كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَى
Indeed man becomes rebellious
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 96:6
[Pooya/Ali Commentary 96:6] The ability to acquire knowledge and other human faculties are the gifts of Allah, but man, in his inordinate vanity and insolence, mistakes the performance of these gifts for his own achievements. Man is reminded of his lowly origin and his responsibility when he finally returns to his Lord. These verses are applicable generally to perverse disbelievers who not only rebel against Allah's law, but also prevent others from following it. In particular these verses refer to Abu Jahl, an inveterate enemy of Islam, who used to insult and persecute the Holy Prophet and those who followed his teaching. In verse 10 "he (who) prays" refers to the Holy Prophet. Man's insolence leads to self-destruction through self-misleading and false directions to others. Abu Jahls, in every age, destroy themselves by belying the truth and by not following the right guidance. Often Shaytan appears in the form of Abu Jahls, so not to be misled by the disguised beguiler, the true believer must examine the claim of the leadership of every candidate before accepting him as his guide or Imam. The forelock is on the forehead, and is thus symbolical of the summit of the man's power and dignity. To be dragged by it is to surer the lowest degree of disgrace. Allah is watching Abu Jahls in all times. They will be dragged by their forelocks and will be thrown in the fire of hell on the day of judgement. "A lying, sinful forelock" is the description of Abu Jahl who had the full support of the pagan Quraysh, but they could not, all combined, prevent the onward march of the divine mission led by the Holy Prophet, though they did all they could to check it. All the combined forces of evil, though they had worldly possessions at their disposal, and though they seemed to be successful for a time, could not stand against the party of Allah. The forces at His command subdue evil and protect His party. The righteous believer has no fear. He disregards all the forces of evil, bows down in adoration to Allah only and seeks His nearness and pleasure at all events. His humility and surrender to Allah keep him safe from insolent rebellion and bring him near to Him. Sajdah is compulsory after reciting or listening to verse 19.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 96:6-14
کیا تجھے معلوم نہیں کہ خدا تیرے تمام اعمال کو دیکھتا ہے ؟
گزشتہ آیات کے بعد جن میں انسان کے لیے پروردگار کی مادی و معنوی نعمتوں کی طرف اشارہ ہوا تھا، اور ایسی وسیع نعمتوں کا لازمہ یہ ہے کہ انسان شکر ادا کرے اور خدا کے سامنے سر تسلیم خم کردے، لہٰذا زیر بحث آیات میں فرماتا ہے: ایسا نہیں ہے کہ خدا ئی نعمتیں ہمیشہ ہی انسان میں شکر گزاری کی روح بیدار کرتی ہوں بلکہ وہ یقینی طور پر طغیان و سر کشی کرتا ہے “۔ ( کلّا ان الانسان لیطغیٰ)۔۱ ” اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگ جاتا ہے “۔ ( ان رٰاہ استغنیٰ)۲ یہ عام لوگوں کی فطرت ہوتی ہے ، ان لوگوں کی فطرت اور عادت جنہوں نے عقل و وحی کے مکتب میں پرورش نہ پائی ہو، چنانچہ جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگ جاتے ہیں تو سر کشی و طغیان شروع کردیتے ہیں ۔ نہ تو خدا کا بندہ بنتے ہیں ، نہ اس کے احکام کو قبول کرتے ہیں، نہ وجدان کی پکار پر کان دھرتے ہیںاور نہ ہی حق و عدالت کا خیال کرتے ہیں ۔ انسان اور کوئی بھی دوسری مخلوق ہر گز بے نیاز اور مستغنی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ تمام ممکن موجودات ہمیشہ خدا کے لطف اور نعمتوں کے محتاج اور نیاز مند رہتے ہیں ۔