ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ
Read, and your Lord is the most generous,
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 96:1-5
۱۔ وحی کا آغاز ایک حرکت علمی کے آغاز کے ساتھ ہوا ۔
اس سورہ کی قراٴت کی فضیلت کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہو اہے کہ آپ نے فرمایا: ”من قراٴ فی یومہ اولیلتہ اقراٴ باسم ربک ثم مات فی یومہ اولیلتہ مات شہیداً و بعثہ اللہ شہیداً ، وحیاہ کمن ضرب بسیفہ فی سبیل اللہ مع رسول “۔ ” جو شخص دن میں یا رات کو سورہٴ اقراء باسم ربک پڑھے گا اور وہ اس رات یا دن میں مر جائے گا تو وہ دنیا سے شہید مرے گا اور خدا اسے شہید مبعوث کرے گا اور شہیدوں کی صف میں اسے جگہ دے گا ، اور وہ قیامت میں اس شخص کی مانند ہو گا جس نے را ہ خدا میں پیغمبر اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علہ و آلہ وسلم کی معیت میں شمشیر سے جہاد کیا ہو“۔ یہ سورہ ان مختلف تعبیروں کی مناسبت سے جو اس سورہ کے آغاز میں آئی ہیں سورہ ” علق“ یا سورہ ” اقراٴ“ یاسورہ ” قلم “ کے نام سے موسوم ہواہے ۔ ۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۱ اِقرا باسم ربک الذی خلق ۔ ۲۔ خلق الانسان من علقٍ ۳۔ اقرا وربک الاکرم ۔ ۴۔ الذی علّم بالقلم ۔ ۵۔ علّم الانسان مالم یعلم ۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ۱۔ پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے جس نے جہان کو پیدا کیا۔ ۲۔ وہی جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ ۳۔ پڑھ کہ تیرا پروردگار سب سے زیادہ مکرم و باعزت ہے۔ ۴۔ وہی جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ۔ ۵۔ اور انسان کو وہ سب کو کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ شانَ نزول جیسا کہ ہم نے سور ہ کے مطالب کی تشریح میں اشارہ کیا ہے کہ اکثر مفسرین کے نظریہ کے مطا بق یہ پہلا سورہ ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پرنازل ہواہے ، بلکہ بعض کے قول کے مطابق تو اوپر والی پانچ آیات سب ہی مفسرین کے نزدیک آغاز وحی میںہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں اور ان کامضمون بھی اس معنی کی تاکید کرتاہے ۔ روایات میں آیاہے کہ پیغمبر کوہِ حرا پر گئے ہوئے تھے کہ جبرئیل آئے اور کہا: اے محمد پڑھو: پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرئیل نے انہیں آغوش میں لے کر دبایااور پھر دوبارہ کہا: ” اقراٴ باسم ربک الذی خلق پانچون آیات کے آخر تک ۔ جبرئیل یہ بات کہہ کرپیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظروں سے غائب ہوگئے۔ رسول خدا جو وحی کی پہلی شعاع کو حاصل کرنے کے بعد بہت تھکے ہوئے تھے خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا:” زملونی و دثرونی“: مجھے اڑھا دو اور کوئی کپڑا میرے اوپر ڈال دو تاکہ میں آرام کروں۔ 2 ”طبرسی“ بھی مجمع البیان میں یہ نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدیجہ سے فرمایا:” جب میں تنہا ہوتا ہوں تو ایک آوازسن کرپریشان ہو جاتا ہوں “۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا : خدا آپ کے بارے میں خیر او ربھلائی کے سوا کچھ نہیں کرے گا کیونکہ خدا کی قسم آپ امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہٴ رحم بجالاتے ہیں ، اور جو بات کرتے ہیں اس میں سچ بولتے ہیں ۔ ”خدیجہ“ کہتی ہیں: اس واقعہ کے بعد ورقہ بن نوفل کے پاس گئے، ( نوفل خدیجہ کا چچا زاد بھائی اور عرب کے علماء میں سے تھا)۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ ” ورقہ“ سے بیان کیا۔” ورقہ“ نے کہا: جس وقت وہ پکارنے والا آپ کے پاس آئے تو غور سے سنو کہ وہ کیا کہتا ہے َ اس کے بعد مجھ سے بیان کرنا۔ پیغبراکرم نے اپنی خلوت گاہ میں سنا کہ وہ کہہ رہا ہے: ” اے محمد کہو: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین ایاک نعبد و ایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیھم و لاالضّالین ۔ اور کہو لاالہ الا اللہ ، اس کے بعدآپ ورقہ کے پاس آئے اور اس ماجرے کو بیان کیا ۔ ”ورقہ“ نے کہا: آپ کو بشارت ہو، پھر بھی آپ کو بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی ہیں جن کی عیسیٰ بن مریم نے بشارت دی ہے ، آپ موسیٰ علیہ السلام کی طرح صاحبِ شریعت ہیں اور پیغمبر مرسل( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ہیں ۔ آج کے بعد بہت جلد جہاد کے لیے مامور ہوں گے اور اگر میں اس دن تک زندہ رہا تو میں آپ کے ساتھ ہوکر جہاد کروں گا“! جب ” ورقہ“ دنیا سے رخصت ہوگیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے اس روحانی شخص کو بہشت ( برزخی جنت)میں دیکھا ہے کہ وہ جسم پر ریشمی لباس پہنے ہوئے تھا کیونکہ وہ مجھ پر ایمان لایا تھا اور میری تصدیق کی تھی “۔ 3 یقینی طور پر مفسرین کے بعض کلمات یا تاریخ کی کتابوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کی اس فصل کے بارے میں ایسے ناموزوں مطالب نظر آتے ہیں جو مسلمہ طور پر جعلی ، وضعی، گھڑی ہوئی روایات اور اسرائیلات سے ہیں ، مثلاً یہ کہ پیغمبر نزول وحی کے پہلے واقعہ کے بعد بہت ہی ناراحت ہوئے اور ڈرگئے کہ کہیں یہ شیطانی القاب نہ ہوں ، یاآپ نے کئی مرتبہ اس بات کا پختہ ارادہ کرلیا کہ خود کو پہاڑسے گرادیں، اور اسی قسم کے فضول اور بے ہودہ باتیں جو نہ تو نبوت کے بلند مقام کے ساتھ ساز گار ہیں اور نہ ہی پیغمبر کی اس عقل اور حد سے زیادہ دانش مندی، مدبریت، صبر و تحمل و شکیبائی، نفس پر تسلط اور اس اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں جو جو تاریخوں میں ثبت ہے ۔ ایسادکھائی دیتا ہے کہ اس قسم کی ضعیف ورکیک روایت دشمنان ِ اسلام کی ساختہ و پرداختہ ہیںجن کامقصدیہ تھا کہ اسلام کو بھی موردِ اعتراض قرادے دیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو بھی۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے آیات کی تفسیرپیش کرتے ہیں ۔ ۱۔ ” تفسیر بر ہان “ جلد ۴ ص ۴۷۸۔ 2۔ ” ابو الفتوح رازی“ جلد۱۲ ص۹۶، ( تھوڑی تلخیص کے ساتھ ، اسی مطلب کو بہت سے مفسرین عامہ و خاصہ نے بہت سے شاخ و برگ اور پھول بوٹے لگاکر نقل کیاہے، جن میں سے بعض بالکل قابلِ قبول نہیں ہے )۔ 3۔ ” تفسیر مجمع البیان“ جلد۱۰ ص ۵۱۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 96:1-5
اپنے پروردگار کے نام سے پڑھ
اس سورہ کی قراٴت کی فضیلت کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہو اہے کہ آپ نے فرمایا: ”من قراٴ فی یومہ اولیلتہ اقراٴ باسم ربک ثم مات فی یومہ اولیلتہ مات شہیداً و بعثہ اللہ شہیداً ، وحیاہ کمن ضرب بسیفہ فی سبیل اللہ مع رسول “۔ ” جو شخص دن میں یا رات کو سورہٴ اقراء باسم ربک پڑھے گا اور وہ اس رات یا دن میں مر جائے گا تو وہ دنیا سے شہید مرے گا اور خدا اسے شہید مبعوث کرے گا اور شہیدوں کی صف میں اسے جگہ دے گا ، اور وہ قیامت میں اس شخص کی مانند ہو گا جس نے را ہ خدا میں پیغمبر اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علہ و آلہ وسلم کی معیت میں شمشیر سے جہاد کیا ہو“۔ یہ سورہ ان مختلف تعبیروں کی مناسبت سے جو اس سورہ کے آغاز میں آئی ہیں سورہ ” علق“ یا سورہ ” اقراٴ“ یاسورہ ” قلم “ کے نام سے موسوم ہواہے ۔ ۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۱ اِقرا باسم ربک الذی خلق ۔ ۲۔ خلق الانسان من علقٍ ۳۔ اقرا وربک الاکرم ۔ ۴۔ الذی علّم بالقلم ۔ ۵۔ علّم الانسان مالم یعلم ۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ۱۔ پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے جس نے جہان کو پیدا کیا۔ ۲۔ وہی جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ ۳۔ پڑھ کہ تیرا پروردگار سب سے زیادہ مکرم و باعزت ہے۔ ۴۔ وہی جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ۔ ۵۔ اور انسان کو وہ سب کو کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ شانَ نزول جیسا کہ ہم نے سور ہ کے مطالب کی تشریح میں اشارہ کیا ہے کہ اکثر مفسرین کے نظریہ کے مطا بق یہ پہلا سورہ ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پرنازل ہواہے ، بلکہ بعض کے قول کے مطابق تو اوپر والی پانچ آیات سب ہی مفسرین کے نزدیک آغاز وحی میںہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں اور ان کامضمون بھی اس معنی کی تاکید کرتاہے ۔ روایات میں آیاہے کہ پیغمبر کوہِ حرا پر گئے ہوئے تھے کہ جبرئیل آئے اور کہا: اے محمد پڑھو: پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرئیل نے انہیں آغوش میں لے کر دبایااور پھر دوبارہ کہا: ” اقراٴ باسم ربک الذی خلق پانچون آیات کے آخر تک ۔ جبرئیل یہ بات کہہ کرپیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظروں سے غائب ہوگئے۔ رسول خدا جو وحی کی پہلی شعاع کو حاصل کرنے کے بعد بہت تھکے ہوئے تھے خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا:” زملونی و دثرونی“: مجھے اڑھا دو اور کوئی کپڑا میرے اوپر ڈال دو تاکہ میں آرام کروں۔ 2 ”طبرسی“ بھی مجمع البیان میں یہ نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدیجہ سے فرمایا:” جب میں تنہا ہوتا ہوں تو ایک آوازسن کرپریشان ہو جاتا ہوں “۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا : خدا آپ کے بارے میں خیر او ربھلائی کے سوا کچھ نہیں کرے گا کیونکہ خدا کی قسم آپ امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہٴ رحم بجالاتے ہیں ، اور جو بات کرتے ہیں اس میں سچ بولتے ہیں ۔ ”خدیجہ“ کہتی ہیں: اس واقعہ کے بعد ورقہ بن نوفل کے پاس گئے، ( نوفل خدیجہ کا چچا زاد بھائی اور عرب کے علماء میں سے تھا)۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ ” ورقہ“ سے بیان کیا۔” ورقہ“ نے کہا: جس وقت وہ پکارنے والا آپ کے پاس آئے تو غور سے سنو کہ وہ کیا کہتا ہے َ اس کے بعد مجھ سے بیان کرنا۔ پیغبراکرم نے اپنی خلوت گاہ میں سنا کہ وہ کہہ رہا ہے: ” اے محمد کہو: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین ایاک نعبد و ایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیھم و لاالضّالین ۔ اور کہو لاالہ الا اللہ ، اس کے بعدآپ ورقہ کے پاس آئے اور اس ماجرے کو بیان کیا ۔ ”ورقہ“ نے کہا: آپ کو بشارت ہو، پھر بھی آپ کو بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی ہیں جن کی عیسیٰ بن مریم نے بشارت دی ہے ، آپ موسیٰ علیہ السلام کی طرح صاحبِ شریعت ہیں اور پیغمبر مرسل( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ہیں ۔ آج کے بعد بہت جلد جہاد کے لیے مامور ہوں گے اور اگر میں اس دن تک زندہ رہا تو میں آپ کے ساتھ ہوکر جہاد کروں گا“! جب ” ورقہ“ دنیا سے رخصت ہوگیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے اس روحانی شخص کو بہشت ( برزخی جنت)میں دیکھا ہے کہ وہ جسم پر ریشمی لباس پہنے ہوئے تھا کیونکہ وہ مجھ پر ایمان لایا تھا اور میری تصدیق کی تھی “۔ 3 یقینی طور پر مفسرین کے بعض کلمات یا تاریخ کی کتابوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کی اس فصل کے بارے میں ایسے ناموزوں مطالب نظر آتے ہیں جو مسلمہ طور پر جعلی ، وضعی، گھڑی ہوئی روایات اور اسرائیلات سے ہیں ، مثلاً یہ کہ پیغمبر نزول وحی کے پہلے واقعہ کے بعد بہت ہی ناراحت ہوئے اور ڈرگئے کہ کہیں یہ شیطانی القاب نہ ہوں ، یاآپ نے کئی مرتبہ اس بات کا پختہ ارادہ کرلیا کہ خود کو پہاڑسے گرادیں، اور اسی قسم کے فضول اور بے ہودہ باتیں جو نہ تو نبوت کے بلند مقام کے ساتھ ساز گار ہیں اور نہ ہی پیغمبر کی اس عقل اور حد سے زیادہ دانش مندی، مدبریت، صبر و تحمل و شکیبائی، نفس پر تسلط اور اس اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں جو جو تاریخوں میں ثبت ہے ۔ ایسادکھائی دیتا ہے کہ اس قسم کی ضعیف ورکیک روایت دشمنان ِ اسلام کی ساختہ و پرداختہ ہیںجن کامقصدیہ تھا کہ اسلام کو بھی موردِ اعتراض قرادے دیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو بھی۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے آیات کی تفسیرپیش کرتے ہیں ۔ ۱۔ ” تفسیر بر ہان “ جلد ۴ ص ۴۷۸۔ 2۔ ” ابو الفتوح رازی“ جلد۱۲ ص۹۶، ( تھوڑی تلخیص کے ساتھ ، اسی مطلب کو بہت سے مفسرین عامہ و خاصہ نے بہت سے شاخ و برگ اور پھول بوٹے لگاکر نقل کیاہے، جن میں سے بعض بالکل قابلِ قبول نہیں ہے )۔ 3۔ ” تفسیر مجمع البیان“ جلد۱۰ ص ۵۱۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 96:1-5
۲۔ ہرحال میں ذکرِ خدا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کی دعوت کا آغازخدا کے نام کے ذکر سے شروع ہوا ہے ” اقراٴ باسم ربک“ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ آپ کی بھر پور زندگی ذکر خدا اوریادِ خدا سے ملی ہوئی تھی۔ آپٴ کا ہر سانس ذکر خداکے ساتھ وابستہ تھا ۔ کھڑے ہوتے، بیٹھتے، سوتے ، چلتے، اور سوار ہوتے،پیادہ چلتے یا توقف کرتے سب یادِ خدا کے ساتھاور ” اللہ کے نام کے ساتھ تھا۔ جب نیند سے بیدار ہوتے تھے تو فرماتے تھے: ” الحمد للہ الذی احیانا بعد مااماتنا و الیہ النشور“ ” حمد کے لائق وہی ہے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی جانب ہم سب نے لوٹ کرجانا ہے “۔ ” ابن عباسۻ“ کہتے ہیں کہ ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سویا ہواتھا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے آسمان کی طرف سر کوبلند کیااور سورہٴ آلِ عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی۔ ان فی خلق السماوات و الارض و اختلاف اللیل و النھار پھر عرض کیا: اللھم لک الحمد انت نور السماوات و الارض و من فیھناللھم لک اسلمت و بک اٰمنت و علیک توکلت و الیک انبت ” خدایا سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ، تو ہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے خدا یا میں تیرے سامنے سر تسلیم خم کرچکا ہوں، تجھ پر ایمان لا چکا ہوں ، تجھ پر توکل کر چکاہوں ، اور تیری طرف لوٹ چکاہوں “۔ جس وقت آپ گھر سے نکلتے تو فرماتے: ” بسم اللہ ، توکلت علی اللہ ، اللھم انی اعوذبک ان اضل ، او اضل، اوازل، او ظلم، او اظلم، او جھل، اویجھل علیّ“۔ ” اللہ کے نام سے ، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، خدا یا میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں گمراہ ہوجاوٴں، یا کسی کی گمراہی کا سبب بنوں ، یا میں پھسل جاوٴں یا کسی پرظلم کروں یا ظلم کیا جاوٴ، یاجہالت سے کام لوں ، یا مجھ سے جہالت کا بر تاوٴ کیاجائے “۔ جب آپ مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے: ” اعوذ باللہ العظیم، وبوجھہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطان الرجیم“۔ میں عظیم خدا سے اور اس کی کریم ذات سے اور اس کی قدیم سلطنت کے ذریعہ راندہٴ در گاہ شیطان سے پناہ مانگتا ہوں“۔ اور جس وقت آپ نیا لباس زیبِ تن کرتے تو فرماتے: ”اللھم لک الحمد انت کسوتنیہ اسئلک خیرہ وخیر ماصنع لہ و اعوذبک من شرہ و شرما صنع لہ“۔ ” خد ایا سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ۔ تونے ہی یہ لباس مجھے پہنایا ہے۔ میں تجھ سے اس کی خیر چاہتا ہوں اور جس خیر کے لیے یہ بنا ہے اور تجھ سے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور جس شرکے لیے یہ بنا ہے “۔ اور جب گھر کی طر ف لوٹتے تو فرماتے: ”الحمد الذی کفانی و اٰوانی و الحمد للہ الذی اطعمنی و اسقانی“۔ ” حمد ہے اس اللہ کی جس نے میری کفالت کی اور مجھے پناہ دی، اور حمد ہے اس للہ کی جس نے مجھے کھلایا اور پلایا۔ اور اسی طرح آپ کی تمام زندگی یادخدا، نام خدا اور الطافِ خدا کے تقاضوں سے گوندھی ہوئی اور ملی ہوئی تھی۔ ۱ ۱۔ ” فی ظلال القراٰن جلد ۸ ص ۶۱۹ سے آگے( بہت زیادہ تلخیص کے ساتھ)۔ ۶۔ کلّآ اِنّ الانسان لیطغیٰٓ ۷۔ اٴنْ رَّاہُ اسْتَغنیٰ۔ ۸۔ اِنّ اِلیٰ ربِّک الرجعیٰ ۹۔ ارء یتَ الذی ینھیٰ ۱۰۔ عَبْداً اذا صلّٰی۔ ۱۱۔ اٴر ء یتَ اِن ْ کانَ علی الھُدٰٓی ۱۲۔ اٴوْ اَمَرَ بالتّقوٰی ۱۳۔ اٴرء یتَ اِنْ کذَّبَ و تولیّٰ۔ ۱۴۔ اٴَلم یعلم بِاٴنَّ اللہ یرٰی۔ ترجمہ ۶۔ ایسانہیں کہ انسان حق شناس ہو، یقیناوہ سر کشی کرتا ہے ۔ ۷۔ اس وجہ سے کہ وہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے ۔ ۸۔ یقینی طور پر سب کی باز گشت تیرے پروردگار کی طرف ہے ۔ ۹۔ مجھے بتا کیا وہ شخص جو نہی کرتا ہے ۔ ۱۰۔ بندہ کو جب وہ نماز پڑھتا ہے ( کیا وہ مستحق عذابِ الہٰی نہیں ؟ ) ۱۱۔ مجھے بتا اگر یہ بندہ طریقِ ہدایت پرہو ۔ ۱۲۔ یالوگوں کو تقویٰ کا حکم دے( کیا اسے نہیں کرنا مناسب ہے ؟ ) ۱۳۔ مجھے بتا اگر( یہ سر کش) حق کی تکذیب کرے اور اس کی طرف سے پشت پھیرلے( تو اس کی کیسی دردناک سر نوشت ہو گی؟) ۱۴۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ خدا اس کے تمام اعمال کو دیکھتا ہے؟
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 96:1-19
Clear. Abu Jahal, who disbelieved and disliked the Prophet’s prostrating before God the Unique andhis failure to undo him, has been from couplet 9, to end pre-saging his destruction.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 96:3
[Pooya/Ali Commentary 96:3] Here iqra means proclaim-proclaim the truth, the message of Allah, and invite mankind to follow the religion of Allah, Islam. The Holy Prophet has been given permission to start his ministry openly.