إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
If you do not help him, then Allah certainly helped him when the faithless expelled him, as one of two [refugees], when the two of them were in the cave, he said to his companion, ‘Do not grieve; Allah is indeed with us.’ Then Allah sent down His composure upon him, and strengthened him with hosts you did not see, and He made the word of the faithless the lowest; and the word of Allah is the highest; and Allah is all-mighty, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:40
[Pooya/Ali Commentary 9:40] See commentary of al Baqarah: 207. As has been mentioned therein, inside the cave, the companion of the Holy Prophet, Abu Bakr, was frightened and had started crying in anguish when he heard the voices of the enemy. Then the Holy Prophet said: "Do not fear. Allah is with us." Compare this fear to the tranquillity of Ali described in the commentary of verse 207 of al Baqarah which was revealed to honour and glorify Ali. It also points out the fact that wherever in the Quran those who received tranquillity (sakinah) from Allah have been mentioned Abu Bakr must be excluded because his fear has been historically recorded and referred to in this verse. "His companion" (sahibihi) and the "second of the two" imply no merit. See verse 37 of Kahf in which out of the two "mutual companions" one was a believer and the other was a disbeliever.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:40
داستان یار غار
اس سفر میں حضرت ابوبکر کے پیغمبر اکرم کے ساتھ ہونے کے بارے میں جو سر بستہ اشارات مندرجہ بالا آیت میں کئے گئے ہیں اس پر شیعہ اور سنی مفسرین میں بہت سے مباحث پیدا ہوگئی ہیں ۔ اس سلسلے میں بعض نے افراط کی راہ اختیار کی ہے اور بعض نے تفریط کا راستہ اپنایا ہے ۔ فخرالدین رازی نے اپنے مخصوص تعصب کی بناپر اپنی تفسیر میں کوشش کی ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے حضرت ابوبکر کی بارہ فضیلتیں ثابت کرے ، اس میں فضائل کی تعدادزیادہ ثابت کرنے کے لئے اس نے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں اس تفسیر کی صورت یہ ہوگئی ہے کہ تفصیل بیان کرنا شاید ضیاعِ وقت مصداق ہو۔ جب کہ بعض دوسرے لوگ اصرار کرتے ہیں کہ اس آیت سے حضرت ابوبکر کی متعدد مذمتیں معلوم ہوتی ہیں ۔ پہلے یہ دیکھنا ہے کہ کیا لفظ ”صاحب“ فضیلت کی دلیل ہے؟ ظاہرا ایسا نہیں ہے کویں کہ لغت کے لحاظ سے صاحب کے مطلقامعنی ”ہمنشین“ اور ”ہمسفر“ کے ہیں چاہے ہمنشین و ہمسفر اچھا ہو یا برا، جیسا کہ سورہ کہف کی آیہ ۳۷ میں ان دو افراد کا واقعہ آیا ہے کہ جن میں سے ایک صاحب ایمان اور خدا پرست تھا اور دوسرا بے ایمان اور مشرک تھا، ارشاد ہوتا ہے: قال لہ صاحبہ وھو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب اس ساتھی نے اس سے کہا: کیا تو اس خدا کا انکار کرتا ہے جس نے تھے مٹی سے پیدا کیا ہے؟ بعض یہ بھی اصرار کرتے ہیں کہ ”علیہ“ کی ضمیر جو ””فانزل اللّٰہ سکینتہ علیہ“کے جملے میں آئی ہے حضرت ابوبکر کی طرف لوٹتی ہے کیوں کہ پیغمبر اکرم کو سکینة اور اطمینان کی ضرورت نہیں تھی اس لئے اس کا نزول ان کے ہمسفر (ابوبکر) کے لئے تھے، جب کہ بعد والے جملے میں:”وایدہ بجنودلم تروھا(اس کی غیر مرئی لشکر سے مدد کی)، اس کی طرف توجہ کی جائے اور دونوں میں مرجع ضمیر کے ایک ہونے کی طرف توجہ کی جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ ”علیہ“کی ضمیر بھی رسول اللہ کی طرف لوٹتی ہے، نیز یہ اشتباہ ہے کہ ہم تصور کریں کہ سکینة کا تعلق حزن وملال کے مواقع سے ہے کیوں کہ قرآن میں بارہا آیا ہے کہ ”سکینة“ذات پیغمبر پر نازل ہوئی جب آپ سخت اور مشکل حالات سے دوچار ہوئے، ان میں سے ایک واقعہ حنین ہے جس کے بارے میں اسی سورہ کی آیہ۶ ۲ میں ہم پڑھ چکے ہیں : ثم انزل اللّٰہ سکینتة علی رسولہ وعلی المومنین یعنی ، پھر اللہ نے اپنی سکینة اپنے رسول اور مومنین پر نازل کی ۔ نیز سورہ فتح کی آیہ ۶۲میں ہے: فانزل اللّٰہ سکینتہ علی رسولہ وعلی الموٴمنین جب کہ ان دونوں آیات سے متعلق حزن وملال اور غم واندوہ کے متعلق کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی بلکہ حالات کی پیچیدگی کی بات ہوئی ہے ۔ بہرحال آیات قرآنی نشان دہی کررہی ہیں کہ نزول سکینة سخت مشکلات کے وقت ہوتی تھی اور اس میں شک نہیں کہ غار ثور میں رسول اللہ سخت لمحات میںوقت گزاررہے تھے ۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ”بجنود لم تراھا“(اس میں اس کی ایسے لشکر سے مدد کی جسے تم نہیں دیکھ سکتے تھے) یہ جملہ ابوبکر کے بارے میں ہے جب کہ اس آیت کی ساری بحث جو کہ خدا کی مدد ونصرت کے محور پر گومتی ہے سب پیغمبر کے بارے میں ہیں اور قرآن چاہتا ہے کہ واضح کرے کہ پیغمبر اکیلے نہیں ہیں اگر اس کی مدد نہ کرو گے تو خدا اس کی مدد کرے گا، لہٰذا جس شخص کے گرد تمام بحث گھومتی ہے اسے چھوڑکر ایسے شخص کی تلاش کیوں کی جائے کہ جس کا ذکر اتباع اور پیروی کے حوالے سے آیا ہے، یہ صورت حال نشاندہی کرتی ہے تعصبات یہاں تک حائل ہو گئے ہیں کہ بعض لوگوں کی توجہ آیت کے معنی کی طرف بھی نہیں گئی ۔ ۴۱ انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاھِدُوا بِاٴَمْوَالِکُمْ وَاٴَنفُسِکُمْ فِی سَبِیلِ اللهِ ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۴۲ لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَاتَّبَعُوکَ وَلَکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْھِمْ الشُّقَّةُ وَسَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَوْ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ یُھْلِکُونَ اٴَنفُسَھُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ إِنَّھُمْ لَکَاذِبُونَ ترجمہ ۴۱۔(سب کے سب میدان جہاد کی طرف )چل پڑو چاہے سبک بار ہو یا سنگین بار اور اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کرو اور اگر جانو تو یہ تمہارے نفع میں ۔ ۴۲۔(اور ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے کہ ) اگر غنائم نزدیک (اور دسترس میں )ہوں اور سفر آسان ہو (تو دنیاوی طمع میں) تیری پیروی کرتے ہیں لیکن اب جب کہ میدان تبوک کے لئے راستہ ان کے طویل (اور مشقت والا )ہے (تو روگردانی کرتے ہیں) اور عنقریب قسم کھائےں گے کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی توہم تمہارے سال چل پڑتے(لیکن ان اعمال اور ایسے صریح جھوٹوں سے ) اپنے آپ کو ہلاک کرتے ہیں اور خدا جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:40
حسا س ترین لمحات میں خدا نے اپنے پیغمبر کو تنہا نہیں چھوڑا
جیسا کہ وضاحت کی جاچکی ہے گذشتہ آیات میں جہاد کے مسئلے پر متعدد حوالوں سے تاکید کی گئی، ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ اگر تم جہاد اور پیغمبر کی مدد سے کنارہ کش ہوگئے تو اس کا پروگرام اور اسلام زمین بوس ہوجائے گا، زیر بحث آیت اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہے: اگر اس کی مدد کرو گے تو وہ خدا جس نے سخت ترین حالات اور پیچیدہ ترین مواقع پر معجزانہ طور پر اس کی مدد کی ہے قدرت رکھتا ہے کہ پھر اس کی مدد کرے (إِلاَّ تَنصُرُوہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللهُ) ۔(۱) یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ پیغمبر اکرم کو قتل کرنا کی ایک خطرناک سازش کر چکے تھے، جبکہ سورہ انفعال کی آیہ ۳۰ کے ذیل میں اس کی تفسیر گزر چکی ہے ، تفصیلی غوروخوض اور منصوبہ بندی کے بعدانہوں نے آخری فیصلہ یہ کیا تھا کہ عرب کے مختلف قبائل کے بہت سے شمشیر زن رات کے وقت رسول اللہ کے گھر کا محاصرہ کرلیں اور صبح سب مل کر آنحضرت پر حملہ کریں اور بستر پر ہی تلواروں سے ان کے جسم مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں ۔ پیغمبر اکرم جو حکم خدا سے اس سازش سے آگاہ ہوچکے تھے مکہ سے باہر جانے اور مدینہ کی طرف ہجرت کے لئے تیار ہوئے لیکن ابتدا میں کفر کی دسترس سے محفوظ رہنے کے لئے غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے جو مکہ کے جنوب میں مدینہ کے راستے کی مخالف سمت میں تھی، اس سفر میں ابوبکر بھی آنحضرت کے ساتھ تھا ۔ دشمن نے رسول اللہ کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مایوس ہوکر پلٹ گئے، رسول اللہ تین راتیں اور دن غار میں ٹھہرے رہے، جب دشمن کے پلٹ جانے کا اطمینان ہوگیا تو رات کے وقت عام راستے سے ہٹ کر مددینہ کی طرف روانہ ہوئے، چند دنوں میں آپ صحیح وسالم مدینہ پہنچ گئے اور اس طرح تاریخ اسلام میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ۔ مندرجہ بالا آیت اس تاریخی سفر کے ایک حساس ترین موقع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: خدا نے اپنے پیغمبر کی اس وقت مدد کی جب کافروں نے انہیںنکال باہر کیا( إِذْ اٴَخْرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا) ۔ البتہ کفار کا ارادہ انہیں مکہ سے خارج کرنے کا نہیں تھا بلکہ وہ آپ کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کرچکے تھے لیکن ان کے کام کے نتیجے میں چوں کہ پیغمبر خدا کو مکہ سے باہر نکل جانا پڑا لہٰذا یہ نسبت ان کی طرف دی گئے ہیں ۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: یہ اس حالت میں تھا کہ آپ دو میں سے دوسرے تھے ( ثَانِیَ اثْنَیْنِ)، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کے ساتھ صرف ایک ہی شخص تھا یہ چیز اس پر خطر سفر میں آپ کی انتہائی تنہائی کی نشاندہی کرتی ہے، ابوبکر آپ کے ہمسفر تھے، جس وقت ان دونوں نے غار (یعنی غاع ثور ) میں پناہ لی( إِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ )، اس موقع پر پیغمبر کے ساتھی اور ہمسفر کو خوف اور وحشت نے گھیر رکھا تھا اور پیغمبر نے اسے تسلی دی اور کہا غم نہ کھاؤ خدا ہمارے ساتھ ہے (إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا)، اس وقت اللہ نے سکون اطمینان کی روح آپ پر نازل کی جو حساس اور پر خطر لمحات میں اپنے پیغمبر پر نازل کیا کرتا تھا (فَاٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلَیْہِ)، اور آپ کی ایسے لشکروں سے مدد کی جنہیں تم نہیں دیکھ سکتے تھے،( وَاٴَیَّدَہُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْھَا) ۔ یہ غیبی لشکر ہوسکتا ہے کہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہو جو خوف وخطر سے بھر پور اس سفر میں پیغمبر کے محافظ ہوں یا ان کی طرف جو بدر، حنین وغیرہ کے میدانوں میں آپ کی مدد کے لئے آئے تھے ۔ آخر میں خدا تعالیٰ نے کفار کے طرز عمل ، ہدف اور مکتب کو پست قرار دیا ہے اور الٰہی منصوبہ بندی اور کلام کو بلند قرار دیا ہے( وَجَعَلَ کَلِمَةَ الَّذِینَ کَفَرُوا السُّفْلَی وَکَلِمَةُ اللهِ ھِیَ الْعُلْیَا)اور ساتھ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کی سازش ناکام ہوکر رہ گئی ، ان کے بیہودہ مذہب کی بساط الٹ گئی ، خدا کا نور ہر جگہ آشکار ہوا اور چمکنے لگا اور پیغمبر اسلام کو تمام جہات میں کامیابی نصیب ہوئی، ایسا کوئی نہ ہوتا جب کہ ”خداقادر بھی ہے اور حکیم ودانا بھی“ وہ اپنی حکمت کے ذریعے اپنے پیغمبر کو کامیابی کی راہوں کی نشاندہی کرتا ہے اور اپنی قدرت سے ان کی مدد کرتا ہے ( وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ) ۔ ۱۔ادبی نقطہ نظر سے اس جملے میں کچھ محذوف ہے اور اصل میں یہ اس طرتھا” إِلاَّ تَنصُرُو ینَصَرَہُ اللهُ“کیوں کہ فعل ماضی جس کا مفہوم گذشتہ زمانے میں واقع ہوچکا ہو، جزائے شرط نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ فعل ماضی ایسا ہے جو مضارع کا معنی دیتا ہو ۔