أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا
Did We not make the earth a resting place?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 78:6
[Pooya/Ali Commentary 78:6] Refer to the commentary of Rad: 3 and 4; Ha Mim: 9 and 10; Hijr: 19; Nahl: 15; Muminun: 17; Furqan: 61 ; Ahzab: 46; Ya Sin: 33 to 36; Talaq: 12; Mulk: 3 and Nuh: 15 and 16 for the expanse of the earth, mountains, seven heavens and the sun. The spacious expanse of the earth, the rain and the abundant harvests, the succession of night and day, the firmaments above with their splendid lights are the signs of Allah with which man is affiliated. These point to a future life. The universe and the laws governing the universe have been created to serve man in his physical, mental and spiritual endeavours on the basis of which Allah shall sort out good and evil on an appointed day with justice and authority as mentioned in subsequent verses.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 78:6-16
ان آیات کامسئلہ معاد سے تعلق
ایک نکته ان آیات کامسئلہ معاد سے تعلق مندرجہ بالا گیا ره آیتوں میں اہم ترین نعمات الہی اور انسانی زندگی کے بنیادی ارکان یعنی نور وظلمت، حرارت ، پانی مٹی اور گیاه و نبات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس دقیق نظام کا بیان ،ایک تو ہر چیز پر خدا کی قدرت کوواضح کرتا ہے جس کے بعد اس کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ کوئی یہ کہے کہ خدا مردوں کو دوباره کس طرح زندہ کرے گا، جیسا کہ منکرین معاد کے جواب میں سورہ یٰسین کی آخری آیتوں میں کمال وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، ، جہاں پروردگار عالم فرماتا ہے: "کیا" وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس امر پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرے۔(یٰسین / 81)۔ دوسرے ان عظیم تشکیلات کا یقینا کوئی مقصد ہے اور یہ مقصد دنیا کی چند روزہ زندگی نہیں ہو سکتا جس میں من کھانے پینے، سونے اور جاگنے پر اکتفا ہو ۔ بلکہ حکمت خدا وندی کا یہ تقاضا ہے کہ اس کا کوئی بلند بالظاز ویگر نشاة اولٰى نشاة آخری کے لے یاد دہانی ہے اوربشر کی طولاني سیرگاہ کے لیے منزل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جیسا کہ سورہ مومنون کی آیت 115میں فرماتا ہے: (افحسبتم انما خلقناكم عبثاوانكم الينا لا ترجعون) " کیا تم نے گمان کیا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤگے"۔ تیسرے نیند اور بیداری کا مسئلہ جو خود موت اور نئی زندگی کا ایک نمونہ ہے اور مردہ زمینوں کا بارش سے نزول کے نتیجے میں زندہ ہونا جو منظر معاو کو ہر سال انسانوں کی آنکھوں کے سائے پیش کر تا ہے، قیامت اور موت کے بعد کی زندگی کی طرت پرمعنی اشارہ ہے جیسا کہ سوره فاطر کی آیت و میں بارش کی وجہ سے مروه زمینوں کی یہ بیر حیات کے بیان کے بعد فرماتا ہے: وكذالك النشور قیامت میں قبروں سے اٹھنا بھی اسی طرح ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 78:6-16
سورہ نباء آیہ 6 تا 16
(6) اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهَادًا (7) وَالْجِبَالَ اَوْتَادًا (8) وَخَلَقْنَاكُمْ اَزْوَاجًا (9) وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا (10) وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا (11) وَجَعَلْنَا النَّـهَارَ مَعَاشًا (12) وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا (13) وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا (14) وَاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَآءً ثَجَّاجًا (15) لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّنَبَاتًا (16) وَجَنَّاتٍ اَلْفَافًا ترجمہ (6) کیا ہم نے زمین کو (تمھارے) آرام و سکون کی جگہ قرار نہیں دیا۔ (7) اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں (نہیں بنایا)۔ (8) اور تمھیں زوج زوج کی شکل میں پیدا (نہیں کیا)۔ (9) اور تمھاری نیند کو کو ہم نے تمھارے سکون کا باعث قراردیا۔ (10) اور رات (تمھارے لیے) لباس(بنایا)۔ (11) اور دن کو معاش کا ذریعہ (قراردیا)۔ (12) اور تم پر ہم نے سات آسامن بناۓ۔ (13) اور روشن اور حرارت بخش چراغ ہم نے پیدا کیا۔ (14) اور برسنے والے بادلوں سے بہت زیادہ پانی ہم نے نازل کیا۔ (15) تاکہ اس کے ذریعہ ہم بہت سی فصلیں اور نباتات اُگائیں۔ (16) اور درختوں سے پُر باغات۔