يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا
on the day when the Spirit and the angels stand in an array: none shall speak except someone who is permitted by the All-beneficent and says what is rightful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 78:38
[Pooya/Ali Commentary 78:38] (see commentary for verse 37)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 78:38-40
مسئلہ جبر و اختیار کے حل ہونے کا واضح راستہ
ایک نكته مسئلہ جبر و اختیار کے حل ہونے کا واضح راستہ یہ مسئلہ قدیم ترین مسائل میں سے ہے جو علماء کو درپیش ہے کہ ایک گروہ ارادہ انسانی کا قائل ہے، دوسرا گروہ جبر کا طرفدارہے اور ہرایک گروہ نے اپنے مقصد کو ثابت کرنے کے لیے کچھ دلائل پیش کیے ہیں لیکن جاذب توجہ یہ ہے "جبریئین" اور اختیار کے طرف دونوں میں عمل میں اصل اختیار اور ارادہ کی آزادی کو قانونی طور پے قبول کرتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ ساری بحثیں مباحث علمی کے دائرہ میں تھیں، نہ کہ مقام عمل میں اور یہ چیز اچھی طرح سے بتاتی ہے کی اصل ارادہ کي آزادی اور اختیار تمام انسانوں کا فطری ہے ۔ اگر درمیان میں مختلف وسوے نہ ہوں تو تمام لوگ آزادی ارادہ کے معترف ہوں۔ یہ عمومی و جدان اور فطرت جو اختیار کے دلائل میں سب سے زیادہ واضح ہے انسان کی زندگی میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر انسان خود کو اپنے اعمال کے بارے میں مجبور سمجھتا اور اپنے لیے اختیار کا قائل نہ ہوتا تو ایسا کیوں ہے کہ: 1- ان اعمال کی بنا پر نہیں انجام دیا،یا ان اعمال کی بنا پر جنہیں انجام نہیں دیا، پشیمان ہوتا ہے اورپختہ ارادہ کرتا ہے کہ آئندہ زمانہ میں تجربہ سے فائدہ اٹھائے۔ یہ حالت مذمت عقید و جبر کے قاتلوں میں زیادہ ہے اگر اختیار نہیں ہے تر ندامت کیوں؟ 2- بدکاروں کو سب لوگ ملامت و سرزنش کرتے ہیں اگر جبر ہے تو یہ سرزنش کیسی؟ 3۔ نیک کاروں کی مدح وتعرفي وستائش کرتے ہیں ۔ کیوں؟ 4. اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوشش کرتے ہیں کہ وہ سعادت مند ہوں ۔ اگر سب مجبور ہیں تو پھر تعلیم کیا مفہوم رکھتی ہے۔؟ 5- معاشرہ کے اخلاق کو بلند کرنے کے لیے سب عمل بغير استثناء کو شش کرتے ہیں۔ 6- انسان اپنی خطاؤں اور غلطیوں سے توبہ کرتا ہے.اصل جبر کو قبول کر لینے کی صورت میں توبہ کیا معنی رکھتی ہے؟ 7۔ انسان اپنی کوتائیوں پرحسرت کرتا ہے۔ آخر کیوں ؟ 8۔ ساری دنیا بدکاروں اور مجرموں کا محاسبہ کرتی ہے اور ان سے شدید طور پر باز پرس ہوتی ہے وہ کام جو اختیار سے باہر ہے اس کی بازپرس ہیں اور محاکمہ کیسا؟ 9- ساری دنیا اور تمام اقوام عالم کے درمیان عام اس سے کہ وہ خدا پرست ہوں یا مادیتیں یہ طے ہے کہ وہ مجرموں کے لیے سزا کے قائل ہیں۔اس کام کی سزاکیسی جیس پر وہ مجبور تھا۔ 10۔ یہاں تک کہ جبر کے حامی ، جب کوئی شخص ان کو گھٹائے اور ان کی برائی کرے اور حیثیت کو مجروح کرے، توفریاد کرتے ہیں اور اس کو قصور وار ٹھہراتے ہیں اور اسے عدالت میں لے جاتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اگر واقعی انسان کوئی اختیار نہیں رکھتا تو پھر پشمانی کے کیا معنی ہیں اور ملامت و سرزنش کس لیے ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں ریشہ ہو اس کو ملامت کی جائے۔ نیکوکاروں کی تعریف کیوں کی جاتی ہے اور انہیں نیکی پر آمادہ کیا جاتا ہے، کیا وہ اختیار رکھتے ہیں کہ شوق دلانے سے نیک کام کرنے لگیں گے۔؟ اصولی طور تعلیم و تربیت کی تاثیر کو قبول کر لینے کی صورت میں جبر اپنا مفہوم کھو بیٹھتا ہے؟ اس سے قطع نظر ارادہ کی آزادی کے بغیراخلاقی مسائل کا بھی کوئی مفہوم نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے کاموں میں مجبور ہیں تو توبہ کی کیا ضرورت ہے۔ حسرت و ندامت کس لیے ہے۔ شخص مجبور کا محاکمہ کرنا اور اسے عدالت میں لے جانا سب زیادہ ظالمانہ کام ہے اور اس کو سزا دینا اس محاکمہ زیادہ نامناسب ہے۔ سب چیزیں بتاتی ہیں کہ ارادہ کی آزادی والی حقیقت سب انسانوں میں فطری ہے اور تمام نوع بشر کے وجدان کے موافق ہے۔ نہ صرف عوام بلکہ سارے خواس اور سب فلاسفہ عمل کی دنیا میں اسی طرح ہیں، یہاں تک کہ جبری بھی عمل میں اختیاری ہیں (الجبريون اختياريون من حيث لا يعلمون)۔ قابل توجہ یہ کہ قرآن مجید نے بارہا اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے، وہ نہ صرف زیر بحث آیات میں فرماتا ہے: (فمن شاءاتخذالٰى ربه مابا) جو چاہےاپنےپروردگار کی طرف راستے کا انتخاب کر سکتا ہے ۔ بلکہ دوسری آیات میں کبھی انسان کے ارادہ پر بہت سے مقامات پر خصوصی روشنی ڈالی ہے، جن سب کا ذکر طوالت کا باعث ہو گا ۔ ہم صرف ولی کی تین آیات پر اکتفا کرتے ہیں : (انا هديناه السبيل اماشاكرًا واما کفورًا ) بھی انسان کو راستہ دکھا دیا ہے چاہے وہ قبول کرکے شکر گزار بنے یا مخالفت کرکے کفران کرے ۔ (دھر /3) اور سورہ کہف کی آیت 29 میں فرماتا ہے: (فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر)۔ "جوشخص چاہتا ہے ایمان لے آئے اور جو شخص چاہتا ہے ایمان لے آۓ اور جو نہیں چاہتا کفر کی راہ اختیار کرے"۔ نیز سوره دھر کی آیت 29 میں تم پڑھتے ہیں (ان هٰذه تذكرة فمن شاء اتخذالى ربه سبیلاً) یہ تذکرہ ہے جو چاہے اپنےپروردگار کی طرف راستے کا انتخاب کرے۔ مسئلہ جبر و تفویض کے بارے میں گفتگو بہت طولانی ہے اور اس سلسلہ میں کئی کتابیں اور مقالے لکھے گئے ہیں اور جو کچھ اوپر کہا گیا ہے وہ صرف اس مسئلہ کی طرف قرآن وجدان کے زاویہ سے نگاہ ڈالی ہے ، اس گفتگو کوہم ایک اہم نکتہ پیش کرکے ختم کرتے ہیں۔ ایک گروہ کا مسئلہ جبر کا قائل ہونا چندفلسفیانہ اوراستدلالی سے تعلق رکھنے والی مشکلات کی بنا پر ہے۔ اس کے علاوہ کچھ دوسرے نفسیاتی ، اجتماعی اور معاشرتی اہم عوامل بھی بلاشک و شبہ اس عقیدہ کے پیدا ہونے اور باقی رہنے میں دل رکھتے ہیں ۔ بہت سے افراد نے جبر کے عقیدہ کو ، یا جبری سرنوشت کو ، یا اس قضا و قدر کو جس کے معنی میں جبر داخل ہے اور جن سب کی ایک ہی بنیاد ہے، زمہ داری اور جوابدہی سے بچنے کے لیے قبول کیا ہے یا پھراس عقیدہ کو اپنی ان ناکامیوں کے لیے ایک حجاب کے طور پر اپنایا ہے جو ذاتی کوتاہیوں اور سہل انگاری کی بنا پر سامنے آتی ہیں۔ یا سرکش ہوا و ہوس پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے اختیار کیا ہے اور یہ نظریہ اپنا لیا ہے کہ ہمارے شراب پینے کو وہ ازل سے جانتا ہے اور ہم اسی لیے شراب پیتے ہیں تاکہ خدا کا علم جہالت میں نہ بدل جاۓ. بعض اوقات استعمار اور سامراج کی فضا میں پرورش پانے والے افراد کی قوت مقابلہ کو شکست دینے کے لیے اورمختلف اقوام وملل کے قہر و غضب کی آگ کو بجھانے کے لیے بہت سے لوگ اس عقیدہ سے متوسل ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو دوسروں کی گردنوں پر سوار کرتے ہیں کہ تمہاری تقدیر میں یہی تھا اور ظاہر ہے تسلیم و رضا کے علاوہ کوئی پاره کار ہے ہی نہیں ۔ اسی طرز فکر کو قبول کر لینے سے تمام ظالموں کے اعمال کی توجہیہ ہوجاتی ہے اور تمام گنہگاروں کے گناہ مطقی توجہیہ پا لیتے ہیں اور مطبع و مجرم کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ خدا وندا ! ہمیں ان انحرافي عقائد اور ان کے نتائج سے محفوظ فرما ۔ پروردگارا ! ہمیں معلوم ہے کہ جہنم سرکشوں کے لیے مرصاد اور جنت متقیوں کے لیے کامیابی کی جگہ ہے۔ ہم سب کی چشم امید تیرے لطف و کرم پرلگی ہوئی ہے۔ بارالٰہا! وہ دن جس میں ہم اپنے تمام اعمال اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو ہمیں اس روز شرمندگی و شرمساری سے بچالیجو۔ آمین یا رب العالین . سواره نباکا اختتام
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 78:38-40
سورہ نباء آیہ 38 تا 40
