فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُوا لَا تَنفِرُوا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ
Those who were left behind boasted for sitting back against [the command of] the Apostle of Allah, and were reluctant to wage jihad with their possessions and persons in the way of Allah, and they said, ‘Do not go forth in this heat.’ Say, The fire of hell is severer in heat, should they understand.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:81
[Pooya/Ali Commentary 9:81] These verses refer to the hypocrites who stayed in Madina and refused to go with the Holy Prophet in the expedition of Tabuk.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:81-89
God reminds the faithful, hypocrites all (especially the lags) to laugh less in this world and wee more due to the sins they have committed, as there will be no time after death to undo evil thereof, so everyone, wise of his future life, should be busy in undoing wrong, rectifying self and amassing virtues for the future journey, which is destined for everyone. These hypocrites, when they will see, battle is near at hand and a promise of a large booty is foretold, they would accompany or desire to accompany and God has refused permission to them on such occasions. This is an illegal and unfair intention for which they will be held up in the future. The Prophet was asked not to pray forgiveness for hypocrites, so he never prayed or uttered a couplet leading to forgiveness of the deceased if he was a hypocrite.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:81-83
منافقین کی ایک اور غلط حرکت
ان آیات میں بھی منافقین کے افکار و اعمال ک اذخر جاری ہے تاکہ مسلمان واضح طور پر اس گروہ کو ہیچان لیں اور ان کے غلط منصوبوں اور سازشوں کا شکار نہ ہوں ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : وہ جنھوں نے (تبوک میں ) جہاد میں شرکت نہیں کی اور بے ہودہ بہانے کرکے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اوراپنے گمان میں انھوں نے میدانِ جنگ میں خطرات پر سلامتی کو دی ترجیح دی ، وہ رسول خدا کے خلاف اس عمل پر خوش( فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ)۔ اور راہ خدا میں مال و جان سے جہاد کرنے او رمجاہدین کے عظیم اعزازات و افتخار ات حاصۺ کرنے کا ناپسند کرتے ہیں ( وَکَرِھُوا اٴَنْ یُجَاھِدُوا بِاٴَمْوَالِھِمْ وَاٴَنفُسِھِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ )۔ انھوں نے میدان جہاد میں شر کت نہ کرنے پر قناعت نہیں کی بلکہ وہ شیطانی وسوسوں سے دوسروں کو بھی بددل کرنے یا پھر نے کی کوشش میں تھے ۔ انھوں نے دوسروں سے کہا :موسم گرما کی اس جلادینے دالی گرمیں میں میدان جنگ کی طرف نہ جاوٴ( وَقَالُوا لاَتَنفِرُوا فِی الْحَرِّ )۔ در حقیقت وہ ایک تو مسلمانوں کے ارادوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں او ردوسرا اپنے جرم میں بہت سے افراد کو شریک کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے بعد قرآن پیغمبر اکرم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انھیں دو توک الفاظ میں اور تنبیہ کرتے ہوئے ” کہہ دو کہ دوزخ کی جلادینے والی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے اگر تم سمجھو( قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اٴَشَدُّ حَرًّا لَوْ کَانُوا یَفْقَھُونَ )۔ لیکن وہ کمزور ایمان اور ناسمجھی کی وجہ سے توجہ نہیں کرتے کہ کیسی جلانے والی آگ ان کے انتظار میں ہے ، ایسی آگ کہ جس کی چھوٹی سی چنگاری دنیا کی ہر قسم کی آگ سے زیادہ جلادینے والی ہے ۔ بع دکی دو آیتیں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ اس گمان میں ہیں کہ انھیں کامیابی حاصل ہو گئی ہے ، جہاد سے دور رہنے والے او رمجاہدین کے حوصلے پست کرنے سے وہ اپنے ہدف کو پہنچ گئے لہٰذا وہ قہقہے لگاتے ہیں جیسا کہ ہر دور کے منافقین کرتے رہے ہیں لیکن قرآن انھیں خطرے سے ڈراتے ہوئے کہتا ہے : انھیں تھوڑا ہنسنا چاہئیے اور زیادہ رونا چاہئیے ( فَلْیَضْحَکُوا قَلِیلًا وَلْیَبْکُوا کَثِیراً)۔ ہاں انھیں رونا چاہئیے اپنے تاریک مستقبل پراور ان دردناک سزاوٴں پر جو ان کے انتظار میں ہیں انھیں رونا چاہئیے اس بنا پر کہ وہ واپسی کے راستے کے تمام پلو ں کو بر باد کرچکے ہیں ۔ انھیں رونا چاہئیے کہ وہ اپنی تمام تر استعداد اور زندگانی کا سرمایہ دے کر اپنے لئے رسوائی او ربد بختی خرید چکے ہیں ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ۔ یہ ان کے اعمال کی سزا ہے جو وہ انجام دیتے تھے ( جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ)۔ ہم نے جو کچھ کہا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ اس جہان میں ہنسیں کم اورروئیں زیادہ ۔ کیونکہ آگے ان کے لئے ایسی دردناک سزا ہے کہ اگر اس سے آگاہ ہو جائیں تو بہت روئیں اور ہسیں بہت کم۔ لیکن بعض مفسرین نے اس جملے کے معنی کے متعلق ایک او راحتمال بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جتنا بھی ہسیں دیان کی عمر اتنی تھوڑی ہے کہ وہ پھر بھی کم ہے اور آخرت میں وہ اتنا روئیں گے کہ دنیاوی گریہ و زاری اس کے مقابلے میں بہت حقیر ہے ۔ لیکب پہلی تفسیر ظاہر آیت سے اور تقریر و تحریر میں استعمال ہونے والی اس سے مشابہ تعبیرات سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے خصوصاً جب کہ دوسری تفسیر کا لازمہ یہ ہے کہ صیغہ امر اخبار کے معنی میں ہو اور یہ خلافِ ظاہر ہے ۔ ایک مشہور حدیث میں کہ جسے بہت سے مفسرین نے پیغمبر اکرم سے نقل کیا ہے ،آپ نے فرماتے ہیں : ” لاتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا و لبکیتم کثیراً “ اگر اسے جو ( قیامت کی ہولناک سزاوٴں کے متعلق )جانتا ہوں تم بھی جانتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔ یہ حدیث بھی پہلے معنی پ رایک شاہد ہے ( غور کیجئے گا )۔ زیر بحث آخری آیت میں منافقین کی ایک او رسچی سمجھی خطر ناک روش کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب کسی غلط کام کو ظاہر بظاہر انجام دیتے ہیں تو اپنی براٴت کے لئے تلافی کرنے کے عذم ک ااظہار کرتے ہیں اور اس طرح اپنی بدعات اور خلافِ اسلام حرکات کو چھپانے کی کو شش کرتے ہیں ۔ آیت کہتی ہے: جس وقت خدا تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف پلٹا ئے اور وہ تجھ سے جہاد کے دوسرے میدان میں شرکت کی اجازت چاہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم میرے ساتھ کبھی میدان جہاد میں شرکت نہ کر سکو گے اور میری معیت میں کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے ( فَإِنْ رَجَعَکَ اللهُ إِلَی طَائِفَةٍ مِنْھُمْ فَاسْتَاٴْذَنُوکَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِی اٴَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِی عَدُوًّا )۔ یعنی رسول اللہ انھیں ہمیشہ کے لئے مایوس کردیں اور واضح کردیں کہ ان کی حنارنگ نہیں لائے گی اور کبھی کوئی ان کے فریب میں نہیں آئے گا اورکیا ہی اچھا ہوکہ وہ مکرو فریب کہ یہ جال کہیں اور لے جائیں کیونکہ یہاں اب کوئی ان کے دام فریب میں نہیں آئے گا۔ اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ” طآئفة منھم “ ( ان میں سے ایک گروہ )کے الفاظ نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ سب ایسا کرنے کو تیار نہ تھے اور دوسرے جہاد میں شرکت پر آمادگی کا اظہار سے سب نے نہیں کیا تھا ۔ شاید اس کی جہ یہ تھی کہ ان میں سے بعض اس قدر رسوا اور شرمندہ تھے کہ وہ اس رسول اللہ کی خدمت میں پیش ہو کر اپنی یہ تجویز ہی پیش نہیں کرسکتے تھے ۔ اس کے بعد ان کی پیش کش قبول نہ کرنے کی دلیل یوں بیان کی گئی ہے : میدانِ جہاد سے کنارہ کشی کرنے اور گھروں میں بیٹھ رہنے پر تم پہلے بھی راضی ہو چکے ہو پھر اب بھی منہ موڑنے والوں کے ساتھ مل جاوٴ اور ان کے ساتھ گھروں میں بیٹھ جاوٴ( إِنَّکُمْ رَضِیتُمْ بِالْقُعُودِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:81-83
چند اہم نکات
۱۔ کام کی اہمیت کیفیت سے ہے کمیت سے نہیں :۔ آیات ِ قرآنی کو دیکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ اسلام کسی مقام پر بھی ”کثرتِ عمل“ پربھروسہ نہیں کرتابلکہ اس سے ہر جگہ ”کیفیت عمل “کو اہمیت دی ہے ۔ اسلا م کی نظر میں خلوص اور پاک نیت کی بہت زیادہ قیمت ہے ۔ مندرجہ بالا قرآن کی اس منطق کا ایک نمونہ ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک مسلمان کار کن ایک چھوٹ سے کام کےلئے رات بھر نہیں سویا ۔ اس کا دل عشق خدا ، اخلاص او راحساس مسئولیت سے معمور تھا ۔ اسی لئے وہ اسلامی معاشرے کی مشکلات کے حل کے لئے کام میں لگا رہا اور اس طرح اس نے اسلامی فوج کے لئے ایک من کھجور مہیا کی ۔ اس نے حساس لمحات میں اسلام کی جو خدمت کی قرآن نے اسے بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور جو لوگ ایسے بظاہر چھوٹے اور در حقیقت بڑے اعمال کی تحقیر کرتے ہیں ان کی سخت مذمت کی ہے قرآن کہتا ہے : ” دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے “ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ایک صحیح معاشرے میں مشکلات کے وقت سب لوگوں کو احساس ذمہ داری کا ثبوت دیان چاہئیے ۔ ان مواقع پر صرف اہل اقتدار ثروت کی طرف نہیں دیکھنا چاہئیے کیونکہ اسلام کا تعلق سب سے ہے اور سب کو چاہئیے کہ اس کی حفاظت کے لئے دل و جان سے کوشش کریں ۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنی طاقت کے حساب سے دریغ نہ کرے مسئلہ زیادہ اورکم نہیں بلکہ احساس ِ ذمہ داری اور اخلاص کا ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم سے سوال ہوا: ای الصدقة افضل کونسا صدقہ افضل ہے ۔ آپ نے فرمایا: جھد المقل کم آمدنی والے اشخاص کی توانائی کی مقدار ۲۔ منا فقین کی صفات ہر دور میں ایک جیسی ہیں : مندرجہ بالا آیات میں زمانہ پیغمبر کے منافقین کے بارے میں ہم نے جو صفت پڑھی ہے۔ صفات کی طرح اسی زمانہ کے منافقین سے مخصوص نہیں ہے ۔یہ صفت ہر دور کے منافقین کی پست صفات میں سے ایک ہے وہ اپنی بد نیتی کے مخصوص مزاج کے ساتھ کوشش کرتے ہیں کہ ہر مثبت کو غلظ انداز میں پیش کر کے بے اثر کردیں ۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر نیک شخص کی کسی نہ کسی طرح حو صلہ شکنی کریں ار اسے کارِ خیر کی انجام دہی میں سست کردیں ۔ یہاں تک کہ وہ کم آمدنی والے افراد کی خدمت کی اہمیت کو کم کرکے پیش کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کو مجروح کرنے اور ان کی توہین کرنے کےلئے ان کے کام کا تمسخر اڑاتے ہیں وہ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں تاکہ تمام مثبت کار کردگیاں ختم ہو جائیں اور وہ اپنے برے مقصد میں کامیاب ہوجائیں ۔ آگاہ او ربیدار مغز مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر زمانے میں ان کی قبیح سازش کی طرف متوجہ رہیں ۔ ان کے بالکل بر عکس قدم اٹھائیں معاشرے کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ایسی خدمت جو ظاہراً چھوٹی ہوں لیکن خلوص دل سے انجام پائی ہوں ان کی زیادہ قدر دانی کریں تاکہ چھوٹا بڑا اپنے کام میں شوق ق ذوق او ردلجمعی سے مگن رہے ۔ نیز سب مسلمانوں کو منافقین کی اس تباہ کن سازش سے آگاہ کرنا چاہےئے تاکہ وہ ہمت نہ ہاریں ۔ ۳۔ ”سخر اللہ منھم “ کامفہوم : اس کا لفظی معنی ہے ” خدا ان سے تمسخر کرتا ہے “ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا بھی ان جیسے کام انجام دیتا ہے بلکہ جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ استہزاء کرنے والوں کو سزا دے گایا ان سے ایسا سلوک کرے گا کہ تمسخر اڑانےوالوں کی طرح ان کی تحقیر و تذلیل ہو۔ ۴۔ ”سبعین “ سے مراد: اس میں شک نہیں کہ ” سبعین “ ( ستر ) کاعدد زیرنظر آیت میں کثرت کے لئے ہے نہ کہ تعداد کے لئے ۔ دوسرے لفظوں میں آیت کامفہوم یہ ہے کہ ان کے لئے جتنی بھی استغفار کریں خدا انھیں نہیں بخشے گا ۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک شخص دوسرے سے کہے کہ اگر تم سو مرتبہ بھی اصرار کرو تو میں قبول نہیں کروں گا اس بات ک ایہ مطلب نہیں کہ اگر ایک سو ایک مرتبہ اصرار کرو تو پھر قبول کرلوں گا بلکہ مراد یہ ہے کہ بالکل قبول نہیں کروں گا ۔ ایسی تعبیر فی الحقیقت تاکید مطلب کے لئے ہوتی ہے اسی لئے سورہ ٴ منافقون آیہ ۶ میں یہ بات نفی مطلق کی صورت میں ذکر ہوئی ہے ، جہاں فرمایا گیا ہے : سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم اس میں کوئی فرق نہیں کہ تم ان کے لئے مغفرت طلب کرو یانہ کرو خداانھیں ہر گز نہیں بخشے گا۔ اس بات پر ایک اور شاید وہ علت ہے جو آیت کے ذیل میںذکر ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ” انھوں ن خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے اور خدا فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا“ واضح ہے کہ ایسے افراد کے لئے جتنی استغفار اور طلب بخشش کی جائے ان کی نجات کا سبب نہیں ہو سکتی۔ تعجب کی بات ہے کہ اہل سنت کی طرق سے منقول متعدد روایات میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ نے فرمایا : لا ید ن فی الاستغفار لھم علی سبعین مرة : رجاء منہ ان یغفر اللہ لھم ، فنزلت: سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم ۔ خدا کی قسم ! میں ان کے لئے ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا اور اس امید پر کہ خدا انھیں بخش دے اور اس وقت ( سورہ منافقوں کی ) یہ آیت نازل ہوئی( جس میں خدا تعا لیٰ فرماتا ہے ) کچھ فرق نہیں چاہے ان کے لئے استغفار کرو چاہے نہ کرو خدا انھیں ہر گز نہیں بخشے گا ۔ 1 مندرجہ بالا روایت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ نے مندرجہ بالا آیت میں ستر کے عدد سے تعداد مراد لی لہٰذا فرماتا ہے کہ ” میں ان کے لئے ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کروں گا ۔“ حالانکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں زیر بحث آیت خصوصاً اس علت کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے جو اس کے ذیل میں آئی ہے ہمیں وضاحت سے سمجھاتی ہے کہ ستر عدد کثرت کے مفہوم میں آیا ہے اور یہ نفی مطلق کے لئے کنایہ ہے اور اس میں تاکید مضمر ہے لہٰذا مذکورہ بالا روایات چونکہ قرآن کے مخالفت ہیں لہٰذا ہر گز قابل قبول نہیں ہیں خصوصاً جبکہ ہماری نظر میں ان کی اسناد بھی معتبر نہیں ہیں ۔ مذکرہ بالا روایات کی واحد توجیہ یہ کی جاسکتی ہے ( اگر چہ خلافِ ظاہر ہے ) کہ رسول اللہ مندرجہ بالا آیات کے نزول سے پہلے یہ جملہ فرمایا کرتے تھے اور جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ نے ان کے لئے استغفار کرنے سے صرفِ نظر کر لیا ۔ اس بارے میں ایک اور روایت نقل ہ وئی ہے اور ممکن ہے کہ مذکورہ بالاروایات بنیاد یہی روایت ہو جو ” نقل المعنی “ کی وجہ سے غلط ملط ہو گئی ہو ۔ روایت یہ ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : لوعلمت انہ لو زدت علی السبعین مرة غفر لھم لفعلت اگر مجھے معلوم ہو کہ میرے ستر بار سے زیادہ استغفار کرنے سے خدا انھیں بخش دے گا تو میں ایسا کرتا ۔ اس کا مفہوم ( خصوصاً لفظ ”لو“ کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو امتناع کے لئے ہے ) یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ خدا انھیں نہیں بخشے گا لیکن میرا دل بندگان خدا کی ہدایت او ران کی نجات کے شوق سے اس قدرلبریز ہے کہ اگر بالفرض ستر مرتبہ سے زیادہ مرتبہ استغفار کرنے سے ان کی نجات ہو سکتی تو میں ایسا ہی کرتا۔ بہر حال مندرجہ بالا آیت کا مفہوم واضح ہے اور جو حدیث ان کے بر خلاف ہو اس کی یا توجیہ و تاویل کرنا پڑے گی یا اسے پھینک دینا ہوگا ۔ ۸۱۔ فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ وَکَرِھُوا اٴَنْ یُجَاھِدُوا بِاٴَمْوَالِھِمْ وَاٴَنفُسِھِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ وَقَالُوا لاَتَنفِرُوا فِی الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اٴَشَدُّ حَرًّا لَوْ کَانُوا یَفْقَھُونَ ۔ ۸۲۔ فَلْیَضْحَکُوا قَلِیلًا وَلْیَبْکُوا کَثِیرًا جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ۔ ۸۳۔ فَإِنْ رَجَعَکَ اللهُ إِلَی طَائِفَةٍ مِنْھُمْ فَاسْتَاٴْذَنُوکَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِی اٴَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِی عَدُوًّا إِنَّکُمْ رَضِیتُمْ بِالْقُعُودِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ ۔ ترجمہ ۸۱۔ ( جنگ تبوک سے ) کنارہ کشی کرنے والے جو رسول خدا کی مخالفت سے خوش ہیں اور وہ راہ خدا میں اپنے اموال او رجان سے جہاد کرنے کو ناپسند کرتے تھے ( اور ایک دوسرے سے او رمومنین سے ) کہتے ہیں کہ اس موسم گرما میں ( میدان کی طرف ) حرکت نہ کریں انھیں کہہ دو کہ جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے ، اگر تم میں سمجھ ہے ۔ ۸۲ انھیں چاہئیے کہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں یہ ان کا ر کردگیوں کی جزا ہے جو و ہ کرتے تھے ۔ ۸۳۔ جب خدا تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تجھ سے ( میدان ِ جہاد کی طرف ) خروج کی اجازت چاہیں تو ان سے کہہ کہ تم کبھی میرے ساتھ خروج نہیں کروگے او رمیری معیت میں کبھی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کروگے ۔ 1۔اسی مضمون کی متعدد روایات تفسیر طبرسی ج۱۰ ص ۱۳۸ پر جمع کی گئی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:81-83
