فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ
So when the deafening Cry comes—
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 80:33
[Pooya/Ali Commentary 80:33] These verses warn man not to forget the day of judgement which is certain. Refer to the commentary of Ma-arij: 10; Tur: 21. On the day of judgement in contrast to the depression, gloom and helplessness in the camp of the condemned sinners, there will be rejoicing and thanksgiving in the camp of the believers.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 80:33-42
تعمیر ذات کی راہ
ایک نکته تعمیر ذات کی راہ جو تعبیریں اس سورہ کی مختصر اور پُرجلال آیات میں آئی ہیں وہ تعمیر ذات کے لیے ایک جامع و پروگرام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ 1- ایک طرف انسانوں کو حکم دتا ہے کہ کبر و غرور کو توڑنے کے لیے وہ اپنی خلقت کی ابتدا پر توجہ کریں اور دیکھیں کہ کس طرح انسان ایک بے قیمت نطفہ سے پیدا ہوا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تعمیر ذات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی تکبر و غرور ہے 2- دوسری طرف قرآن الٰہی ہدایات کا تعارف یہ کہ کر کراتا ہے کہ یہ اس سلسلہ میں بہترین زاد راہ ہے۔ عام اس سے کہ وہ ہدایات جن کا سرچشمہ و حی ہو اورانبیاء و اولیاء کی طرف سے کی کئی رہنمائی ہو،یا وہ بدایات جو عالم تکوین کے مطالعہ سے اور اس کے قوانین و نظام پر غور و فکر کرنے سے حاصل ہوں۔ 3- اس کے بعد انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی جسمانی غذا پر گہری نظر ڈالے اور سوچے کہ خالق رحیم و مهربان نے کس طرح انواع و اقسام کے غذائی مواد ، دانے، میوے اس سیاہ مٹی سے اس کے لیے پیدا کیے ہیں۔ پھر اس ربوبیت کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور نہ صرف اس مواد غذائی تکوینی ساخت کی طرف دیکھے بلکہ اس کے حاصل کرنے کی کیفیت کو بھی مرکز توجہ قرار دے، اس لیے کہ پاک و حلال غذا تعمییرذات کی ایک اہم بنیاد ہے۔ 4- پھرا پنی روحانی غذا کی طرف زیادہ گہری نظر سے دیکھے اور غور و فکر سے کام لے کر وہ غذا کون سے سر چشمے سے حاصل ہو رہی ہے۔ پاک سرچشمے سے یا آلودہ سے۔ اس لیے کہ ناقص تعلیمات اور گمراہ کن تبلیغات مسموم اور زہریلی غذا کی طرح ہیں جو انسان کی معنوی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ کچھ لوگ جسم کی غذا کے بارے میں بڑے محتاط ہوتے ہیں لیکن اپنی روحانی غذا کے بارے میں بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ ہر فاسد و مفسد کتاب پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں. ہرقسم کی گمراہ کن تعلیمات پر کان دھرتے ہیں اور اپنی روح کی غذا کے لیے کسی قسم کی قید و شرط کے قائل نہیں ہیں۔ ايک حدیث میں حضرت علی سے منقول ہے کہ (مالی ارى الناس اذا قرب اليهم الطعام ليلا تكلفوا انارة المصابيح ليبصروا ما يدخلوا بطونهم ولا يهتمون بغذاء النفس بان ينيروا مصابيع البابهم بالعلم ليسلموا من لوا حق الجهالة والذنوب في اعتقاداتهم واعمالهم )۔ کیا وجہ ہے کہ میں کچھ لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ جب رات کو کھانا ان کے پاس لاتے ہیں تو چراغ روشن کرتے ہیں تا کہ دیکھیں کہ وہ کونسی غذا اپنے شکم میں داخل کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی روح کی غذا کو اہمیت نہیں دیتے اور علم کے ذریعہ چراغ عقل کو روشن نہیں کرتے تاکہ عوارض جہالت و گناہ سے بچیں اور عقیدے اور اعمال صحت مند رہیں ۔ ؎ 1 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "سفینۃالبحار" جلد 2 ص 84 مادہ طعم۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اسی قسم کی حدیث آپ کے فرزندار ارجمند امام حسن مجتبٰےؑ سے بھی منقول ہے : (عجبت لمن يتفكرني ماکوله کیف لايتفكرني معقوله فيجنب بطنه مايؤذيه ويودع صدره مایرده) مجھے تجب ہے اس شخص پر جو جسم کی غذا کے بارے میں غور وفکر کرتا ہے لیکن روح کی غذا کے سلسلہ میں بالکل نہیں سوچا۔ نقصان دہ غذا کو تو اپنے شکم سے دوری رکھتا ہے لیکن دل کو ملک مطالب اب سے بھرتا رہتا ہے۔ ؎1 5- اس کے بعد سوچ لے کہ محشر کے لیے دلخراش صیحہ سب کو موت کی نیند سے بیدار کر دے گا اور انسان کے اعمال اس کے روبرو کرے گا اور اوضاع محشراتنے ہولناک ہیں کہ انسان اپنے قریبی عزیزوں رشتہ داروں کو بھی فراموش کر دے گا۔ اس لیے اسے غور و فکر کرنا چاہیے کہ کیا وہ آج ایسا کام کررہا ہے جس سے اس دن اس کا چہرہ خنداں اور نورانی ہو گا ۔ ایسا تو نہیں ہے کہ اس روز اس کا چہره ترش و تاریک ہو- اس کو چاہئے کہ وہ ابھی سے اپنے آپ کو اس دن کے لیے تیار کرے۔ خداوندا ! ہمیں اصلاح نفس کی توفیق عطا فرما۔ پروردگارا ! میں روحانی جاں پردر غذا سے محروم نہ فرما. بارالٰہا! صيحہ محشر سے پہلے ہمیں خواب گراں سے بیدار کرد ے۔ آمین یا رب العالمين ؟ سورہ عبس کا اختتام ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "سفینۃالبحار" جلد 2 ص 84 مادہ طعم۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 80:33-42
صيحه قیامت
ٹفسیر صيحه قیامت الٰہی برکتوں اور دنیاوی نعمتوں کے تذکرے کے بعد یہاں قرآن قیامت اور اس کے حوادث سے ایک گوشہ اور مومنین و کفار کی حالت کو بیان کرتا ہے تاکہ ، ایک طرف تو بے اعلان کرے کہ یہ نعمتیں اور مال و متاع جو کچھ بھی ہے جلد گزر جانے والا ہے اور اس کا ایک خاتمہ ہے اور دوسری طرف یہ بتائے کہ ان سب کا و خدا کے وجود اور قیامت کے بجائے خود ایک سیل ہے ۔ فرمایا ہے : جس وقت وہ مہیب اور کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آئے گی تو کفار ومجرمین گہرے غم و اندوہ اور ندامت میں غرق ہو جائیں گے (فاذاجاءت الصاخة)۔ ؎1 "صاخة" "صخ" کے مادہ سے اصل میں صوت شدید و سخت اور مہیب آواز کے معنی میں ہے، یعنی بہت ممکن ہے کہ اس سے کان بہرے ہو جائیں یا جو سچ مچ کانوں کو بہرہ کر دیتی ہے۔ یہاں اس سے صور کے دوسرے نفخے کی طرف اشارہ ہے۔ وہی عظیم جو بیداری اور زندگی کا صیحہ ہے۔ جو سب کو زندہ کر کے عرصۂ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ کہ اس جملہ شرطیہ میں جزا کیا ہے کئی احتمالی پہلا یہ کہ جزا مخزوف ہے اور بعد والی آیتوں سے اس کا پتہ چلتاہے اورتقدیر میں اس طرح ہے ( فاذا جاءت الصاخة نما اعظم اسف الكافرين) حبب وہ مہیب صدا آئی تو کفار کو کس قدر افسوس اور ندامت ہو گی (تفسيرمراغي) بعض مفسرین نے کہا ہے ( لكل امرئ منهم یومئذً شأن يغنيه) کا جملہ جزا ہے ( مجمع البیان) - یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کر جزا کا استفاده (يوم يفر المرء) سے ہوتا ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (فاذا جاءت الصاخة يوم يفر المرء من اخيه) (روح المعانی) جب مہیب صدا آئی تو انسان اپنے بھائی سے فرار کر گیا ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- محشر کی طرف بلائے گا۔ جی ہاں ! یہ اتنا عظیم اور دل ہلا دینے والا ہے جو انسان کو سوائے اس کی ذات، اس کے اعمال اور اس کی سرنوشت کے ہر دوسری چیز سے غافل کر د ے گا ۔ اسی لیے اس کے بعد بلا فاصلہ مزید فرماتا ہے: ۔ "وہ دن جس دن انسان اپنے بھائی سے دور بھاگے گا" (يوم يفر المرء من اخيه). وہی بهائی جو جان کے برابر تھا اور جسے ہر جگہ یاد کرتا تھا اور اس کے بارے میں متفکر رہتا تھا آج کلی طور پر اس سے گریزاں ہو گا ، "اور اسی طرح اپنے ماں باپ سے " (وامه وابیه) ۔ "اور اپنی بیوی اور اولاد سے "و صاحبته وبنيه)۔ اسی طرح انسان اپنے نزدیک ترین عزیزوں کویعنی بھائی ، ماں باپ اوراپنی اور اولاد کونہ صرف فراموش کردے گا بلکہ ان سے فرار کرے گا۔ یہ بات بتاتی ہے کہ قیامت کا ہول اس قدر زیادہ ہوگا کہ انسان کر تمام تعلقات سے بیگانہ کر دے گا ۔ وہ مال جو اس سے بے حد محبت کرتی تھی ، وہ ماں باپ جن کا وہ بہت زیادہ احترام کرتا تھا، وہ بیوی جس سے اسے شدید محبت تھی ، وہ اولاد جو اس کے دل کا سرور اور آنکھوں کا نور شمار ہوتی تھی، وہ اس وقت ان سب سے بے تعلق ہو جائے گا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ انسان اپنے ان بھائیوں ، ماں باپ ، بیوی اور اوالار سے فرار کرے گا۔ جنہوں نے ایمان و تقویٰ اور اطاعت خدا کی راہ نہیں طے کی۔ وہ ان سے اس لیے فرار کرے گا کہ کہیں ان کا حال اس کو اپنے نرغہ میں نہ لے لے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ فرار اسی بنا پر ہے کہ مبادا ان کے کچھ حقوق اس کی گردن پر ہوں اور وہ اس سے ان کا مطالبہ کریں اور وہ خود ان کے ادا کرنے سے اس وقت عاجز ہو۔ ان تینوں تفسیروں میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ نیز ان تینوں کے جمع کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ بات کہ پہلے بھائی، اس کے بعد ماں باپ اس کے بعد بیوی اور آخری مرحلہ میں اولاد کے بارے میں کیوں گفتگو ہوئی ہے، اس بارے میں، بعض مفسران کا نظریہ ہے کہ ان تمام میں، سب سے نیچے کے مرحلہ سے بالاتر مرحلہ کی طرف بات ہوئی ہے کہ پہلے وہ اپنے بھائی سے گریز کرے گا، پھر اپنے ماں باپ سے اور اس کے بعد بیوی اور اولاد سے، لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ سب لوگ ان پانچ افراد سے تعلق کے بارے میں یکساں نہیں ہوتے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں بھائی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ لٰہذا اس سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے اور کبھی بیوی اور کھبی اولاد۔ لٰہذا یہاں کوئی قاعدہ کلیہ مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ البته آن پانچ افراد میں سے ہرایک کے ساتھ انسان کے رشتہ کی اہمیت سے متعلق بہت سے مطالب بیان کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس طرح نہیں ہے کہ مطلق طور پر ایک کو دوسرے پر تمام جہتوں سے ترجیح دی جاسکے خصوصًا اس شکل میں جب شکل میں آیت میں آیا ہے۔ اس بنا پر مندرجہ بالا ترتیب اہمیت کی بنا پر نہیں ہے۔ بعد والی آیت میں اس فرار کی دلیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے ، "ایک دن ان میں سے ہر ایک ایسی حالت میں ہوگا کہ جو اسے مکمل طور پر اپنی ذات سے متعلق مصروف رکھے گی"۔ (لكل امرئ منهم يومئذ شأن يغنيه ) "يغنيه" (اس کو بے نیاز کردے گی) اس حقیقت کی طرف ایک معنی خیز کنایہ ہے کہ اس دن انسان اپنی ذات سے متعلق اس قدر مصروف ہو گا کہ دوسرے کی طرف توجہ نہیں کرے گا اور حادثات اس قدرشدید ہوں گے کہ اس کی ساری فکر کو مشغول رکھنے کے لیے کافی ہوں گے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت سے آپ کے خاندان کے کسی فرد نے سوال کیا کہ قیامت میں انسان کیا اپنے عزیز و اقارب کو یاد کرے گا؟ تو آپ نے فرمایا : ثلاثة مواطن لا يذكر (فیما) احداحدًا عند الميزان حتى ينظر ايثقل ميزانه ام يخف ؟ وعند الصراط حتى ينظر ایجوزه ام لا ؟ وعند الصحف حتي ينظر بيمينه ياخذ الصحف ام بشماله ؟ فهذه ثلاثة مواطن لا يذكرنيها احد حميمه ولا حبيبه ولا قريبه ولاصديقه ولا بنيه ولا والديه وذالك قول الله تعالى : لكل امرئ منهم يومنيشان يغنيه۔ "تین موقف ایسے ہیں جن میں کوئی شخص کسی کو یاد نہیں کرے گا پہلا میزان جهان اعمال تولے جائیں گے، وہاں جب تک یہ نہ دیکھے کہ اس کا پلڑا بھاری ہے یا نہیں۔ پھر پل صراط، جب تک ان دیکھ لے کہ وہ اس پر سے گزار سکے گا یا نہیں۔ پھر اس وقت جب نامہ اعمال انسانوں کے ہاتھ میں دیں گے جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ اس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیتے ہیں یا بائیں ہاتھ میں۔ یہ تین موقف ہیں جہاں کوئی انسان کسی دوسرے کو یاد نہیں کرے گا ۔ نہ قریبی دوست، یار مهربان اور اعزہ، نہ مخلص ساتھی اولاد اور نہ ماں باپ ۔ یہ وہی چین ہے کہ خدا وند عالم فرماتا ہے: "اس دن انسان اپنے آپ میں بہت زیادہ مشغول ہوگا"۔ ؎1 اس کے بعد اس دن جو مومنین و کفار کی حالت ہو گی اس کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : "اس دن کچھ چہرے خوشگوار اور نورانی ہوں گے۔“(وجوه يومئذ مسفرة) ۔ "خندان و مسرور،، (ضاحكة مستبشرة) -" اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے"۔ (ووجوه يومئذ عليها غبرة)۔ "تاریک دھوئیں نے انہیں ڈھانپ رکھا ہو گا" (تر هقها قترة)۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسير برہان جلد 4 ص 429 - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "وہی کا فرو فاجرهیں "۔ (اولك هم الكفرة الفجرة) "مسفرة" جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے "اسفار" کے مادہ سے آشکار ہونے اور چمکنے کے معنی میں ہے شب تاریکی کی طرح جس کے آخری سپید و سحری ہوتا ہے۔ "غبرة " (بروزن غلبہ ) "غبار" کے مادہ سے اس باقی مانده خاک کے معنی میں ہے جو زمین سے اٹھے اور کسی چیز پر پڑجائے۔ "قترة" اصل میں "قتار" (بروزن غبار) کے مادہ سے اس دھوئیں کے معنی میں ہے جو جلتی ہوئی لکڑی یا کسی دوسری چیز سے اٹھتا ہے بعض ارباب العزت نے اس کی غبار کے معنی میں تفسیر کی ہے لیکن اوپر والی آیت میں ان دونوں تفسیروں کو جمع کرنا یہ بتانا ہے کہ یہ دونوں الفاط دو مختلف معانی رکھتے ہیں۔ "كفرة" اور "فجرة" اسی وزن پر کافروجر کی جمع ہیں جن میں سے پہلا فاسد العقیدہ افراد کی طرف اور دوسرا فاسد العمل لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ صیحۂ قیامت کے وقت انسانوں کے برے عقائد اور اعمال کے آثاران کے چہروں سے نمایاں ہوں گے۔ "وجوه" چہرہ کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ چہره کارنگ ہر چیزسے زیادہ انسان کی اندرونی حالت کو بیان کرتا ہے، فکری و روحانی پریشانیوں کی بھی اور جسم سے متعلق دکھ درد کو بھی۔ بہرحال ایک گروه وہاں مسرور ہوگا ان کے چہرے شگفتہ اور نورانی ہوں گے۔ ایمان کی روشنی اورعمل کی پاکیزگی ان کے چہروں پر موجزن ہوگی۔ رنگ رخساره انھا خبر از سردروں می دهد ان کے رخسارے کا رنگ ان کے اندر کے راز کی خبر دیتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا گردہ وہ ہے کہ کفر کی تاریکی اور ان کے اعمال کی برائی ان کے چہروں سے نمایاں ہوگی۔ گویا سیاه گردو غباران کے چہرہ پر پڑا ہوا ہے اور دھویں کا ہالہ اس کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، آثار و غم و رنج و اندوه و تکلیف و درد ان کے چہروں سے ہویدا ہیں اور، اصولی طور پر، جیسا کہ سورہ رحمٰن کی آیت 41 میں آیاہے: (یعرف المجرمون بسيما مهم) گنگا ر اپنی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے۔ اسی دن چہروں کا رنگ انسانوں کی پہچان کے لیے کافی ہوگا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 80:33-42
سورہ عبس آیہ 33 تا 42
(33) فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ (34) يَوْمَ يَفِـرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ (35) وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهٖ (36) وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ (37) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْـهُـمْ يَوْمَئِذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ (38) وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ (39) ضَاحِكَـةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ (40) وَوُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ عَلَيْـهَا غَبَـرَةٌ (41) تَـرْهَقُهَا قَتَـرَةٌ (42) اُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ترجمہ (33) جب وہ مہیب صدا آئی (صیحہ قیامت) (تو کافر گہرے رنج و غم میں ڈوب جائیں گے۔ (34) وہ دن جب انسان اپنے بھائی سے دور بھاگے گا۔ (35) اور اپنی ماں اور باپ سے۔ (36) اور اپنی بیوی اور اولاد سے۔ (37) اس دن ان میں سے ہر ایک کی ایک خاص وضع و کیفیت ہو گی جو اسے مکمل طور پر اپنے آپ میں مشغول رکھے گی۔ (38) اور کچھ چہرے اس دن خوش گوار اور نورانی ہوں گے۔ (39) خنداں و مسرور۔ (40) اور کچھ چہرےاس دن غبار آلود ہوں گے۔ (41) تاریک دھوئیں نے انہیں ڈھانپ رکھا ہو گا ۔ (42) وہی کافر و فاجر ہیں۔