الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Those who blame the voluntary donors from among the faithful concerning the charities—and as for those who do not find [anything] except [what] their means [permit], they ridicule them—Allah shall put them to ridicule, and there is a painful punishment for them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:79
[Pooya/Ali Commentary 9:79]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:79-80
شان ِ نزول
ان آیات کی شان ِ نزول کے ضمن میں حدیث اور تفسری کی کتابوں میں روایات نقل ہوئی ہیں ۔ ان تمام روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے رادہ کررکھا تھا کہ دشمن کے مقابلے کےلئے ( احتمالاً جنگ تبوک کے لئے ) لشکر اسلام کو تیار کریں ۔ اس لئے آپ کو لوگوں کے تعاون کی ضرورت تھی ۔جب آپ نے اپنے نظریے کا اظہار کیا تو جو لوگ توانائی رکھتے تھے انھوں نے زکوٰة یابلا عوض مدد کے طور پر لشکر اسلام کی قابل قدر خدمت کی ۔ جو مسلمان مزدور پیشہ تھے ان کی آمدنی تھوڑی تھی ۔ ان میں سے ابو عقیل انصاری یا سالم بن عمیر انصاری نے رات کے وقت کنوئیں سے پانی نکال کر اضافی طور پر مزدوری کی اور اس طرح دومن۔ ۱ کھجور جمع کیں ۔ ان میں سے ایک من اپنے گھر رکھ دیں اور ایک من خدمتِ پیغمبر میں لے آئے ۔ اس طرح انھوں نے ایک عظیم اسلامی مقصد کے لئے بظاہر معمولی سی خدمت انجام دی ۔ اسی طرح اور مزدور پیشہ مسلمانوں نے لشکر اسلام کی خدمت کی ۔ عیب جو منافقین ان دونوں گرہوں پر اعتراض کرتے تھے جن لوگوں نے زیادہ خد مت کی تھی انھیں ریا ر کہتے تھے اور جنھوں نے ظاہراً تھوڑی مدد کی تھی ان تمسخر اڑاتے تھے کہ کیا اسلام کو اس قسم کی مدد کی ضرورت ہے ؟ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انھیں سخت دھمکی دی گئی اور عذابِ الٰہی سے ڈرایا گیا۔ ۱۔ یہ ایران کے مرجہ اوزان کے لحاظ سے ہے ۔ ایرانی من ہمارے ہاں کی نسبت کم مقدار کاہوتا ہے (مترجم )