لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ
Allah has certainly helped you in many situations, and on the day of Hunayn, when your great number impressed you, but it did not avail you in any way, and the earth became narrow for you in spite of its expanse, whereupon you turned your backs [to flee].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:25
[Pooya/Ali Commentary 9:25] Immediately after the conquest of Makka, the pagan idolaters, under the command of Malik bin Awf, organised a great gathering of 4000 soldiers near Hunayn which is on the road to Tayf from Makka to make plans for attacking the Holy Prophet. The Holy Prophet, with a force of 12000, marched towards Hunayn. For the first time the Muslims had tremendous odds in their favour. On leaving the narrow oasis of Hunayn the road enters winding gorges, suitable for ambuscades. As soon as the Muslim vanguard entered the hilly country, the enemy fell upon them with full fury and caused havoc with their arrows from their places of concealment. Many were slain, and many ran away from the battle as they had done in the battle of Uhad. Those who were acclaimed as the heroes of Islam, after the departure of the Holy Prophet from this world, were among the deserters. Abu Qatada says: "The Muslims took to flight. I was also among them. Suddenly I saw Umar ibn Khattab among those who were running away. I asked him: 'What has happened?' He said: 'It is the will of Allah.'"(Sahih Bukhari Vol. 3, p. 45.) According to some traditions Ali ibn abi Talib, Abbas ibn Abd al Muttalib, Abu Sufyan ibn Harith and Abdullah ibn Masud were the only four persons who stayed with the Holy Prophet. Some say there were ten persons who did not run away. Ali stood in front of the Holy Prophet and stopped every attack made by the enemy to slay him. The Holy Prophet called those who were deserting to come back. Some of them returned and joined Ali to launch a counter attack on the enemy. When Ali killed Abu Jarul, the standard bearer of the enemy army, a general retreat began to take place among the invaders, which soon turned into chaos and then flight. In this way a most crushing defeat was inflicted on the enemy. After the battle, on the instructions of the Holy Prophet, the spoils of war taken by the Muslims, were returned to those who embraced Islam. Some refused to comply with his orders. In such cases the Holy Prophet compensated them. When one companion protested that the Holy Prophet had not done justice in the matter of distributing the spoils of war, some people wanted to kill him, but the Holy Prophet stopped them and said: "Wait. Such people, on their own, one day will go out of the true faith, then the best of men among you will kill him." And that man was killed by Ali in the battle of Nahrawan. Aqa Mahdi Puya says: The believers who stayed with the Holy Prophet on the day of Hunayn also received the divine tranquillity (sakinah), along with the Holy Prophet. In verse 40 of this surah it is said that the companion of the Holy Prophet in the cave was deprived of this tranquillity.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:25-27
