إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى
Indeed guidance rests with Us,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 92:12
[Pooya/Ali Commentary 92:12] Allah in His infinite mercy has provided guidance to His creatures through His book and religion, messengers and guides (Imams of the Ahl ul Bayt). By the help of the faculties Allah has given man, he must use his freedom of choice and follow the right guidance. If he chooses to go astray and live an evil life, belying Allah's messengers, guides, laws and commands, a fire blazing fiercely will be his eternal abode. No one is more wretched and shaqi (unfortunate) than him. Ashqa is the superlative degree of shaqi. On the other hand there are those believers most devoted to Allah who have safeguarded themselves against evil and spent their wealth in the way of Allah to purify themselves. Such believers give charity and do good deeds to seek pleasure of Allah only, not with the motive that they are returning someone else's favour and compensating someone for some service done to them, or expecting some reward in return for their good deeds. Allah is the source of their goodness, as its goal or purpose. Atqa is the superlative degree of taqi. Refer to the commentary of Anam: 163 and Hujurat: 13. The eternal abode of the atqa (the most pious) or those who have nafs mutma-inna mentioned in Yusuf: 53; Qiyamah: 2 and Fajr: 27 to 30 (see commentaries) is Allah's own heaven (His pleasure) mentioned in Fajr: 30. The highest degree of taqwa is found only in the thoroughly purified Holy Prophet and his Ahl ul Bayt (Ahzab 33).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 92:12-21
سورہٴ و اللیل کے شانِ نزول کے بارے میں ایک بات
فخر رازی : ” مفسرین اہل سنت عموماً یہ نظر یہ رکھتے ہیں کہ ” سیجنبھا الاتقی“ میں ” اتقی“ سے مراد حضرت ابو بکر ۻہیں ، اور شیعہ عام طور پر اس بات کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔ ۱ اس کے بعد وہ اپنے مخصوص انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے اس طرح کہتاہے : امتِ اسلامی ( عام اس سے کہ اہل سنت ہوں یا شیعہ )ٌ اس چیز پر اتفاق رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد افضل ترین شخص یا ابو بکر ۻہے یا علی، اور علی علیہ السلام پرمنطبق نہیںکیا جا سکتا ، کیونکہ قرآن اس فرد اتقیٰ کے بارے میں کہتا ہے :وما لاحد عندہ من نعمة تجزٰی کوئی شخص اس پر کوئی حق نہیں اور احسان نہیں رکھتا ، کہ جس کی جزا دی جائے اور یہ صفت علی علیہ السلام پر تطبیق نہیں کرتی کیونکہ پیغمبر ان پر حقِ نعمت رکھتے تھے ، لیکن پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ صرف یہ کہ ابو بکر ۻ پر کوئی مادی حق نعمت نہیں رکھتے تھے ، بلکہ اس کے بر عکس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر انفاق کرتے تھے اور حقِ نعمت رکھتے تھے ! اس کا نتیجہ یہ بنتا ہے کہ ” اتقیٰ“ کامصداق ابو بکر ۻہے ، اور چونکہ اتقیٰ کا معنی سب لوگوں سے زیادہ پر ہیز گار ہے ،لہٰذا اس کی افضلیت ثابت ہے ۔ 