إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
Indeed We sent it down on the Night of Ordainment.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 97:1
[Pooya/Ali Commentary 97:1] Qadr is power, honour, glory, grandeur. Refer to the commentary of Dukhan: 3 to 6 and references mentioned therein to have a clear understanding about the doctrine of determinism propagated by a large number of Muslim schools of thought; and also the true, rational and Islamic article of faith based on divine adl (justice) presented by the Ahl ul Bayt that man has been given a free wil1 to do good or do evil on the basis of which or as a consequence of which he will be examined on the day of judgement. Refer to the commentary of Baqarah: 2 on page 20; and 5 on page 24; and 21 on page 55. Laylatil Qadr means the night of power or grandeur. As verses 2 and 3 suggest it is, in the spiritual sense, a secret kept hidden, and it transcends time because in it Allah's power dispels the darkness of ignorance through His revelation. Jalal al Din al Suyuti, in Durr al Manthur, says that laylatil qadr stands for the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt. Aqa Mahdi Puya says: The night of qadr is in the month of Ramadan. See Baqarah: 185 and Dukhan: 1 to 3 wherein it is stated that the whole Quran was revealed in this night. The descension of the angels and the spirit is a regular occurrence since the creation of Allah till the day of resurrection, and the place of descent is a thoroughly purified heart (Ahzab: 33). Therefore there should be such a purified heart in existence at all times. Imam Muhammad bin Ali al Baqir said: "Present this surah as a decisive argument for the continuity of the divine vicegerency on the earth." The 19th, 21st, 23rd, 25th, 27th or 29th night of Ramadan is the night of qadr. The whole Quran was revealed to the Holy Prophet in this night but he used to recite or convey to the people only such passages or verses as he was commanded by Allah through Jibrail. It is known as gradual revelation. Refer to the commentary of Baqarah: 2 and Aqa Puya's essay "The Genuineness of the Holy Quran". Verse 2 suggests that the spiritual nature of this night and its value is known to Allah only. Quoting Sajdah: 4, 5 and Ma-arij: 4, Abdullah Yusuf Ali says that "a thousand months" refers to "timeless time". One moment of enlightenment under Allah's light is better than thousands of months or years of animal life, and such a moment converts the night of darkness into a period of spiritual glory. The Imams of Ahl ul Bayt have asked their followers to pray to Allah and invoke His forgiveness and blessings during the night of Qadr. It is said that angels and holy spirits descend on the earth with peace and special blessings from Allah for those who seek Allah's mercy and bounties through prayers and supplications during this night. In the month of Ramadan the believers fast, pray and do good, therefore Allah sends down His forgiveness, mercy and blessings on those believers who obey His commands, and the boon of blessings and bounties promised to the sincere devotees of Allah continues until the rising of the dawn. When the spiritual darkness is dispelled by the light from Allah, a sense of security and peace dawns on the soul.