منافقین کی ایک اور غلط حرکت )
ان آیات میں منافقین کی ایک عمومی صفت کی طرف اشارہ ہوا وہ یہ کہ وہ ہٹ دھرم ، بہانہ جو ، اور معترض او رکام بگاڑنے والے ہوتے ہیں ، غیر مناسب جوڑ توڑ سے ہر مثبت کام کی تحقیر کرتے ہیں اور اسے برا کرکے پیش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو نیک کام کی انجام دہی میں سست کریں اور دوسرا ان کے افکار و نظر یات میں بد گمانی کے بیج بوئیں تاکہ اس طرح معاشرے میں اصلاحی او رمفید کاموں کا سلسلہ بند ہو جائے ۔ قرآن مجیدشدت سے ان کی اس غیر انسانی روش کی مذمت کرتا ہے او رمسلمانوں کو اس سے آگاہ کرتا ہے تاکہ لوگ ایسی بد گمانیوں کا شکار نہ ہوں اور منافقین کو بھی معلوم ہو جائے کہ اسلامی معاشرے میںان کی سازشیں رنگ نہیں لاسکتیں ۔ ارشاد ہوتا ہے : وہ جونیک مومنین کے صدقات اور صدقِ دل سے کی گئی امداد میں سے عیب ڈھونڈھتے ہیں اور خصوصاً جوان نادار اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں جو تھوڑی سی مدد کے علاوہ طاقت نہیں رکھتے خدا ان کا مذاق اڑاتا ہے اور دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ( الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لاَیَجِدُونَ إِلاَّ جُھْدَھُمْ فَیَسْخَرُونَ مِنْھُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْھُمْ وَلَہمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ )۔ ”یلزون “ ”لمز“( بر وزن” طنز“)کے مادہ سے عیب جوئی کے معنی میںہے اور ” مطوعین “ مادہ ”طوع“ ( بروزن” موج “) سے اطاعت کے معنی میں ہے لیکن عام طور پر یہ لفظ نیک لوگوں کےلئے اور ان کے لئے استعمال ہوتا ہے جو واجبات کے علاوہ مستحبات بھی بجا لاتے ہوں ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق کچھ لوگوں کی عیب جوئی کرتے تھے اور کچھ کا مذاق اڑاتے تھے ۔ واضح ہے مذاق ان افراد کا اڑاتے تھے کہ جو لشکر اسلام کی صرف تھوڑی سی امداد کی طاقت رکھتے تھے اور یقینا عیب جوئی ان فراد کی کرتے تھے جو ان کے بر عکس بہت زیادہ امداد کرتے تھے ۔ زیادہ امداد کرنے والوں کو ریا کاری کاالزام دیتے تھے او رکم امداد کرسکنے والوں کی تحقیر کرتے تھے ۔ بعد والی آیت میں ان منافقین کی سزا کے بارے میں بہت تاکید آئی ہے اور انھیں آخری وارننگ دی گئی ہے ،۔ روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے : ان کے لئے استغفار کرو یا نہ کرو یہاں تک کہ ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار اور طلب ِ بخشش کرو تو بھی انھیں ہرگز نہیں بخشے گا (اسْتَغْفِرْ لَھُمْ اٴَوْ لاَتَسْتَغْفِرْلَھُمْ إِنْ تَسْتَغْفِر لَھمْ سَبْعِینَ مَرَّةً فَلَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَھُم)۔ کیونکہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور کفر کی راہ اختیار کی ہے اور اسی کفر نے انھیں نفاق کی پستی اور برے انجام سے دوچار کیا ہے (ذَلِکَ بِاٴَنَّھُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ)۔ اور واضح ہے کہ خدا کی ہدایت ایسے لوگوں کی میسر آئے گی جو حق طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں اور حقیقت کے متلاشی ہیں۔ لیکن خدا فاسق ، گنہگار اور منافق افراد کو ہدایت نہیں کرتا( وَاللهُ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ )۔