وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن قُوَّةٖ وَمِن رِّبَاطِ ٱلۡخَيۡلِ تُرۡهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمۡ لَا تَعۡلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعۡلَمُهُمۡۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ
Prepare against them whatever you can of [military] power and war-horses, awing thereby the enemy of Allah, and your enemy, and others besides them, whom you do not know, but Allah knows them. And whatever you spend in the way of Allah will be repaid to you in full, and you will not be wronged.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 8:60
[Pooya/Ali Commentary 8:60] Every infidel community was a prospective enemy of Islam. Quwwat literally means "force or strength". It implies: Be always on the alert, fully prepared for defence and offence, and keep yourselves well armed and quipped with the best weapons, fully trained in the art of war, so that the enemy may not think that you are weak and surprise you with a sudden attack as was done by the Makkans at Badr. The preparation is to maintain peace by preventing the enemy to commit aggression against you. If you are fully ready to counter their attack they will think twice before launching an offensive adventure. If the enemy offers peace, rely on Allah and accept it. In case of deception on their part have faith in Allah. He will help and protect you through His chosen friend, Ali ibn abi Talib. Refer to the commentary of al Baqarah: 190 to 193 and 217. In Tafsir Durr al Manthur, Jalal al Din al Suyuti quotes Ibn Asakir for reporting the following sentences, written on the arsh, on the authority of the Holy Prophet: Allah! I am alone. There is no partner with Me. Muhammad is My servant and messenger. I help him with Ali. The history of Islam fully confirms this declaration. Aqa Mahdi Puya says: Ali played a decisive role in Badr, Khandaq, Uhad, Khaybar, Hunayn and other battles, but Allah attributes the actions of the Holy Prophet and Ali to Himself because both of them were the hands of Allah, and through them He made effective His will. On this basis the Holy Prophet declared before the conquest of the fort of Khaybar: Ali will not come back until Allah wins victory for us through his hands.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:60-64
دو قابلِ توجہ نکات
۱۔ دوسرے دشمن کونسے تھے؟ مفسرین نے دوسرے گروہ سے متعلق کئی احتمالات ذکر کئے ہیں، بعض نے اسے مدینہ کے یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو دشمنی کو چھپائے رکھتے تھے، بعض دوسرے مفسّرین نے مسلمانوں کے آئندہ دشمنوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے جیسا کہ رومی اور ساسانی سلطنتیں تھیں کہ جن سے جنگ کے متعلق ان دنوں مسلمانوں کو احتمال نہ تھا لیکن جو کچھ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ اس سے مراد منافق ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں ناشناختہ طور پر موجود تھے اور سپاہِ اسلام کی مکمل تیاری کی صورت میں وہ بھی پریشان ہوجاتے تھے اور اپنے ہاتھ پاوٴں سمیٹنے لگتے تھے، اس امر کی شاہد سورہٴ توبہ کی آیت ۱۰۱ ہے جس میں ہے: <وَمِنْ اٴَھْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ لَاتَعْلَمُھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ بعض اہلِ مدینہ نفاق اور دوزخی پالیسی میں جسور اور سرکش ہیں کہ جنھیں تم نہیں جانتے لیکن ہم انھیں جانتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے اسلام کے تمام چھپے ہوئے دشمن مراد ہوں چاہے وہ منافقین ہوں یا غیر منافقین۔ ۲۔ دورِ حاضر کے لئے ایک حکم: آیت آج کے مسلمانوں کے لئے بھی اپنے اندر ایک حکم لئے ہوئے ہے اور وہ یہ کہ نہ صرف اپنے ظاہری دشمنوں کو بھی نظر میں رکھو اور جس قدر طاقت وقوت لازمی ہے زیادہ سے زیادہ فراہم کرلو۔ اگر مسلمان فی الحقیقت اس نکتہ کو نظر میں رکھتے تو کبھی طاقتور دشمنوں کے غافلانہ حملوں کا شکار نہ ہوتے۔ آیت کے آخر میں ایک اور اہم موضوع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ قوت وطاقت، سازوسامان، اسلحہ اور مختلف قسم کے ضروری دفاعی وسائل کے لئے سرمائے کی ضرورت ہے، لہٰذا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام افراد کے تعاون وہمکاری سے یہ مالی سرمایہ اکھٹا کریں، فرمایا گیا ہے: جان لو کہ جو کچھ تم راہ خدا میں خرچ کرتے ہو تمھیں پلٹادیا جائے گا (وَمَا تُنفِقُوا مِنْ شَیْءٍ فِی سَبِیلِ اللهِ یُوَفَّ إِلَیْکُمْ)۔اور وہ سارے کا سارا تمھیں پہنچے گا اور تم پر کسی قسم کا ظلم نہیں گا (وَاٴَنْتُمْ لَاتُظْلَمُونَ)۔ یہ جزا تمھیں اس جہان کی زندگی میں بھی اسلام کی کامیابی اور شوکت وعظمت کی صورت میں ملے گی کیونکہ ایک کمزور قوم کا مالی سرمایہ بھی خطرے میں پڑجائے گا اور وہ اپنے امن وامان، راحت وآرام اور استقلال واستحکام کو بھی ہاتھ سے دے بیٹھے گی، اس بناپر وہ سرمایہ جو اس راہ میں صرف ہوگا وہ ایک راستے سے بالاتر سطح خرچ کرنے والوں کی طرف پلٹ آئے گا، نیز دوسرے جہاں میں رحمتِ پروردگار کے جوار میں عظیم ترین ثواب وجزا تمھارے انتظار میں ہوگی لہٰذا اس صورت میں نہ صرف یہ کہ تم پر ظلم وستم نہیں ہوگا بلکہ تمھیں بہت زیادہ فائدہ اور نفع بھی حاصل ہوگا۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ مندرجہ بالا جملے میں لفظ ”شیء“ استعمال ہوا ہے جو ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے یعنی ہر قسم کی چیز چاہے وہ جان ہو یا مال، قوتِ فکر ہو یا قدرِ منطق یا کوئی بھی دوسرا سرمایہ مسلمانوں کی دفاعی اور فوجی بنیاد کی تقویت کے لئے دشمن کے مقابلے میں خرچ کیا جائے تو وہ خدا سے پوشیدہ نہیں رہے گا اور خدا اسے محفوظ رکھے گا اور بوقتِ ضرورت تمھیں دے گا۔ ”واٴنتم لاتظلمون“ کے جملہ کی تفسیر میں بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی بیان کیا ہے کہ اس کا عطف ”ترھبون“ پر ہے یعنی اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی توانائی فراہم کولو تو وہ تم پر حملہ کرنے سے گھبرائیں گے اور تم پر ظلم کرنے کی قدرت ان میں نہیں ہوگی لہٰذا تم پر ظلم وستم نہیں ہوگا۔ جہادِ اسلامی کا مقصداور اس کے ارکان دوسرا نکتہ جو وزیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے اور بہت سے سوالات اورمعترضین اور بے خبر لوگوں کے اعتراضات کاجواب ہوسکتا ہے وہ اسلامی جہاد کی صورت، ہدف اور پرگرام ہے، آیت واضح طور پر کہتی ہے کہ مقصد یہ نہیں ہے کہ انسانوںکو قتل کردو اور نہ ہدف یہ ہے کہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالو بلکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اصل ہدف یہ ہے دشمن ڈریں اور وہ تم پر زیادتی نہ کریں، زبردستی کوئی بات نہ منوائیں، نیز تمھاری ساری کوشش کا نتیجہ خدا اور حق وعدالت کے دشمنوں کے شر کو کم کرنا ہو۔ کیا مخالفین جہاد اسلامی کے بارے میں قرآن کی اس صراحت کو نہیں سنتے کہ جو اِس آیت میں موجود ہے۔ یہ لوگ پے درپے اسلامی قانون پر حملہ کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کا دین ہے ، کبھی کہتے ہیںکہ اسلام اپنے عقیدے اور نظریے کو ٹھونسنے کے لئے ہتھیاروں کو ذریعہ بناتا ہے اور کبھی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی تاریخ کو کشور کشائی کرنے والوں سے تشبیہ دیتے ہیں، ہمارے نظریے کے مطابق پر ایسے سب اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ وہ قرآن کی طرف پلٹیں اور اس پروگرام کے اصلی ہدف پر غور وفکر کریں تاکہ ان پر تمام چیزیں واضح ہوجائیں۔ صلح کے آمادگی گذشتہ آیت میں اگرچہ اسلامی جہاد کے مقصد کو کافی حد تک نمایاں کرتی ہے تاکہ بعد والی آیت کہ جو دشمن سے صلح کے بارے میں بحث کرتی ہے اس حقیق تکو واضح کررہی ہے ، فرمایا گیا ہے: اگر وہ صلح کی طرف میلان ظاہر کریں تو تم بھی ان کا ہاتھ جھٹک نہ دو اور آما دگی ظاہر کرو (وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا)۔ مندرجہ جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اگر وہ صلح کی طرف پَر پھیلائیں تو تم بھی اس کی طرف پَر پھیلاوٴ کیونکہ ”جَنَحُوا“ ”جنوح“کے مادہ سے مائل ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے اور پرندوں کے پروں کو بھی ”جناح“ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا ہر پر وبال ایک طرف مائل ہو تا ہے۔اس احتمال کے پیش نظرآیت کی تفسیر کے لئے اصل لغت سے بھی استفادہ ہوسکتا ہے اور اس لفظ کے ثانوی مفہوم سے بھی۔ چونکہ عام طور پر پیمانِ صلح پر دستخط کرتے وقت لوگ تردد میں گرفتار ہوجاتے ہیں لہٰذا پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ صلح کی تجویز قبول کرنے میں شک وتردد کو اپنے راہ نہ دو اگر اس کی شرائط منطقی، عاقلانہ اور عدلانہ ہوں تو انھیں قبول کرلو ”اور خدا پر توئکل کرو کیونکہ خدا تمھاری گفتگو بھی سنتا ہے اور تمھاری نیتوں سے بھی آگاہ ہے (وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إِنَّہُ ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ)۔ لیکن اس کے باوجود رسول الله اور مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے صلح کی تجاویز میں مکر وفریب بروئے کار لایا گیا ہو اور صلح کو دشمن اچانک حملے کے لئے مقدمہ کے طور پر استعمال کریں یاان کا مقصد جنگ میں تاخیر کرنے سے ، زیادہ قوت فراہم کرنا ہو تاہم اس امر سے پریشان نہ ہو کیونکہ خدا تمھارے کام کی کفایت کرے گا اور وہ ہر حالت میں تمھارا پشتی بان ہے (وَإِنْ یُرِیدُوا اٴَنْ یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللهُ)۔ تمھاری سابقہ زندگی بھی اس حقیقت پر گواہ ہے کیونکہ ”وہی ہے جس نے اپنی مدد سے اور پاک دل مومنین کی مدد سے تمھاری تقویت کی تھی (ھُوَ الَّذِی اٴَیَّدَکَ بِنَصْرِہِ وَبِالْمُؤْمِنِینَ)۔ انھوں نے بارہا تمھارے لئے عظیم خطرے پیدا کئے اور ایسی خطرناک سازشیں کی کہ عام طریقے سے انھیں ناکام بنانا ممکن نہیں تھا لیکن اس نے ان تمام مواقع پر تمھاری حفاظت کی، علاوہ ازیں یہ مخلص مومنین کہ جو تمھارے گردو پیش تھے کسی قسم کی فداکاری سے دریغ نہیں کرتے، پہلے یہ بکھرے ہوئے اور ایک دوسرے کے دشمن تھے خدا نے ان پر نورِ ہدیات کا چھڑکاوٴ کیا ”اور ان کے دلوں کے اندر الفت پیدا کی (وَاٴَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِھِمْ)۔ سالہا سال سے مدینہ میں اوس اور خزرج قبائل میں خونریزی جاری تھی اور ان کے بغض وعداوت سے بھر ہوئے تھے، حالت یہ تھی کہ کسی شخص کو یہ یقین نہ تھا کہ وہ کسی روز ایک دوسرے کی طرف دوستی اور محبت کا ہاتھ بڑھائیں گے اور ایک ہی صف میں شامل ہوں گے لیکن قادر متعال خدا نے اسلام کے پرتو اور نزولِ قرآن کے سائے میں یہ کام انجام دیا، اوس وخزرج کو جو انصار میں سے تھے انہی کے درمیان ایسی کشمکش نہ تھی بلکہ رسول الله کے مہاجر اصحاب جو مکہ سے آئے تھے وہ بھی اسلام سے پہلے ایک دوسرے سے الفت اور دوستی نہیں رکھتے تھے اور اکثر ان کے سینے ایک دوسرے کے لئے کینے سے بھرے رہتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے ان سب کینوں کو دھوڈالا اور اس طرح ختم کردیا کہ بدر کے تین سو تیرہ مجاہدین کہ جن میں تقریباً اسی مہاجرین اور باقی انصار تھے اگرچہ ایک چھوٹا سا گروہ تھے لیکن وہ ایک جسم کی مانند ہوگئے اور ایک طاقتور اور متحد لشکر بن گئے کہ جس نے اپنے نہایت قوی دشمن کو شکست سے دوچار کردیا۔ اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس الفت اور دلوں کے رشتے قائم کرنا معمول کے مادی طریقوں سے ممکن نہ تھا ”اگر وہ تمام کچھ جو روئے زمین میں ہے تم خرچ کردیتے تو ان کے دلوں میں الفت ومبّت پیدا نہ کرسکتے (لَوْ اٴَنفَقْتَ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا مَا اٴَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِھِمْ)۔ لیکن یہ خدا ہی تھا جس نے ان کے درمیان ایمان کی وجہ سے اور ایمان کے ذریعے الفت پیدا کردی (وَلَکِنَّ اللهَ اٴَلَّفَ بَیْنَھُمْ)۔ وہ لوگ جو ہٹ دھرم اور کینہ پرور افراد خصوصاً جاہل قوموں اور زمانہ جاہلیت کے سے لوگوں کی روحانی اور جذباتی کیفیت سے آشنا ہیں، جانتے ہیں کہ ایسے کینوں اور عداوتوں کو نہ تو مال ودولت سے دھویا جاسکتا ہے اور نہ جاہ ومقام سے، انھیں خاموش کرنے اور دبانے کی ایک راہ ہے اور وہ ہے انتقام، وہی انتقام جو لہرادار آواز کی صورت میں دُہرایا جائے گا اور ہر مرتبہ اس کا قبیح چہرہ زیادہ ہولناک ہوگا اور اس کا دامن زیادہ وسیع ہوتا چلا جائے گا، واحد چیز جو ان راسخ اور جڑ پکڑ لینے والے کینوں کو ختم کرسکتی ہے وہ افکار، خیالات اور نفوس میں پیدا ہونے والا ایک انقلاب ہے، ایسا انقلاب جو شخصیتوں کو تبدیل کردے، طرزِ افکار بدل دے اور جس سے لوگ اپنی سطح سے بہت بالا ہوجائیں اس طرح سے گذشتہ اعمال ان کی نظر میں پست، حقیر اور احمقانہ ہوجائیں اور اس کے بعد وہ اپنے وجود گی گہرائیوں کے نہاں خانے سے کینہ، قساوت، انتقام جوئی، قبائلی تعصبّات وغیرہ کی سیاہ غلاظت کو نکال باہر پھینکیں اور یہ ایسا کام ہے جو روپئے پیسے اور دولت وثروت سے نہیں ہوسکتا بلکہ صرف حقیقی ایمان وتوحید کے ذریعے ہی سے ایسا ممکن ہے۔ اور آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: خدا عزیز وحیکم ہے (إِنَّہُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔ اس کی عزت کا تقاضا ہے کہ کوئی اس کے سامنے ٹھہرنے کی تاب نہیں رکھتا اور اس کی حکمت سبب بنتی ہے کہ اس کے تمام کام حساب وکتاب کے تابع ہوں، اسی لئے حساب شدہ پروگرام نے پراگندہ دلوں کو متحد کردیا اور انھیں پیغمبر سے منسلک کردیا تاکہ آپ ان کے ذریعے اسلام کا نورِ ہدایت پوری دنیا میں پھیلادیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:60-64
چند قابلِ توجہ نکات
۱۔ ”قوة“ کا مفہوم: ایک مختصر سے جملے کے ذریعے زیرِ نظر آیت میں اسلامی جہاد، مسلمانوں کی بقاء اور ان کی عظمت وافتخار کی حفاظت کے لئے ایک بنیادی اصول بنایا گیا ہے، آیت کی تعبیر اس قدر وسیع ہے کہ ہر زمان ومکان پر پوری طرح سے منطبق ہوتی ہے۔ ”قوة“ کس قدر چھوتا اور پرمعنی لفظ ہے، یہ نہ صرف ہر زمانے کے جنگی وسائل اور جدید اسلحہ پر محیط ہے بلکہ ان تمام توانائیوں اور طاقتوں کا مفہوم بھی لئے ہوئے جو کسی شکل میں دشمن پر کامیابی کے لئے موٴثر ہیں چاہے وہ مادی قوتیں ہوں یا معنوی۔ جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ دشمن پر کامیابی اور اپنی بقا کی حفاظت جنگی ہتھیاروں کی تعداد سے وابستہ ہے وہ انتہائی غلطی پر ہیں کیونکہ ہم نے اپنے زمانے کے انہی میدانوں میں ایس قوموں کو دیکھا ہے جو تھوڑی سی تعداد اور کم اسلحہ سے زیادہ طاقتور اور زیادہ اسلحہ کی مالک قوموں کے مقابلے میں کامیاب ہوئی ہیں، مثلاً الجزائر کی مسلمان قوم فرانس کی طاقتور حکومت کے مقابلے میں ، لہٰذا ہر زمانے کے نہایت بہترین ہتھیاروں سے ایک قطعی اسلامی فریضے کے طور پر فائدہ اٹھانے کے علاوہ مجاہدین کی ہمت مردانہ اور قوتِ ایمان کو بھی بروئے کار لایا جانا چاہیے جو کہ اہم ترین قوت وطاقت ہے۔ اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی قوتیں بھی ”قوة“ کے مفہوم میںداخل ہیں اور دشمن پر کامیابی کے حصول کے لئے بہت موٴثر ہیں۔ ان میں بھی غفلت نہیں برتنا چاہیے۔ یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ اسلامی روایات میں لفظ ”قوة“ کی کئی تفاسیر کی گئی ہیں کہ جو اس لفظ کے مفہوم کی وسعت کی ترجمان ہیں۔ مثلاً بعض روایات میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ !الہ وسلّم نے فرمایا: قوت سے مراد تیر ہے۔