وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ
When the faithless plotted against you to take you captive, or to kill or expel you—they plotted and Allah devised, and Allah is the best of devisers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 8:30
[Pooya/Ali Commentary 8:30] This verse refers to the event of hijrat. See commentary of al-Baqarah: 207.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:30
شان نزول
مفسّرین اور محدثین مندرجہ بالاآیت کو ان حوادث کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جن کے نتیجے میں رسول الله کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑھی، ان حوادث کی مختلف تعبیرات بیان ہوئی ہیں جو سب کی سب ایک ہی حقیقت تک جاپہنچتی ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے معجزانہ طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو ایک ایک عظیم حتمی خطرے کے چنگل سے نجات دی، درّالمنثور میں اس سلسلے میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ مختلف قبائل سے قریش اور اشراف مکّہ کا ایک گروہ جوع ہوا تاکہ وہ دارالندوة(۱) میں میٹنگ کریں اور انھیں رسول الله کی طرف سے درپیش خطرے پر غور وفکر کریں۔ (کہتے ہیں) اثنائے راہ میں انھیں ایک خوش ظاہر بوڑھا شخص ملا جو در اصل شیطان تھا (یا کوئی انسان جو شیطانی روح وفکر کا حامل تھا)۔ انھوں نے اُس سےپوچھا تم کون ہو؟ کہنے لگا: اہلِ نجد کا بڑا بوڑھا ہوں مجھے تمھارے ارادے کی اطلاع ملی تو میں نے چاہا کہ تمھاری میٹنگ میں شرکت کرواور اپنا نظریہ اور خیرخواہی کی رائے پیش کرنے میں دریغ نہ کروں۔ کہنے لگے: بہت اچھا اندر آجائیے۔ اس طرح وہ بھی دارالندوة میں داخل ہوگیا۔ حاضرین میں سے ایک نے ان کی طرف رُخ کیا اور (پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا: اس شخص کے بارے میں کوئی سوچ بچار کرو، کیونکہ بخدا ڈر ہے کہ وہ تم پر کامیاب ہوجائے گا (اور تمھارے دین اور تمھاری عظمت کو خاک میں ملادے گا)۔ ایک نے تجویز پیش کی: اسے قید کردو یہاں تک کہ زندان میں مَرجائے۔ بوڑھے نجدی نے اس تجویز پر اعتراض کیااور کہا: اس میں خطرہ یہ ہے کہ اس کے طرفدار ٹوٹ پڑیںگے اور کسی مناسب وقت اسے قید خانے سے چھڑاکر اس سرزمین سے باہر لے جائیں گے لہٰذا کوئی زیادہ بنیادی بات کرو۔ ایک اور نے کہا: اسے اپنے شہر سے نکال دو تاکہ تمھیں اس سے چھٹکارا مل جائے کیونکہ وہ تمھارے درمیان سے چلا جائے گا تو پھر جو کچھ بھی کرتا پھرے تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اور پھر وہ دوسروں سے ہی سروکار رکھے گا۔ بوڑھے نجدی نے کہا: والله یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے، کہا تم اُس کی شریں بیانی، طلاقتِ لسانی اور لوگوں کے دلوں میں اس کا نفوذ کرجانا نہیں دیکھتے؟ اگر ایسا کروگے تو وہ تمام دنیائے عرب کے پاس جائے گا اور وہ اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور وہ پھر وہ ایک انبوہِ کثیر کے ساتھ تمھاری پلٹے گا اور تمھیں تمھارے شہروں سے نکال باہر کرے گا اور بڑوں کو قتل کردے گا۔ مجمع نے کہا: بخدا! یہ سچ کہہ رہا ہے کوئی اور تجویز پیش سوچو۔ ابوجہل ابھی تک خاموش بیٹھا تھا، اُس نے گفتگو شروع کی اور کہا: میرا ایک نظریہ ہے اور اُس کے علاوہ کسی رائے کو صحیح نہیں سمجھتا۔ حاضرین کہنے لگے: وہ کیا ہے؟ کہنے لگا: ہم ہر قبیلے سے ایک بہادر شمشیر زن کا انتخاب کریں اور ان میں سے ہر ایک ہاتھ میں ایک کاٹ دینے والی تلوار دے دیں اور پھر وہ سب مل کر موقع پاتے ہی اُس پر حملہ کریں۔ جب وہ اس صورت میں قتل ہوگا تو اس کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ بنی ہاشم تمام قبائل سے لڑسکیں گے لہٰذا مجبوراً اس صورت میں خون بہا پر راضی ہوجائیں گے اور یوں ہم بھی اس کے آزار سے نجات پاجالیں گے۔ بوڑھے نجدی نے (خوش ہوکر) کہا: بخدا! صحیح رائے یہی ہے جو اس جواں مرد نے پیش کی ہے میرا بھی اس کے علاوہ کوئی نظریہ نہیں۔ اس طرح یہتجویز پراتفاق رائے سے پاس ہوگئی اور وہ یہی مصمم ارادہ لے کر وہاں سے اٹھ گئے۔ جبرئیل نازل ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم ملا کہ وہ رات کو اپنے بستر پر نہ سوئیں، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم رات کو غار ثور(2) کی طرف روانہ ہوگئے اور حمک دے دے گئے کہ علی(علیه السلام) آپ کے بستر پر سوجائیں (تاکہ جو لوگ دروازے کی دراز سے بستر پیغمبر پر نظر رکھے ہوئے ہیں انھیں بستر پر سویا ہوا سمجھیں اور آپ کو خطرے کے علاقہ سے دور نکل جانے کی مہلت جائے)۔ جب صبح ہوئی گھر میں گھس آئے۔ انھوں نے جستجو کی تو حضرت علی(علیه السلام) کو بستر پیغمبر پر دیکھا) اس طرح سے خدا نے ان کی سازش کو نقش بر آب کردیا۔ وہ پکارے: محمد کہاں ہے؟ آپ نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔ وہ آپ کے پاوٴں کے نشانوں پر چل پڑے یہاں تک کہ پہاڑ (اوراس کی غار) کے پاس پہنچ گئے لیکن (انھوں نے تعجب سے دیکھا کہ مکڑی نے غار کے سامنے جالا تن رکھا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر وہ اس غار میں ہوتا تو غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا۔ اس طرح وہ واپس چلے گئے) پیغمبر تین دن تک غار کے اندر رہے (اور جب دشمن مکہ کے تمام بیابانوں میں آپ کو تلاش کرچکے اور تھک ہاکر مایوس پلٹ گئے تو آپ مدینہ کی طرف چل پڑے(3) 1۔ اشرافِ مکہ کی مشاورتی میٹنگیں اس مقام پر منعقد ہوا کرتی تھیں۔ 2۔ مکہ کے قریب ایک غار کا نام ہے۔ 3۔ المنار ومجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں بحوالہ درّ المنثور-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:30
ہجرت کی ابتدائی
بعض کا نظریہ ہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی آیت کی پانچ آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں چونکہ یہ ہجرت پیغمبر کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن آیت کا طرزِ بیان گواہی دیتا ہے کہ یہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے چونکہ اس میں گذشتہ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگرچہ واقعہٴ ہجرت کی طرف اشارہ کررہی ہے لیکن مسلّماً مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مسلمانوں پر پروردگار کے ایک احسانِ عظیم اور نعمت عظمیٰ کو بیان کیا گیا ہے پہلے فرمایا گیا ہے: وہ وق تیاد کرو جب مشرکین مکہ نے سازش کی کہ تجھے قید کردیں یا قتل کردیں اور یا جلاوطن کردیں (وَإِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِیُثْبِتُوکَ اٴَوْ یَقْتُلُوکَ اٴَوْ یُخْرِجُوکَ)۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے لفظ ”مکر“ عربی زبان میں تدبیر، چارہ جوئی اور منصوبہ بندی کے معنی میں ہے نہ کہ اس مشہور معنی جو آج کل فارسی زبان میں مروّج ہے۔ اسی طرح لفظ ”حیلہ“ بھی لغت میں چارہ جوئی اور تدبیر کے معنی میں ہے لیکن فارسی زبان میں آج کل یہ لفظ خطرناک سازش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔(1) اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: وہ منصوبہ بندی، چارہ جوئی اور تدبیر کرتے ہیں اور خدا بھی چارہ جوئی اور تدبیر کرتا ہے اور وہ بہترین منصوبہ ساز اور مدبّر ہے (وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُ اللهُ وَاللهُ خَیْرُ الْمَاکِرِینَ)۔ اگر ہم ہجرت کے واقعہ پر صحیح غور وفکر کریں تو اس نکتے پر پہنچیں گے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو ختم کرنے کے لئے اپنی پوری فکری اور جسمانی صلاحیتیں صرف کر چکہ تھے یہاں تک کے جب رسول خدا ان کے چنگل سے نیکل گئے تو انہوں نے آپ کی گفتاری کے لئے ایک سواونٹوں کا انعام مقرر کیا تھا جو کہ اس دور میں ایک بہت بڑاسرمایا تھا ۔