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
Peace to the faithful is offered at five place in the Future State: (1) at partition of soul, (2) at dor of paradise, (3) in paradise, (4) in upper chambers of paradise, and (5) on receipt of bounties. In every city where Divine Light resides there is a ladder of Light to Heaven when angels come and go carrying Divine message.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
۳۔ شب قدر مخفی کیوں رکھی گئی ؟
بہت سے علماء کا نظر یہ یہ ہے کہ سال بھر کی راتوں یا ماہ مبارک رمضان کی راتوں میں شب قدر کا مخفی ہونا اس بناء پر ہے کہ لوگ ان سب راتوں کو اہمیت دیں ۔ جیسا کہ خدا نے اپنی رضا و خوشنودی کی مختلف قسم کی عبادتوں میں پنہاں کررکھا ہے تاکہ لوگ سب عبادتوں اور اطاعتوں کی طرف رخ کریں ۔ او ر اپنے غضب کو معاصی کے درمیان پنہاں رکھا ہے ، تاکہ سب لوگ گناہوں سے پر ہیز کریں ، اپنے دوستوں کو لوگوں سے مخفی رکھا ہے تاکہ سب کا احترام کریں، اور دعاوٴں کی قبولیت کو مختلف دعاوٴں میں پنہاں رکھا ہے تاکہ دعاوٴں کی طرف رخ کریں ۔ اسم اعظم کو اپنے اسماء میں مخفی رکھا ہے تاکہ تمام اسماء کو بزرگ و عظیم سمجھیں ۔ اور موت کے وقت کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر حالت میں آمادہ وتیار رہیں۔ اور یہ فلسفہ مناسب نظر آتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
۶۔ قرآن شب قدر میں کیوں نازل ہوا؟
کیونکہ شب قدر میں ایک سال کے لیے انسانوں کی سر نوشت ان کی قابلیتوں اور صلاحیتوں کے مطابق مقدر کی جاتی ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انسان اس رات بیدار رہے ۔ اور توبہ اور اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے اور خدا کی بار گاہ میں حاضر ہوکر خود میں اس کی رحمت کے لیے زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر لیاقت پیدا کرے ۔ ہاں ! جن لمحات میں ہماری سر نوشت کی تعین ہوتی ہے ان میں انسان کو سویاہوانہیں ہونا چاہئیے ، اور نہ ہی ہر چیز سے غافل او ر بے خبر رہنا چاہئیے کیونکہ اس صورت میں ایک غم ناک سر نوشت ہو جائے گی۔ قرآن چونکہ ایک سر نوشت ساز کتاب ہے ، اور اس میں انسانوں کی سعادت و خوش بختی اور ہدایت کی باتوں کی وضاحت کی گئی ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ سر نوشتوں کی تعین کا پروگرام شب قدر میں نازل ہو۔ قرآن اور شب قدر کے درمیان کتنا خوبصورت رابطہ ہے ، اور ان دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق اور رشتہ کس قدر پر معنی ہے ؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
۵۔ شب قدر ہزار ماہ سے کیسے بر تر ہے ؟
