فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِٱلدِّينِ
So what makes you deny the Retribution?
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 95:1-8
ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے ۔
ایک اور حدیث میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و وسلم سے آیاہے : ” من قراٴھا اعطاہ اللہ خصلتین :العادیة و الیقین مادام دی دار الدنیا، فاذا مات اعطاہ اللہ من الاجر بعدد من قراٴ ھٰذہ السورة صیام یومً!“: ”جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا جب تک وہ دنیا میں رہے گا خدا اس کو دو نعمتیں عطا کرے گا: سلامتی اور یقین، اور جب دنیا سے رخصت ہوجائے گا، تو ان تمام لوگوں کی تعداد کے برابر جنہوں نے اس سورہ کو پڑھا ہے، ان سب کے ایک دن کے روزہ کا ثواب اجر کے طور پر اسے عطا کرے گا۔“ ۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۱۔ و التین و الزیتون۔ ۲۔ و طور سینینَ ۳۔ و ھٰذا البلدِ الاَمین۔ ۴۔ لقد خلقنا الانسان فیْٓ احسن تقویمٍ ۵۔ ثم رددنٰہ اسفل سٰفلین۔ ۶۔ الا الذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحٰت فلھم اجر غیر ممنونٍ۔ ۷۔ فما یکذبُک بعدُ بالدیِّن۔ ۸۔ الیس اللہُ باَحکم الحٰکمینَ۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ۱۔ انجیر اور زیتون کی قسم ( یا سر زمینِ شام اور بیت المقدس کی قسم )۔ ۲۔ اور طور سنین کی قسم ۔ ۳۔ اور اس امن والے شہر( مکہ) کی قسم ۴۔ کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور بہترین نظام میں پیدا کیا ہے ۔ ۵۔ پھر ہم نے اسے پست ترین مرحلہ کی طرف لوٹا دیا ۔ ۶۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور عملِ صالح بجالائے ، تو ان کے لئے ایسا اجر و ثواب ہے جو منقطع نہ ہوگا۔ ۷۔ پس ان تمام چیزوں کے باوجود تیرے روزِ جزا کے تکذیب کرنے کا سبب کیاہے ؟ ! ۸۔ کیا خدا بہترین حکم کرنے والا نہیں ہے ؟ ا۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص۵۱۰۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 95:1-8
انجیر اور زیتون کا فایده
ایک اور حدیث میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و وسلم سے آیاہے : ” من قراٴھا اعطاہ اللہ خصلتین :العادیة و الیقین مادام دی دار الدنیا، فاذا مات اعطاہ اللہ من الاجر بعدد من قراٴ ھٰذہ السورة صیام یومً!“: ”جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا جب تک وہ دنیا میں رہے گا خدا اس کو دو نعمتیں عطا کرے گا: سلامتی اور یقین، اور جب دنیا سے رخصت ہوجائے گا، تو ان تمام لوگوں کی تعداد کے برابر جنہوں نے اس سورہ کو پڑھا ہے، ان سب کے ایک دن کے روزہ کا ثواب اجر کے طور پر اسے عطا کرے گا۔“ ۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۱۔ و التین و الزیتون۔ ۲۔ و طور سینینَ ۳۔ و ھٰذا البلدِ الاَمین۔ ۴۔ لقد خلقنا الانسان فیْٓ احسن تقویمٍ ۵۔ ثم رددنٰہ اسفل سٰفلین۔ ۶۔ الا الذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحٰت فلھم اجر غیر ممنونٍ۔ ۷۔ فما یکذبُک بعدُ بالدیِّن۔ ۸۔ الیس اللہُ باَحکم الحٰکمینَ۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ۱۔ انجیر اور زیتون کی قسم ( یا سر زمینِ شام اور بیت المقدس کی قسم )۔ ۲۔ اور طور سنین کی قسم ۔ ۳۔ اور اس امن والے شہر( مکہ) کی قسم ۴۔ کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور بہترین نظام میں پیدا کیا ہے ۔ ۵۔ پھر ہم نے اسے پست ترین مرحلہ کی طرف لوٹا دیا ۔ ۶۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور عملِ صالح بجالائے ، تو ان کے لئے ایسا اجر و ثواب ہے جو منقطع نہ ہوگا۔ ۷۔ پس ان تمام چیزوں کے باوجود تیرے روزِ جزا کے تکذیب کرنے کا سبب کیاہے ؟ ! ۸۔ کیا خدا بہترین حکم کرنے والا نہیں ہے ؟ ا۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص۵۱۰۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 95:7
[Pooya/Ali Commentary 95:7] Since Allah created man pure and true and sent down guidance and guides to show him the right path of faith and righteousness, no one should belie or doubt what the Holy Prophet said about the certainty of the resurrection and final judgement.