ۱۰۹۔ وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی إِلَیْکَ وَاصْبِرْ حَتَّی یَحْکُمَ اللهُ وَھُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ ۔ ترجمہ ۱۰۸۔ کہہ دو: اے لوگو! تمہارے پر وردگار کی طرف سے حق تمہاری جانب آیا ہے ( اس کے زیر سایہ) ہدایت یافتہ اپنے لئے ہدایت پا تا ہے اور جو شخص گمراہ ہو جائے تو وہ اپنے نقصان میں گمراہ ہوا ہے او رمیں تم پر ( مجبور کرنے کے لئے ) مامور نہیں ہوں ۔ ۱۰۹۔ اور جو کچھ تم پروحی ہوتی ہے اس کی پیروی کر اور صبر کر ( اور استقامت دکھا ) تاکہ خدا ( کامیابی کا ) حکم صادر کرے اور وہ بہترین حکم کرنے والا ہے ۔