وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
As for those who took to a mosque for sabotage and for defiance, and to cause division among the faithful, and for the purpose of ambush [used] by those who have fought Allah and His Apostle before—they will surely swear, ‘We desired nothing but good,’ and Allah bears witness that they are indeed liars.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:107
[Pooya/Ali Commentary 9:107] Abu Amir was a Christian monk. Before the arrival of the Holy Prophet in Madina, he used to tell the people of Madina that a promised prophet was about to appear, but when he came and conquered the hearts of the people, Abu Amir lost his position in the community and people completely forgot him. He went to Makka and encouraged and prepared the pagans to fight against the Holy Prophet. He took part in the battles of Uhad and Hunayn. Then he went to Hercules, the emperor of Byzantine empire, to raise an army to crush the Muslims. From there he wrote letters to his comrades (hypocrites in Madina) to build a masjid of their own, so that when he returned it could serve as a centre from where they could operate their plans against the Holy Prophet. At once the hypocrites built a masjid in Quba, a suburb of Madina, about 3 miles to the south-east, known as masjid dhirar (mischief). This place was selected because the Holy Prophet had rested in Quba for four days before entering the city on his emigration from Makka, and had built the first masjid there to which he frequently came to pray salat. It is said that offering of salat in this masjid is equal to one umrah. By the time masjid dhirar was completed Abu Amir died in Syria. The hypocrites requested the Holy Prophet to consecrate it by praying therein. He did not, and after his return from Tabuk it was demolished.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:107-110
مسجد کے روپ میں بت خانہ
گذشتہ آیات میں مختلف مخالف گروہوں کی کیفیت کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ زیر بحث آیات ایک اور گروہ کا تعارف کرواتی ہیں ۔یہ لوگ بڑے ماہرانہ منصوبہ اور سازشوں کے تحت میدان میں داخل ہوئے اللہ کی رحمت مسلمانوں کے شامل ِ حال ہوئی اور ان کا یہ منصوبہ اور سازش نقش بر آپ ہوگئی۔ پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے : ان میں سے ایک گروہ نے مدینہ میں ایک مسجد بنائی ۔ مسجد کے مقدس نام کے پیچھے انھوں نے اپنے منحوس مقاصد چھپارکھے تھے( وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا)۔۲ ۲۔ مفسرین نے اس جملے کی ترکیب کے سلسلے میں اگر چہ ادبی لحاظ سے مختلف نظر یات پیش کئے ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ گذشتہ جملوں پر عطف ہے جو منافقین کے بارے میں ہیں اور اس کی تقدیر یہ ہے ” منھم الذین اتخذوا مسجداً“۔ اس کے بعد ان کے چار طرح کے مقاصد کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے : ا۔ ایک مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں ( ضِرَارًا )۔ ”ضرار “ کا معنی ہے ” جانن بوجھ کر نقصان پہنچا نا “۔ دعویٰ تو یہ کرتے تھے کہ ان کا مقصد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہے اور وہ بیمار اور ناتواں لوگوں کو مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ درحقیقت وہ اس کے برعکس اپنے کاموں سے پیغمبر اسلام کا خاتمہ اور مسلمانوں کی سر کوبی چاہتے تھے یہاں تک کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو اسلام ہی کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے ۔ ۲۔ دوسرا مقصد ان کا کفر کی بنیادوں کو تقویت پہنچانا تھا ۔ وہ ان لوگوں کو اسلام سے پہلے کی سی حالت پر پلٹادینا چاہتے تھے ۔ ( وَکُفْرًا)۔ ۳۔ وہ مسلمانوں میں صف میں تفرقہ ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ اس مسجد میں کچھ لوگ جمع ہو نے لگتے تو اس سے مسجد قبا جو اس کے نزدیک تھی یا مسجد نبوی جو اس سے کچھ فاصلے پر تھی ، کی رونق ختم ہو جاتی ( وَتَفْرِیقًا بَیْنَ الْمُؤْمِنِینَ)۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے ، اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد کے درمیان فاصلہ اتنا کم نہیں ہو نا چاہئیے کہ دوسری مسجد کے اجتماع پر اثر انداز ہو ۔ اس بناء پر وہ لوگ جو قومی تعصب یا ذاتی اغراض کی بنیاد پر مسجد کے پاس ایک مسجد بنالیتے ہیں ، اور یوں مسلمانوں کے اجتماعات کے منتشر کرتے ہیں اور ان کے اس اقدام سے دوسری مساجد کی صفیں خالی ، بے رونق اور بے روح ہوجاتی ہیں وہ اہداف اسلامی کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔ ۴۔ ان کا آخری مقصد یہ تھا کہ ایسے شخص کے لئے ایک مر کز قائم کریں جو پہلے سے خدا اور اس کے رسول کے خلاف بر سر پیکار تھا اور اس کے سابقہ برے کار نامے لوگوں پر واضح تھے اور وہ اس مرکز سے اپنے منصوبوں کی تکمیل چاہتا تھا( وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَہُ مِنْ قَبْلُ)۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ان تمام برے اغراض اور منحوس مقاصد کو انھوں نے ایک خوب صورت اور پر فریب لاس میں چھپا رکھا تھا ۔ یہاں تک کہ وہ قسم کھاتے تھے کہ ہمارا نیکی کرنے کے علاوہ اور کوئی مقصد اور ارادہ نہیں ( وَلَیَحْلِفُنَّ إِنْ اٴَرَدْنَا إِلاَّ الْحُسْنَی )۔ منافقین کا ہر دور اور زمانے میں یہی دستور رہا ہے وہ اپنے مقا صد کو خوشنما پردوں میں چھپا ئے رکھتے ہیں اور عام لوگوں کو منحرف کرنے کےلئے طرح طرح کی قسموں کا سہارا لیتے ہیں ۔ لیکن قرآن مزید کہتا ہے : وہ خدا جو سب کے اندرونی رازوں سے واقف ہے اور جس کے لئے غیب و شہود یکساں ہے ، گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ جھوٹے ہیں (وَاللهُ یَشْہَدُ إِنّھُمْ لَکَاذِبُونَ )۔ اس جملے میں ان کے مختلف تاکیدں نظر آتی ہیں : پہلی یہ کہ یہ جملہ اسمیہ ہے ۔ دوسری یہ کہ لفظ ”ان “ تاکید “ کے لئے ۔ تیسری یہ کہ ” لکٰذبون“ میں لام ابتداء اور تاکید کے لئے ۔ چوتھی یہ کہ فعل ماضی کی جگہ ”کٰذبون “ کا آنا ان کے جھوٹ بولنے کے استمرار اور دوام کی دلیل ہے ۔ اس طرح سے خدا تعالیٰ ان کی بڑی بڑی قسموں کا شدید ترین طریقے سے تکذیب کرتا ہے ۔ بعد والی آیت میں اس حیات بخش حکم کی مزید تاکید کے لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے : اس مسجد میں ہر گز قیام نہ کرواور اس میں نماز نہ پڑھو ( لاَتَقُمْ فِیہِ اٴَبَدًا)۔ بلکہ اس مسجد کی بجائے زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس مسجد میں عبادت قائم کرو جس کی بنیاد پہلے تقویٰ پر رکھی گئی ہے ( لَمَسْجِدٌ اٴُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی مِنْ اٴَوَّلِ یَوْمٍ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَقُومَ فِیہِ )۔نہ یہ کہ یہ مسجد جس کی بنیاد روز اول ہی سے کفر ، نفاق ، بے دینی اور تفرقہ پر رکھی گئی ہے ۔ لفظ ”احق “( یعنی زیادہ مناسب اور سزا وار ) اگر چہ افضل التفضیل ہے لیکن یہاں لیا قت اور اہلیت کے لئے دو چیزوں کے درمیان موازنہ کے معنی میں نہیں آیا بلکہ مناسب ، لیاقت اور عدم لیاقت کے موازنہ کے لئے آیا ہے ۔ قرآنی آیات ، احادیث اور روز مرہ میں ایسی گفتگووٴ ں کے بہت سے نمونے موجود ہیں ۔مثلاً بعض اوقات ناپاک اور برے آدمی سے ہم کہتے ہیں کہ پاکیزگی اور اچھا کام کرنا تیرے لئے بہتر ہے اس بات کا یہ معنی نہیں کہ ناپاک رہنا اور برکام کرنا اچھا ہے لیکن بری چیز )۔ مفسرین نے کہاہے کہ جس مسجد کے بارے میں مندرجہ بالا جملے میں کہا گیا ہے کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ پیغمبر اس میں نماز پڑھیں اس سے مراد مسجد قبا ہے کہ جس کے قریب منافقین نے مسجد ضرّار بنائی تھی ۔ البتہ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے مراد مسجد نبوی یا وہ تمام مساجد ہوں کہ جن کی بنیاد تقویٰ پر ہو لیکن ” اول یوم “ ( روز اول ) کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ مسجد قبا پہلی مسجد تھی جو مدینہ میں بنائی گئی ۔(کامل ابن ایثر جلد ۲ ص۱۰۷) پہلا احتمال ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اگر چہ دوسری مساجد مثلاً مسجد نبوی کے لئے بھی یہ لفظ مناسب ہے ۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ علاوہ اس کے کہ اس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ، مردوں کاایک گروہ اس میں مشغول ِ عبادت ہے جو پسند کرتا ہے کہ اپنے آپ کو پاکیزہ رکھے اور خدا پاکزاد لوگوں کو دوست رکھتا ہے (فِیہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ اٴَنْ یَتَطَھرُوا وَاللهُ یُحِبُّ الْمُطّھِّرِینَ )۔ اس سلسلے میں اس پاکیز گی سے مراد ظاہری اور جسمانی پاکیز گی ہے یا معنوی اور باطنی پاکیزگی ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ تفسیر تبیان اور مجمع البیان میں اس آیت کے ذیل،میں رسول اللہ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں ہے کہ آپ نے مسجد قبا والوں سے فرمایا: ما ذا تفعلون فی طھر کم فان اللہ تعالیٰ قد احسن علیکم الثناء ، قالوا الغسل اثر الغائط تم اپنے آپ کو پاک کرتے وقت کیا کام انجا م دیتے ہوکہ خدا نے تمہاری اس طرح سے مدح و ثناء کی ہے ۔ انھوں نے کہا : ہم اپنے پائیخانہ کے اثر کو پانی سے دھوتے ہیں ۔ اسی مضمون کی روایات امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں لیکن جیسا کہ ہم نے بار ہا اشارہ کیا ہے ایسے مصداق کے لئے اس قسم کی روایات مفہوم ِ آیت کو منحصر کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ آیت کا ظہور مطلق ہے اور یہ گواہی دیتا ہے کہ طہارت یہاں ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اس میں شرک و گناہ کے آثارسے روح کی پاکیز گی اور جسمانی کثافتوں کے آثار سے جسم کی پاکزگی سب شامل ہیں ۔ زیر بحث تیسری آیت میں دو گروہوں کے مابین موازنہ کیا گیا ہے ایک گروہ مومنین کا ہے جو مسجد قبا کی طرح کو مساجد کو تقویٰ کی بنیاد پر بناتے ہیں اور دوسرا گروہ منافقین کا ہے جو مسجد کو کفر و نفاق اور تفرقہ و فسادکی اساس پر تعمیر کرتے ہیں ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : کیا وہ شخص جس نے مسجد کی بنیاد تقویٰ ، حکم الٰہی کی مخالفت سے پرہیز اور اس کی رضا طلب کرتے ہوئے رکھی ہے بہتر یا وہ شخص جس نے اس کی بنیاد کمزور اور گرجانے والی جگہ پر جہنم کے کنارے رکھی ہے جو عنقریب جہنم میں گر جائے گی( اٴَفَمَنْ اٴَسَّسَ بُنْیَانَہُ عَلَی تَقْوَی مِنْ اللهِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اٴَمْ مَنْ اٴَسَّسَ بُنْیَانَہُ عَلَی شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْھَارَ بِہِ فِی نَارِ جَھَنَّم)۔ ”بنیان “مصدر ہے اور اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی بنیاد اور عمارت۔ ”شفا“ کسی چیز کے کنارے یا کنگرہ کو کہتے ہیں ۔ ”حرف “ نہر یا کنوئیں کا وہ حاشیہ اور کنارہ ہے جس کے نچلے حصے کو پانی نے خالی کردیا ہو۔ ”ہار“ اس کمزور شخص یا کمزور عمارت کو کہتے ہیں جو گررہی ہو ۔ مندرجہ بالا تشبیہ منافقین کے کام کی بے ثباتی اور کمزوری کو اور اہل ایمان کے کام اور لائحہ عمل کے استحکام اور بقا کو روشن اور واضح کررہی ہے۔ مومن کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایک عمارت بنانے کے لئے بڑی مضبوط زمین منتخب کرے اور اس کی بیاد بھی مضبوط اور قابل اطمنان مصالح سے رکھے ۔ دوسری طرف مناطق کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنی عمارت دریا کے کنارے ایسی جگہ بنائے جس کے نچلے حصہ کی مٹی سیلاب بہا لے گیا ہواور جو ہر وقت گر نے کو تیار ہو ۔ نفاق کی بھی یہی صورت ہے اس کا بھی ظاہر ہے اور باطن کچھ نہیں اسی طرح اس عمارت کا بھی ظاہر ہے لیکن جس کی کوئی اساس نہیں یہ عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے ۔ اہل نفاق کا مکتب و مذہب بھیاپنے کھلے باطن کے باعث کسی بھی وقت تباہی اور رسوائی کے انجام کو پہنچ سکتا ہے ۔ پرہیز گاریاور رضائے الہٰی کو طلب کرنا یعنی حقیقت سے ہم آہنگ ہونا، جہانِ خلقت اور اسرار حیات سے ہم قدم ہونا بلا شبہ بقاء اور ثبات کاعامل ہے ۔لیکن نفاق یعنی حقائق سے بے گانگی اور قوانینِ فطرت سے بغاوت بلا شبہ زوال اور فنا کاعامل ہے۔ منافقین چونکہ اپنے آپ سے بھی ظلم کرتے ہیں اور معاشرے ست بھی لہٰذا آیت کے آخر میں فرمایا گیاہے ، خدا ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔(وَاللهُ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ )۔ جیسا کہ ہم نے بر ہا کہاہے ، ہدایت ِ خدا وندی یعنی مقصد تک پہنچنے کے لئے مقد مات کی فراہمی صرف ان کے لئے ہے ۔ جو اس کا استحقاق اور اہلیت رکھتے ہیں ۔ لیکن وہ ظالم جن میں یہ اہلیت نہیں ہے یہ لطف و کرم ہرگز ان کے شامل حال نہیں ہوتا کیونکہ خدا حکیم ہے اور اس کی مشیت حساب و کتاب پر مبنی ہے ۔ زیر نظر آخری آیت میں منافقین کی ہٹ دھرمی ڈھٹائی کی طرف اشارہکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح اپنے کام میں ہٹ دھرم ہیں اور نفاق و کفر کی تاریکی میں اس طرح سے سر گرداں ہیں کہ جو عمارت وہ خود کھڑی کرتے ہیں وہ شک و تردد کے عامل کے طور پر یاشک و تردد کے نتیجہ کے طور پر ان کے دلوں میں باقی رہ جاتی ہے مگریہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور وہ موت کی آغوش میں چلے جائیں ( لاَیَزَالُ بُنْیَانُھُمْ الَّذِی بَنَوْا رِیبَةً فِی قُلُوبِھِمْ إِلاَّ اٴَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُھُمْ)۔ وہ ہمیشہ حیرت و سرگردانی کے عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ مرکز نفاق اور مسجد ضرارجو انھوں نے بناتھی ایک ہٹ دھرمی اور تردد کے عامل کی صورت میں ان کی روح میں اسی طرحباقی تھی ۔ اگر چہ رسول اللہ نے عمار ت کو جلودیا تھا اور مسمار کروادیا تھا ؛لیکن ایسے تھا جیسے اس کا نقش ان کے شک زدہ دل سے کبھی زائل نہ ہوگا ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اور خدادانا و حکیم ہے ( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔ خدا تعالیٰ نے اگر رسول اللہ کو ان کے خلاف اقدام کا حکم دیا اور ان کی ایسی عمارت کو مسمار کرنے کے لئے کہا کہ جو ظاہر حق کے لئے تھی تو یہ اس لئے تھا کہ وہ بنانے والوں کی بری نیتوں سے ، بد باطنی اور اس عمارت کی حقیقت سے آگاہ تھا۔۔ یہ حکم عین حکمت و مصلحت کے مطابق تھا اس کا مقصد اسلامی معاشرے کی بھلائی اور درستی تھا۔ یہ نہیں کہ یہ کوئی جلد بازی کا فیصلہ تھااور نہ ہی یہ غیض و غضب کا نتیجہ تھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:107-110
