الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ
who deny the Day of Retribution;
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 83:11
[Pooya/Ali Commentary 83:11] (see commentary for verse 10)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 83:11-17
۱۔ دل کے لئے گناہ کیوں زنگ ہے
نہ صرف اس سورہ کی آیت میں دل کو تاریک کرنے پر گناہ کی تاثیر کو ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے بلکہ قرآن مجید کی بہت سی دوسری آیتوں میں بھی ان معانی کی کئی مرتبہ تکرار کی گئی ہے اور بری صراحت کےساتھ انھیں قابل توجہ قرار دیا گیا ہے ۔ ایک جگہ فرماتاہے : ( کذلک یطبع اللہ علیٰ کل قلب متکبر جبار ) ” اسی طرح خدا ہر متکبر جبار اور سر کش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے “۔ ( مومن ۔ ۳۵)۔ ایک دوسری جگہ ہٹ دھرم اور عناد رکھنے والے گناہگا روں کے گروہ کے بارے میں فرماتا ہے : ( ختم اللہ علیٰ قلوبھم و علیٰ سمعھم و علیٰ ابصار ھم غشاوة ولھم عذاب عظیم ) ” خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور اسی طرح ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے “۔ ( بقرہ۷)۔ اور سورہ حج کی آیت ۴۶ میں ہم پڑھتے ہیں :( فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور)ظاہری آنکھیں نابینانہیں ہوتیں بلکہ وہ دل ہے جو سینوں میں اندھے اور نابیناہوجاتے ہیں ۔ جی ہاں! گناہ اور اس کو جاری رکھنے کا بد ترین اثر دل کا تاریک ہوجانا ہے اور نورِ عالم اور حسّ کا ختم ہوناہے ۔گناہ اعضاء و جوارح سے سرزد ہوتے ہیں لیکن دل کومتاثر کرتے ہیں اور اسے غلیظ و متعفن کیچڑ میں تبدیل کردیتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہان انسان راہ اور چاہ کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتا اور عجیب و غریب شہادت کا شکار اور غلطیوں کا مر تکب ہوتاہے جن سے ہر شخص حیران ہو جاتا ہے وہ اپنے پیروں پر خود کلہاری مارتا ہے اور اپنی خوشبختی کا سرمایہ بر بادکردیتاہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے ( کثرة الذنوب مفسدة للقلب) گناہوں کی فراوانی انسان کے دل کو تباہ کردیتی ہے ۔۱ پیغمبر اسلام و کی ایک اورحدیث ہے ( ان العبد اذا اذنب ذنبا نکتت فی قلبہ نکتة سوداء فان تاب و نزع و استغفر صقل قلبہ و ان عاد زات حتی تعلوقلبہ فذٰلک الدین الذی ذکر اللہ فی القرآن ( کلّا بل ران علیٰ قلوبھم ما کانوا یکسبون) جس وقت بندہ گناہ کرے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پید اہو جاتا ہے اگر توبہ کرے اور گناہ سے دست بردار ہوجائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صیقل ہوجاتاہے اور اگر دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی بڑھ جاتی ہے،یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتی ہے اور یہ وہی زنگ ہے جس کی طرف اس آیت ( کلا بل اران علیٰ قلوبھم ما کانوا یکسبون ) میں اشارہ ہو اہے ۔ ۲ یہی مفہوم امام محمد باقرعلیہ السلام سے بھی اصول کافی میں مختصر سے فرق کے ساتھ منقول ہے ۔ ۳ نیز اسی اصولی کافی میں رسول خدا سے منقول ہے کہ ( تذاکر وا و تلاقوا و تحد ثوا فان الحدیث جلاء للقلوب ان للقلوب لترین کما کما یرین السیف و جلائہ الحدیث) مذاکر ہ کرو اور ایک دوسرے ملاقات کرو اور ( دین کے پیشواوٴں کی ) احادیث نقل کرو اس لئے کہ حدیث دلوں کی جلا کا سبب ہے ۔ دل بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح تلوار کو زنگ لگ جاتا ہے اور قلوب کا صیقل حدیث ہے ۔ ۴ اصول نفسیات کی رو سے بھی مفہوم ثابت ہو چکاہے کہ انسان کے اعمال کا ہمیشہ اس کی روح پر اثر ہوتا ہے اور وہ اعمال روح کو آہستہ آہستہ اپنی صورت پر لے آتے ہیں ، یہاں تک کہ انسان کے سوچنے کے طریقہ اور فیصلہ کرنے کے انداز پر بھی اپنا اثر ڈالتے ہیں ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انسان گناہ کو جاری رکھنے کے نتیجے میں رفتہ رفتہ روح کی تاریکی میں ڈوبتا چلا جاتاہے اور ایسی منزل پرپہنچ جاتاہے کہ اس کواپنے گناہ حسنات نظر آتے ہیں یعنی اپنی برائیوں ہی کو اچھائیاں سمجھنے لگتاہے ۔ وہ بعض اوقات اپنے گناہ پر فخر کرتا ہے ایسی منزل پر پہنچ کر اس کے لئے واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا ، یہ ایک خطر ناک ترین حالت ہے جو ایک انسان کو پیش آتی ہے ۔ ۱۔ در المنثور،جلد۶ ص ۳۲۶۔ ۲۔ در المنثور، جلد ۶ ص ۳۲۵۔ ۳۔ نور الثقلین ، جلد ۵ ص ۵۳۱ حدیث ۲۲،۲۳۔ ۴۔ نور الثقلین ، جلد ۵ ص ۵۳۱ حدیث ۲۲،۲۳۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 83:11-17
۲۔ روح و جان کے چہرہ پر عذاب
گر بہت سے مفسرین نے کوشش کی ہے کہ آیت ( کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجو بون )میںکسی چیز کو مقدر قرار دیں اور کہیں کہ یہ گناہ گار خد اکی رحمت سے محجوب ہوں گے یا اس کے احسان ، کرامت اور ثواب سے محجوب ہوں گے ، لیکن بظاہر آیت کسی تقدیر کی محتاج نہیں ہے ۔ وہ واقعاً پرور دگار سے محجوب ہوں گے جب کہ نیک اور پاک افراد قربِ خدا وندی کی منزل پر فائز ہوںگے اور دیار محبوب اور اس کے شہود ِ باطنی سے بہرہ مند ہوں گے ۔ یہ بے ایمان اور گناہگار دوزخی ہیں جو اس فیض عظیم اور نعمت بے نظیر سے محروم ہیں ۔ بعض پاک دل مومن اس جہان میں بھی اس دیدار سے فیضیاب ہوتے ہیں جبکہ کور دل مجرم اس جہان میں بھی اس فیض سے محروم ہوں گے ۔ پاک دل ہمیشہ حضور خداوندی میں ہیں اور یہ بے بصیر تاریک دل اس سے دور ہیں۔ وہ اس کی مناجات سے اس قدرلذت حاصل کر تے ہیں جو کسی بیان کی محتاج نہیں ہے جبکہ یہ گناہگار اپنے گناہوں کی نحوست میں اس قدر غرق ہیں کہ ان کے لئے کو ئی راہ نجات نہیں ہے ۔ تو کز سرائے طبیعت نمی روی بیرون کجا بکوئے حقیقت گزرتوانی کرد جمال یار ندارد و حجاب و پردہ دلے غبار راہ اشارہ نشاں تا نظر توانی کرد تومادہ کے گھر سے باہرنہیں نکلتا تو پھر حقیقت کے کوچہ میں تیرا گذر کیسے ہو سکتاہے ۔ محبوب کے جمال پرکوئی پردہ نہیں ہے لیکن غبار ِ راہ کو بھٹانا کہ تو دیکھ سکے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 83:11-17
گناہ دلوں کا زنگ ہے
گزشتہ آیات کی آخری آیت مکذبین اور جھٹلانے والوں کی منحوس سر نوشت کی طرف واضح اشارہ تھا۔ زیر بحث آیات سے پہلے ان افراد کا تعارف کراتی ہیں اور کہتی ہیں وہ ایسے لو گ ہیں کو روز جز ا کا انکار کرتے ہیں ( الذین یکذبون بیوم الدین )۔ اور اس کے بعد مزید کہتاہے : ” صرف وہ لوگ جو روز جزا کی تکذیب کرتے ہیں جو متجاوز اور گناہگار ہیں “ ( ومایکذب بہ الاکل معتد اثیم )۔ یعنی انکار قیامت کا اصلی سبب منطق، استدلال اور تفکر نہیں ہے ، بلکہ جو افراد چاہتے ہیں کہ زیادتیاں کرتے رہیں اور گناہ کرتے رہیں وہ قیامت کا انکار کر دیتے ہیں ۔ ( توجہ فرمائیں کہ اثیم صفت مشبہ ہے جو استمرار اور گناہ کو رکھنے پر دلالت کرتی ہے )۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی قسم کے احساس ذمہ داری کے بغیر اپنے گمان کے مطابق انتہائی آزادی کے ساتھ اور ہر قسم کے دباوٴ اور ذہنی پریشانی کے بغیر اپنی برائیوں اور قباحتوںکو جار ی رکھیں اور کسی قانون کو قانون نہ سمجھیں ۔ یہ چیز اس چیز کے مانند ہے جو سورہ قیامت کی آیت پانچ میں آئی ہے ( بل یرید الانسان لیفجر امامہ ) ” بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنی آئندہ عمر میں مسلسل فسق و فجور کی راہ اختیار کئے رہے “، اس لئے وہ قیامت کی تکذیب کرتاہے ۔ بعد والی آیات میں قیامت کا انکار کرنے والوں کی تیسری صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتاہے : ” جب ہماری آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں :’ یہ گزشتہ لوگوں کے بے بنیاد مطالب اور افسانے ہیں “۔ ( اذا تتلیٰ علیہ آیاتنا قال اساطیر الاولین )۔ یہ لوگ علاوہ اس کے کہ تجاوز کرنے والے ( متعدد) اور گناہ گار ہیں ، آیات الہٰی کا مذاق اڑاتے ہیں ، انہیں کہانیاں اور موہوم قصے بتاتے ہیں ، ایسے قصے کو انسان کے نادانی کے زمانے کی یاد گار ہیں ۔ ۱ اور اس بہانے سے چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو ان آیات کی سماعت سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، اس سے بچالیں ۔نہ صرف اس سورہ میں بلکہ قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ جسارت کرنے والے مجرم دعوت ِ خدا وند ی سے منحرف ہونے کا یہی بہانہ کرتے تھے ۔ قرآن مجیدکی نو آیتوں میں یہی مضمون واضح کیا گیا ہے کہ مشرکین قرآن مجیدکی آیتوں کے مقابلہ میں اسی بہانہ سے کام لیتے تھے ( قالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملیٰ علیہ بکرةو اصیلاً) ” انہوںنے کہا یہ قرآن گزشتہ لوگوں کے افسانوں اور قصے کہانیوں کا مجموعہ ہے ، جسے اس نے لکھا ہے اور صبح و شام اسے لکھا یا جاتا ہے “۔ (فرقان۔۵)۔ سورہ احقاف کی آیت ۱۷ میں ایک سر کش جوان کی زبانی جو اپنے مہر بان اور مومن ماںباپ کے مقابلہ پر کھڑا ہو جاتاہے ہم اس طرح سنتے ہیں کہ اپنے ماں باپ کی تمام نصیحتوں کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتاہے کہ ( ماہٰذا اساطیر الاولین ) یہ باتیں جو کرتے ہو گزشتہ لوگوں کی بے بنیاد باتوں اور افسانوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ بعض مفسرین نے کہاکہ زیر بحث آیت نضر بن حارث بن کلدہ ، پیغمبر اسلام کی خالہ کے بیٹے کے بارے میں ،جو کفر و ضلالت کے سرغنوں میں سے تھا ، نازل ہوئی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ آیت کا نزول کسی خاص مورد اس سے مانع نہیں کہ دوسروں کے بارے میں بھی صادق آئے ، بہرحال سر کش لوگ وجدان کی تنبیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے اور حق پسند لوگوں کے اعتراضات سے بچنے کے لئے ہمیشہ فضول قسم کے بہانے بناتے رہتے ہیں تاکہ خود اس طرح سکون حاصل کریں ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ عام طور پر ایک ہی انداز سے با ت کرتے تھے گویا تاریخ کے طویل دور میں ایک دوسرے کے کان میں کہہ جاتے تھے سحر ، کہانت جنون اور افسانہ وغیرہ ۔ لیکن قرآن اس کے بعد آنے والی آیت میں ایک مرتبہ پھر ان کی سر کشی کے اصل سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتاہے : ایسا نہیں جیسا وہ خیال کرتے ہیں ، بلکہ ان کے برے اعمال ان کے دل پر زنگ بن کر لگے ہوئے ہیں اور وہ حقیقت کے ادراک سے محرو م ہوگئے ہیں ۔( کلا بل ران علیٰ قلوبھم ماکانوا یکسبون)۔ عجیب دل ہلادینے والی تعبیر ہے ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ لگا دیا ہے اور وہ نور جو خدا داد فطرت کی بناپر تھا سلب کرلیا ہے ، اس وجہ سے حقیقت کا چہرہ جو آفتاب عالمتاب کی درخشاں ہے ان کے دلوں پر ہر گز روشنی نہیں ڈالتا اور نوار وحی کا پر تو منعکس نہیں ہوتا۔ ” ران“ ۔” رین “ ( بروزن عین ) کے مادہ سے ، جیسا کہ راغب نے کہا ہے ، وہی زنگ ہے جو قیمتی چیزوںکو لگ جاتا ہے ۔ اور بعض دوسرے ارباب لغت کے بقول سرخ رنگ کا چھلکا ہے جو ہَوَا کی رطوبت کے زیر اثر لوہے اور دوسری اسی قسم کی چیزوں پر چپک جاتا ہے جسے فارسی میں زنگ یا زنکار کہتے ہیں اور عام طور پر وہ اسی دھا ت کے پرانے اور بوسیدہ ہونے کی نشانی ہے اور طبعی طور پر اس کی شفاعت اور درخشندگی کے ختم ہونے کی علامت ہے ۔ کبھی اس لفظ کی ایک چیز سے دوسری چیز پر غلبہ حاصل کرنے ، یا کسی چیز میں اس طرح گرنے سے جس سے بچا نہ جا سکے ، تفسیر کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ سب چیزیں ان اصلی معانی کا لازمہ ہیں ۔2 دل کی نورانیت کو ختم کرنے کے سلسلہ میں گناہ کے تباہ کن اثرات پر ہم بحث کریں گے جسے نکات کے عنوان کے ماتحت ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اگلی آیت میں فرماتاہے :” ایسا نہیں ہے جیسا وہ خیال کرتے ہیں بلکہ اس دن وہ اپنے پر وردگار سے محجوب ہوں گے“۔ ( کلا انھم عن ربھم یومئذٍ لمحجوبون) ۔ اور یہ کہ ان کی زیادہ درد ناک سزا ہے ۔ یہ اس بالا تر اور زیادہ لذت بخش نعمت کا بالکل تضاد ہے جو نیک لوگوں کو پروردگار عالم کی معنوی ملاقات اور اس کی بار گاہِ قرب میں حضور سے حاصل ہو گا ۔ کلّا عام طور پر اس بات کی نفی کے لئے آتا ہے جو پہلے سے بیان شدہ ہو اور یہاں مفسیرن نے کئی احتمال تجویز کئے ہیں۔ پہلا یہ کہ کلا اس کی تاکید ہے جو گزشتہ آیت میں آیاہے یعنی اس طرح نہیں ہے کہ جس طرح انہوں نے قیامت کے دن کا افسانے اور کہانی کے طور پر تعارف کرایا ہے ۔ یا یہ کہ اس طرح نہیں کہ وہ زنگ جو ان کے دلوں پر لگ چکا ہے وہ اتر جائے ۔ وہ اس جہان میں جمال حق کے مشاہدہ سے محروم ہیں اور دوسرے جہان میں بھی ۔ یا یہ کہ جس طرح قرآن کی دوسری آیات میں آیاہے کہ وہ مدعی تھے کہ اگر بالفرض قیامت ہو بھی ، تب بھی وہ خدا کی انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں گے ۔ 3 اس طرح نہیں جس طرح وہ خیال کرتے ہیں بلکہ وہ شدید ترین عذابوں اور سخت ترین شکنجوں میں گرفتار ہوں گے ۔ جی ہاں ! آخرت انسان کے اس دنیا کے اعمال کا عکس اور عظیم تجسم ہے ۔ وہ لوگ جو یہاں مشاہدہ حق سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور ان کے اعمال زنگ بن کر ان کے دلوں پر لگے ہوئے ہیں ، وہاں بھی پر وردگار سے محجوب ہوںگے اور جما ل ِ حق کے مشاہدہ کی طاقت ان میں نہیں ہو گی اور محبوب ِ حقیقی کے لقائے معنوی سے محروم رہیں گے ۔ اس کے بعد وہ یقینا جہنم کی آگ میں داخل ہوں گے ( ثم انھم لصالوا الجحیم )۔ یہ جہنم میں ورود پروردگا رسے محجوب ہونے کا نتیجہ ہے اور ایک اثر ہے جو اس سے جد انہیں ہے اور بحیثیت ِ مسلّم دیدار حق سے محرومیت کی آگ جہنم سے بھی زیادہ جلانے والی ہے ۔ اور آخری آیت میں فرماتا ہے : ” پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے “ ( ثم یقال ھٰذا الذی کنتم بہ تکذبون ) یہ بات ان سے بطور توبیخ وملامت و سر زنش کہی جائے گی اور یہ اس بیوقوف اور ہٹ دھرم گروہ کے لئے ایک روحانی عذاب ہے ۔ ۱۔ ” اساطیر“ ،”اسطورہ“کی جمع ” سطر“ کے مادہ سے عام طور پر موہوم قصوں اور جھوٹی باتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے 2۔ تفسیر رازی در ذیل آیہ زیر بحث اور المنجد مادہ رین کی طرف رجوع فرمائیں ۔ 3۔ سورہ کہف کی آیت ۳۶ میں آیا ہے ( وما ا ظن الساعة قائمة و لئن رددت الیٰ ربی لاجدن خیراً منھا منقلباً ) میں بالکل باور نہیں کرتا کہ قیامت بر پر ہو گی اور اگر میں اپنے پر وردگار کی طرف لوٹوں بھی اور قیامت بھی ہو ، پھر بھی اس جگہ سے بہتر جگہ وہاں پاوٴں گا ( ان معانی کی نظیر سورہٴ فصلت کی آیت ۵۰ میں بھی آئی ہے) ۔