2 اگر چہ ہم ا س تفسیر کے مباحث میں ، اس قسم کے مسائل میں وارد ہونے کی طرف زیادہ مائل نہیں ہیں لیکن بعض مفسرین کااپنے پہلے سے کئے ہوئے فیصلہ کو قرآن کی آیات کے ذریعے ثابت کرنے پر اصرار اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ وہ ایسی تعبیریں کرنے لگے ہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرتبہ ، اور بلند مقام کے لائق نہیں ہے ۔ لہٰذا اسی سبب سے ہم بھی یہاں چند نکات کاذکر کرتے ہیں ۔ اولاً : یہ جوفخررازی کہتاہے کہ اہل سنت کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ یہ آیت ابو بکر ۻ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اس چیز کے بر خلاف جسے اہل سنت کے مشہور و معروف مفسرین نے صراحت کے ساتھ نقل کیا ہے ، منجملہ ” قرطبی“ اپنی تفسیروں میں ابن عباس ۻ سے ایک روایت میں نقل کرتا ہے کہ یہ سارا سورہ ( سورہ ٴ للیل ) ” ابو الدحداح“ کی شان میں نازل ہوا ہے ۔ ( جس کی داستان ہم نے سورہ کے آغاز میں بیان کردی ہے )۔ 3 خاص طور پر جب وہ آیہ وسیجنبھا الاتقیٰپر پہنچتا ہے تو پھر دوبارہ کہتا ہے کہ اس سے مراد ” ابو الد حداح“ ہے اگر چہ اکثر مفسرین سے اس نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ (ان کے نزدیک ) یہ ابو بکر ۻکے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن خود اس نے اس نظریہ کو قبول نہیں کیا۔ ثانیاً: جو اس نے کہاہے کہ شیعوں ک اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، ٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ بہت سے مفسرین نے وہی ابوالدحداح کی داستان ہی بیان کی ہے اور اسے قبول کیا ہے ۔ البتہ بعض روایات میں امام جعفر علیہ السلام سے نقل ہواہے کہ ” اتقی“ سے مراد ان کے پیرو کا ر اور شیعہ ہیں اور الذی یوٴتی مالہ یتزکّٰی سے مراد امیر المومنین علی علیہ السلام ، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ باتیں شانِ نزول کا پہلو نہیں رکھتیں ، بلکہ یہ واضح اور روشن مصداق کی تطبیق کی قبیل سے ہیں۔ ثالثاً: اس میں شک نہیں کہ اوپر والی آیت میںلفظ ” اتقی“ لوگوں میں سے زیادہ تقویٰ رکھنے والے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس مفہوم وہی متقی ہوناہے ، اور اس بات کاواضح گواہ یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں ” اشقی“ لوگوں میں سے بد بخت ترین کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد وہ کا فر ہیں جو انفاق سے بخل کرتے تھے ۔ علاوہ ازیں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم زندہ تھے ، تو کیا ابو بکر ۻ کو پیغمبر سے بھی مقدم رکھا جاسکتا ہے ؟ پہلے سے کئے ہوئے فیصلوں اور ذہنیتوں کی بناء پر ایسی تعبیر کیوں کریں جو پیغمبر تک کے مقامِ بلند کوبھی ضرب لگائیں ۔ اور اگر یہ کہاجائے کہ پیغمبر کامعاملہ الگ ہے ، تو پھر ہم کہتے ہیں کہ آیہ وماحد عند من نعمة تجزٰی میں ان کے معاملے کو کیوں الگ نہیں رکھا گیا اورعلی علیہ السلام کو آیت کے مورد سے خارج کرنے کے لئے کیوں کہاگیا کہ چونکہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مادی نعمتوں کے مشمول ہیں لہٰذا وہ اس آیت میں داخل نہیں ہیں ۔ رابعاً: ایسا کونسا آدمی ہے جس سے اس کی زندگی میں کسی نے محبت کی ہی نہ ہو اور کسی نے بھی نہ اسے ہدیہ دیاہو نہ کبھی دعوت کی ہو۔ کیا واقعاً ایسا ہو اہے کہ ابو بکر ۻ اپنی ساری عمر میں نہ تو کسی کی مہمانی پرگئے اور نہ ہی کبھی کسی کا کوئی ہدیہ قبول کیا اور نہ ہی کوئی اور دوسری مادی خدمت کس سے قبول کی کیا یہ چیز باور کرنے کے لائق ہے ؟ نتیجہ یہ ہے کہ آیہ ومالا حد عندہ من نعمة تجزیٰسے مرادیہ نہیں ہے کہ کسی بھی شخص کااس پر کوئی حق نعمت ہے ہی نہیں ، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان سے انفاق کرنا کسی حق نعمت کی بناء پر نہیں ہے ۔ یعنی اگر وہ کسی پر انفاق کرتے ہیں تو وہ صرف خدا کے لئے ہوتا ہے ، نہ کہ وہ کسی خدمت کی بناء پر اسے اجر و پاداش دینا چاہتے ہیں۔ خامساً: اس سورہ کی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ سورہ ایک ایسے ماجرے کے بارے میں ، جس کے دو قطب ہیں، نازل ہوا ہے ، ایک ” اتقی“ کے قطب میں تھا اور دوسرا ” اشقی“ کے قطب میں ۔ اگر ہم ” ابو الدحداح“ کی داستان کو شانِ نزول سمجھیں تو مسئلہ حل شدہ ہے لیکن اگر ہم کہیں کہ مراد ابوبکر ۻ تھے تو ” اشقی“ کی مشکل باقی رہ جاتی ہے کہ اس سے مراد کون شخص ہے؟ شیعوں کو اس بات پر کوئی اصرار نہیں ہے کہ یہ آیت خصوصیت کے ساتھ علی علیہ السلام کے بارے میں ہے ۔ ان کی شان میں آیات بہت زیادہ ہیں ، لیکن اگر اس کی تطبیق علی پرکی جائے تو” اشقی“ کی مشکل حل ہے، کیونکہ سورہ شمس کی آیہ ۱۲ ( اذانبعث اشقاھا) کے ذیل میں اہل سنت کے طرق سے کافی روایات نقل ہوئی ہیں کہ ” اشقی“ سے مراد علی بن ابی طالب کا قاتل ہے ۔ (ان روایات کو ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ، کہ حاکم حسکانی نے شواہد التنزیل میںجمع کیا ہے )۔ خلاصہ یہ ہے کہ فخر رازی کی گفتگواور اس آیت کے بارے میںاس کی تحلیل بہت ہی کمزور او ربہت سے اشتباہات پر مشتمل ہے ۔ اسی لئے اہل سنت کے بعض مشہور مفسرین مثلاً آلوسی تک نے بھی روح المعانی میں اس تجزیہ کو پسند نہیں کیا، اوراس پر اعتراض کیاہے ، جیسا کہ وہ کہتا ہے: ” و استدل بذالک الامام علی انہ ( ابو بکر) افضل الامة و ذکر ان فی الاٰیات ما یاٴبی قول الشیعة انھافی علی و اٴطال الکلام فی ذالک و اٰتی بما لایخلو عن قبیل و قال : ” امام فخر رازی نے اس آیت سے یہ استدلال کیاہے کہ ابو بکرۻافضل امت ہیں ، اور مزید کہا ہے کہ آیات میں بعض قرائن ایسے ہیں جو شیعوں کے قول کے ساتھ ساز گار نہیں ہیں ۔ اور یہاں گفتگو کو طول دیا ہے اور ایسے مطالب بیان کئے ہیں جو قیل ( اور اشکال ) سے خالی نہیں ہیں ۔4 ۱۔ ”تفسیر فخر رازی“جلد ۳۱، صفحہ ۲۰۴۔ 2 ۔ تفسیر قرطبی“ جلد ص۷۱۸۰۔ 3 ۔ تفسیر قرطبی“ جلد ص۷۱۸۰۔ 4 ۔روح المعاج جلد ۳۰ ص ۱۵۳
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 92:12-21
۲۔ انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت
راہ خدا میں انفاق اور بخشش کرنا ، محروم، خصوصاً آبرو مند لوگوں کی مالی امداد کرنا ، جو خلوصِ نیت سے لی ہوئی ہو، ایسے امور میں ہے جس کا قرآن مجید کی آیات میں بار بار ذکرہوا ہے ، اور اس کو ایمان کی نشانیوں سے لیاگیا ہے ۔ اس بارے میں اسلامی روایات بھی تاکید سے بھری ہوئی ہیں ، یہاں تک کہ وہ اس بات کی نشا دہی کرتی ہیں کہ اسلامی معاشرے اور تمدن میں مالی انفاق کرنا ، بشرطیکہ اس کا محرک پر وردگار کی رضاکے علاوہ اور کچھ نہ ہو ، اور وہ ہرقسم کی ریا کاری ، احسان جتانے اور آزار سے خالی ہو ، تو بہترین اعمال میں سے ہے۔ ہم اس بحث کو چند معنی خیز احادیث کے ذکر کے ساتھ مکمل کرتے ہیں ۔ ۱۔ ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیاہے : ” ان احب الاعمال الی اللہ ادخال السرور علی الموٴمن ، شعبة مسلم او قضاء دینہ “ ”خدا کے نزدیک محبوب ترین عمل ضرورت مند مومن کے دل کو خوش کرنا ہے ، اس طرح سے کہ اسے سیر کیا جائے یاا س کا قرض ادا کیا جائے ۔ 1 ۲۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے : ”من الایمان حسن الخلق ، و اطعام الطعام ، و اراقة الدماء“ حسن خلق ، کھانا کھلانا، اور خون بہانا ( راہ خدا میں قربانی) ایمان کے اجزاء میں سے ہیں ۔ 2 ۳۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” ما اری شیئاً یعدل زیادة الموٴمن الااطعامہ، وحق علی اللہ ایطعم من اطعم موٴمناً من طعام الجنة“: ” میرے نزدیک کوئی چیز مومن کے دیدار اور زیارت کے برابر نہیں ہے سوائے اس کو کھانا کھلانے کے ۔ اور جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے خدا پر لازم ہے کہ وہ اسے جنت کے کھانوں میں سے کھانا کھلائے “۔ 3 ۴۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے آیاہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑلی اور عرض کیا : اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ای الاعمال افضل ؟ تمام اعمال میں کون سا عمل افضل ہے“۔ ” اطعام الطعام ، و اطیاب الکلام “ : ” لوگوں کو کھانا کھلانا اور خوش کلام ہونا “۔ 4 ۵۔ اور آخر میں ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے : ”من عال اھل بیت من المسلمین یومھم ولیلتھم غفر اللہ ذنوبہ“ : ” جو شخص مسلمانوں کے گھرانے کی ایک رات دن پذیرائی کرے تو خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتاہے “۔ 5 خدا وندا ! ہم سب کو تو فیق دے تاکہ ہم اس عظیم کارِ خیر میں قدم رکھیں ۔ پروردگارا ! تمام اعمال میں ہمارے خلوص نیت میں اضافہ فرما۔ بار الہٰا ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں اپنی نعمت و رحمت کا اس طرح سے مشمول قرار دے کہ تو بھی ہم سے خوش ہو اور ہم بھی خوش اور راضی ہوں ۔ آمین یا رب العالمین 1۔ ” بحا رالانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۳۵ ص ۳۶۵۔ 2۔ ” بحا رالانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۳۵ ص ۳۶۵۔ 3- «بحار الانوار»، جلد 74، صفحه 378، حدیث 79، «اصول کافى»، جلد 2، صفحه 203، باب اطعام المؤمن 4۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۴ ص۱۱۳۔ 5 ۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 92:12-21
انفاق اور جہنم کی آگ سے دوری
گزشتہ آیات میں لوگوں کی دو گرہوں : مومنِ سخاوت منداور ایمان بخیل ،میں تقسیم کرنے ، اور ان میں سے ہر ایک کی سر نوشت بیان کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں ، پہلے اس بات کو بیان کرتا ہے کہ ہمارا کام ہدایت کرنا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں ہے ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ مردانہ وار راستہ پر گامزن ہوجاوٴ۔ علاوہ از این اس راستہ کو طے کرنا خود تمہارے نفع میںہے اور ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ فرماتا ہے : یقینا ہدایت کرنا ہمارے ہی ذمہ ہے ۔ “ ( ان علینا للھدٰی )۔ چاہے تکوین ( فطرت و عقل ) کے طریق سے ہدایت ہو، اور چاہے تشریح ( کتاب و سنت) کے طریق سے ہو۔ اس سلسلہ میں جو کچھ ضروری تھا وہ ہم نے بیان کردیا ہے اور اس کا حق اداکردیا ۔ ” اور یقینی طورپر آخرت اور دنیا ہماری ہی ملکیت ہے“۔ ( و ان لنا للاٰخرة و الاولیٰ )۱ ہمیں تمہارے ایمان و اطاعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، نہ تمہاری اطاعت ہمیں کوئی فائدہ پہنچاتی ہے اور نہ ہی تمہاری نافرمانی سے ہمیں کوئی نقصان پہنچتا ہے ۔ یہ تمام پروگرام تمہارے فائدے کے لئے ہیں اور خود تمہارے لئے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق یہاںہدایت ” ارائہ طریق“ کے معنی ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان دوآیات کا ہدف سخاوت کرنے والے مومنین کو شوق دلانا اور اس معنی پر تاکیدی ہو کہ ہم انہیں مزید ہدایت کا مشمول قرار دیں گے، اور اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی راستہ کو ان پر آسان کردیں گے، اور چونکہ دنیا و آخرت ہمارے ہی ملکیت ہے لہٰذا ہم اس کام کو انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ یہ ٹھیک ہے کہ زمانہ کے لحاظ سے دنیا آخرت پر مقدم ہے ، لیکن اہمیت اور ہدف اصلی کے لحاظ سے مقصودِ اصلی آخرت ہے ، اور اسی بناء پراسے مقدم رکھا گیا ہے۔ اور چونکہ ہدایت کے شعبوں میں سے ایک خبر دار کرنا اور ڈرانا ہے ، لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے : اب جب کہ یہ بات کہ میں تمہیں اس آگ سے ڈراتاہوں جو شعلہ ور ہوگی “( فانذر تکم ناراً تلظّٰی)۔ ” تلظّٰی“ ” لظٰی“ ( بر وزن قضا) کے مادہ سے ،خالص شعلہ کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خالص شعلوں میں کو ہر قسم کے دھوئیں سے خالی ہوں زیادہ گرمی اور حرارت ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات لفظ ”لظٰی“ کاخود بھی اطلاق ہوتا ہے ۔2 اس کے بعد اس گروہ کی طرف ، جو اس بھڑکتی ہوئی اور جلانے والی آگ میں داخل ہوں گے ، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :” بد بخت ترین آدمی کے سوا اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہوگا ۔ ( لایصلاھا الاَّ الاشقی) ۔ اور شقی کی توصیف میں فرماتا ہے :” وہی شخص جو آیات الٰہی کی تکذیب کرتا ہے اور ان سے پیٹھ پھیر لیتا ہے “۔ ( الذی کذّب و تولیّٰ)۔ اس بناء پر خوش بختی و بد بختی کا معیار وہی کفر و ایمان ہے یا وہ عملی نتائج جو ان دونوں کے ہوتے ہیں ، اور وہ واقعاً جو شخص ہدایت کی ان نشانیوں ، اور ایمان و تقویٰ کے امکانات و وسائل کو نظر انداز کردے تو وہ ” اشقی “ کا مصداق، اور بد بخت ترین شخص ہے ۔ ” الذین کذب و تولی“ کے جملہ میں ممکن ہے کہ ” تکذیب “ تو کفر کی طرف اشارہ ہو، اور ” تولی“ اعمال صالح کے ترک کرنے کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ کفر کا لازمہ یہی ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ترک ایمان کی طرف اشارہ ہوں ۔ اس طرح سے کہ پہلے تو پیغمبر کی تکذیب کرتے ہیں، اور اس کے بعد پیٹھ پھیر کر ہمیشہ کے لئے اس سے دور ہو جاتے ہیں ۔ بہت سے مفسرین نے یہاں ایک اعتراض پیش کیا ہے اور اس کا جواب دیاہے اور وہ یہ ہے کہ اوپر والی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ جہنم کی آگ کفار کے ساتھ جہنم مخصوص ہے ۔ یہ بات اس چیز کے مخالف ہے جو قرآن کی دوسری آیات اور مجموعہ روایات اسلامی سے معلوم ہوتی ہے کہ گنہگار مومن بھی جہنم کی آگ میں حصہ دار بنیں گے، لہٰذا منحرف گروہوں میں سے بعض نے ، جویہ نظر یہ رکھتے ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچاتا انہوںنے اپنے مقصود پر ان آیت سے استدلال کیاہے ۔ ( اس گروہ کا نام ” مرجئہ“ ہے۔ اس کے جواب میں دو نکتوں کی طرف توجہ کرانا چاہئیے: پہلا یہ کہ یہاں جہنم میں ورود سے مراد وہی ” خلود“ ہمیشہ رہنا ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ خلود کفار کے ساتھ ہی مخصوص ہے ۔ اس بات کا قرینہ وہ آیات ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ غیر ِ کفار بھی جہنم میں وارد ہوں گے ۔ دوسرا یہ کہ اوپر والی آیات اور بعد والی آیات یہ کہتی ہیں کہ جہنم کی آگ سے دوری ” اتقی“ ( زیادہ متقی افراد) سے مخصوص ہے ، یعنی مجموعی طور پر وہ یہ چاہتاہے کہ صرف دو گروہوں کی حالت بیان کرے : (۱) بے ایمان بخیل گروہ اور (۲) زیادہ تقویٰ رکھنے والے سخاوت مندمومن ۔ان دونوں گروہوں میں سے صرف پہلا گروہ جہنم میں وارد ہوگا ، اور دوسرا گروہ بہشت میں داخل ہو گا، اور اس طرح سے تیسرے گروہ یعنی گنہگار مومنین کے بارے میں تو اصلا کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں ” حصر“ ” حصر اضافی “ ہے ۔ گویا جنت صرف دوسرے گروہ کے لئے ، اور جہنم کے لئے ، اور جہنم صرف پہلے گروہ کے لئے پیدا کی گئی ہے ، اس بیان سے ایک دوسرے اعتراض کاجواب بھی، زیر بحث آیات اور ان آیندہ آنے والی آیات کے رابطہ سے ہواہے ، جو نجات کو ” اتقی“ سے مخصوص کرتی ہیں ،واضح ہوجاتا ہے اس کے بعد اس گروہ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جو اس جلانے والی شعلہ ور آگ سے دور ہے ، فرماتاہے :” عنقریب سب سے زیادہ تقویٰ کرنے والا آدمی اس بھڑکتی ہوئی آگ سے دور رکھا جائے گا“۔ ( و سیجنبھا الاتقی )۔ وہی آدمی جو اپنے مال کو راہ خدا میں انفاق کرتا ہے اور اس کا مقصد رضائے خدا کا حصول ، تزکیہ نفس ، اور اموال کو پاک کرنا ہوتا ہے ، ( الذی یوتی مالہ یتزکٰی ) ۔ ” یتزکٰی “ کی تعبیر حقیقت میں قصدِ قربت اور نیت ِ خالص کی طرف اشارہ ہے ، چاہے یہ جملہ معنوی و روحانی رشد و نمو کے حصول کے معنی میں ہویا اموال کی پاکیزگی کے حاصل کرنے کے معنی میں ، کیونکہ ” تزکیہ“ ’ نمودینے“ کے معنی میں بھی آیاہے ، اور ” پاک کرنے “ کے معنی میں بھی ، سورہ توبہ کی آیہ ۱۰۳ میں آیا ہے : خذ من اموالھم صدقة تطھرھم و تزکیھم بھا و صل علیہم ان صلاتک سکن لھم:”ان کے اموال میں سے زکوٰة وصول کرلے تاکہ اس کے ذریعے تو انہیں پاک کرے اور ان کی پرورش کرے ، اور ( زکوٰة لیتے وقت) اس کے لئے دعا کر کیونکہ تیری دعا ان کے سکون و آرام کا باعث ہے “۔ اس کے بعد ان کے خلوصِ نیت کے مسئلہ پر ، جو وہ خرچ کرنے میں رکھتے ہیں ، تاکید کے لئے مزید فرماتا ہے :” کسی شخص کا اس کے اوپر حقِ نعمت نہیں ہے کہ اس انفاق کے ذریعے اس کی جزا دی جائے “ :( وما لاحد عند ہ من نعمة تجزیٰ)۔ بلکہ اس کا مقصد تو اپنے بزرگ و برتر پروردگار کی رضا حاصل کرنا ہے۔ ( الاابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰ )۔ دوسرے لفظوں میں لوگوں کی درمیان بہت سے انفاق ایسے ہوتے ہیں جو ویسے ہی انفاق کا جواب ہوتے ہیں جو طرف مقابل کی طرف سے پہلے سے کئے ہوئے ہوتے ہیں ، البتہ حق شناسی اور احسان کا احسان کے ساتھ جواب دینا ایک اچھا کام ہے ، لیکن اس کا حساب پرہیز گاروں کے مخلصانہ انفاق سے جدا ہے ۔ اوپر والی آیات کہتی ہیں کہ پر ہیز گار مومنوں کا دوسروں پر خرچ کرنا نہ تو ریا کاری کی وجہ سے ہوتا ہے ، اور نہ ہی ان کی سابقہ خدمات کے جواب کے طور پر ، بلکہ اس کا سبب صرف اور صرف خدا کی رضا کا حاصل کرنا ہوتا ہے اور یہی چیزان انفاقوںکو حد سے زیادہ قدر و منزلت عطا کرتی ہے ۔ ” وجہ“ کی تعبیر یہاں ” ذات“ کی معنی میں ہے اور اس سے مراد اس کی پاک ذات کی رضا و خوشنودی ہے ۔ ” ربہ الاعلیٰ“ کی تعبیر اس با ت کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفاق پوری معرفت کے ساتھ صورت پذیر ہوتا ہے، اور اس حالت میںہوتا ہے کہ وہ پروردگار کی ربوبیت سے بھی آشنا ہوتا ہے ، اور اس کے مقام ِ اعلیٰ سے بھی باخبر ہوتا ہے ۔ ضمنی طور پر یہ استثناء ہر قسم کی انحرافی نیتوں کی بھی نفی کرتا ہے ،مثلاً نیک نامی، لوگوں کی توجہ مبذول کرنے ، اور معاشرے میں مقام و حیثیت و غیرہ حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنا ، کیونکہ اس کا مفہوم ان اموال کے انفاق کامحرک، پر وردگارکی خوشنودی حاصل کرنے میںہے ۔ 3 انجام کار اس سورہ کی آخری آیت میں اس گروہ کی عظیم و بے نظیر جزاوٴں کو پیش کرتے ہوئے ایک مختصر سے جملہ میں فرماتا ہے :” اور ایسا آدمی عنقریب راضی و خوشنود ہوجائے گا“۔ ( لسوف یرضیٰ ) ۔ ہاں ! جس طرح وہ رضائے الٰہی خدا کے لئے کام کرتا ہے ، خدا بھی ا س کو راضی کرے گا، ایسی رضا جو مطلق اور بے مطلق اور بے قید و شرط ہوگی، ایسی رضا جو وسیع و غیر محدود ہوگی ، ایسی پر معنی رضا جس میں تمام نعمتیں جمع ہوگی، ایسی رضاجس کا تصور کرنا بھی آج ہمارے لئے غیرممکن ہے اور وہ کون سی نعمت ہو گی اس سے بر تر بالاتر ہو گی ۔ بعض مفسرین نے بھی یہی احتمال دیا ہے کہ ” یرضیٰ“ کی ضمیر خد اکی طرف لوٹتی ہے ، یعنی عنقریب خدا اس گروہ سے راضی ہوجائے گا کہ وہ بھی ایک عظیم و بے نظیر انعام ہے کہ خدائے بزرگ اور پروردگار ِ برتر اس قسم کے بندے سے راضی و خوشنود ہوجائے ۔ وہ بھی ایسی رضا جو مطلق عظیم و بے قید و شرط ہو ، اور یقینی طور پر اس رضائے الٰہی کے پیچھے اس باایمان او رباتقویٰ بندہ کی رضایت ہے ، کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں جیسا کہ سورہ بینہ کی آیہ ۸ میں آیاہے ، رضی اللہ عنھم و رضو عنہ ،یا سورہ فجر کی آیہ ۲۸ میں آیاہے ، راضیة مرضیة ، لیکن تفسیر اول زیادہ مناسب ہے ۔ ۱۔ ” للاٰخرة “ کا ”لام “ اور اسی طرح ( گزشتہ آیت میں ” للھدٰی“ کا ”لام “ ظاہراً لام تاکید ہے جو یہاں ” اسم انّ“ کے اوپر ہے ، اگرچہ عام طور پر خبر کے اوپر داخل ہو اکرتی ہے ، یہ اس بناء پر ہے کہ بعض ادب کی کتابوں کی تصریح کے مطابق جب ” ان ّ“کی خبر مقدم ہو تو اس کے اسم پرلام داخل ہوتی ہے ۔ 2۔ ” تلظی“ اصل میں ” تتلظی“ تھا، دو ”تا“ میں سے ایک ” تا“ تخفیف کے لئے گر گئی ہے ۔ 3۔ ” الابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰ “ کے جملہ میں استثناء ، استثناء منقطع ہے ، البتہ پہلی آیت میں ایک تقدیر ہے جو اس طرح ہے ۔ ( وما لاحد عندہ من نعمة تجزٰی فلاینفق مالہ لنعمة الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی)ٰ ۔ کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیاجائے لہٰذا وہ اپنا مال کسی احسان کے بدلے میں خرچ نہیں کرتا مگر اپنے بزرگ و بر تر پر وردگار کی خوشنودی کے لئے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ استثناء متصل ہو، ایک محذوف کو نظر نظر میں رکھتے ہوئے اور تقدیر اس طرح ہو: لاینفق لنعمة عندہ ولا لغیر ذالک الاابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰ (غور کیجئے )۔