الْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
The Bedouins are more obdurate in unfaith and hypocrisy, and more apt to be ignorant of the precepts that Allah has sent down to His Apostle, and Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:97
[Pooya/Ali Commentary 9:97] (see commentary for verse 95)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:97-99
سنگ دل اور صاحب ِ ایمان بادیہ نشین
گذشتہ آیات میں منافقین مدینہ کے بارے میں گفتگو تھی ۔ ان آیات میں اسی مناسبت سے بادیہ نشین منافقین کی نشانیوں اور افکار کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مخلص اور سچے بایہ نشین مومنین کے بارے میں بھی باتی کی گئی ہے ۔ شاید اس وجہ سے کہ مسلمانوں کو خبر دار کیا جائے کہ وہ کہیں یہ خیال نہ کریں کہ منافقین صرف اس شہر میں رہتے ہیں ، بتایا گیا ہے کہ بادیہ نشین منافقین ان سے بھی سخت تر ہیں ۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مسلمانوں پر ان منافقین کی طرف سے بار ہا حملے ہوئے ہیں ۔ لشکر اسلام کی پے در پے فتوحات کے سبب کہیں ایسا نہ ہو کہ اس خطرے کو نظرانداز کردے۔ بہرحال پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے : بادیہ نشین اعراب ( تعلیم و تربیت سے دوری اور آیاتِ الہٰی او رپیغمبر کے ارشادات نہ سننے کی وجہ سے ) کفر او رنفاق میں زیادہ سخت ہیں ( الْاٴَعْرَابُ اٴَشَدُّ کُفْرًا وَنِفَاقًا)۔”اسی وجہ سے وہ ان فرامین و احکام کی حدود کی جہالت کے زیادہ حق دار ہیں جو خدا نے اپنے رسول پر نازل کئے ہیں ( وَاٴَجْدَرُ اٴَلاَّ یَعْلَمُوا حُدُودَ مَا اٴَنزَلَ اللهُ عَلَی رَسُولِہِ)۔ ”اعراب“ جمع کا معنی رکھنے والے لفظوں میں سے ہے لیکن لغت عرب کے لحاظ سے اس کا مفرد نہیں ہے جیساکہ علماء لغت مثلاًقاموس ، صحاح او رتاج العروس کے موٴلف اور دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ لفظ صرف بادیہ نشین عربوں پر بولا جاتا ہے اور ا س کے مفرد کے لئے یاء نسبت کے ساتھ ” اعرابی“ کی صورت میں بولتے ہیں ۔ اس بناء بہت سے لوگوں کے تصور کے برخلاف ”اعراب“ ” عرب “ کی جمع نہیں ہے ۔ ”اجدر“ ” جدار “کے مادہ سے دیوار کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ لفظہ رمرتفع او رمناسب چیز کے لئے بولا جانے لگا اس وجہ سے عام طور پر ” اجدر“ زیادہ شائستہ او رمناسب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ آیت کے آخر میں فرمایاگیا ہے :خدا دانا اور حکیم ہے یعنی اگر بادیہ نشین عربوں کے بارے میں اس قسم کا فیصلہ کرتا ہے تو خاص مناسبت کے سبب ہے کیونکہ ان کا ماحصول ایسی صفات رکھتا ہے ( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ )۔لیکناس بناء پر کہ کہیں یہ وہم پیدا نہ ہو کہ تمام باد یہ نشین عرب یا دنیا کے سب بادیہ نشین ان صفات کے حامل ہوتے ہیں ، بعد والی آیت میں ان میں سے دو مختلف گروہوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔ ار شاد ہوتا ہے : ” ان بادیہ نشین عربوں میں سے ایک گروہ ان لوگوں کاہے جو جب کوئی چیز راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو نفاق یا کمزور ایمان کی وجہ سے اسے نقصان اور خسارہ شمار کرتے ہیں “ نہ کہ ایک کامیابی اور سودمند تجارت ( وَمِنْ الْاٴَعْرَابِ مَنْ یَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ مَغْرَمًا )۔ ۱ ”غرامت“بھی اسی مناسبت سے استعمال ہوتاہے کہ جوانسان کے لئے لازمی ہوتا اورجب تک ادانہ کرلے وہ اس سے جد انہیں ہوتی۔ عشق شدید کو بھی ”غرام “ کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کی روح میں اس طرح اترتا ہے کہ جدا نہیں ہوتا او ر”مغرم “ اور ” غرامت “ کا ایک ہی معنی ہے ۔ ان کی ایک صفت یہ ہے کہ ” ہمیشہ اس انتظارمیں رہتے ہیں کہ تمہیں مشکلات گیر لیں اور بد بختی او رناکامی تمہیں آلے (وَیَتَرَبَّصُ بِکُمْ الدَّوَائِرَ )۔ ”دوائر “ ” دآئرہ “ کی جمع ہے اور اس ک امعنی مشہور ہے لیکن وہ سخت اور دردناک حوادث انسان کا احاطہ کرلیتے ہیں عرب انہیں ” دآئرہ“ کہتے ہیں اورجمع کی حالت میں ” دوآئر“ کہتے ہیں ۔ در حقیقت وہ لوگ تنگ نظر ، بخیل اور بہت حاسد ہیں اپنے بخل ہی کی وجہ سے وہ راہ ِ خدا میں ہر طرح کی مالی خدمت کی نقصان شمار کرتے ہیں اور اپنے حسد کی وجہ سے وہ دوسروں کے لئے مشکلات او رمصائب کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے ظہور مشکلات اور نزول ، بلا کا انتظار نہ کریں او رتمہارے ان کی توقع نہ رکھیں ۔ کیونکہ یہ مشکلات، ناکامیاں بد بختیاں صرف اس منا فق ، بے ایمان ، جاہل ، نادان، تنگ نظر اور حاسد گروہ کی تلاش میں ہیں (عَلَیْھِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ )۔2 آخر میں آیت کواس جملے پر ختم کیاگیا ہے کہ ”خدا سننے والا او رجاننے والا ہے ( وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ) ۔ان کی باتوں کو بھی سنتا ہے او ران کی نیتوں او رمافی الضمیر سے بھی آگاہ ہے ۔ آخری آیت میں دوسرے گروہ یعنی بادیہ نشینوں میں سے مخلص مومنین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان بادیہ نشین عربوں میں سے ایک گروہ ان کا ہے جو قیامت پر ایمان رکھتے ہیں ( وَمِنْ الْاٴَعْرَابِ مَنْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ)۔ اسی بنا پر وہ راہِ خدا میں خرچ کرنے کو بھی نقصان او رزیاں نہیں سمجھتے بلکہ اس جہان میں دوسرے جہان میں خدا کی وسیع جزا اور ثواب کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس کا کو قریب ِ الہٰی کا ذریعہ ، پیغمبر کی توجہ اور دعا کا باعث سمجھتے ہیں جوکہ افتخار اور عظیم برکت ہے ( وَیَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ )۔ یہاں خدا تعالیٰ ان کی طرز ِ فکر کی بڑی تاکید سے تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے : آگاہ رہو کہ یقینا ان کا یہ انفاق اور خرچ بار گاہ ِ خدا میں قرب کا باعث ہیں (اٴَلاَإِنّھَا قُرْبَةٌ لَھُمْ )۔اور اسی بناء پر ” خدا انھیں بہت جلد اپنی رحمت میں داخل کردے گا ( سَیُدْخِلُھُمْ اللهُ فِی رَحْمَتِہِ )۔ اگر ان سے کچھ لغزشیں ہو تو ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے انھیں بخش دے گا ” خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ،( إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ اس آیت میں جو پے در پے تاکید یں نظر آتی ہیں بہت جالب توجہ ہیں ۔ لفظ ”الا“ اور ”ان “ دونوں تاکید کے لئے ہیں اس کے بعد ” سید خلھم اللہ فی رحمتہ“کاجملہ اور خاص طور پر اس میں لفظ”فی “ رحمت ِ خدا میں غوطہ زن ہونے کا ظاہر کرتا ہے ۔ بعد میں آخری جملہ بھی ” ان “ سے شروع ہوتا ہے اور خدا کی شفقت و مہربانی کی صفات ” غفورا ً رحیم “ کا ذکر کرتاہے یہ یہ سب اس گروہ کے لئے خدا تعالیٰ کے انتہائی لطف و رحمت کا بیان ہے انھوں نے تعلیم و تربیت سے محروم ہونے اور آیات الہٰی اور ارشادات پیغمبر تک کافی رسائی نہ ہونے کے باوجود جان و دل سے اسلام قبول کیا ہے ا ور مالی وسائل نہ رکھنے کے باوجود ( کہ جو ان کی بادیہ نشینی کا لازمہ ہے )وہ راہ خدا میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے ۔ شاید اس بناء پر یہ لوگ شہروں میں رہنے والے اور ہر طرح کے وسائل رکھنے والے افراد کی نسبت قدر دانی کے زیادہ حق دار ہیں ۔ اس نکتہ کی جانب خصوصیت سے توجہ در کار ہے کہ منافق اعراب کے بارے میں ” علیھم دآئرة السوء“ استعمال ہوا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بد بختیاں ان پر محیط ہیں ۔ لیکن باایمن اور فداکار اعراب کے لئے ” فی رحمتہ’“ استعمال ہوا ہے جو ان پر رحمت ِ الہٰی کے محیط ہونے کوبیان کرتا ہے ایک گروہ کو بد بختی نے گھیر رکھا ہے اور دوسرے پر رحمت ِ الہٰی احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ ۱۔”مغرم “ جیس اکہ مجمع البیان میں آیا ہے ”غرم “ ( بروزن ”جرم “) کے مادہ سے ہے ۔ در اصل یہ کسی چیز کے لازم ہونے کے معنی میںة ے بعد ازاں قرض خواہ اور مقروض کو ”غریم “ کہا جاتا ہے ج وایک دوسرے کو نہیں چھوڑتے اور لازمی طور پر ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے ہیں ۔ 2۔ یہ جملہ حصر ک امعنی دیتا ہے یعنی برے حوادث پس انھی دامن گیر ہوتے ہیں اور یہ انحصار اس بناء پر ہے کہ ”علیھم “ جو خبر ہے مبتداء سے مقدم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:97-99
چند اہم نکات
۱۔ آبادی کے بڑ ے مراکز: عظیم معاشروں اور آبادی کے بڑے مراکز کو اسلام جو اہمیت دیتا ہے وہ مندرجہ بالا آیت سے واضح ہوجاتی ہے یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسلام ایسے پس ماندہ ماحول سے اٹھا ہے کہ جس سے تمدن کی بو بھی نہ آتی تھی اس کے باوجود وہ تمدن کے اصلاحی عوامل کی خاص اہمیت کا قائل ہے اور ا س کی اس بات پرنظر ہے کہ جو لوگ شہر سے دور افتادہ علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں وہ ایمان اور مذہبی معلوم مات میں اس لئے پیچھے ہیں کہ ان کے پاس تعلیم و تربیت کے لئے کافی وسائل اور مواقع نہیں ہیں ۔ لہٰذا نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے : و الزموا السواد الاعظم فان ید اللہ مع الجماعة بڑے مراکز سے لازماً وابستہ رہو کیونکہ خدا کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے ۔ ( نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۷)۔ لیکن اس بات کا مفہو م یہ نہیں کہ سب لوگ شہروںکا رخ کرلیں اور دیہات جو شہروں کی آبادی کا باعث ہیں انھیں ویران کردیں بلکہ اس کے برعکس چاہئیے کہ شہروں سے علم ودانش دیہات کی طرف لائی جائے اور دیہات میں تعلیم و تربیت ، دین و ایمان اور بیداری و آگاہی کے فروغ اور تقویت کی کوشش کی جائے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر دیہی عوام کو ان کی حالت پرچھوڑ دیا جائےاور انہیں شہری علوم و آداب، کتب آسمانی کی آیات اور پیغمبر خدا اور ہادیان برحق کی تعلیمات سے محروم رکھا جائے تو کفر ونفاق انھیں تیزی سے گھیر لے گا۔ دیہاتی لوگ صحیح تعلیم و تربیت زیادہ قبول کرتے ہیں کیونکہ ان میں صاف دل اور پاک فکر افراد زیادہ ہوتے ہیں جنھیں کسی کا ہاتھ نہیں لگا ہوتا اور ان میں شہری شیطنتیں اورسازشیں کم ہوتی ہیں ۔ ۲۔ بادیہ نشین شہری : ”اعرابی “ اگر چہ ” بادیہ نشین “ کے معنی میں ہے لیکن اسلامی روایات میں اس کا ایک وسیع تر مفہوم لیا گیا ہے بالفاظ دیگر اس کا اسلامی مفہوم کسی علاقے سے وابستہ نہیں ہے بلکہ طرزِ فکر اور منطقہ فکری سے مربوط ہے جو لوگ اسلامی آداب و سنن اور تعلیم و تربیت سے دور ہیں ، اگر چہ شہر میں رہتے ہوں اعرابی ہیں اور اسلامی آداب و سنن سے آگاہ بادیہ نشین بی اعراب نہیں ہیں ۔ امام جعفر صادق سے منقول ایک مشہور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا : من لم یتفقہ منکم فی الدین فھو اعرابی تم میں سے جو شخص اپنے دین سے آگاہ نہیں ، اعرابی ہے ۔ 1 یہ فرمان ہماری مندرجہ بالا گفتگو پر ایک واضح گواہ ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے : من الکفر التعرب بعد الھجرة ہجرت کے بعد بادیہ نشینی اور تعرب کفر ہے ۔ نیز نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے منقول ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب میں سے معصیت کا ر لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے : و اعلموآ انکم صرتم بعد الھجرة اعراباً جان لو کہ تم ہجرت کے بعد اعرابی ہو گئے ہو۔ ( نہج البلاغہ خطبہ ص ۱۹۲) مندرجہ بالا دو احادیث میں اعرابی ہونے کو ہجرت کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے ۔ اگر ہم اس طرف توجہ کریں کہ ہجرت کا وسیع مفہوم بھی مکانی اور علاقائی پہلو نہیں رکھتا بلکہ اس کی بنیاد محور کفر سے فکر کو محور ایمان کی طرف منتقل کرنا ہے تو اس سے اعرابی ہونے کا معنی بھی واضح ہو جاتا ہے، اسلامی آداب و سنن سے جاہلیت کے آداب و رسول کی طرف پھر جانا ۔ ۳۔ قرب ِ الہٰی کا مفہوم : مندرجہ بالا آیات میں باایمان بادیہ نشین کے بارے میں ہے کہ وہ اپنے نفاق او رراہِ خدا میں خرچ کرنے کو قرب ِ خدا کا سبب سمجھتے ہیں خصوصاً جبکہ لفظ” قربات “ آیا ہے کہ جو کہ جمع اور نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک نہیں بلکہ اس میں کئی قرب تلاش کرتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ قرب ِخدا سے مراد قربت ِ مکان او رمکانی نزدیکی نہیں ہے بلکہ مقام و مرتبہ اورقدر و منزلت کی نزدیکی ہے یعنی اس کی طرف جانا جو کمالِ مطلق ہے اور اس کی صفات ِ جمال و جلال کا سایہ اپنی روح و فکر پر ڈالنا۔ ۱۰۰۔ وَالسَّابِقُونَ الْاٴَوَّلُونَ مِنْ الْمُھَاجِرِینَ وَالْاٴَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوھُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِیَ اللهُ عَنْھُمْ وَرَضُوا عَنْہُ وَاٴَعَدَّ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی تَحْتَہَا الْاٴَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا اٴَبَدًا ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ۔ ترجمہ ۱۰۰۔مہاجرین و انصار میں سے پیش قدمی کرنےو الوں اور ان کی پیروی کرنے والوں سے خدا خوش ہے اور وہ ( بھی )خدا سے راضی ہیں اور اس نے ان کے لئے باغاتِ بہشت فراہم کئے ہیں کہ جن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور عظیم کامیابی ہے ۔ 1۔ تفسیر نور الثقلین ج۲ صفحہ ۲۵۴۔