يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
O you who have faith! Fight the faithless who are in your vicinity, and let them find severity in you, and know that Allah is with the Godwary.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:123
[Pooya/Ali Commentary 9:123] When conflict becomes inevitable, the first thing is to clear our surroundings of all evil and destroy its power base. The last portion of this verse refers to taqwa-to safeguard oneself against evil with full awareness of Allah's laws. Generally it applies to all the pious believers but in view of that which has been stated in the commentary of al Baqarah: 2 and 177 and Ali Imran: 138 and verse 119 of this surah a particular group of muttaqin has been singled out in this verse. The Quran is a guidance only for the pious, and for others it is a narration as has been said in verse 2 of al Baqarah and 138 of Ali Imran.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:123-129
This universal Divine warning comes once or twice a year or so, in the shape of famine, floods, storms, earthquakes, plague, but few pay any heed thereto, having already neglected the Existence of God, thus they do neither penance, nor take any advice for the future. How ungrateful of them! God has cursed disbelievers when they turn away after having revelations, despite having a Prophet, who is greedy to see then embrace faith.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:123
قریب کے دشمن کی خبر
جہاد کے بارے میں جاری مباحث کے ضمن میں زیر نظر آیت میں دو مزید احکام بیان کئے گئے ہیں ۔ پہلے روئے سخن مومنین کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو! ان کفار سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں (یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِینَ یَلُونَکُمْ مِنْ الْکُفَّارِ ) ۔ یہ درست ہے کہ تمام دشمنوں کے خلاف جنگ کرنا چاہتے اور اس سلسلے میں کوئی امتیاز نہیں لیکن جنگی تیکنک کے لحاظ سے بلا شبہ پہلے قریب ترین دشمن کے خلاف جنگ کرنا چاہئیے ۔ کوینکہ قریب کے دشمن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے یہ اسی طرح ہے جیسے اسلام کی طرف دعوت دینے اور دین حق کی طرف ہدایت کرنے کے وقت بھی زیادہ نزدیک ہے ان سے آغاز کیا جانا چاہئیے ۔ رسول اللہ نے حکم خدا سے اپنی دعوت کا آغاز اپنے رشتہ داروں سے کیا تھا اس کے بعد مکہ کے لوگوں کو تبلیغ کی ۔ اس کے بعد سارے جز یرہٴ عرب کی طرف مبلّغ بھیجے اور پھر ساری دنیا کے باد شاہوں کو خطوط لکھے اور بلا شبہ طریقہ کامیابی کے زیادہ قریب ہے ۔ البتہ ہر قانون میں کچھ استثنائی پہلو ضرور ہوتے ہیں ممکن ہے کچھ ایسے امور خلافِ معمول پیش آجائیں کہ دور کا دشمن بہت زیادہ خطر ناک ہو لہٰذا پہلے اس کی سر کوبی کے لئے جانا پڑے لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ ایک استثناء ہے نہ کہ ایک کلی قانون ۔ یہ جو ہم نے کہا ہے کہ قریب کے دشمن سے نپٹنا زیادہ ضروری ہے اس کے دلائل واضح ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قریب کے دشمن کا خطرہ دور کے دشمنوں سے زیادہ ہوتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہماری آگاہی اورا طلاعات قریب کے دشمن کے بارے میں زیادہ ہوتی ہیں اور یہ خود کامیابی کے لئے ممدو معاون ہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ دور والے دشمن کی طرف جانا اور نزدیک والے دشمن کو آزاد چھوڑ دینا اس خطرے کا باعث بھی ہوسکتا ہے کہ قریب والا دشمن پیچھے سے حملہ کر دے یا مرکز ِ اسلام خالی ہونے کی صورت میں اسے درہم برہم کردے ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ نزدیک کے دشمن کے مقابلے میں وسائل اور سازو سامان نسبتاً کم درکار ہوتا ہے اور قریبی محاذ پر قبضہ کرنا مقابلتاً آسان ہے ۔ ان وجوہ کی بنا پر اور ایسی دیگر وجوہ کے پیش نظر ایسے دشمن کو دفع کرنا زیادہ ضروری ہے ۔ اس نکتے کا ذکر بھی بہت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت زیر نظر آیت نازل ہو ئی اس وقت اسلام تقریبا ً سارے جزیرہٴ عرب کو اپنے زیر نگین کر چکا تھا اس بناء پر اس وقت نزدیک ترین دشمن مشرقی روم کی حکومت ہی تھی کہ جس کے مقابلے کےلئے مسلمان تبوک کی طرف گئے تھے ۔ اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ زیر نظر آیت اگر چہ مسلح جنگ اور فاصلہٴ مکانی کے بارے میں گفتگو کررہی ہے لیکن بعید نہیں کہ آیت کی روح منطقی جنگوں اور معنوی فاصلوں کے بارے میں بھی حکم دیتی ہویعنی مسلمان دشمنوں سے منطقی اور تبلیغا تی مقابلے کے لئے پہلے ایسے لوگوں کا مقابلہ کریں جن کا خطرہ اسلامی معاشرے کے لئے بہت نزدیک ہو۔ مثلاً ہمارے زمانے میں الحاد اور مادیت کا خطرہ تمام معاشروں کو دستک دے رہا ہے ۔ لہٰذباطل مذاہب سے مقابلے کی نسبت اس کے مقابلے کومقدم رکھنا چاہئیے یہ نہیں کہ انھیں بھلا دیا جائے ۔ بلکہ تیز حملے کا رخ زیادہ خطر ناک گروہ کی طرف ہونا چاہئیے یا مثلاً فکری یا سیاسی اور اقتصادیاستعمار سے مقابلے کے پہلے درجے میں رکھنا چاہئیے ۔ جہادکے متعلق آیت بالا میں دوسرا حکم شدت عمل کا ہے ، آیت کہتی ہے : دشمنوں کو تم میں ایک طرح کی سختی کا احساس ہونا چاہئیے ( وَلْیَجِدُوا فِیکُمْ غِلْظَةً ) ۔یہ اس طرف اشارہ ہے کہ قیام کے لئے اور دشمن کا سختی سے مقابلہ کرنے کے لئے صرف باطنی شجاعت و شہامت اور قلبی آمادگی کافی نہیں ہے بلکہ اپنی اس آمادگی اور شدت کا دشمن کے سامنے اظہار بھی ہونا چاہئیے تاکہ اسے معلوم ہو کہ تم میں ایسا جذبہ موجود ہے اور اور یہی چیز اس کی عقب نشینی اور شکست کا باعث بن جائے اور دوسرے لفظوں میں قوت اور طاقت کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ دشمن کے مقابلے میں طاقت کا اظہار بھی ہو نا چاہئیے ۔ اسی لئے تاریخ اسلام میں ہے کہ جس وقت مسلمان مکہ میں خانہٴ کعبہ کی زیارت کےلئے آئے تو پیغمبر اکرم نے انھیں حکم دیا کہ طواف تیزی کے ساتھ کریں بلکہ ڈوڑیں اور ان دشمنوں کے سامنے جو انھیں دیکھ رہے ہیں شدت و سرعت اور اپنی قوت و طاقت کا مظاہرہ کریں ۔ نیز فتح مکہ کے واقعہ میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت حکم دیا کہ سب مسلمان بیابان میں آگ روشن کریں تاکہ مکہ کے لوگ لشکر اسلام کی عظمت اور کثرت سے آشنا ہوں او ر ایسا ہی ہوایہ چیز ان کے دلوں پر اثر انداز ہوئی آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ کفار مکہ کے سر براہ ابو سفیان کو ایک جگہ کھڑا کرکے طاقتور لشکر اسلامی کو ایک ایک دستہ کر کے اس کے سامنے سے گزارا جائے ۔ آخر میں قرآن مسلمانوں کو ان الفاظ میں فتح و کامرانی کا نوید دیتا ہے : جان لو خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے (وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ) ۔ہو سکتا ہے یہ تعبیر مزید بر آں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ شدت ِ عمل کو پر ہیز گاری کے ساتھ ہو نا چاہئیے اور حدودِ انسانی سے کسی صورت میں بھی تجا وز نہیں کیا جا نا چاہیئے ۔ ۱۲۴۔ وَإِذَا مَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْھُمْ مَنْ یَقُولُ اٴَیُّکُمْ زَادَتْہُ ھَذِہِ إِیمَانًا فَاٴَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا فَزَادَتْھُمْ إِیمَانًا وَھُمْ یَسْتَبْشِرُونَ۔ ۱۲۵۔ وَاٴَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْھُمْ رِجْسًا إِلَی رِجْسِھِمْ وَمَاتُوا وَھُمْ کَافِرُونَ۔ ترجمہ ۱۲۴۔ اورجب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض ( دوسروں سے ) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ۔ (ان سے کہہ دو )جو لوگ ایمان لائے ہیں ، اس سے ان کا ایمان بڑھا ہے اوروہ ( خد اکے فضل و کرم سے ) خوش ہیں ۔ ۱۲۵۔ لیکن جن کے دلوں میں بیماری ہے ان کی ناپاکی ہی کا اضافہ ہوا ہے اور وہ دنیا سے اس حالت میں گئے ہیں کہ وہ کافر تھے ۔