صرف کثرت کسی کام کی نہیں
گذشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو راہِ خدا میں شرک وبت پرستی کی جڑ اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہر قسم کی فداکاری کی دعوت دیتا ہے اور وہ اشخاص کہ جن کی روح کو بیوی اولاد، قوم وقبیلہ اور مال وثروت کی محبت نے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ فداکاری اور جہادکے لئے تیار نہیں ہیں انھیں شدید خطرے کا الارم دیتا ہے ۔ اس کے بعد محل بحث آیات میں ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر رہبر ورہنما کو چاہیے کہ وہ حسّاس مواقع پر اپنے پیروکاروں کو اس کی طرف متوجہ کرے اور وہ یہ ہے کہ اگر مال واولاد کا عشق ضعیف الاعتقاد گروہ کے کچھ افراد کو مشرکین کے خلاف جہاد کے لئے پیش قدمی سے روکے تو سچّے مومنین کا گروہ اس امر سے پریشان نہ ہو کیونکہ جب ان کی تعداد کم تھی (مثلاً جنگ بدر میں) ان دنوں خدا نے انھیںتنہا نہیں چھوڑا اور نہ اُس دن جس روز ان کی جمعیت زیادہ تھی (مثلاً جنگِ جنین کے میدان میں) اور کثرتِ تعداد نے ان کے درد کا مداوا نہ کیا بلکہ ہر حالت میں خدا کی مدد ان کی کامیابی کا سبب بنی، اسی لئے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: خدا نے بہت سے مقامات پر تمھاری مدد کی (لَقَدْ نَصَرَکُمْ اللهُ فِی مَوَاطِنَ کَثِیرَةٍ) ۔ ”مواطن“ ”موطن“ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے ایسی جگہ جسے انسان دائمی طور پر یا وقتی طور اقامت کے لئے منتخب کرے لیکن اس کے معانی میں سے ایک جنگ کا میدان بھی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگی فوجی تھوڑی یا زیادہ مدت کے لئے وہاں قیام کرتے ہیں ۔ مزید فرمایا گیا ہے: اور جنین کے دن تمھاری مدد کی جب اپنی زیادہ جمعیت کی وجہ سے تم اترانے لگے تھے (وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ اٴَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ) ۔ اس جنگ میں لشکرِ اسلام کی تعداد بارہ ہزار تھی، بعض نے دس یا آٹھ ہزار لیکن مشہور اور صحیح روایات بارہ ہزار کی تائید کرتی ہیں اور اُس وقت تک کسی اسلامی جنگ میں اتنی کثیر تعداد نے شرکت نہیں کی تھی چنانچہ بعض مسلمانوں نے غرور کے انداز میں کہا: ”لن نغلب الیوم“ یعنی اتنی فوج کے ہوتے ہوئے ہم ہرگز شکست نہیں کھائیں گے، لیکن جیسا کہ انشاء الله ہم جنگ حنین کی تفصیل میں بتائیں گے کہ لشکر کی یہ تعداد جس میں ایک گروہ نئے مسلمانوں کا تھا اور جن کی ابھی تربیت نہیں ہوئی تھی لشکر کے فرار اور ابتدائی شکست کا سبب بنا مگر آخر کار انھیں لطفِ خداوندی کے سبب نجات ملی اس ابتدائی شکست کے بارے میں قرآن مزید کہتا ہے: زمین اپنی پوری وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوئی (وَضَاقَتْ عَلَیْکُمْ الْاٴَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ) ۔ پھر تم دشمن کو پشت دکھاکر بھاگ کھڑے ہوئے (ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ) ۔ ایسے موقع پر جب کہ مسلمان فوج سرزمینِ جنین پر تتر بتر ہوچکی تھی اور چند ایک افراد کے سوا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے بھاگ جانے کی وجہ سے سخت ناراحت تھے ”خدا نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی طرف سے سکون واطمینان نازل کیا“ (ثُمَّ اٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلیٰ رَسُولِہِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ) ۔ اور اسی طرح تمھاری تقویت اور مدد کے لئے ایسے لشکر بھیجے جنھیں تم نہیں دیکھتے تھے (وَاٴَنزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْھَا) ۔ جیسا کہ ہم جنگ بدر سے مربوط آیات کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ اس غیر مرئی خدائی لشکر کا نزول صرف مسلمانوں کی تقویتِ روح اور ثبات قدم کے لئے تھا ورنہ فرشتوں اور غیبی طاقتوں نے کوئی جنگ نہیں کی تھی ۔(۱) آخر میں جنگ حنین کا اصلی نتیجہ بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: خدا نے بے ایمان اور بت پرست لوگوں کو سزادی دی (کچھ لوگ مارے گئے کچھ گرفتار ہوگئے اور کچھ بھاگ کر مسلمانوں کی دسترس سے نکل گئے) (وَعَذَّبَ الَّذِینَ کَفَرُوا) ۔ اور بے ایمان لوگوں کی یہی سزا ہے (وَذٰلِکَ جَزَاءُ الْکَافِرِینَ) ۔ اس کے باوجود کافر قیدیوں اور بھگوڑوں کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا کہ اگر وہ مائل ہوں تو خدا کی طرف پلٹ آئیں اور دین حق قبول کرلیں لہٰذا آخری زیرِ بحث آیت میں ارشاد ہوتا ہے: پھر اس واقعہ کے بعد خدا جس کے لئے چاہے (اور جسے واقعی توبہ کے لئے تیار دیکھے اور اہل پائے) اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے (ثُمَّ یَتُوبُ اللهُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ) ”یتوب“ جو فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کرتا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ توبہ اور باز گشت کے دروازے اسی طرح ان کے سامنے کھلے ہیں کیونکہ ”خدا بخشنے والا اور مہربان ہے“ وہ کبھی توبہ کے دروازے کسی پر بند نہیں کرتا اور اپنی وسیع رحمت سے کسی کو ناامید نہیں کرتا(وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔ ۱۔ مزید وضاحت کے لئے اسی جلد میں سورہٴ انفال کی آیہ ۹ تا ۱۲ کے ذیل میں دیکھئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:25-27
۵۔ ایک سبق:
ایک نکتہ جس کی طرف آج کے مسلمانوں کو ضرور توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ حنین جیسے حوادث سے سبق حاصل کریں اور جان لیں کہ کثرتِ تعداد اور انبوہِ جمعیت کبھی بھی ان کا غرور اور فریب کا سبب نہ بنے کیونکہ صرف زیادہ جمعیت سے کام نہیں بنتا، اہم مسئلہ تو تربیت یافتہ مومنین اور عزمِ راسخ رکھنے والے افراد کا ہے چاہے ان کی تعداد مختصر ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ ایک چھوٹے سے گروہ نے جنگ حنین میں سرنوشت بدل کے رکھ دی جب کہ غیر آزمودہ، غیر تربیت یافتہ کثیر تعداد شکست وہزیمت کا سبب بن چکی تھی ۔ اہم بات یہ ہے کہ افراد میں ایمان، استقامت اور ایثار کی روح کو پروان چڑھنا چاہیے تاکہ ان کے دل خدائی سکینة کے مرکز قرار پائیں اور وہ زندگی کے سخت ترین طوفانوں میں بھی پہاڑ کی طرح سے جمے رہیں اور مطمئن اور پرسکون ہوں ۔ ۲۸ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا وَإِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیکُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ إِنْ شَاءَ إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ترجمہ ۲۸۔ اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہیں جاسکتے اور اگر فقر وفاقہ سے ڈرتے ہو تو خدا اپنے فضل سے چاہے گا تمھیں بے نیاز کردے گا، خدا دانا اور حکیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:25-27