(۱) دوسری روایت میں جو تفسیر علی بن ابراہیم آئی ہے اس میں ہے کہ: ”قوة“ سے مراد ہر قسم کااسلحہ ہے۔ ایک اور روایت جو تفسیر عیاشی میں آئی ہے میں ہے: ”قوة“ سے مراد تلوار اور ڈھال ہے۔ ایک اور روایت جو ”من لایحضرہ “ میں آئی ہے میں ہے: ”منہ الخضاب السواد“ آیت میں ”قوة“ سے ایک مصداق سفید بالوں کو سیاہ خضاب کرنا بھی ہے۔ یعنی اسلام نے سن رسیدہ مجاہد کے بالوں کے خضاب تک کو نظر انداز نہیں کیا تاکہ دشمن اس سے مرعوب ہو، یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ زیرِ نظر آیت میں ”قوة“ کا مفہوم کس قدر وسیع ہے۔ اس بناپر وہ لوگ جنھوں نے صرف کچھ روایات دیکھی ہیں اور انھوں نے لفظ ”قوة“ کو صرف ایک مصداق میں محدود سمجھا ہے وہ عجیب اشتباہ میں گرفتار ہوئے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ مسلمان ایسے صریح اور واضح فرمان کے باوجود گویا ہر چیز ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں، انھیں دشمنوں کے مقابلے میں نہ تو معنوی اور روحانی قوتیں فراہم کرنے سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اقتصادی ، سیاسی، ثقافتی اور فوجی قوتیں مہیا کرنے سے دلچشپی، تعجب کی بات یہ ہے کہ اس عظیم غفلت اور ایسے صریح حکم کو پس پشت ڈالنے کے باوجود ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اپنی پسماندگی کا گناہ اسلام کی گردن پر ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام میں پیش رفت اور کامیابی کا دین ہے تو پھر مسلمان کیوںپس ماندہ اور غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ہمارا نظریہ ہے کہ اس عظیم اسلامی حکم ”وَاٴَعِدُّوا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ“ کی ہر جگہ ایک عمومی اور عوامی شعار کی حیثیت سے تبلیغ ہو اور چھوٹے بڑے، عالم وجاہل، موٴلف ومقرر، فوجی اور افسر، کسان اور تاجر یعنی تمام مسلمان اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں تو ان کی پسماندگی کی تلافی کے لئے کافی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو خبر دی کہ یمن میں نیا مشینی ہتھیار تیار ہوا ہے، آپ نے فوراً کسی کو یمن کی طرف بھیجا تاکہ وہ اسے لشکرِ اسلام کے لئے مہیّا کرے۔ جنگ اُحد کے واقعات میں ہے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے جب بت پرستوں کا یہ نعرہ سنا کہ: ”اٴعل ھبل، اٴعل ھبل“ یعنی ہبل کی جے، ہبل کی جے۔ تو اس کے مقابلے کے میں مسلمانوں کو اس کی سرکوی کرنے والا اور زیادہ موٴثر نعرہ سکھایا اور ان سے یہ نعرہ بلند کرنے کو کہا: ’‘اللّٰہ اٴعلیٰ واٴجل“ خدا ہر چیز سے برتر اور بالاتر ہے۔ اور جب بت پرستوں نے یہ نعرہ لگایا کہ: ”ان لنا العزّیٰ ولا عزی لکم“ ہمارے لئے عزّیٰ بت ہے تمھارے لئے عزّیٰ نہیں ہے۔ تو اس کے مقابلے میں آپ نے مسلمانوں کو اس نعرے کی تعلیم دی: ”اللّٰہ مولانا ولا مولاکم“ خدا ہمارا ولی وسہارا ہے اور تمھارا کوئی سہارا نہیں۔ یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ رسول الله اور مسلمانوں دشمن کے مقابلے میں ایک زور دار نعرے کی تاثیر تک سے غافل نہ تھے اور اپنے لئے بہترین نعرے کا انتخاب کرتے تھے۔ اسلام کا ایک اہم فقہی حکم تیراندازی اور گھڑ دوڑ کے مقابلے (2) کے بارے میں ہے، یہاں تک کہ اس سلسلے میں مالی فتح وشکست تجویز کی گئی ہے اور اس مقابلے کی دعوت دی گئی ہے، دشمن کے مقابلے میں تیار رہنے سے متعلق اسلام کی گہری نظریہ کا یہ ایک نمونہ ہے۔ ۲۔ ”اسلام“ کے دائمی ہونے کی ایک دلیل: ایک اور اہم نکتہ مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے جو کہ دین اسلام کے عالمی ، دائمی اور جاودانی ہونے پر ایک دلیل ہے، اس دین کے مفاہیم، معانی اور مضامین اس طرح پھیلے ہوئے اور وسیع ہیں کہ اتنا طویل زمانہ گزرنے کے باوجود ان میں کہنگی اور فرسودگی کا نشان نظر نہیں آتا۔ ”وَاٴَعِدُّوا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ“ کا جملہ ہزار سال پہلے بھی ایک زندہ مفہوم رکھتا تھا اور آج بھی اسی طرح ہے اور دس سال ہزار سال آئندہ بھی اسی طرح زندہ باقی رہے گا کیونکہ جو ہتھیار اور طاقت آئندہ پیدا ہوگی وہ ”قوة“ کے جامع لفظ میں پوشیدہ ہے، ”ما استطعتم“ عام ہے اور ”قوة“ جوکہ نکرہ کی شکل میں آیا ہےاس کی عمومیت کو تقویت دیتا ہے اور ہر قسم کی قوت وطاقت پر محیط ہے۔ ۳۔ ”قوة“ کے بعد گھوڑوں کے ذکر کا مقصد: یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لفظ ”قوة“ کے ذکر کے بعد کہ جو اس قسم کا وسیع مفہوم رکھتا ہے تجربہ کار جنگی گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سوال کا جواب ایک جملے سے واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ مندرجہ بالا آیت نے جہاں تما م زمانوں کے لئے ایک وسیع حکم یان کیا ہے وہاں ایک خاص حکم رسول الله کے زمانہ اور نزولِ قرآن کے وقت کا بھی بیان کردیا ہے در حقیقت ایک کُلی اور عمومی مفہوم کوایک واضح عملی مثال سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ گھوڑا آج کے میدانِ جنگ میں ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ہوتے ہوئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا لیکن اُس زمانے میں بہادر وشجاع جنگو سپاہیوں کے لئے یہ ایک چست اور تیز رفتار ذریعہ شمار ہوتا تھا۔ جنگی طاقت میں اضافے کا اصلی مقصد اس حکم کے بعد قرآن اس موضوع کے منطقی اور انسانی ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مقصد یہ نہیں ہے کہ اصل دنیا کو یا اپنی قوم کو طرح طرح کے تباہ کن اور ویران گر ہتھیاروں سے تباہ وبرباد کردو اور آبادیوں اور زمینوں کو ویران کردو، مقصد یہ نہیں کہ دوسروں کی زمینوں اور مال واسباب کو لوٹو اور یہ بھی مقصد نہیں کہ دنیا میں غلامی اور استعمار کے اصول رائج کردو بلکہ مقصد یہ ہے کہ ”ان وسائل کے ذریعے خدا کے اور اپنے دشمن کو ڈراوٴ“ (تُرْھِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ)۔ کیونکہ زیادہ تر دشمن ایسے ہیں کہ جن کے کان منطقی حرف اور انسانی اصول نہیں سنتے وہ قوت وطاقت کی زبان کے سوا دوسری کوئی زبان نہیں سمجھتے۔ اگر مسلمان کمزور ہوں تو تمام تر بوجھ انہی پر ڈالے جائیں گے لیکن اور وہ کافی مقدار میں قوت وطاقت حاصل کرلیں تو پھر حق وعدالت اور استقلال وآزادی کے دشمن پریشان ہوجائیں گے اور اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں گے۔ اس وقت جب کہ میں اس آیت کی تفسیر لکھ رہا ہوں فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کے اہم حصّے اسرائیل فوجوں کے زیرِ تسلط آچکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں جو بزدلانہ حملہ ہوا ہے اس سے ہزارہا خاندان دربدر ہوگئے ہیں، سینکڑوں قتل ہوئے، آبادیاں وحشتناک ویرانوں میں تبدیل ہوگئی ہیں اس سے اس غم انگیز داستان میں نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے عام لوگوں کے افکار نے اس پور عمل کی مذت کی ہے یہاں تک کہ اسرائیل کے دوست نے بھی دوسروں ہی کی آواز میں آواز ملائی ہے، اقوام متحدہ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے اسرائیل کو یہ سب زمینیں خالی کرنے کا حکم دیا ہے لیکن چند ملین پر مشتمل اس قوم کے کان ان میں سے کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہیں، ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ اُن کے پاس طاقت وقوت ہے، اسلحہ ہے، بڑے پیمانے پر جنگی تیاری ہے اور طاقتور حامی ہیں، اس جارحیت کے لئے انھوں نے سالہا سال سے تیاری کی ہوئی ہے، وہ واحد منطق جس کے ذریعے انھیں جواب دیا جاسکتا ہے، یہی ہے۔ ”وَاٴَعِدُّوا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ -----تُرْھِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ “ یوں لگتا ہے جیسے یہ آیت ہمارے زمانے میں اور ہماری آج کی کیفیت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کہتی ہے کہ اس طرح طقتور بنو کہ دشمن وحشت اور حیرت میں پڑجائے اور غصب شدہ زمینوں کو واپس کردے اور اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ جائے۔ یہ جاذبِ توجہ ہے کہ لفظ ”عَدُوَّ اللهِ “ کو ”عَدُوَّ کُم“سے ملاکر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاد اسلامی دفاع میں شخصی اغراض کو کوئی دخل نیہں بلکہ مقصد اسلام کے مکتبِ انسانی کی حفاظت ہے، وہ کہ جن کی تم سے دشمنی خدا سے دشمنی کی شکل میں ہے یعنی جوو حق وعدالت، ایمان وتوحید انسانی پروگراموں سے دشمنی رکھتے ہوں وہ تمھارے حملوں اور تمھاری دفاعی تیاریوں کا ہدف ہوں۔ درحقیقت یہ تعبیر ”فی سبیل الله “یا ”جھاد فی سبیل الله“ کی تعبیر سے مشابہ ہے جو نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی جہاد اور دفاع نہ تو گذشتہ سلاطین کی کشور کشائی کی مانند ہے اور نہ آج کی سامراجی اور استعماری طاقتوں کی توسیع طلبی کی طرح بلکہ سب کچھ خدا کے لئے، خدا کی راہ میں اور حق وعدالت کے احیاء کے راستے میں ہے۔ پھر مزید فرمایا گیا ہے: ان دشمنوں کے علاوہ جنھیں تم پہچانتے ہو تمھارے اور دشمن بھی ہیں جنھیں تم نہیں پہچانتے اور وہ تمھاری زیادہ جنگی تیاری سے ڈرجائیں گے اور اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں گے (وَآخَرِینَ مِنْ دُونِھِمْ لَاتَعْلَمُونَھُمْ)۔ ۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۶۴،۱۶۵- 2۔ ہمارے ہاں جو ریس وغیرہ مروّج ہے اس کا اسلامی سبق ورمایہ سے دُور کا بھی تعلق نہیں کیونکہ وہاں تو اصل مقابلہ دشمن کے مقابلے میں جنگی مشق کے طور پر ہوتا ہے وہاں پہلے سے دونوں طرف سے یا ایک طرف سے انعام مقرر کیا جاتا ہے کہ جو جیت جائے گا صرف اتنا انعام ملے گا جبکہ مغرب کی شیطانی تہذیب سے آئی ہوئی اس ریس میں تولوگ آپس میں جواء رکھتے ہیں۔ (مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:60-64
دو توجہ طلب نکات
۱۔ آیت کا مفہوم عمومی ہے: بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کو صرف اوس وخزرج کے اختلافات کے خاتمے کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو انصار میں سے تھے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مہاجرین وانصار ایک ہی صف میں رسول الله کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے واضح ہوتا ہے کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے، شاید انھوں نے سمجھا ہے کہ صرف اوس وخزرج کے درمیان قبائلی اختلاف تھا، حالانکہ اختلافات ہزار گناہ تھے اور اجتماعی شگاف موجود تھے، امیر اور غریب کے درمیان اختلاف اور اِس قبیلے اور اُس قبیلے کے چھوٹے بڑے سردار کے درمیان اختلاف، یہ شگاف اسلام کے سائے میں پُر ہوئے اور ان کے آثار محو ہوئے، اس طرح سے قرآن ایک دوسری جگہ فرماتا ہے: <وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ اٴَعْدَاءً فَاٴَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَاٴَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا خدا کی اس عظیم نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت وحبت پیدا کی اور اس کی نعمت کے سائے میں تم ایک دوسرے کے بھائی گئے۔ (آل عمران/۱۰۳) ۲۔ یہ قانون دائمی ہے: یہ قانون صرف پہلے مسلمانوں کے ساتھ مربوط نہیں تھا آج جب کہ اسلام اسی کروڑ مسلمانوں پر سایہ فگن ہے اور وہ مختلف نسلوں اور قوموں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں کوئی حلقہ اتصال انھیں متحد نہیں کرسکتا سوائے ایمان وتوحید کے حلقے سے مال وثروت، مادی تشویق، سیمینار، کانفرنسیں تنہا کوئی کام نہیں کرسکتیں، وہ شعلہ دل میں بھڑکنا چاہیے جو پہلے مسلمانوں کے دل میں تھا، نصرت وکامیابی بھی صرف اسی اسلامی اخوت کی راہ سے ممکن ہے۔ زیرِ بحث آخری آیت میں رسول الله کی پاک ہمّت اور جذبے کی تقویت کے لئے ان کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہوتا ہے: ”اے پیغمبر! خدا اور یہ مومنین کہ جنھوں نے تمھاری پیروی کی ہے تمھاری حمایت کے لئے کافی ہیں“ اور ان کی مدد س تم اپنے مقصد کو پالوگے (یَااٴَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللهُ وَمَنْ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ)۔ بعض مفسّرین نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودی قبائل نے رسول الله سے کہا کہ ہم آپ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو اور آپ کی پیروی کرنے کو تیار ہیں (اور ہم آپ کی مدد بھی کریں گے)۔ اس آیت نے آپ کو متنبہ کیا کہ ان پر اعتماد اور بھروسہ نہ کیجئے بلکہ صرف خدا اور مومنین کا اپنا سہارا قرار دیجئے۔(1) حافظ ابو نعیم جو مشہور علماء اہل سنّت میں سے ہیں کتاب ”فضائل الصحابہ“ میں اپنس سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ابن ابی طالب کی شان میں نازل ہوئی اور وہ لفظ مومنین سے مراد حضرت علی(علیه السلام) ہیں۔(2) ہم نے بارہا کہاہے کہ ایسی تفاسیر اور شانِ نزول آیت کو منحصر اور محدود نہیں کرتیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حضرت علی(علیه السلام) جیسے شخصیت کہ جو صف اوّل مومنین میں ہیں مسلمانوں کے درمیان پیغمبر خدا کا پہلا سہارا ہیں اگرچہ دوسرے مومنین بھی رسول الله کے یارو مددگار ہیں۔ ۶۵- یَااٴَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضْ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی الْقِتَالِ إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَةٌ یَغْلِبُوا اٴَلْفًا مِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِاٴَنَّھُمْ قَوْمٌ لَایَفْقَھُونَ ۶۶- الْآنَ خَفَّفَ اللهُ عَنکُمْ وَعَلِمَ اٴَنَّ فِیکُمْ ضَعْفًا فَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ اٴَلْفٌ یَغْلِبُوا اٴَلْفَیْنِ بِإِذْنِ اللهِ وَاللهُ مَعَ الصَّابِرِینَ ترجمہ ۶۵۔ اے پیغمبر! مومنین کو (دشمن سے) جنگ کرنے کی تحریک کیجئے، اگر تم میں سے صبر واستقامت کرنے والے بیس افراد ہوں تو وہ سو افراد پر غالب آجائیں گے اور سو افراد ہوں تو کافروں میں سے ایک ہزار پر کامیابی حاصل کریں گے کیونکہ وہ ایسی قوم ہیں جو سمجھتے نہیں۔ ۶۶۔ اب اس وقت خدا نے تمھیں تخفیف دی ہے اور جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری ہے اس بناپر جب تم میں سے سو افراد با استقامت اور صابر ہوں تو دو سو افراد پر کامیاب ہوں گے اور اگر ایک ہزار ہوں توحکمِ خدا سے دوہزار پر غالب آئیں گے اور خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ 1۔ تفسیر تبیان، ج۵، ص۱۵۲- 2۔ الغدیر، ج۲، ص۵۱-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:60-64
جنگی طاقت میں اضافہ اور اس کا مقصد
اسلامی جہاد کے سلسلے میں گذشتہ احکام کی مناسبت سے زیرِ نظر پہلی آیت میں مسلمانوں کی توجہ زندگی کے لئے ایک بنیادی قانون کی طرف دلائی گئی ہے جو ہر زمانے میں اور ہر وقت نظر میں رہنا چاہیے اور وہ ہے دشمن کے مقابلے میں کافی دفاعی تیاری کا لزوم۔ پہلے قرآن کہتا ہے: اور دشمن کے مقابلے میں جس قدر ممکنہوسکے قوت تیار رکھو (وَاٴَعِدُّوا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ)۔ یعنی اس انتظار میں نہ رہو کہ جب دشمن تم پر حملہ کرے گا اس وقت اس کے مقابلے میں تیاری کروگے بلکہ پہلی ہی دشمن کے احتمالی حملے کے مقابلے میں کافی تیاری ہونا چاہیے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور اسی طرح طاقتور اور آزمودہ کار گھوڑے میدانِ جہاد کے لئے فراہم رکھو (وَمِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ)۔ ”رباط“ کا معنی ہے ”باندھنا اور پیوند لگانا“ زیادہ تر یہ لفظ کسی جگہ سے کسی جانور کے حفاظت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، بعدازاں اسی مناسبت سے حفاظت اور نگرانی کرنے کے عمومی معنی استعمال ہونے لگا۔ ”مرابطہ“ سرحدوں کی حفاظت کرنے کو کہتے ہیں، اسی طرح ہر چیز کی حفاظت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور جانوروں کے باندھنے اور حفاظت کرنے کی جگہ ”رباط“ کہتے ہیں، اسی طرح سرائے کو عرب ”رباط“ کہتے ہیں۔