ظاہر ہے کہ اس شب کا ہزار ماہ سے بہتر ہونا اس رات کو بیدار رہنے اور اس کی عبادت کی قدر و قیمت کی وجہ سے ہے ، اور لیلة القدر کی فضیلت اور اس میں عبادت کی فضیلت کی روایات، جو شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں فراوان ہیں ، اس مطلب کی مکمل طور پر تائید کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ اس رات میں قرآن کا نزول اور اس میں برکات اور رحمت الہٰی کا نزول بھی اس بات کا سبب ہے کہ یہ ہزار ماہ سے برتر و بالا تر ہو۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیاہے کہ آپ نے ” علی بن ابی حمزہ ثمالی“ سے فرمایا:شب قدر کی فضیلت کو اکیسویں اور تیئسویں رات میں تلاش کرو، اور ان دونوں راتوں میں سے ہرایک میں ایک سو رکعت نماز بجالاوٴ۔ اور اگر تم سے ہو سکے تو ان دونوں راتوں کا طلوعِ صبح تک احیاء کرو، اور اس رات غسل کرو“۔ ” ابو حمزہ“ کہتا ہے : میں نے عرض کیا : ” اگر میں کھڑے ہو کر یہ سب نمازیں نہ پڑھ سکوں “۔ آپ نے فرمایا: پھر بیٹھ کر پڑھ لو ۔ میں نے عرض کیا اگر اس طرح بھی نہ پڑھ سکوں ۔ آپ نے فرمایا: پھر بستر میں( لیٹ کر) پڑھ لو ، اور رات کے پہلے حصہ میں تھوڑا سا سولینے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے ، اور اس کے بعد عبادت میں مشغول ہو جاوٴ۔ ماہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور شیاطین طوق و زنجیرمیں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور مومنین کے اعمال مقبول ہوتے ہیں ، ماہ رمضان کتنا اچھا مہینہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
۱۔ شب قدر میں کون سے امورمقدّر ہوتے ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں کہ اس رات کو، شب قدر، کا نام کیوں دیا گیاہے ، بہت کچھ کہا گیا ہے : منجملہ یہ کہ : ۱۔ شب قدر کو نام شب قدر کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ بندوں کے تمام سال کے سارے مقدرات اسی رات میں تعین ہوتے ہیں ، اس معنی کی گواہ سورہٴ دخان ہے جس میں آیاہے کہ :انا انزلناہ فی لیلة مبارکة انا کنا منذرین فیا یفرق کل امر حکیم“: ہم نے اس کتاب مبین کو ایک پر بر کت رات میں نازل کیا ہے ، اور ہم ہمیشہ ہی انداز کرتے رہتے ہیں ، اس رات میں ہر امر خدا وند عالم کی حکمت کے مطابق تنظیم و تعین ہوتا ہے “۔ ( دخان۔ ۳۔ ۴) یہ بیان متعدد روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو کہتی ہیں کہ اس رات میں انسان کے ایک سال کے مقدرات کی تعین ہوتی ہے اور رزق ، عمریں اور دوسرے امور اسی مبارک رات میں تقسیم اور بیان کیے جاتے ہیں ۔ البتہ یہ چیز انسان کے اردہ اور مسئلہ اختیارکے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی ، کیونکہ فرشتوں کے ذریعے تقدیر الٰہی لوگوں کی شائستگیوں اور لیاقتوں ، اور ان کے ایمان و تقویٰ اور نیت ِ اعمال کی پاکیزگی کے مطابق ہوتی ہے ۔ یعنی ہر شخص کے لیے وہی کچھ مقدر کرتے ہیں جو اس کے لائق ہے ، یا دوسرے لفظوں میں ، اس کے مقدمات خود اسی کی طرف سے فراہم ہوتے ہیں ، اور یہ امر نہ صرف یہ کہ اختیارکے ساتھ کوئی منا فات نہیں رکھتا، بلکہ یہ اس پر ایک تاکید ہے ۔ ۲۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ اس رات کا اس وجہ سے شب قدر نام رکھا گیاہے کہ وہ ایک عظیم و قدر و شرافت کی حامل ہے ( جس کی نظیر سورہٴ حج کی آیہ۷۴ میں آئی ہے ) (ماقدر و اللہ حق قدرہ)انہوں نے حقیقت میں خدا کی قدر و عظمت کو ہی نہیں پہچا نا“۔ ۳۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن اپنی پوری قدر و منزلت کے ساتھ، قدر و منزلت والے رسول پر اور صاحبِ قدر و منزلت فرشتے کے ذریعے اس میں نازل ہواہے۔ ۴۔ یایہ مطلب ہے کہ ایک ایسی رات ہے جس میں قرآن کا نازل ہونا مقدر ہوا ہے ۔ ۵۔ یایہ کہ جو شخص اس رات کو بیدارر ہے تو وہ صاحبِ قدر و مقام و منزلت ہوجاتا ہے ۔ ۶۔ یا یہ بات ہے کہ اس رات میں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ ان کے لیے عرصہٴ زمین تنگ ہو جاتا ہے ، کیونکہ تقدیر تنگ ہونے کے معنی میں بھی آیاہے۔ و من قدر علیہ رزقہ ( طلاق۔۷) ان تمام تفاسیر کا ” لیلة القدر “ کے وسیع مفہوم میں جمع ہونا پورے طور پر ممکن ہے اگر چہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب اور زیادہ مشہور ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
شب قدر نزولِ قرآن کی رات
قرآن کی آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید ماہ مبارک میں نازل ہوا ہے :” شہر رمضان الذی انزل فیہ القراٰن “ (بقرہ۔ ۱۸۵) اور اس تعبیر کا ظاہر یہ ہے کہ سارا قرآن اسی ماہ میں نازل ہوا ہے ۔ اور سورہ قدر کی پہلی آیت میں مزید فرماتا ہے : ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا “۔ (انّآ انزلناہ فی لیلة القدر) اگر چہ اس آیت میں صراحت کے ساتھ قرآن کا نام ذکر نہیں ہوا ، لیکن یہ بات مسلم ہے کہ ” انّا انزلناہ“ کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے اور اس کا ظاہری ابہام اس کی عظمت اور اہمیت کے بیان کے لیے ہے ۔ ” انّا انزلناہ“ ( ہم نے اسے نازل کیا ہے ) کی تعبیر بھی اس عظیم آسمانی کتاب کی عظمت کی طرف ایک اور اشارہ ہے جس کے نزول کی خدا نے اپنی طرف نسبت دی ہے مخصوصاً صیغہ متکلم مع الغیر کے ساتھ جو جمع کامفہوم رکھتا ہے ، اور یہ عظمت کی دلیل ہے ۔ اس کا شب” قدر“ میں نزول وہی شب جس میں انسانوں کی سر نوشت اور مقدرات کی تعین ہوتی ہے ۔ یہ اس عظیم آسمانی کتاب کے سرنوشت ساز ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔ اس آیت کو سورہ بقرہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شب قدر ماہ مبارک رمضان میں ہے ، لیکن وہ کون سی رات ہے قرآن سے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا ۔ لیکن روایات میں اس سلسلہ میں بھی اور دوسرے مسائل کے بارے میں بھی گفتگو کریں گے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخی لحاظ سے بھی اور قرآن کے مضمون کے پیغمبر اکرم کی زندگی سے ارتباط کے لحاظ سے بھی یہ مسلم ہے کہ یہ آسمانی کتاب تدریجی طور پر اور ۲۳ / سال کے عرصہ میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ بات اوپر والی آیات سے جو یہ کہتی ہیںکہ ماہ رمضان میں اور شب قدر میں نازل ہوئی، کس طرح ساز گار ہوگی؟ اس سوال کا جواب:۔ جیسا کہ بہت محققین نے کہا ہے ۔ یہ ہے کہ قرآن کے دو نزول ہیں ۔ ۱۔ نزول دفعی : جو ایک ہی رات میں سارے کا ساراپیغمبراکرم کے پاس قلب پریا بیت المعمور پر یا لوح محفوظ سے نچلے آسمان پر نازل ہوا۔ ۲۔ نزول تدریجی : جو تیئس سال کے عرصہ میں نبوت کے دوران انجام پایا ۔ ( ہم سورہ دُخان کی آیہ ۳ جلد ۱۲ تفسیر نمونہ ص ۲۶سے آگے اس مطلب کی تشریح کے چکے ہیں )۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آغازِنزول ِ قرآن شب قدر میں ہواتھا، نہ کہ سارا قرآن ، لیکن یہ چیز آیت کے ظاہر کے خلاف ہے ، جو کہتی ہے کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کے نازل ہونے کے سلسلے میں بعض آیات میں ” انزال“ اور بعض میں ” تنزیل“ تعبیر ہوئی ہے ۔ اور لغت کے کچھ متنوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ” تنزیل “ کا لفظ عام طور پر وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی چیز تدریجاًنازل ہو لیکن ” انزال “ زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے جو نزول دفعی کو بھی شامل ہوتا ہے ۔ ۱ تعبیر کایہ فرق جو قرآن میں آیاہے ممکن ہے کہ اوپر والے دو نزولوں کی طرف اشارہ ہو۔ بعد والی آیت میں شب قدر کی عظمت کے بیان کے لیے فرماتاہے :” تو کیا جانے کہ شب قدر کیا ہے “۔( وما ادراک مالیلة القدر)۔ اور بلا فاصلہ کہتا ہے :” شب قدر ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے “۔( لیلة القدر خیر من الف شہر )۔ یہ تعبیر اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس رات کی عظمت اس قدر ہے کہ پیغمبر اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک بھی اپنے اس وسیع وعریض علم کے باوجود آیات کے نزول سے پہلے واقف نہیں تھے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہزار ماہ اسّی (۸۰) سال سے زیادہ ہے ۔ واقعاً کتنی باعظمت رات ہے جو ایک پر برکت طولانی عمر کے برابر قدر و قیمت رکھتی ہے ۔ بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے لباسِ جنگ زیب تن کررکھا تھا ، اور ہزار ماہ تک اسے نہ اتا را ، وہ ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول ( یا آمادہ ) رہتا تھا ، پیغمبر اکرم کے اصحاب و انصار نے تعجب کیا، اور آرزو کی کہ کاش اس قسم کی فضیلت و افتخار انہیں بھی میسر آئے تو اوپروالی آیات نازل ہوئیں ۔ اور بیان کیاکہ شب قدر ہزار ماہ سے افضل ہے ۔ ۲ ایک اور حدیث میں آیاہے کہ پیغمبر نے بنی اسرائیل کے چار افراد کو ذکر کیا جنہوں نے اسی سال بغیر معصیت کیے خدا کی عبادت کی تھی۔ اصحاب نے آرزو کی کہ کاش وہ بھی اس قسم کی توفیق حاصل کرتے تو اس سلسلہ میں اوپر والی آیات نازل ہوئیں۔۳ اس بارے میںکہ یہاں ہزار کا عدد” تعداد“ کے لئے ہے یا” تکثیر“ کے لیے بعض نے کہا ہے : یہ تکثیر کے لیے ہے ، اور شب قدر کی قدر و منزلت کئی ہزار ماہ سے بھی زیادہ ہے ، لیکن وہ روایات جوہم نے اوپرنقل کی ہیں وہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیںکہ عددِ مذکور تعداد ہی کے لئے ہے اور اصولی طور پر بھی عدد ہمیشہ کے لئے ہوتا ہے مگر یہ تکثیر پر کوئی واضح قرینہ موجود ہو ، اوراس کے بعد اس عظیم رات کی مزید تعریف و توصیف کرتے ہوئے اضافہ کرتا ہے : ” اس رات میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کے اذن سے ہر کام کی تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں“۔ (تنزل الملائکة و الروح فیھا باذن ربھم من کل امر)۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” تنزل“ فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کرتا ہے ( جو اصل میں ” تتنزل“ تھا)۔ واضح ہو جاتا ہے کہ شبِ قدر پیغمبر اکرم اور نزولِ قرآن کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں تھی، بلکہ یہ ایک امر مستمر ہے ، اور ایسی رات ہے جو ہمیشہ آتی رہتی ہے اور ہر سال آتی ہے ۔ اس بارے میں کہ روح سے کیا مراد ہے بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد ” جبرئیل امین “ ہے ، جسے ” روح الامین “ بھی کہا جاتا ہے ، اور بعض نے ” روح“ کی سورہ شوریٰ کی آیہ ۵۲” و کذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا“ ” جیسا کہ ہم نے گزشتہ انبیاء پر وحی کی تھی، اسی طرح سے تجھ پر بھی اپنے نافرمان سے وحی کی ہے“۔ کے قرینہ سے ” وحی“ کے معنی میں تفسیر کی ہے ۔ اس بناء پر آیت کا مفہو م اس طرح ہوگا” فرشتے وحی الٰہی کے ساتھ، مقدرات کی تعیین کے سلسلہ میں ، اس رات میں نازل ہوتے ہیں “۔ یہاں ایک تیسری تفسیر بھی ہے جو سب سے زیادہ قریب نظر آتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ” روح ایک بہت بڑی مخلوق ہے جو فرشتوں سے مافوق ہے ، جیساکہ ایک امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا : کیا روح وہی جبرئیل ہے “ ؟ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:” جبرئیل من الملائکة، و الروح اعظم من الملائکة ان اللہ عز و جل یقول : تنزل الملائکة و الروح“۔ ” جبرئیل تو ملائکہ میں سے ہے ، اور روح ملائکہ سے زیادہ عظیم ہے ، کیا خدا وند تعالیٰ یہ نہیں فرماتا : ملائکہ اور روح نازل ہوتے ہیں ، ؟4 یعنی مقابلہ کے قرینہ سے یہ دونوں آپس میں مختلف ہیں لفظ ” روح“ کے لئے یہاں دوسری تفاسیر بھی ذکر ہوئی ہیں کیونکہ ان کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی ، لہٰذا ان سے صرف نظرکی گئی ہے ” من کل امر“ سے مراد یہ ہے کہ فرشتے سر نوشتوں کی تقدیر و تعین کے لئے ، او رہر خیر و برکت لانے کے لئے اس رات میں نازل ہوتے ہیں ، اور ان کے نزول کا مقصدان امور کی انجام دہی ہے ۔ یا یہ مراد ہے کہ ہر امر خیر اور ہر سر نوشت اور تقدیر کو اپنے ساتھ لاتے ہیں ۔ 5 ”ربھم“ کی تعبیر کو، جس میں ربوبیت اور تدبیر جہاں کے مسئلہ پر بات ہوئی ہے ، ان فرشتوں کے کام کے ساتھ قریبی مناسبت ہے ، کہ وہ امور کی تدبیر و تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں، اور ان کا کام بھی پروردگارکی ربوبیت کا ایک گوشہ ہے ۔ اور آخری آیت میں فرماتا ہے :” یہ ایک ایسی رات ہے ، جو طلوع صبح تک سلامتی اور خیر و برکت و رحمت سے پر رہتی ہے “۔ ( سلام ھی حتی مطلع الفجر)۔ قرآن بھی اسی میں نازل ہوا، اس کا احیاء اور شب بیداری بھی ہزار ماہ کے برابر ہے ، خدا کی خیرات و برکات بھی اسی شب میں نازل ہوتی ہیں ، اس کی رحمتِ خاص بھی بندوں کے شامل حال ہوتی ہے ، اور فرشتے اور روح بھی اسی رات میں نازل ہوتے ہیں ۔ اسی بناء پر یہ ایک ایسی رات ہے جو آغاز سے اختتام تک سرا سر سلامتی ہی سلامتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق تو اس رات میں شیطان کو زنجیر میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی یہ ایک ایسی رات ہے جو سالم او رسلامتی سے تواٴم ہے ۔ اس بناء پر ” سلام “ کا اطلاق ، جو سلامت کے معنی میں ہے ۔( سالم کے اطلاق کے بجائے) حقیقت میں ایک قسم کی تاکید ہے ، جیسا کہ بعض اوقات ہم کہہ دیتے ہیں کہ فلاں آدمی عین عدالت ہے ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس رات پر” سلام “کا اطلاق اس بناء پر ہے کہ فرشتے مسلسل ایک دوسرے پریا مومنین پر سلام کرتے ہیں ، یا پیغمبر کے حضور میں اور آپ کے معصوم جانشین کے حضور میں جاکر سلام عرض کرتے ہیں ۔ ان تفسیروں کے درمیان بھی ممکن ہے ۔ بہر حال یہ ایک ایسی رات ہے جو ساری کی ساری نور و رحمت ، خیر و بر کت، سلامت و سعادت، اور ہر لحاظ سے بے نظیر ہے ۔ ایک حدیث میں آیاہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا ۔ کیاآپ جانتے ہیںکہ شب قدر کونسی رات ہے ؟ تو آپ نے فرمایا- ” کیف لانعرف و الملائکة تطوف بنا فیھا“ ” ہم کیسے نہ جانیں گے جب کہ فرشتے اس رات ہمارے گرد طواف کرتے ہیں“۔ 