۴۔ ”مواطن کثیرة“ کا مفہوم:
مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ ”مواطن کثیرة“(بہت سے میدانوں) میں خداتعالیٰ نے مسلمانوں کی نصرت کی ۔ وہ جنگیں کہ جن میں رسول الله موجود تھے اور شریک جنگ ہوئے اور وہ جنگیں جن میں آپ شامل تو تھے لیکن خود آپ نے جنگ نہیں کی اور اسی طرح وہ جنگ میں لشکر جس میں لشکرِ اسلام دشمن کے آمنے سامنے ہوا مگر آپ اس میں موجود نہیں تھے ان کی تعداد کے بارے میں موٴرخین میں اختلاف ہے لیکن بعض روایات جو طرقِ اہل بیت سے ہم تک پہنچی ہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد اسّی(۸۰) ہے ۔ کافی میں منقول ہے کہ ایک عباسی خلیفہ کے بدن میں زہر سرایت کرگیا تھا اس نے نذر مانی کہ اگر وہ اس سے بچ گیا تو کثیر مال فقراء کو دے گا، جب وہ صحت یاب ہوگیا تو وہ فقہاء جو اس کے گرد پیش تھے انھوں نے مال کے مبلغ میں اختلاف کیا لیکن کسی کے پاس کوئی واضح مدرک اور دلیل نہ تھی، آخرکار انھوں نے نویں امام حضرت محمد بن علی النقی علیہماالسلام سے سوال کیا، آپ نے جواب میں فرمایا کہ کثیر سے مراد اسّی (۸۰) ہے، جب اس کی علت پوچھی گئی تو آپ نے زیرِ نظر آیت آیت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ ہم نے اسلام وکفر کی جنگوں کی تعداد شمار کی کہ جن میں مسلمان کامیاب ہوئے ہیں تو ان کی تعداد اسّی بنی ہے ۔(1) 1۔ تفسیرنور الثقلین، ج۲، ص۱۹۷-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:25-27
۳۔ ایمان واطمینان
”سکینة“ در اصل ”سکون “ کے مادہ سے ہے، یہ ایک طرح کے اطمینان وسکون کی حالت کے معنی میں ہے کہ جو انسان سے ہر طرح کا شک وشبہ اور خوف ووحشت دور کرے اور اسے سخت اور دشوار حوادث کے مقابلے میں ثابت قدم رکھے ۔ ”سکینة“ کا ایمان کے ساتھ قریبی تعلق ہے یعنی یہ ایمان سے پیدا ہوتی ہےن صاحبانِ ایمان جب خدا کی بے پایاں قدرت کو باد کرتے ہیں اور اس کے لطف ورحمت پر نظرکرتے ہیں تو اُمید کی ایک لہر ان کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور یہ جو ”سکینة“ کو بعض روایات میں ”ایمان“ کہا گیا ہے(2) اور بعض روایات میں ”انسان(1) کی شکل وصورت میں نسیم بہشت“ مراد لیا گیا ہے تو ا ن سب کی باز گشت اسی معنی کی طرف ہے ۔ قرآن مجید کی سورہٴ فتح آیہ۴ میں ہے: <ھُوَ الَّذِی اٴَنْزَلَ السَّکِینَةَ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ لِیَزْدَادُوا إِیمَانًا مَعَ إِیمَانِھِمْ وہ ذات وہ ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکینةکو نازل کیاتاکہ ان کے ایمان میں ایمان کا اضافہ ہو۔ بہرحال یہ غیر معمولی نفسیاتی کیفیت ایک خدائی اور آسمانی نعمت ہے جس کے باعث مشکل ترین حوادث بھی برداشت کرلیتا ہے اور اطمینان وثبات قدم کی ایک دنیا اپنے اندر محسوس کرتا ہے ۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ قرآن محل بحث آیات میں یہ نہیں کہتا کہ ”ثمّ اٴنزل الله سکینة علی رسولہ وعلیکم“ (پھر خدا نے اپنے رسول اور تم پر سکینة نازل کی) حالانکہ اس سے پہلے تمام جملوں میں ”کم“ کا لفظ خطاب کے لئے آیا ہے جبکہ یہاں ”علی الموٴمنین“ کہا گیا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ منافقین اور وہ جو میدان جہاد میں طالب دنیا تھے اس سکینہ اور اطمینان میں ان کا کوئی حصّہ نہیں تھا اور یہ نعمت صرف صاحبانِ ایمان کو نصیب ہوئی ۔ روایت میں ہے کہ یہ نسیم جنّت انبیاء اور خدا کے رسولوں کے ساتھ ہوا کرتی تھی(3) یہی وجہ ہے کہ ایسے حوادث کے موقع پر جن میں کسی شخص کو خود پر کنٹرول نہیں رہتا ان کی روح مطمئن ہوتی ہے اور ان کا عزم راسخ، آہنی اور غیر متزلزل ہوتا ہے ۔ میدان حنین میں پیغمبر اکرم پر سکینةکا نزول جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیںاس اضطراب کو رفع کرنے کے لئے تھا جو آپ کو ان لوگوں کے بھاگ جانے کی وجہ سے تھا ورنہ آنحضرت تو اس معرکہ میں مظبوط پہاڑ کی طرح ڈٹے ہوئے تھا اور اس طرح حضرت نے مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ ثابت قدم تھا ۔ 1۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۱۱۴- 2۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۱- 3۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۱۲۱-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:25-27
۲۔ بھاگنے والے کون تھے؟
اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ میدان حنین میں میں سے اکثریت ابتداء میں بھاگ گئی تھی جو باقی رہ گئے تھے ان کی تعداد ایک روایت کے مطابق دس تھی اور بعض نے تو ان کی تعداد چار بیان کی ہے، بعض نے زیادہ سے سو افراد لکھے ہیں ۔ بعض مشہور روایات کے مطابق چونکہ خلفاء بھی بھاگ جانے والوں میں سے تھے لہٰذا بعض اہل سنّت مفسّرین نے کوشش کی ہے کہ اس فرار کو ایک فطری طور پر پیش کیا جائے، المنار کے موٴلف لکھتے ہیں : جب دشمن کی طرف سے مسلمانوں پر تیروں کی سخت بوچھار کی تو جو لوگ مکہ سے مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے اور جن میں منافقین اور ضعیف الایمان بھی تھے اور جو مالِ غنیمت کے لئے آگئے تھے وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور انھوں نے میدان میں پشت دکھائی تو باقی لشکر بھی فطری طور پر مضطرب اور پریشان ہوگیا وہ بھی معمول کے مطابق نہ کہ خوف وہراس سے، بھاگ کھڑے ہوئے اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر ایک گروہ فرار ہوجائے تو باقی بے سوچے متزلزل ہوجاتے ہیں لہٰذا ان کا فرار ہونا پیغمبر کی مدد ترک کرنے اور انھیں دشمن کے ہاتھ میں چھوڑجانے کے طور پر نہیں تھا کہ وہ خدا کے غضب کے مستحق ہوں ۔(1) ہم اس بات کی تشریح نہیں کرتے اور اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں ۔ اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ صحیح بخاری جو اہل سنّت کی معتبر ترین کتب میں سے ہے میں اس میدان میں مسلمانوں کی شکست اور فرار سے متعلق گفتگو میں منقول ہے: فاذا عمر بن الخطاب فی الناس، وقلت ماشاٴن الناس، قال امر الله، ثم تراجع الناس الیٰ رسول الله---- اچانک عمر بن خطاب لوگوں کے درمیان تھے میں نے کہا لوگوں نے کیا کیا ہے تو انھوں نے کہا الله کی مرضی ایسی تھی، پھر لوگ پیغمبر کی طرف پلٹ آئے ۔