بہت سے لوگوں نے مذہبی تعصب یا اتنا بڑا انعام حاصل کرنے کے لئے اطراف مکہّ کے کوہ بیابان چھان ڈالے تھے ۔یہاں تک کہ غار کے دھانے تک بھی آپہنچے لیکن خدا تعالیٰ نے ایک نہایت معمولی اور چھوٹے سے (مکڑی کی جالے )کے ذریعے ان کی سبب سازشیں نقش بر آپ کردیں ۔ اس طرح توجہ کرتے ہوئے کہ واقعہ ہجرت تاریخ اسلام بلکہ تاریخ انسانیت کی ایک نئے مرحلہ کا آغاز تھا ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ خدا نے عنکبوت کی چند تاروں کے ذریعے تاریخ انسانیت کی راہ کو بدل کے رکھ دیا ۔ یہ بات واقعہ ہجرت میں منحرف نہیں بلکہ تاریخ انبیاء نشاند ہی گرتی ہے کہ خداتعالیٰ متکبر ین کی سر کوب کے لئے ہمیشہ معمولی سے ذرائع کو کام میں لاتا ہے ۔کبھی آندھی کے ذریعے ،کبھی ابابیل جیسے چھوٹے پرندوں کے ذریعے اور کبھی ایسی ہی دیگر چھوٹی چھوٹی چیزوں ذریعے ---- تا کہ خدا کی بے پایان قدرت کے سامنے انسان کی کمزوری اور ناتوانی واضح ہو جائے اورسرکشی کی فکر سے بازرکھے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قید ،جلاوطنی اور قتل کی سارشیں صرف متکرین کی طرف پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے خلاف ہی نہیں بلکہ جابر اور سرکش لوگ ہمیشہ مصلحین کی زبان روکنے کے لئے اور معاشرے کے ستم رسیدہ دکھی عوام می ان کا اثر و نفوذ ختم کرنے کے لئے ان تین میں سے کسی نہ کسی حر بے کا سہارا لیتے رہے تھے ۔لیکن جیسے پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین مکہ کے اقوام کا نتیجہ برعکس نکلا اور وہ اسلام کے لئے ترقی اور نئی تحریک کامقدمہ اور تمہید بن گیا ایسے ظالمانہ اقدامات کا عام طور پر الٹا ہی نتیجہ نکلتا رہا۔(2) ٍ 1۔ اردو زبان میں بھی یہ لفظ آج کل اسی معنی میں استعمال ہوتے ہیں (مترجم)۔ 2-یہ بات جاذب نظر ہے کے تفسیر نمونہ کی تالیف کی رفتار پہلے بہت کم تھی لیکن اب جبکہ موجودہ اور ان سے پہلے اور بعد والی آیات کی تفسیر مہ آباد کی جلاوطنی کے دوران کے دوران (معدوم شاہ ایران کی حکومت میں) لکھی جارہی ہے کام کی رفتار تیز ہوگئی ہے اور بالآخر ساتویں جلد مہ آباد اور انارک کی دو جلاوطنیوں کے دور میں اختتام پذیر ہوئی ہے(موٴلف)۔ (الحمد للهمیں بھی ترجمہ پر اس وقت موفق ہوا ہوں جب کہ بہت سی قومیں میرے خلاف صف آراء ہیں جن میں شیخی جو مرزائیوںکی طرح اسلام کے دشمن ہیں پیش پیش ہیں(مترجم)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:30
شان نزول
مفسّرین اور محدثین مندرجہ بالاآیت کو ان حوادث کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جن کے نتیجے میں رسول الله کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑھی، ان حوادث کی مختلف تعبیرات بیان ہوئی ہیں جو سب کی سب ایک ہی حقیقت تک جاپہنچتی ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے معجزانہ طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو ایک ایک عظیم حتمی خطرے کے چنگل سے نجات دی، درّالمنثور میں اس سلسلے میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ مختلف قبائل سے قریش اور اشراف مکّہ کا ایک گروہ جوع ہوا تاکہ وہ دارالندوة(۱) میں میٹنگ کریں اور انھیں رسول الله کی طرف سے درپیش خطرے پر غور وفکر کریں۔ (کہتے ہیں) اثنائے راہ میں انھیں ایک خوش ظاہر بوڑھا شخص ملا جو در اصل شیطان تھا (یا کوئی انسان جو شیطانی روح وفکر کا حامل تھا)۔ انھوں نے اُس سےپوچھا تم کون ہو؟ کہنے لگا: اہلِ نجد کا بڑا بوڑھا ہوں مجھے تمھارے ارادے کی اطلاع ملی تو میں نے چاہا کہ تمھاری میٹنگ میں شرکت کرواور اپنا نظریہ اور خیرخواہی کی رائے پیش کرنے میں دریغ نہ کروں۔ کہنے لگے: بہت اچھا اندر آجائیے۔ اس طرح وہ بھی دارالندوة میں داخل ہوگیا۔ حاضرین میں سے ایک نے ان کی طرف رُخ کیا اور (پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا: اس شخص کے بارے میں کوئی سوچ بچار کرو، کیونکہ بخدا ڈر ہے کہ وہ تم پر کامیاب ہوجائے گا (اور تمھارے دین اور تمھاری عظمت کو خاک میں ملادے گا)۔ ایک نے تجویز پیش کی: اسے قید کردو یہاں تک کہ زندان میں مَرجائے۔ بوڑھے نجدی نے اس تجویز پر اعتراض کیااور کہا: اس میں خطرہ یہ ہے کہ اس کے طرفدار ٹوٹ پڑیںگے اور کسی مناسب وقت اسے قید خانے سے چھڑاکر اس سرزمین سے باہر لے جائیں گے لہٰذا کوئی زیادہ بنیادی بات کرو۔ ایک اور نے کہا: اسے اپنے شہر سے نکال دو تاکہ تمھیں اس سے چھٹکارا مل جائے کیونکہ وہ تمھارے درمیان سے چلا جائے گا تو پھر جو کچھ بھی کرتا پھرے تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اور پھر وہ دوسروں سے ہی سروکار رکھے گا۔ بوڑھے نجدی نے کہا: والله یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے، کہا تم اُس کی شریں بیانی، طلاقتِ لسانی اور لوگوں کے دلوں میں اس کا نفوذ کرجانا نہیں دیکھتے؟ اگر ایسا کروگے تو وہ تمام دنیائے عرب کے پاس جائے گا اور وہ اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور وہ پھر وہ ایک انبوہِ کثیر کے ساتھ تمھاری پلٹے گا اور تمھیں تمھارے شہروں سے نکال باہر کرے گا اور بڑوں کو قتل کردے گا۔ مجمع نے کہا: بخدا! یہ سچ کہہ رہا ہے کوئی اور تجویز پیش سوچو۔ ابوجہل ابھی تک خاموش بیٹھا تھا، اُس نے گفتگو شروع کی اور کہا: میرا ایک نظریہ ہے اور اُس کے علاوہ کسی رائے کو صحیح نہیں سمجھتا۔ حاضرین کہنے لگے: وہ کیا ہے؟ کہنے لگا: ہم ہر قبیلے سے ایک بہادر شمشیر زن کا انتخاب کریں اور ان میں سے ہر ایک ہاتھ میں ایک کاٹ دینے والی تلوار دے دیں اور پھر وہ سب مل کر موقع پاتے ہی اُس پر حملہ کریں۔ جب وہ اس صورت میں قتل ہوگا تو اس کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ بنی ہاشم تمام قبائل سے لڑسکیں گے لہٰذا مجبوراً اس صورت میں خون بہا پر راضی ہوجائیں گے اور یوں ہم بھی اس کے آزار سے نجات پاجالیں گے۔ بوڑھے نجدی نے (خوش ہوکر) کہا: بخدا! صحیح رائے یہی ہے جو اس جواں مرد نے پیش کی ہے میرا بھی اس کے علاوہ کوئی نظریہ نہیں۔ اس طرح یہتجویز پراتفاق رائے سے پاس ہوگئی اور وہ یہی مصمم ارادہ لے کر وہاں سے اٹھ گئے۔ جبرئیل نازل ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم ملا کہ وہ رات کو اپنے بستر پر نہ سوئیں، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم رات کو غار ثور(2) کی طرف روانہ ہوگئے اور حمک دے دے گئے کہ علی(علیه السلام) آپ کے بستر پر سوجائیں (تاکہ جو لوگ دروازے کی دراز سے بستر پیغمبر پر نظر رکھے ہوئے ہیں انھیں بستر پر سویا ہوا سمجھیں اور آپ کو خطرے کے علاقہ سے دور نکل جانے کی مہلت جائے)۔ جب صبح ہوئی گھر میں گھس آئے۔ انھوں نے جستجو کی تو حضرت علی(علیه السلام) کو بستر پیغمبر پر دیکھا) اس طرح سے خدا نے ان کی سازش کو نقش بر آب کردیا۔ وہ پکارے: محمد کہاں ہے؟ آپ نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔ وہ آپ کے پاوٴں کے نشانوں پر چل پڑے یہاں تک کہ پہاڑ (اوراس کی غار) کے پاس پہنچ گئے لیکن (انھوں نے تعجب سے دیکھا کہ مکڑی نے غار کے سامنے جالا تن رکھا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر وہ اس غار میں ہوتا تو غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا۔ اس طرح وہ واپس چلے گئے) پیغمبر تین دن تک غار کے اندر رہے (اور جب دشمن مکہ کے تمام بیابانوں میں آپ کو تلاش کرچکے اور تھک ہاکر مایوس پلٹ گئے تو آپ مدینہ کی طرف چل پڑے(3) 1۔ اشرافِ مکہ کی مشاورتی میٹنگیں اس مقام پر منعقد ہوا کرتی تھیں۔ 2۔ مکہ کے قریب ایک غار کا نام ہے۔ 3۔ المنار ومجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں بحوالہ درّ المنثور-