6 حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آیا ہے کہ خدا کے کچھ فرشتے آپ کے پاس آئے اور انہیں بیٹے کے تولد کی بشارت دی اور ان پر سلام کیا ، ( ہود۔۶۹)۔ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی جو لذت ان فرشتوں کے سلام میں آئی، ساری دنیا کی لذتیں بھی اس کے برابرنہیں تھیں۔ اب غور کرنا چاہئیے کہ جب شب قدر میں فرشتے گروہ درگروہ نازل ہورہے ہوں، اور مومنین کو سلام کررہے ہوں ،تو اس میں کتنی لذت، لطف اور برکت ہوگی؟! جب ابراہیم کو آتش نمرودمیں ڈالا گیا ، تو فرشتوں نے آکر آپ کو سلام کیااور آگ ان پر گلزار بن گئی ، تو کیا شب قدر میں مومنین پر فرشتوں کے سلام کی برکت سے آتش دوزخ” برد“و” سلام “ نہیں ہو گی ؟ ۔ ہاں ! یہ امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کی نشانی ہے کہ وہاں تو خلیل پر نازل ہوتے ہیں اور یہاں اسلام کی اس امت پر ۔7 ۱۔ مفردات راغب مادّہ نزل۔ ۲۔ ” در المنثور“ جلد ۶ ص ۳۷۱۔ ۳۔ ” در المنثور“ جلد ۶ ص ۳۷۱۔ 4۔ ” تفسیر بر ہان “ جلد ۴ ص ۴۸۱۔ 5-بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا کے امر و فرمان سے نازل ہوتے ہیں لیکن مناسب وہی پہلا معنی ہے ۔ 6۔ ” تفسیر برہان“ جلد ۴ ص۴۸۸ حدیث ۲۹۔ 7۔ ” تفسیر فخر رازی“ جلد ۳۲ ص ۳۶۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
۷۔ کیا مختلف علاقوں میں ایک ہی شب قدر ہوتی ہے ؟
ہم جانتے ہیں کہ تمام شہروں میں قمری مہینوں کا آغاز یکساں نہیں ہو تااور یہ ممکن ہے کہ ایک علاقہ میں تو آج اول ماہ ہو، اور دوسرے علاقہ میں دوسری تاریخ ہو۔ اس بناء پر شب قدرِ سال میں ایک معین رات نہیں ہو سکتی ، کیونکہ مثال کے طور پر مکہ کی تیئسویں رات ، ایران و عراق میں بائیسویں رات ہو سکتی ہے ، اس طرح اصولی طور پر ہر ایک کی علیٰحدہ شب قدر ہو گی ۔کیا یہ بات اس چیز سے ، جو آیات و روایات سے معلوم ہوتی ہے ، کہ شب قدر ایک معین رات ہے ، ساز گارہے ؟ ! اس سوال کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ رات وہی کرہٴ زمین کے آدھے سایہ کوہی کہتے ہیں ، جو کرہٴ زمین کے دوسرے حصہ پرپڑتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سایہ گردش زمین کے ساتھ حرکت میں ہے ، اور اس کا ایک مکمل دورہ چوبیس گھنٹوں میں انجام پاتا ہے ، اس بناء پرممکن ہے کہ شب قدر رات کا زمین کے گرد ایک مکمل دورہ ہو۔ یعنی تاریکی کی چوبیس گھنٹے کی مدت جو زمین کے تمام نقاط کو اپنے سائے کے نیچے لے لے ، وہ شب قدر ہے ، جس کا آغاز ایک نقطہ سے ہوتا ہے ، اور دوسرے نقطہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ ( غور کیجئے)۔ خدا وندا ! ہمیں اس قسم کی بیداری و آگاہی عطا فرما کہ لیلة القدر کی فضیلت سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں ۔ پروردگارا ! ہماری چشم امید تیرے لطف و کرم پر لگی ہوئی ہے ، ہمارے مقدرات کو اس کے موافق معین فرما۔ بار الٰہا ! ہمیں اس مہینہ کے محرومین میں سے قرار نہ دے کہ جس سے بالاتر کوئی محرومیت نہیں ہے ۔ آمین یا رب العالمین
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
۴۔ کیا گزشتہ امتوں میں بھی شب قدر تھی؟