اور اگر ایک لمحہ بھی اس کافیض و کرم منقطع ہو جائے تو ٹھیک اسی لمحہ سب کے سب نابودو فنا ہو جائیں۔ البتہ انسان بعض اوقات غلطی سے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگ جاتا ہے ، اور آیت کی تعبیر لطیف بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے، جو یہ کہتی ہے کہ :” وہ خود کو بے نیاز سمجھنے لگ جاتا ہے“۔ یہ نہیں کہتی کہ وہ بے نیاز ہو جاتا ہے“۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں ” انسان “ سے مراد خصوصیت کے ساتھ ” ابو جہل “ ہے ، جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کے آغاز ہی سے مخالفت کے لیے کھڑا ہو گیا تھا۔ لیکن مسلّمہ طور پر یہاں ’ ’ انسان“ ایک مفہوم کلی رکھتا ہے اور ” ابو جہل“ جیسے افراد اس کے مصادیق ہیں۔ بہر حال ایسامعلوم ہوتا ہے کہ آیت کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ پیغمبر کو یہ توقع رکھنی چاہئیے کہ لوگ فوراًہی ان کی دعوت قبول کرلیں گے۔ بلکہ انہیں چاہئیے کہ وہ خود کو سر کش مستکبرین کے انکار اور مخالفت کے لیے آمادہ تیارو رکھیں اور یہ جان لیں کہ ایک نشیب و فراز سے بھراہوا راستہ ان کے سامنے ہے ۔ اس کے بعد ان مستکبر سر کشوںکو تہدید کرتے ہوئے فرماتاہے : یقینا سب کی باز شگت تیرے پروردگار کی طرف ہے “۔ ( ان الیٰ ربک الرجعیٰ)۔ اور وہی سر کشوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچا تا ہے ۔ اصولی طور پر جس طرح کہ ہر چیز کی باز گشت اس کی طرف ہے اور سب مرجائیں گے ، اور آسمان و زمین کی میراث اس کی پاک ذا ت کے لیے رہ جائے گی: و للہ میراث السماوات و الارض( آل عمران۔ ۱۸۰)ابتداء میں بھی تمام چیزیں اسی کی طرف سے تھیں، اور اس با ت کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان خود کو بے نیاز سمجھنے لگ جائے ، اور مغرور ہوکر سر کش بن جائے۔ اس کے بعد مغرور سر کشوں کے کاموں کے ایک حصہ، یعنی راہ حق پر چلنے اور ہدایت و تقویٰ کے طریق کو طے کرنے سے روکنے کو بیان کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے : ” مجھے بتا کیا وہ شخص جو منع کرتا ہے “۔ (ارئت الذی ینھیٰ) ”بندہ کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے “۔ ( عبداً اذا صلّٰی)۔ کیا ایسا آدمی عذاب الٰہی کا مستحق نہیں ہے ؟ ! احادیث میں آیا ہے کہ ” ابو جہل“ نے اپنے اطرافیوں سے سوال کیا! کیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، تمہارے سامنے بھی ( سجدہ کے لئے ) مٹی پر چہرے کو رکھتا ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! اس نے کہا : قسم ہے اس کی جس کی ہم قسم کھاتے ہیں ، اگر میں اسے اس حالت میں دیکھوں گا تو اپنے پاوٴں سے اس کی گردن کو کچل کر رکھ دوں گا۔ انہوں نے اس سے کہا : وہ دیکھوں! وہ اس جگہ نماز پڑھنے میں مشغول ہے۔ ابو جہل چلا تاکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن کو اپنے پاوٴں کے نیچے کچلے۔ لیکن جب وہ قریب پہنچا تو پیچھے ہٹ گیا اور ایسا معلوم دیتاتھا جیسے کہ وہ کسی چیز کو اپنے ہاتھ سے ہٹا رہا ہے ۔ان لوگوں نے اس سے کہا ، ہم تیری یہ حالت کیا دیکھ رہے ہیں ؟ اس نے کہا: میں نے اچانک اپنے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق دیکھی ہے ، اور ایک وحشت ناک منظر اور کچھ پر و بال مشاہدہ کیے ہیں ! اس موقع پر پیغمبر نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ میرے قریب آجاتا تو خدا کے فرشتے اس کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتے اور ا س کے ایک ایک عضو کو اچک کرلے جاتے“! اس موقع پر اوپر والی آیات نازل ہوئیں ، 3 ان روایات کے مطابق اوپر والی آیات آغازِ بعثت میں نازل ہوئیں ، بلکہ اس وقت نازل ہوئیں جب اسلام کی دعوت برملا ہو چکی تھی۔ اسی لیے ایک گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ اس سورت کی پہلی پانچ آیات ہی آغازِ بعثت میں نازل ہوئی تھیں، اور باقی کافی مدت کے بعد نازل ہوئیں ۔ لیکن بہر حال یہ شانِ نزول آیت کے مفہوم کی وسعت سے مانع ہے ۔ بعد والی آیت میں اور زیادہ تاکید کے لئے مزید کہتا ہے :” مجھے بتا اگر نماز گزار بندہ طریق ہدایت پر ہو “۔ ( ارء یت ان کان علی الھدٰی)۔ ” یا لوگوں کو تقویٰ کا حکم دے “۔ ( او امر بالتقویٰ)۔ کیا منع کرنا مناسب ہے ، اور کیا اس قسم کے شخص کی سزا جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ اور ہوسکتی ہے ؟ ! ” کیاوہ نہیں جانتا کہ خدا اس کے تمام اعمال کو دیکھتا ہے ، اور ان سب کو حساب و کتاب اور جزا و سزا کے لیے ثبت و ضبط کررہا ہے “۔ ( الم یعلم بان اللہ یرٰی)۔ اوپر والی آیات میں قضیہ شرطیہ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس مغرور سرکش کو کم از کم یہ احتمال تودینا چاہئیے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طریقِ ہدایت پر ہیں ، اور ان کی دعوت تقویٰ کی طرف دعوت ہے ، یہی احتمال اس کی سر کشی کو روکنے کے لیے کافی ہے ۔ اس بناء پر ان آیات کا مفہوم ، پیغمبر کی تقویٰ کی طرف دعوت، اور ہدایت میں تردید نہیں ہوگا ، بلکہ یہ اوپر والے باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے ۔ بعض مفسرین نے ” کان“ و ”مر“ کی ضمیر کو اسی نہی کرنے والے شخص کی طرف لوٹا یا ہے ، جیسا کہ ”ابو جہل“ تھا۔ اس بناء پر آیات کا مفہوم اس طرح ہوجائے گا، اگر وہ ہدایت کو قبول کرلے اور نماز سے منع کرنے کی بجائے تقویٰ کی دعوت کرے تو اس کی حالت کے لئے یہ کتنا مفید ہوگا؟ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔ ۱۔ جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ” کلا“ اس چیز کو روکنے کے لیے ہے جو گزشتہ آیات کے مضمون کالازمہ ہے، اور بعض نے اسے ’ ’ حقاً“کے معنی میں بھی لیا ہے جو تاکید کے لئے ہے۔ ۲۔ ”ان رٰاہ استغنی“کا جملہ مفعول لاجلہ ہے اور تقدیر میں لان ہے اور روٴیت یہاں علم کے معنی میں ہے ، لہٰذا اس کے دو مفعول ہوئے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ روئیت حِسی کے معنی میں ہو اور ” استغنیٰ“ بمنزلہ ” حال“ کے ہو۔ 3۔ تفسیر ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۱۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 96:6-14
عالم ہستی محضر خدا میں ہے
اس واقعیت کی طرف توجہ کہ انسان جو کام بھی انجام دیتاہے وہ خدا کے سامنے ہے ، اور اصولاً،” تمام عالم ہستی محضر خدا میں ہے “اور انسان کے اعمال میں سے کوئی چیز بھی ، یہاں تک کہ اس کی نیّات بھی خدا سے پنہان نہیں ہیں ، انسان کی زندگی کے پروگرام پر زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے، اور اس کی غلط کاروائیوں سے روک سکتی ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ واقعی اس مطلب پر ایمان رکھتا ہو اور ا س نے ایک قطعی یقین کی صورت اختیار کرلی ہو۔ ایک حدیث میں آیاہے : ” اعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک“ ”خدا کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اسے دیکھ رہاہے، اور اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تجھے دیکھ رہاہے “۔ کہتے ہیں کہ ایک بیدار دل نے گناہ کے بعد توبہ کرلی تھی، لیکن ہمیشہ روتا رہتا تھا ۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ تو اتنا کیوں روتا ہے؟ کیا تونہیں جانتا کہ خدا وند تعالیٰ بخشنے والاہے ؟ اس نے کہا : ہاں ممکن ہے کہ وہ معاف کردے، لیکن یہ خجالت و شرمساری کہ اس نے مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے ، اس کو اپنے سے کیسے دور کروں؟! گیرم کہ تو از سرّ گنہ گزری زان شرم کہ دیدی کہ چہ کردم چکنم ؟ میں نے مانا کہ تو میرے گناہ کو ضرورمعاف کردے گا۔ لیکن اس شرم کا کیا کروں کہ تونے یہ دیکھ لیا ہے میں نے کیا کیا ہے ؟ ۱۵۔ کلا لئن لم ینتہ لنسفعاً بالناصیةَ ۔ ۱۶۔ ناصیةٍ کاذبةٍ کاطئَةٍ ۔ ۱۷۔ فلیدع نادیہ۔ ۱۸۔ سندع زبانیة۔ ۱۹۔ کلا لاتطعہ و اسجد و اقترب۔ ترجمہ ۱۵۔ جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے ایسا نہیں ہے ، اگر وہ اپنے کام سے دستبردار نہ ہوگا تو ہم اس کی ناصیہ(اس کے سر کے اگلے حصہ کے بال) پکڑ کر( عذاب کی طرف کھیچ لے جائیں گے) ۱۶۔ وہی دروغ گو اور خطاکار ناصیہ ( پیشانی) ۱۷۔ پھر وہ جسے چاہے پکار تارہے( کہ وہ اس کی مدد کرے) ۱۸۔ ہم بھی عنقریب دوزخ کے مامورین کو پکاریں گے۔ ۱۹۔ جیسا کہ وہ سمجھتا ہے ،ایسا نہیں ہے ، ہر گز اس کی اطاعت نہ کر، اور سجدہ کر ، اور خدا کا تقرب حاصل کر۔