شان نزول
زیر نظر آیات منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں ہیں ۔ جنھوں نے اپنی منحوس سازشوں کی تکمیل کے لئے مدینہ میں ایک مسجد قائم کی تھی جو بعد میں ” مسجد ضرار“ کے نام سے مشہور ہ وئی ۔ یہ بات تمام اسلامی مفسرین اور بہت سی کتب حدث و تاریخ نے ذکر کی ہے ،اگر چہ اس کی تفصیلات میں کچھ فرق نظر آتا ہے ۔مختلف تفاسیر اور احادیث سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اس کے پیش نظر اس واقعہ کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے : کچھ منافقین رسول اللہ کے پاس آئے عرض کی ا: ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم قبیلہ بنی سالم کے درمیان ، مسجد قبا کے قریب ایک مسجد بنالیں تاکہ ناتواں ، بیمار اور بوڑھے جو کوئی کام نہیں کرسکتے اس میں نماز پڑھ لیا کریں ۔ اسی طرح راتوں میں بارش ہوتی ہے ان میں جو لوگ آپ کی مسجد میں نہیں آسکتے اپنے اسلامی فریضة کو اس میں انجام دے لیا کریں ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب پیغمبر خدا جنگ تبوک کا عزم کرچکے تھے آنحضرت نے انھیں اجازت دے لیا کریں ۔ انھوں نے مزید کہا : کیا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ خود آکر اس میں نماز پڑھیں ؟ بنی اکرم نے فرمایا: اس وقت تو میں سفر کا ارادہ کرچکا ہو ں البتہ واپسی پر خدا نے چاہا تو اس مسجد میں آکر نماز پڑھو ں گا ۔ جب آپ جنگ تبوک سے لوٹے تو یہ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے :ہماری در خواست ہے کہ آپ ہماری مسجد میں آکر نماز پڑھائیں اور خدا سے دعا کریں ہمیں برکت دے ۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ابھی آنحضر ت مدینہ کے دروازے میں داخل نہیں ہوئے تھے اس وقت وحی خدا کا حامل فرشتہ نازل ہوا اور مندرجہ بالا آیات لایا اور ان کے کرتوت سے پردہ اٹھا یا ۔ اس کے فوراً بعد رسول اللہ نے حکم دیا کہ مذکورہ مسجد کو جلا دیا جائے اور اس کے باقی حصے کو مسمار کردیا جائے اور اس کی جگہ کو ڑا کرکٹ ڈال جایا کرے ۔ ان لوگوں کے ظاہراً کام کو دیکھا جا ئے تو ہمیں شروع میں تو اس حکم پر حیرت ہو گی کہ کیا بیماروں اور بوڑھوں کی سہولت کے لئے اور اضطراری مواقع کے لئے مسجد بنانا برا کام ہے جبکہ یہ ایک دینی اور انسانی خدمت معلوم ہوتی ہے کیا ایسے کام کے بارے میں یہ حکم صادر ہو اہے ؟ لیکن اگر ہم اس معاملہ کی حقیقت پر نظر کریںگے تو معلوم ہوگاکہ یہ حکم کس قدر بر محل و جچا تلا تھا ۔ اس کی وضاحت یہ کہ ابو عامر نامی ایک شخص نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور راہبوں کے مسلک سے منسلک ہو گیا تھا ۔ اس کا شمار عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا تھا ۔ قبیلہ خزرج میں اس کا گہرا رسوخ تھا ۔ رسول اللہ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مسلمان آپ کے گرد جمع ہو گئے تو با وعامر جو خود کبھی پیغمبر کے ظہور کے خبر دینے والوں میں سے تھا نے دیکھا کہ اس کے گرد ا گرد سے لوگ چھٹ گے ہیں اس پر وہ اسلام کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑاہوا۔ وہ مدینہ سے نکلا اور کفار کے پاس پہنچا اس نے ان سے پیغمبر اکرم کے خلاف جنگ کے لئے مدد چاہی اور قبائل عرب کو بھی تعاون کی دعوت دی ۔ وہ خود مسلمانوں کے خلاف جنگ ِ اھد کی منصوبہ بندی میں شریک رہا تھا اور راہنمائی کرنے والوں میں سے تھا ۔ اس نے حکم دیا کہ لشکر کی دو صفو ں کے در میان گڑھے کھودے جائیں ۔ اتفاقاً پیغمبر ِ اسلام ایک گڑھے میں گر پڑے ، آپ کی پیشانی پر زخم آئے اور دندان ِ مبارک ٹوٹ گئے۔ جنگ احدختم ہوئی ، مسلمانوں کو اس میدان میں آنے والی مشکلات کے باوجوداسلام کی آواز بلند تر ہوئی او رہر طرف صدائے اسلام گونجنے لگی ۔ تو مدینہ سے بھاگ گیا اور بادشاہ روم ہر قل کے پاس پہنچا تا کہ اس سے مدد چاہے اور مسلمانوں کی سر کوبی کے لئے ایک لشکر مہیا کرے ۔ اس نکتے کابھی ذکر ضروری ہے کہ ان کی ان کارستانیوں کی وجہ سے پیغمبر اسلام نے اسے ”فاسق “ کا لقب دے رکھا تھا ۔ بعض کہتے ہیں کہ موت نے اسے مہلت نہ دی کہ اپنی آرزو ہر قل سے کہتا لیکن بعض دوسری کتب میں ہے کہ وہ ہر قل سے جاکر ملا اور اس کے وعدوں سے مطمئن اور خوش ہوا ۔ بہر حال اس نے مرنے سے پہلے مدینہ کے منافقین کو ایک خط لکھا اور انھیں خوشخبری دی کہ روم کے ایک لشکر کے ساتھ وہ ان کی مدد کو آئے گا ۔ اس نے انھیں خصوصی تاکید کی کہ وہ اس کے لئے ایک مرکز بنائیں تاکہ اس کے آئندہ کی کا گذار یوں کے لئے وہ کام دے سکے لیکن ایسا مرکز چونکہ مدینہ میں اسلام دشمنوں کی طرف سے اپنے نام پر قائم کرنا عملی طو رپر ممکن نہ تھا ۔ لہٰذا منافقین نے مناسب یہ سمجھا کہ مسجد کے نام پر بیماروں ار معذروں کی مدد کی صور ت میں اپنے پروگرام کو عملی شکل دیں ۔ آخر کار مسجد تعمیر ہو گئی یہاں تک کہ مسمانوں میں سے مجمع بن حارثہ( یامجمع جاریہ ) نامی ایک قرآن فہم نوجوان کو مسجد کی امات کے لئے بھی چن لیا گیا لیکن وحی الٰہی نے ان کے کا مسے پردہ اٹھا دیا۔ یہ جو پیغمبر اکرم نے جنگ تبوک کی طرف جانے سے قبل ان کے خلاف سخت کار روائی کاحکم نہیں دیا اس کی وجہ شاید یہ ہوکہ ایک تو ان کی حقیقت زیادہ واضح ہوجائے اور دوسرا یہ کہ تبوک کے سفر میں اس طرف سے کوئی اور ذہنی پریشانی نہ ہو۔ بہر حال جو کچھ بھی تھا رسول اللہ نے نہ صرف یہ کہ مسجد میں نماز پڑھی بلکہ بعض مسلمانوں ( مالک بن خشم ، معنی بن عدی اور عامر بن سکر یا عاصم بن عدی ) کو حکم دیا کہ مسجد کو جلا دیں اور پھر اس کی دیواروں کو مسمار کروادیا۔ اور آخر کار اسے کوڑا کر کٹ پھینکنے کی جگہ قرار دے دیا۔ ۱ ۱- مجمع البیان ، تفسیر ابو الفتوح رازی ، تفسیر المنار ، تفسیر المیزان ، تفسیر نور الثقلین اور دیگر کتب۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:107-110
چند اہم نکات
۱۔ عظیم درس : مسجد ضرار کا واقعہ تمام مسلمانوں کے لئے پوری زندگی میں ایک درس ہے ۔ کلام ِ خدا اور عمل رسول واضح طور پر نشان دہی کرتا ہے کہ مسلمانوں کو کبھی بھی ایسا ظاہر بین بھی نہیں ہونا چاہئیے کہوہ صرف ظاہر ی طور پر کاموں کے حق بجانب ہونے پر نظر رکھیں اور ان کے اصلی اغراض و مقاصد سے بے خبر اور لاتعلق رہیں ۔ مسلمان وہ ہے جو نفاق او رمنافق کو ہر وقت ، ہر جگہ ، ہر لباس میں اور چہرے میں پہچان لے ۔ اگر چہ دین و مذہب کے چہرے اور قرآن مسجد کی حمایت کے لباس ہی میں کیوں نہ ہو۔ مذہب سے مذہب کے خلاف فائدہ اٹھا ناکوئی نئی چیز نہیں ۔ استعمار گروں ، جابر حکمرانوں اور منافقوں کے طور طریقے ہمیشہ ہرمعاشرے میں یہی رہے ہیں ۔ اگر لوگ کسی خاص مطلب کی طرف جھاوٴ رکھتے ہیں تو وہ پہلے انھیں تو وہ پہلے انھیں اسی جھاوٴ سے غافل کرتے ہیں اور پھر اپنے استعماری مقاصد بروئے کار لاتے ہیں یہاں تک کہ وہ مذہب کے خلاف مذہب ہی کی قوت سے مدد لیتے ہیں ۔ اصولی طور پر جعلی پیغمبروں اور باطل مذاہب گھڑنے کا یہی فلسفہ تھا کہ اس راستے سے لوگوں کے مذہبی جھکاوٴ اور میلان کو اپنی پسند کی راہ پر ڈال دیا جائے ۔ واضح رہے کہ مدینہ کے ماحول میں ، وہ بھی رسول اللہ کے زمنے میں جب اسلام اور قرآن لوگوں میں بہت زیادہ نفوذ کر چکا تھا ، اسلام کے خلاف کھلے بندوں جنگ ممکن نہ تھی بلکہ ضروری تھا کہ بے دینی کو دین کے پیکٹ میں پیش کیا جائے اور باطل کو حق لباس پہنا کر لایا جائے تاکہ سادہ دل لوگوں کو کھینچا جاسکے او ریوں برے مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔ لیکن سچا مسلمان وہ نہیں جو ایسا سطحی اور سادہ ہو کہ ایسے ظواہر سے دھوکا کھالے ۔ اسے چاہئیے کہ ایسے کاموں کے عوامل ، ان کے پیچھے کار فرما یاتھوں اور دوسرے قرائن کوسامنے رکھکر ان کی حقیقت معلوم کرے اور ظاہری چہرے ک پیچھے لوگوں کے باطنی چہرے کو بھی دیکھے ۔ مسلمان وہ نہیں جو ہر پکار کو صرف یہ دیکھ کر قبول کرلے کہ یہ حق کی آواز ہے چاہے وہ جس گلے سے بھی نکل رہی ہو اور نہ وہ مسلمان ہے جو اپنی طرف بڑھنے والے ہرہاتھ کو پکڑلے ۔ ہر کام جو ظاہر دینی ہو اسے دیکھتے ہیں اس کے ہم قدم ہو جائے ، اسلام کو ہوشیار ، آگاہ،حقیقت شناس ، مستقبل پر نظر رکھنے والااور تمام معاشرتی مسائل کا تجزیہ و تحلیل کرنے کے قابل ہونا چاہئیے ۔ چاہیئے کہ وہ فرشتوں کے لباس میں جنو کو پہچان لے ۔ چرواہے کے لباس میں بھڑئیے کو پہچان لے اور اپنے آپ کو دوست نماز دشمنوں سے مقابلے کے لئے تیار کرے ۔ اسلام میں ایک بنیادی چیز یہ ہے کہ ہر چیز سے پہلے نیتوں اور ارادوں کو دیکھا جائے ۔ اسلام کی نظر میں ہر عمل کی قدر و قیمت اس کی نیت کے ساتھ وابستہ ہے نہ کہاس کے ظاہر کے ساتھ ۔ نیت اگر چہ ایک باطنی چیز ہے تا ہم ممکن نہیں کہ کوئی شخص اپنی نیت صرف دل میں رکھے رہے اور اس کا اثر اس کے عمل میں ظاہر ہو اگر چہ وہ رازی داری میں بڑا ماہر اور استاد ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ اتنا با عظمت مقام یعنی مسجد اور خانہ ٴ خدا ہونے کے باوجود اسے جلانے کا حکم کیوں دیا؟ وہ مسجد جس کی ریت کا ایک ذرہ باہر نہیں جا سکتا اسے کیوں تباہ کردیا اور وہ مقام کہ اگر نجس ہ وجائے تو فوراً پاک کرنا چاہئیے اسے شہر کی گندگی پھینکنے کامقام کیوں قرار دیا؟ ان سوالا ت کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ مسجد ضرارمسجد ہی نہ تھی ، در حقیقت وہ بت خانہ تھا ۔ مقدس جگہ نہ تھی افتراق اور نفاق کا مرکز تھا خدا کا گھر نہ تھا بلکہ شیطان کا گھر تھا۔ ظاہر نام اور نقاب کسی چیز کی حقیقت کو نہیں بدل سکتے۔ یہ ہے وہ عظیم درس جو مسجد ضرار کی داستان نے ہر دور کے تمام مسلمانوں دیا ہے ۔ اس بحث سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کی اسلام کی نظر اس قدر اہمیت ہے کہ اگر ایک مسجد کا دوسری مسجد کے قریب بنانا مسلمانوں کی صفوں کے درمیان تفرقہ بازی ، اختلاف اور شگاف پیدا ہونے کا باعث ہوتو وہ تفرقہ انداز مسجد غیرمقدس ہے ۔ ۲۔ صرف نفی کافی نہیں : دوسرا درس جو ہمیں مندرجہ بالا آیات سے ملتا ہے یہ ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ مسجد ضرار میں نماز نہ پڑھو بلکہ اس مسجد میں نماز پڑھو جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ۔ یہ ”نفی “ اور ” اثبات“ اسلام کے اصلی شعار ” لاالہ الا اللہ “ سے لے کر اس کے ہر چھوٹے بڑے پرگرام میں جلوہ گر ہے یہ امر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ ہمیشہہ رنفی کے ساتھ ایک اثبات ہونا چاہئیے تاکہ وہ خود جامہ عملی پہنے ۔ اگر ہم لوگوں کو برائی کے مراکز میں جانے سے منع کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے مقابلے میں پاک و پاکیزہ مراکز قائم کریں جو معاشرے او رجمیعت کی روح تسکین کا باعث ہوں ۔ اگر غلط تفریح سے لوگوں کو روکتے ہیں تو ہمیں صحیح تفریح کے مواقع فراہم کرنا چاہییں ۔ اگر ہم سامراجی مدارس اور تعلیمی ادراروں میں جانے سے منع کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ صحیح مراکز ِ تعلیم و تربیت مہیا کریں ۔ اگر ہم بے حیائی اور بے عفتی کی مذمت کرتے ہیں تو ہمیں نوجوانوں کے لئے شادی کے آسان وسائل فراہم کرنا چاہییں ۔ وہ لوگ جو اپنی تمام تر قوت ” نفی “ میں استعمال کرتے ہیں اور ان کے لائحہ عمل میں اثبات کا کوئی نام و نشان نہیں ، انھیں یقین کرلینا چاہئیے کہ ان کی نفی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے کیونکہ سنت خلقت ہے کہ تما غرائز او رجذبات کو صحیح راستے سے سیراب کیا جائے ۔ کیونکہ اسلام کا یہ مسلمہ طریقہ ہے کہ ” لا “ کو ”الاّ“ کےس اتھ باہم ہونا چا ہئیے تاکہ اس سے حیات بخش توحید پیدا ہو سکے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ یہ درس ہے کہ جسے بہت سے مسلمان فراموش کرچکے ہیں اور پھر بھی شکایت کرتے ہیں کہ اسلامی پرگراموں میں پیش رفت کیوں نہیں ہوتی حالانکہ ان کے خیالات کے بر عکس اسلام کا پر گرام نفی میں منحصر نہیں ہے اگر وہ نفی اور اثبات کو ساتھ ساتھ رکھتے تو اسلامی پیش رفت حتمی اور یقینی ہوتی ۔ ۳۔ دو بنیادی شرطیں : تیسرا قیمتی درس جو ہمیں مسجد ضرار کے واقعہ سے اور زیر بحث آیت سے ملتا ہے یہ ہے کہ ایک فعال او رمثبت دینی اور اجتماعی مرکز وہ ہے جو دو مثبت عناصر سے تشکیل پائے۔ پہلایہ کہ اس کی بنیاد اور مقصد پاک ہو ( اسس علی التقویٰ من اول یوم )۔ دوسرا یہ کہ اس کے حامی اور نگہبان پاک ، صالح ، صاحب ایمان ، مضبوط دل او رمخلص ہوں (فیہ رجال یحبون ان یتطھروا (َ۔ ان دو منیادی ارکان کے نتیجہ اور مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ ۱۱۱۔ إِنَّ اللهَ اشْتَرَی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ اٴَنفُسَُمْ وَاٴَمْوَالَھُمْ بِاٴَنَّ لھُمْ الْجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ اٴَوْفَی بِعھْدِہِ مِنْ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمْ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہِ وَذَلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ۔ ۱۱۲۔ التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاکِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاہُونَ عَنْ الْمُنکَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرْ الْمُؤْمِنِینَ۔ ترجمہ ۱۱۱۔ خدا مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید تا ہے کہ تاکہ ( ان کے بدلے ) ان کے لئے جنت ہو( اس طرح سے کہ ) وہ راہ ِخدا میں جنگ کرتے ہیں ، قتل کرتے ہیں ۔یہ سچا وعدہ اس کے ذمہ ہے جو اسنے توریت ، انجیل اور قراں میں ذکر فرمایاہے اور خدا سے بڑھ کراپنا وعدہ وفا کرنے والا کون ہے ۔ اب تمہارے لئے خوش خبری ہے اس خرید و فریخت کے بارے میں جو تم نے خدا سے کی ہے اور یہ ( تمہارے لئے ) عظیم کامیابی ہے ۔ ۱۱۲۔ ( مومن وہ ہیں جو ) توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، حمد و ثنا کرنے والے ، سیا حت کرنے والے ، رکوع کر نے والے ، سجدہ کرنے والے ، برائی سے روکنے والے اور خدائی حود ( اور سر حدوں ) کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ( ایسے ) مومنین کو خوشخبری دو۔