أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ
Have We not made for him two eyes,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 90:8
[Pooya/Ali Commentary 90:8] Islam shows the way of righteousness which is steep and difficult and also points out the easy and alluring path of vice and disbelief. Allah has given us not only the faculties implied in the eyes, the tongue and the lips, but also given us the judgement to distinguish between good and evil so as to choose the right way by following the thoroughly purified teachers and guides He has appointed (see Ahzab: 33). Dahr: 3, Shams: 8; verse 10 of this surah assert that man has been given the faculty of reason to distinguish between good and evil, right and wrong, so that he may identify the true teachers and guides sent by Allah and follow the path shown by them. To walk on the steep and difficult path of righteousness man has to tame, control and discipline his nafs ammarah (see commentary of Fajr: 27 to 30; Yusuf: 53 and Qiyamah: 2). The difficult path of virtue is described as the unselfish service in the cause of Allah. Freeing the bondmen, feeding the hungry orphans and looking after the poor down in the dust are some of the virtues mentioned in verses 13 to 16. To practice such virtues man must have patience which implies self-restraint and constant reliance upon Allah, along with compassion and kindness towards fellow beings; and those who walk on the steep path of righteousness are known as the people of the right hand (see Waqi-ah: 27 to 40). These are the people who achieve salvation. The people of the left hand (see Waqi-ah: 41 to 56) are those who choose the alluring path of vice and disbelief and they will be enveloped in the fire of lasting penalty and punishment, heaped over them and all round them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 90:8-10
۳۔ نجدین کی طرف ہدایت
” نجد“ جیساکہ ہم نے بیان کیا ہے ، بلندی یابلند سر زمین کے معنی میں ہے اور یہاں ” خیر “ و ” شر “ کی راہ مراد ہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ’ ’ یا ایھا ا لناس ! ھما نجدان : نجد الخیر و نجد الشر فما جعل نجد الشر احب الیکم من نجد الخیر “۔ ” اے لوگو! دو بلند سر زمینیں موجود ہیں ، خیر کی سر زمین اور شر کی سر زمین ، اور شر کی سر زمین تمہارے لئے خیر کی سر زمین سے ہر گز زیادہ محبوب قرار دی گئی ۔ ۱ اس میں شک نہیں کہ” تکلیف “ او رمسئولیت ، معرفت و آگاہی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ اور اوپر والی آیت کے مطابق خدا نے یہ آگاہی انسانوں کے اختیار میں دے دی ہے ۔ یہ آگاہی تین طریقوں کے انجام پاتی ہے : ۱۔ عقلی اسراکات اور استدلال کے طریق سے ۔ ۲۔ فطرت و وجدان کے طریق سے ، جس میں استدلال کی ضررت نہیں ہوتی ۔ ۳۔ روح اور انبیاء و اوصیاء کی تعلیمات کے طریق سے اور تکامل کی راہ کو طے کرنے کے لئے انسان کو جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان کی خدا نے ان تین طریقوں میں سے کسی ایک سے یابہت سے موارد میں ان تینوں ہی طریقوں سے اسے تعلیم دی ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے کہ ان دونوں راستوں میں کسی ایک کا طے کرنا انسان کی طبیعت او رمزاج کے لئے دوسرے سے زیادہ آسان نہیں ہے اور یہ بات حقیقت میں اس عمومی تصور کی کہ انسان برائیوں کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہے اور شر کے راستے کو طے کرنا اس کے لئے زیادہ آسان ہے ، نفی کرتی ہے ۔ اور یہ سچی بات ہے کہ اگر غلط تربیتیں اور فاسد ماحول نہ ہو تو انسان کو نیکیوں کے ساتھ لگاوٴ اور محبت زیادہ ہوتی ہے ۔ اور شاید ” ننجد“ ( بلند سر زمین ) کی تعبیر نیکیوں کے بارے میں اسی بناء پر ہے ، کیونکہ بلند زمینیں بہتر اور زیادہ عمدہ فضا رکھتی ہیں ، اور شرور کے بارے میں تغلیب کی بناء پر ہے ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہ تعبیر خیر و شر کے راستہ کے ظاہر ، نمایاں اور آشکار ہونے کی طرف اشارہ ہے ، جس طرح سے مرتفع اور بلند سر زمین مکمل او رپورے طور پر نمایا ں ہوتی ہے ۔ ۲ ۱۱۔ فلا اقتحم العقبة ۔ ۱۲۔ وما ادراک مالعقبة۔ ۱۳۔ فکُّ رقبةٍ ۔ ۱۴۔ اواطعام فی یوم ذی مسغبةٍ۔ ۱۵۔ یتیماً ذا مقربةٍ ۔ ۱۶۔ او مسکیناً ذا متربةً ۱۷۔ ثم کان من الذین اٰمنوا و توصوا بالصبر و تواصوا بالمرحمةِ۔ ۱۸۔ اولٰئِک اصھاب المیمنةِ۔ ۱۹۔ و الذین کفروا باٰیاتنا ھم اصحاب المشئمةِ ۔ ۲۰۔ علیہم نارٌ موٴصدةٌ۔ تر جمہ ۱۱۔ لیکن وہ ( ناشکرا انسان ) اس اہم گھاٹی سے اوپر نہیں گیا ۔ ۱۲۔ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے ؟ ۱۳۔ غلام کو آزاد کرناہے ۔ ۱۴۔ یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے ۔ ۱۵۔ رشتہ داروں میں کسی یتیم کو ۔ ۱۶۔ یا خاک پر پڑے ہوئے مسکین کو ۔ ۱۷۔ پھر اسے ایسے لوگوں میں سے ہونا چاہئیے جو ایمان لائے ہیں او رجو ایک دوسرے کو صبر و شکیبائی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں۔ ۱۸۔ وہ اصحاب الیمین ہیں ( اور ان کے نامہٴ اعمال کو ان کے دائیں ہاتھ میں دیں گے )۔ ۱۹۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کردیا ، وہ شوم او ربد بخت لوگ ہیں اور ان کا نامہٴ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ ۲۰۔ ان کو آگ نے ہر طرف سے گھیررکھا ہے ،( جس سے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں ہے )۔ ۱۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۴۹۴ و تفسیر قرطبی جلد ۱ ص ۷۱۵۵۔ ۲۔ جیسا کہ چاند اور سورج کو ” قمران “ ( دوچاند) کہا جاتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 90:8-10
آنکھ ، زبان او رہدایت کی نعمت