اس سورہ کی آیات کے ظاہر سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ شب قدر منزل ِ قرآن اور پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں تھی۔ بلکہ دنیا کے اختتام تک اس کا ہرسال تکرار ہوتا رہے گا۔ فعل مضارع (تنزل)کی تعبیر، جو استمرار پر دلات کرتی ہے ، اور اسی طرح جملہ اسمیہ ” سلام ھی حتی مطلع الفجر“ کی تعبیر بھی ، جو دوام کی نشانی ہے ، اسی معنی کی گواہ ہے ۔ اس کے علاوہ بہت سی روایات بھی ، جو شاید حدِ تواتر میں ہیں ، اس معنی کی تائید کرتی ہیں ۔ لیکن یہ بات کہ کیا گزشتہ امتوں میں بھی تھی یا نہیں ؟ متعدد روایات کی تصریح یہ ہے کہ یہ امت پر مواہب الٰہیہ میں سے ہے ، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے آیاہے کہ آپ نے فرمایا: ” انّ اللہ وھب لامتی لیلة القدر لم یعطھا من کان قبلھم“” خدا نے میری امت کو شب قدر عطا کی ہے ، گزشتہ امتوں میں سے کسی بھی یہ نعمت نہیں ملی تھی“۔۱ اوپر والی آیات کی تفسیر میں بعض وارد شدہ روایات اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں ۔ ۱۔ ” در المنثور“ ج۶ ص ۳۷۱۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 97:1-5
۲۔ شب قدر کون سی رات ہے ؟
اس سوال کے جواب میں کہ اس رات کو، شب قدر، کا نام کیوں دیا گیاہے ، بہت کچھ کہا گیا ہے : منجملہ یہ کہ : ۱۔ شب قدر کو نام شب قدر کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ بندوں کے تمام سال کے سارے مقدرات اسی رات میں تعین ہوتے ہیں ، اس معنی کی گواہ سورہٴ دخان ہے جس میں آیاہے کہ :انا انزلناہ فی لیلة مبارکة انا کنا منذرین فیا یفرق کل امر حکیم“: ہم نے اس کتاب مبین کو ایک پر بر کت رات میں نازل کیا ہے ، اور ہم ہمیشہ ہی انداز کرتے رہتے ہیں ، اس رات میں ہر امر خدا وند عالم کی حکمت کے مطابق تنظیم و تعین ہوتا ہے “۔ ( دخان۔ ۳۔ ۴) یہ بیان متعدد روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو کہتی ہیں کہ اس رات میں انسان کے ایک سال کے مقدرات کی تعین ہوتی ہے اور رزق ، عمریں اور دوسرے امور اسی مبارک رات میں تقسیم اور بیان کیے جاتے ہیں ۔ البتہ یہ چیز انسان کے اردہ اور مسئلہ اختیارکے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی ، کیونکہ فرشتوں کے ذریعے تقدیر الٰہی لوگوں کی شائستگیوں اور لیاقتوں ، اور ان کے ایمان و تقویٰ اور نیت ِ اعمال کی پاکیزگی کے مطابق ہوتی ہے ۔ یعنی ہر شخص کے لیے وہی کچھ مقدر کرتے ہیں جو اس کے لائق ہے ، یا دوسرے لفظوں میں ، اس کے مقدمات خود اسی کی طرف سے فراہم ہوتے ہیں ، اور یہ امر نہ صرف یہ کہ اختیارکے ساتھ کوئی منا فات نہیں رکھتا، بلکہ یہ اس پر ایک تاکید ہے ۔ ۲۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ اس رات کا اس وجہ سے شب قدر نام رکھا گیاہے کہ وہ ایک عظیم و قدر و شرافت کی حامل ہے ( جس کی نظیر سورہٴ حج کی آیہ۷۴ میں آئی ہے ) (ماقدر و اللہ حق قدرہ)انہوں نے حقیقت میں خدا کی قدر و عظمت کو ہی نہیں پہچا نا“۔ ۳۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن اپنی پوری قدر و منزلت کے ساتھ، قدر و منزلت والے رسول پر اور صاحبِ قدر و منزلت فرشتے کے ذریعے اس میں نازل ہواہے۔ ۴۔ یایہ مطلب ہے کہ ایک ایسی رات ہے جس میں قرآن کا نازل ہونا مقدر ہوا ہے ۔ ۵۔ یایہ کہ جو شخص اس رات کو بیدارر ہے تو وہ صاحبِ قدر و مقام و منزلت ہوجاتا ہے ۔ ۶۔ یا یہ بات ہے کہ اس رات میں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ ان کے لیے عرصہٴ زمین تنگ ہو جاتا ہے ، کیونکہ تقدیر تنگ ہونے کے معنی میں بھی آیاہے۔ و من قدر علیہ رزقہ ( طلاق۔۷) ان تمام تفاسیر کا ” لیلة القدر “ کے وسیع مفہوم میں جمع ہونا پورے طور پر ممکن ہے اگر چہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب اور زیادہ مشہور ہے ۔