(2) لیکن اگر ہم اپنے پہلے سے کئے گئے فیصلوں کو چھوڑدیں اور قرآن کی طرف توجہ دیں تو ہم دیکھیں گے کہ قرآن بھاگنے والوں میں کسی گروہ بندی اور تفریق کا قائل نہیں بلکہ کی مساوی مذمت کررہا ہے کہ جو بھاگ گئے تھے، ہم نہیں سمجھتے کہ ان دو جملوں میں کیا فرق ہے جن میں سے ایک یہ مندرجہ بالا آیات میں ہے: ”ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ“ پھر تم پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اور دوسرا جملہ کہ سورہٴ انفال آیہ۱۶ میں گزرا ہے جہاں فرمایا گیا ہے: <وَمَنْ یُوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ اٴَوْ مُتَحَیِّزًا إِلیٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنْ اللهِ جو شخص دشمن سے پشت پھیرے وہ غضبِ پروردگار میں گرفتار ہوگا مگر وہ دشمن پر حملہ کرنے کی غرض سے یا مجاہدین کے گروہ کے ساتھ آملنے کے لئے اپنی جگہ بدل لے ۔ لہٰذا اگر ان دو آیات کو دوسرے کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ثابت ہوگا کہ اس دن چند ایک مسلمانوں کے سوا باقی تمام ایک عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے تھے زیادہ سے زیادہ یہ کہ بعد میں انھوں نے توبہ کرلی اور پلٹ آئے ۔ 1، 2۔ تفسیر المنار، ج۱۰، ص۲۶۲، ۲۶۳، ۲۶۵-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:25-27
۱۔ جنگ حنین، ایک عبرت انگیز معرکہ:
”حنین“ شہر طائف کے قریب ایک علاقے کا نام ہے، یہ جنگ چونکہ اس زمین پر لڑی گئی لہٰذا غزوہ حنین کے نام سے مشہور ہوگئی، قرآن میں اسے ”یومِ حنین“ سے تعبیر کیا گیا ہے، اس جنگ کو ”غزوہ اوطاس“ اور ”غزوہٴ ہوازن“ بھی کہتے ہیں (”اوطاس“ اسی علاقے کی زمین کا نام ہے اور ”ہوازن“ ایک قبیلے کا نام ہے جو اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف برسرِپیکار تھا) ۔ کامل ابن اثیر نے لکھا ہے کہ اس جنگ کی ابتداء یوں ہوئی کہ ”ہوازن“ جو بہت بڑا قبیلہ تھا اسے فتح مکہ کی خبر ہوئی تو اس کے سردار مالک بن عوف نے افراد کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ ممکن ہے فتح مکہ کے بعد محمد ان سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہو، وہ کہنے لگے کہ مصلحت اس میں ہے کہ اس سے قبل کہ وہ ہم سے جنگ کرے ہمیں قدم آگے بڑھانا چاہیے ۔ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو یہ اطلاع پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ سرزمین ”ہوازن“ کی طرف چلنے کو تیار ہوجائیں ۔(1) اس جنگ کے مواقع اور کلیات میں موٴرخین کے درمیان تقریباً اختلاف نہیں ہے لیکن اس کی تفصیلات کے بارے میں طرح طرح کی روایات نظر آتی ہیں جو ایک دوسرے سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتیں، جو کچھ ہم ذیل میں اختصار سے درج کررہے ہیں اور اپنا مال، اولاد اور عورتیں بھی اپنے ساتھ لے آئے تاکہ مسلمانوں سے جنگ کرتے وقت کسی دماغ میں بھاگنے کا خیال نہ آئے، اس طرح سے وہ سرزمین اوطاس میں وارد ہوئے ۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے لشکر اسلام کا بڑا علم باندھ کر علی(ع) کے ہاتھ میں دیا اور وہ تمام افراد جو فتح مکہ کے موقع پر اسلامی فوج کے کسی دستے کے کمانڈر تھے، آنحضرت کے حکم سے اسی پرچم کے نیچے حنین کے میدان کی طرف روانہ ہوئے ۔ رسول الله کو اطلاع ملی کہ صفوان بن امیہ کے پاس ایک بڑی مقدار میں زرہیں ہیں، آپ نے کسی کو اس کے پاس بھیجا اور اس سے زرہیں عاریتاً طلب کیں، صفوان نے پوچھا : واقعاً عاریتاً ہیں یا غصب کے طور پر۔ رسول الله نے فرمایا: یہ عاریتاً ہیں اور ہم ان کے ضامن ہیں کہ صحیح وسالم واپس کریں گے ۔ صفوان نے زرہیں عاریتاً پیغمبر اکرم کو دے دیں اور خود بھی آنحضرت کے ساتھ چلا ۔ فوج میں دو ہزار ایسے افراد تھے جنھوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا، ان کے علاوہ دس ہزار وہ مجاہدینِ اسلام تھے جو پیغمبر اکرم کے ساتھ فتح مکہ کے لئے آئے تھے، یہ تعداد مجموعتاً بارہ ہزار بنتی ہے، یہ سب میدانِ جنگ کی طرف چل پڑے ۔ مالک بن عوف ایک مردِ جری اور ہمت وحوصلے والا انسان تھا، اس نے اپنے قبیلے کو حکم دیا کہ اپنی تلواروں کے نیام توڑ ڈالیں اور پہاڑ کی غاروں میں، درّوں کے اطراف میں اور درختوں کے درمیان لشکرِ اسلام کے راستے میں کمین گاہیں بنائیں اور جب اوّل صبح کی تاریکی میں مسلمان وہاں پہنچیں تو اچانک اور ایک ہی بار ان پر حملہ کردیں اور اسے فنا کردیں ۔ اس نے مزید کہا: محمد کا ابھی تک جنگجو لوگوں سے سامنا نہیں ہوا کہ وہ شکست کا مزہ چکھتا ۔ رسول الله اپنے اصحاب کے ہمراہ نماز صبح پڑھ چکے تو آپ نے حکم دیا کہ سرزمینِ حنین کی طرف چل پڑیں، اس موقع پر اچانک لشکرِ ہوازن نے ہر طرف سے مسلمانوں پر تیروں کی بوچھار کردی، وہ دستہ جو مقدمہٴ لشکر میں تھا (اور جس میں مکہ کے نئے نئے مسلمان بھی تھے) بھاگ کھڑا ہوا، اس کے سبب باقی ماندہ لشکر بھی پریشان ہوکر بھاگ کھڑا ہوا ۔ خداتعالیٰ نے اس موقع پر دشمن کے ساتھ انھیں ان کی حالت پر چھوڑدیا اور وقتی طور پر ان کی نصرت سے ہاتھ اُٹھالیا کیونکہ مسلمان اپنی کثرتِ تعداد پر مغرور تھے لہٰذا ان میں شکست کے آثار آشکار ہوئے، لیکن حضرت علی(ع) جو لشکر اسلام کے علمبردار تھے وہ مٹھی بھر افراد سمیت دشمن کے مقابلے میں ڈتے رہے اور اسی طرح جنگ جاری رکھے رہے ۔ اس وقت پیغمبر اکرم قلبِ لشکر میں تھے، رسول الله کے چچا عباس بنی ہاشم کے چند افراد کے ساتھ آپ کے گرد حلقہ باندھے ہوئے تھے، یہ کل افراد نو سے زیادہ نہ تھے دسویں اُم ایمن کے فرزند تھے، مقدمہ لشکر کے سپاہی فرار کے موقع پر رسول الله کے پاس سے گزرے تو آنحضرت نے عباس کو جن کی آواز بلند اور زور تھی کو حکم دیا کہ اس ٹیلے پر جو قریب ہے چڑھ جائیں اور مسلمانوں کو پکاریں: یا معشر المھاجرین والاٴنصار! یا اصحاب سورة البقرة! یا اھل بیعت الشجرة! الیٰ این تفرون ھٰذا رسول الله- اے مہاجرین وانصار!، اے سورہٴ بقرہ کے ساتھیو!، اے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! کہابھاگے جارہے ہو؟ رسول الله تو یہاں ہیں ۔ مسلمانوں نے جب عباس کی آواز سنی تو پلٹ آئے اور کہنے لگے: لبیّک! لبیّک! خصوصاً لوٹ آنے میں انصار نے پیش قدمی اور فوجِ دشمن پر ہر طرف سے سخت حملہ کیا اور نصرتِ الٰہی سے پیش قدمی جاری رکھی یہاں تک کہ قبیلہ ہوازن وحشت زدہ ہو کر ہر طرف بکھر گیا، مسلمان مسلسل ان کا تعاقب کررہے تھے، لشکرِ دشمن میں سے تقریباً ایک سو افراد مارے گئے، ان کے اموال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور کچھ ان میں سے قیدی بنا لئے گئے ۔(2) لکھا ہے کہ اس تاریخی واقعہ کے آخر میں قبیلہ ہوازن کے نمائندے رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا، پیغمبر اکرم نے ان سے بہت محبت والفت فرمائی، یہاں تک کہ ان کے سربراہ مالک بن عوف نے بھی اسلام قبول کرلیا، آپ نے اس کا مال اور قیدی اسے واپس کردیئے اور اس کے قبیلہ کے مسلمانوں کی سرداری بھی اس کے سپرد کردی ۔ درحقیقت ابتدا میں مسلمانوں کی شکست کا اہم عامل غرور وتکبر جو کثرت فوج کی وجہ سے ان میں پیدا ہوگیا تھا، اس کے علاوہ دو ہزار نئے مسلمانوں کا وجود تھا جن میں سے بعض فطری طور پر منافق تھے، کچھ ان میں مالِ غنیمت کے حصول کے لئے شامل ہوگئے تھے اور بعض بغیر کسی مقصد کے ان میں شامل ہوگئے تھے ۔ 1۔ کامل ابن اثیر، ج۲، ص۲۶۱- 2۔ مجمع البیان، ج۵، ص۱۷تا ۱۹-