گزشتہ آیات کے بعد، جن میں سر کشی کرنے والے انسانوں کے غرور و غفلت کے بارے میں گفتگو تھی ، زیر بحث آیات میں انسان پر خدا کی اہم ترین مادی و معنوی نعمتوں کا کچھ حصہ بیان کرتا ہے ،تاکہ ایک طرف تو اس کے غرور و غفلت کو توڑدے اور دوسری طرف اسے ان نعمتوں کوخلق کرنے والے میں تفکر اور غور و خوض کرنے پر آمادہ کرے اور اس کے دل و جان کے اندر شکر گذاری کے احساس کو بیدار کرکے اسے خالق کی معرفت کی طرف چلائے ۔ پہلے فرماتا ہے :” کیا ہم نے اس انسان کے لئے دو آنکھیں قرار نہیں دیں “۔ ( الم نجعل لہ عینین )۔ ” اور ایک زبان اور دو ہونٹ( نہیں دیئے )“؟! (و لسانا ً و شفتین)۔ اور ہم نے اسے اس کی بھلائی اور برائی کو دونوں راہیں دکھادیں “ ( و ھدینا النجدین )اس طرح ان چند مختصر جملوں میں تین اہم مادی نعمتوں اور ایک عظیم معنوی نعمت کی طرف ، جو سب کی سب خدا کی عظیم ترین نعمتیں ہیں ، اشارہ کیا ہے ۔ ایک طرف تو آنکھوں ، زبان اور لبوں کی نعمت ہے اور دوسری طرف خیر و شر کی معرفت وہدایت کی نعمت ہے ۔ ( اس بات کی طرف توجہ رہے کہ ” نجد“ اصل میں مرتفع اور بلند مقام کے معنی میں ہے ،” تھامہ“ کے مقابلہ میںپست زمینوں پربولا جاتاہے ، یا دوسرے لفظوں میں ” بلند جگہ “ اور پست جگہ “ اور یہاں خیر و شر و شقاوت کی راہ سے کنایہ ہے ۔ ۱ اوپر والی نعمتوں کی اہمیت کے بارے میں بس اتنا کافی ہے کہ : ” آنکھ “ بیرونی دنیا سے انسان کے رابطہ کے لئے ایک اہم ترین ذریعہ ہے آنکھ کے عجائبات اس قدر ہیں کہ وہ واقعی طور پر انسان کو خالق کے مقابلہ میں خضوع کرنے پر آمادہ کر دیتے ہیں ، آنکھ کے سات طبقے ہیں جو صلبیہ ( قرنیہ ) مشیمیہ ، عیبیہ ،زلالیہ، زجاجیہ اور شبکیہ کے نام سے موسوم ہیں، ان میں سے ہر ایک عجیب و غریب اور عمدہ ساخت رکھتا ہے جن میں نور اور روشنی او رآئینوں سے مربوط طبیعاتی اور جسمانی قوانین کا بہت ہی باریک بینی کے ساتھ خیال رکھاگیا ہے ۔ اس طرح سے کہ تصویر کشی کی ترقی یافتہ دور بینیں بھی اس کے مقابلہ میں بے قدرو قیمت ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ساری دنیا میں انسان کے سوا اور سارے وجودِ انسانی میں انکھ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ ہوتی تو اس کی عجائبات کا مطالعہ پر وردگار کے عظیم علم قدرت کی شناخت کے لئے کافی تھا ۔ باقی رہی ” زبان “ تو وہ انسان کے لئے دوسرے انسانوں سے ارتباط، اور ایک قوم سے دوسری قوم ، اور ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف اطلاعات ومعلومات کے نقل ہونے ، اور مبادلہ کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے ، اور اگر یہ ارتباط کا ذریعہ نہ ہوتا تو انسان ہر گز کبھی بھی علم و دانش او رمادی تمدن او رمعنوی مسائل میں اس حد تک ترقی نہ کرسکتا ۔ باقی رہے ” لب“ تو ” اولاً“ بول چال میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے کیونکہ بہت سے حروف لبوں ہی کے ذریعہ ادا ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہونٹ کے چبانے ، اور منہ کی رطوبت کو محفوظ رکھنے اور پانی کے پینے میں بہت زیادہ مدد کرتے ہیں ، اور اگر یہ نہ ہوتے تو انسان کے کھانے پینے کا مسلہ ، یہاں تک کہ اس کے چہرے کامنظر ، اس کے لعاب دہن کے باہر کی طرف بہنے کی وجہ سے ، اور بہت سے حروف کی ادائیگی پر قدرت نہ رکھنے کی بناء پر افسوس ناک ہوتا۔ اور چونکہ حقائق کا ادراک پہلے درجہ میں آنکھ اور زبان سے ہوتا ہے ۔ ان کے بعد ” عقل “ اور فطری ہدایت آتی ہے ، یہاں تک کہ آیت کی تعبیر ” ہدایت تشریعی “ کو بھی جو انبیاء و اولیاء کے ذریعے ہوتی ہے شامل ہے ۔ ہاں !اس نے دیکھنے والی آنکھ اور زبان کو بھی انسان کے اختیار میں رکھا ہے ، اور” راہ اور چاہ “ کی بھی اسے نشاندھی کرادی ہے ” تا آدمی نگاہ کند پیش پائے خویش “ تاکہ انسان اپنے سامنے کی ہر چیز کو دیکھ لے ۔ لیکن ان روشن چراغوں کے باوجود ، جو اس کے راستے میں موجود ہیں ، اگر پھر بھی کو ئی راستہ سے ہٹ جاتا ہے تو پھر کہنا چاہئیے : ” بگذار تابیفتد و بیند سزای خویش “ ! اسے گرنے دو تاکہ وہ اپنی سزا پالے ۔ ” و ھدینا ہ النجدین “۔ ( ہم نے اسے بھلائی اور برائی کے دونوں راستے دکھا دیئے ) کاجملہ علاوہ اس کے کہ وہ انسان کے ارادہ کی آزادی اور اختیار کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے ، اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے ” نجد“ اونچی جگہ کو کہتے ہیں لہٰذا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خیر اور بھلائی کی راہ کو طے کرنا مشکلات ، زحمت اور رنج سے خالی نہیں ہے ، جیساکہ اونچی زمینوں کی طرف جانا مشکل ہے یہاں تک کہ شراور برائی کی راہوں کا طے کرنا بھی مشکلات رکھتا ہے ۔ لہٰذا کیسی اچھی بات ہے کہ انسان سعی و کوشش سے خیر کی راہ کو اختیار کرے ۔ لیکن ا س کے باوجود راستہ کا انتخاب کرنا خود انسان کے اختیار میں ہے ۔ یہ وہی ہے جو اپنی آنکھ اور زبان کو حلال یا حرام کے راستہ میں گردش دے سکتا ہے اور خیر و شر کی دونوں راہوں میں جسے چاہے انتخاب کرسکتا ہے ۔ لہٰذا ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے خدا وند تعالیٰ آدم علیہ السلام کی اولاد سے کہتا ہے : ” یابن اٰدم ! ان نازعک لسانک فیما حرمت علیک فقد اعنتک علیہ بطبقتین فاطبق، ان نازعک بصرک الیٰ بعض ماحرمت علیک فقد اعنتک علیہ بطقتین فاطبق“ ” اے اولاد آدم ! اگر تیری زبان تجھے کسی فعل ِ حرام پر ابھار نا چاہئیے، تو میں نے اسے روکنے کے لئے دو ہونٹ تیرے اختیار میں دئے ہیں ۔ پس تو ہونٹوکو بند کرے اور اگر تیری آنکھ تجھے حرام کی طرف لے جانا چاہے تو میں نے پلکیں تیرے اختیار میں دے دی ہیں تو انہیں بند کرلے “2 اس طرح سے خدا نے ان عظیم نعمتوں پر کنٹرول کے وسائل و ذرائع بھی انسا ن کے اختیار میں دیئے ہیں اور یہ ایک اور اس کا عظیم لطف ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیات میں زبان کے بارے تو لبوں کی طرف اشارہ ہواہے، لیکن آنکھوںکے بارے میں پلکوں کی طرف اشارہ نہیں ہوا۔ اس کے بظاہر دو اسباب ہیں ، ایک تو یہ ہے کہ کہ لبوں کاکام بات کرنے ، کھانے اور تمام پہلووٴں میں پلکوں کی نسبت آنکھوں کے لئے کام کرنے سے کئی گناہ زیادہ ہے ، اور دوسرا سبب یہ ہے کہ زبان کاکنٹرول کرنا آنکھ کے کنٹرول سے کئی درجے زیادہ اہم ہے ، اور زیادہ بخت ساز ہے ۱۔ یہ تفسیر ایک حدیث میں امیر المومنین علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ( مجمع البیان زیر بحث آیات کے ذیل میں ) اور یہ جو بعض نے ماں کے دو پستانوں سے جو سینہ پر ابھر ے ہوئے ہوتے ہیں تفسیر کی ہے بہت ہی بعید ہے ۔ ضمنی طور پر ” نجد“ کی تعبیر خیر کے بارے میں اس کی عظمت کی وجہ سے ہے اور شر کے بارے میں بابِ تغلب سے ہے ۔ 2 ـ «نور الثقلین»، جلد 5، صفحه 581.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 90:8-10
۱۔ آنکھ کی حیرت انگیز یاں
آنکھ کو عام طور ہر کیمرے کی دوربین سے تشبیہ دیتے ہیں ، جو اپنی بہت ہی چھوٹی سی پتلی کے ساتھ مختلف مناطر کے فوٹو اتارتی ہے ، ایسی تصویریںجو فلم کے بجائے ” شبکیہ چشم “ ( آنکھ کی سکرین ) پر منعکس ہوتی ہیں اور وہاں سے بینائی کے اعصاب کے ذریعہ دماغ میں منتقل ہوتی ہیں ۔ تصویر کشی کا یہ حد سے زیادہ لطیف و دقیق کا خانہ ، شب و روز میں کئی ہزار تصویریں ، مختلف مناظر کی اتار سکتا ہے ، لیکن تصویر کشی اور فلمیں بنانے کی ترقی یافتہ مشینوں پر بھی اس کا بہت سے پہلووٴں سے قیاس نہیں ہوسکتا ، کیونکہ : ۱۔ اس مشین میں روشنی کو منظم کرنے والا دریچہ وہی آنکھ کی پتلی ہے کو خود کا ر طریقہ سے زیادہ قوی روشنی کے مقابلہ میں زیادہ تنگ اور کمزور روشنی کے مقابلہ میں زیادہ کشادہ ہوجاتی ہے حالانکہ کیمرے کی مشین کو اشخاص کے ذریعے منظم کرنا پڑتا ہے ۔ ۲۔ آنکھ کا عدسہ ، ان تمام شیشوں کے بر خلاف ، جو دنیا کے تصویر کشی کے کیمروں میں استعمال ہوتے ہیں ، ہمیشہ اپنی شکل بدلتا رہتا ہے ، اس طور پر کہ کبھی تو اس کا قطر ۔ ۱/۵ملی میٹر ہوجاتا ہے اور کبھی ۸/ ملی میٹر تک پہنچ جاتا ہے تاکہ وہ دور اور نزدیک کے مناظر کی تصویرین بنا سکے ۔ اور یہ کام ان عضلات کے ذریعے ، جنہوں نے عدسہ کو گھیرا ہو اہے، اور وہ کبھی اسے کھینچ لیتے ہیں اور کبھی چھوڑ دیتے ہیں ، انجام پاتا ہے، اس طرح سے آنکھ کا ایک عدسہ تنہا سینکڑوں عدسوں کا کام انجام دیتا ہے ۔ ۳۔ تصویر کشی کی یہ مشین چار مختلف سمتوں کی طرف حرکت کرتی ہے ، یعنی آنکھ کے عضلات کی مدد سے جس طرف چاہے حرکت کر سکتی ہے اور تصویر بنا سکتی ہے ۔ ۴۔ یہاں ایک ا در اہم نکتہ بھی ہے کہ تصویر کشی کے کیمروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کی فلموں کو تبدیل کرتے رہیں ، اور جب فلم کی ایک ریل ختم ہو جائے تو اس کی جگہ دوسری ریل رکھنی پڑتی ہے ۔ لیکن انسا ن کی انکھیں زندگی بھر تصویریں اتارتی رہتی ہیں ، اور اس میں کوئی چیز تبدیل نہیں کرنی پڑتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھ کی سکرین کا وہ حصہ ، جس پر تصویریں منعکس ہوتی ہیں ، اس میں دو قسم کے سلول ہوتے ہیں : ۱۔ مخروطی سلول ۲۔ عمودی سلول ، جو روشنی کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ حساس مادہ رکھتے ہیں اور روشنی کی تھوڑی سی چمک سے ہی ان کا تجزیہ ہو جاتاہے اور وہ ایسی لہریں پیدا کردیتے ہیں کہ وہ دماغ کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں اور اس کے بعد اس کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور سکرین دوبارہ نئی تصویر کھینچنے کے لئے آمادہ ہوجاتی ہے ۔ ۵۔ تصویر کھینچنے والی دوربینیں بہت ہی محکم اور مضبوط مادوں سے بنائی گئی ہیں ، لیکن آنکھ کی تصویر کھینچنے کی مشین اتنی لطیف کہ جس میں معلولی سی چیز سے بھی خراش آجاتی ہے ، اسی وجہ سے اس کو ایک مضبوط ہڈیوں سے بنی ہوئی حفاظت گاہ میں رکھا گیا ہے ۔ لیکن اتنی ظرافت و نزاکت کے باوجود یہ لوہے اور فولاد سے بھی زیادہ چلنے والی چیز ہے ۔ ۶۔ فلیمیں بنانے والوں اور تصویر کھینچنے والوں کے لئے ” روشنی کے منظم ہو نے“ کا مسئلہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے ، اور اس مقصد کے لئے کہ تصویر یں صاف ہوں، بعض اوقات کئی کئی گھنٹے روشنی اور اس کے مقدمات کو منظم کرنے میں مشغول رہناپڑتا ہے ، جب کہ آنکھ تمام حالات میں ، چاہے روشنی قوی ہویا درمیانی یا کمزور ، یہاں تک کہ تاریکی میں بھی ، بشر طیکہ معمولی اور خفیف سی روشنی بھی وہاں پر موجود تصویر لے لیتی ہے ۔ اور یہ چیز آنکھ کے عجائبات میں سے ہے ۔ ۷۔ بعض اوقات ہم روشنی سے تاریکی کی طرف جاتے ہیں ، یا بجلی کے بلب اچانک بجھ جاتے ہیں ، تو ہم اس وقت کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتے ، لیکن چند ہی لمحے گزرجانے کے بعد ہماری آنکھ خود کار طور پر اپنی کیفیت کو اس کمزور روشنی کے ساتھ منطبق کرلیتی ہے، اس طرح سے کہ جب ہم اپنے ارد گرد نظر کرتے ہیں کہ ہماری آنکھ تاریکی کی عادی ہوگئی ہے اور یہ عادت والی تعبیر کو سادہ اور عام زبان میں ادا ہو جاتی ہے ۔ایک بہت ہی پیچیدہ مکانیسم (طرزِساخت ) کا نتیجہ ہے جو آنکھ میں رکھی گئی ہے ، اور وہ خود کو بہت ہی مختصر سے وقت میں نئے حالات پر منطبق کرسکتی ہے ۔ اس کے بر خلاف جب ہم تاریکی سے روشنی میں داخل ہوتے ہیں تو ا س کے بر عکس ہوتا ہے ، یعنی ابتدا میں ہماری آنکھ قوی روشنی کو بر داشت نہیں کرتی ، لیکن چند لمحات کے بعد وہ اس سے منطبق ہو جاتی ہے اور اصطلاح کے مطابق عادی ہو جاتی ہے لیکن یہ امور تصویر بنانے والے کیمروں میں ہر گز موجود نہیں ہیں ۔ ۸۔ تصویر بنانے والے کیمرے محدود فضا سے تصویر بناسکتے ہیں جب کہ انسا ن کی آنکھ تمام افق کا نیم دائرہ جو اس کے سامنے ہوتا ہے دیکھ لیتی ہے ، اور دوسرے لفظوں میں ہم اپنے اطراف کے تقریباً ۱۸۰ درجے کے دائرے کو دیکھ لیتے ہیں ، جب کہ تصویر کشی کا کوئی کیمرہ ایسانہیں ہے ۔ ۹۔ عجیب و غریب بات یہ ہے کہ انسان کی دونوں آنکھیں ، جن میں سے ہر ایک ایک مستقل مشین ہے ، اس طر ح منظم ہوئی ہیں کہ ان دونوں سے لئے گئے فوٹو ایک ہی نقطہ پر جاکر پڑتے ہیں ۔ اس طرح سے اگر یہ تنظیم تھوڑی سی خراب ہوجائے تو اسے اپنی دو آنکھوں سے ایک ہی جسم کو دوجسم دیکھتا ہے ، جیساکہ احول ( جسے دو دو نظر آتے ہوں ) اشخاص میں یہ معنی مشاہدہ ہوتا ہے۔ ۱۰۔ دوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ وہ تمام مناظر جن کی آنکھ تصویر کشی کرتی ہے آنکھ کی ا سکرین پر الٹے پڑتے ہیں ، حالانکہ ہم کسی چیز کو الٹا نہیں دیکھتے ، آنکھ کے عاد اور چیزوں کی ایک دوسر ے سے نسبت کو محفوظ رکھنے کی بناء پر ہے ۔ ۱۱۔ آنکھ کی سطح ہمیشہ مرطوب ہونی چاہئیے کیونکہ اگر و ہ چند ساعت بھی خشک رہ جائے تو اس پر شدید ضرب پڑے یہ رطوبت ہمیشہ آنسووٴں کے غدود وں سے حاصل ہو تی ہے جو آنکھ میں ایک طرف منتقل ہو جاتے ہیں اور اسے بھی مرطوب رکھتے ہیں ۔ اگر آنکھ کے غدود خشک ہو جائیں تو آنکھ خطرے میں پڑ جاتی ہے اور پلکوں کی حرکت غیرممکن ہوجاتی ہے ، اور اگر اس کا فعل حد سے بڑھ جائے تو ہمیشہ چہرے پر آنسوں بہتے رہتے ہیں ، یا آنکھ کے فاضل پانی کو خشک کرتے ہیں اور یہ کتنا بڑا درد سر ہے ۱۲۔ آنسووٴں کی ترکیب ایک پیچیدہ ترکیب ہے ، اور اس میں دس سے زیادہ عناصرہوتے ہیں، اور وہ مجموعاً آنکھ کی نگہداشت کے لئے ایک بہترین اور مناسب ترین مائع یا مر کب ہوتا ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ آنکھ کے عجائبات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے بارے میں کئی دن تک بیٹھ کر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے ، اور ان کی کئی کتا بیں لکھنی پڑیں ، اور ان تمام چیزوں کے باوجود اگر ہم ا س کے اصلی مادہ کو دیکھیں تو وہ تقریباً چر بی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنی ایک قابل قدر گفتگو میں فرماتے ہیں : ” اعجبوا لھٰذا الانسان ینظر بشحم ، و یتکلم بلحم ، و یسمع بعظم، و یتنفس من خرم !“ ”تعجب ہے اس انسان پرجو چربی کے ایک ٹکڑے سے دیکھتا ہے ، اور گوشت کے ایک ٹکڑے سے بولتا ہے ہڈی سے سنتا ہے سوراخ سے سانس لیتا ہے اور وہ ان بزرگ حیاتی کا موں کو ان چھوٹے سے وسائل کے ذریعے انجام دیتا ہے ۱ ۱۔ نہج البلاغہ ” کلمات قصار“ حکمت۸۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 90:8-10
۲۔ زبان کی حیرت انگیزیاں
زبان بھی اپنے جگہ پر انسانی بدن کے بہت ہی حیرت انگیز اعضاء میں سے ہے اور اس کے ذمے بہت ہی سخت ذمہ داریاں ہیں ، وہ غذا کو نگلنے میں مدد دینے کے علاوہ اس کو چبانے میں بھی اہم کام انجام دیتی ہے ، اور بار بار غذا کے لقمہ کودانتوں کی ہتھوڑی کے نیچے دھکیلتی رہتی ہے ، لیکن اس کام کو اتنے ماہرانہ انداز میں انجام دیتی ہے کہ اپنے آپ کو دانتوں کی ضربوں سے محفوظ رکھتی ہے ، حالانکہ ہمیشہ ان کے پاس اور ان سے چمٹی ہوئی رہتی ہے ۔ بعض اوقات اتفاقیہ طور پر کھانے کو چباتے وقت ہم اپنی زبان کو بھی چبالیتے ہیں تو ہماری چیخ نکل جاتی ہے اور ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ اگر زبان میں وہ مہارت نہ ہوتی تو ہم پر کتنی مصیبت آن پڑتی ۔ ضمنی طور پر غذا کھانے کے بعد منھ کی فضا اور دانتوں کو پاک و صاف کرتی اور جھاڑدیتی ہے۔ اور ان سب کا موں سے زیادہ اہم بات کرنے کا مسئلہ ، جو زبان کی تیزی کے ساتھ منظم طور پر پے در پے حرکات اور چھ سمتوں میں حرکت کرنے سے انجام پاتا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا نے بات کرنے اور تکلم کے لئے ایک ایسا وسیلہ انسانوں کے اختیار میں دیاہے جو بہت ہی سہل اور آسان ، اور سب کی دسترس میں ہے ، نہ کچھ تھکان ہوتی ہے او رنہ ہی رنج و ملال حاصل ہوتا ہے، اور نہ ہی کچھ خرچ ہوتا ہے ۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات انسان میں گفتگو کرنے کی استعداد کا مسئلہ ہے ، جو انسان کی روح میں ودیعت کر دیا گیا ہے اور انسان اپنے طرح طرح کے حد سے زیادہ مقاصد کو بیان کرنے کے لئے بے حد مختلف صورتوں میں زیادہ سے زیادہ جملہ بند یاں کرسکتا ہے ۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم ، مختلف زبانوں کی وضع کی استعداد ہے ، اور ان ہزاروں زبانوں کے مطالعہ سے جو دنیا میں موجود ہیں ، اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے ، واقعاً ” العظمة للہ الواحد القھار !“ ( عظمت و بزر گی واحد و قہار خدا کے لئے ہی ہے )۔