(38) يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلَآئِكَـةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَـهُ الرَّحْـمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا (39) ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا (40) اِنَّـآ اَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًاۚ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُوْلُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِىْ كُنْتُ تُرَابًا ترجمہ (38) یہ سب کچھ اس دن ہو گا جب روح اور ملائکہ ایک ہی صف میں قیام کریں گے اور کوئی بھی خدائے رحمن کے اذن کے بغیر بات نہیں کرے گا اوراس وقت سب درست بات کریں گے۔ (39) وہ دن حق ہے جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جانے والی راہ کا و انتخاب کر سکتا ہے۔ (40) اور ہم تمہیں قریبی عذاب سے ڈراتے ہیں ۔ یہ عذاب اس دن نازل ہوگا جب انسان جو کچھ پہلے بھیج چکا ہے اسے دیکھے گا اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 78:38-40
کافر کہیں گے کاش هم مٹی هوتے
تفسیر کافر کہیں گے کاش هم مٹی هوتے گزشت آیتوں میں قیامت کے دن سرکشوں پر نازل ہونے والے عذاب اور پرہیزگاروں کو حاصل ہونے والی نعمتوں کا قابل ملاحطہ بیان تھا۔ زیر بحث آیات میں اس عظیم دن کا تعارف کرانے کے لیے اس کے بعض اوصاف اور حوادث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: ” یہ سب کچھ اس دن ہو گا جب روح اور تمام ملائکہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے اور خداوند رحمن کے اذن کے بغیر کوئی بھی بات نہ کرسکے گا ، اور جو بات کرۓ گا بھی تو حق کے علاوہ اور کچھ نہیں کہے گا - (ويوم يقوم الروح والملائكة صفًا لا يتكلمون الا من اذن له الرحمن وقٰال صوابًا)۔ ؎1 اس میں شک نہیں کہ روح اور فرشتوں کا اس دن ایک ہی صف میں قیام اور خدا وند رحمٰن کے اذن کے بغیر بات نہ کر سکنا صرٖف فرمان خدا کے اجراء کے لیے ہے، وہ اس جہان میں بھی "مدبرات امر" یعنی اس کے فرمان جاری کرنے والے ہیں اور عالم آخرت میں یہ امر زیادہ آشکار ، زیادہ واضح اور وسیع صورت میں ہوگا۔ یہ کہ یہاں روح سے کیا مراد ہے، مفسرین نے اس کی بہت سی تفسیریں کی ہیں بعض تفاسیر کو آٹھ احتمال تک بیان کیے گئے ہیں۔ ؎2 جن میں سے زیاده اہم درج ذیل تفاسیر و احتمالات ہیں۔ 1- فرشتوں کے علا وہ ان سے افضل و برتر مخلوق مراد ہے 2- حضرت جبرائیل امین مراد ہیں جو امین وحی خدا ہیں اور خدا اور تمام انبیاء و رسل کے درمیان واسطہ ہیں ۔ سارے فرشتوں کے سردار ہیں اور سب سے بڑے فرشتے ہیں۔ 3- انسانوں کی ارواح مراد ہیں جو فرشتوں کے ہمراہ قیام کریں گی۔ 4- ایک فرشتہ مراد ہے جو تمام فرشتوں سے برتر ہے جبرائیل امین سے بھی افضل و برتر ہے۔ یہ وہی ہے جو انبیاء و مفسرین کے ہمراہ تھا اور ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ روح کا لفظ قرآن مجید میں بھی مطلق صورت میں اور بغیر کسی قید و شرط کے بیان ہوا ہے اور اس حالت میں زیادہ تر مقابلہ کے لیے قرار پایا ہے مثلاً : (تعرج الملائكة والروح الیه)۔ فرشتے اور روح اس کی طرف اوپر جاتے ہیں ، (معارج /4) ۔ (تنزل الملائكة والروح فيها باذن ربهم من كل امر) شب قدر میں ملائکہ اور روح اپنے پروردگار کے فرمان سے ہر چیز کے ساتھ تنازل ہوں گے۔ (قدر /4)۔ ان دو آیات میں ملائکہ کے بعد روح کا ذکر ہوا ہے اور زیر بحث آیت میں ملا ئکہ سے پہلے ہواہے۔ البتہ ممکن ہے کہ یہ اس کا الگ ہونا ایک بزرگ فرد کے عنوان کے ماتحت ہوا اور اصطلاح کے مطابت خاص بعد عام کا ذکر یا عام کے بعد خاص کا ذکر ہو، لیکن بہت سی آیتوں میں روح ایک صفت کی طرف اضافہ کے ---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ یوم اس آیت میں ظرف ہے اور گزشتہ آیات میں لا يملكون کے فعل سے تعلق ہے، یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام چیزوں سے تعلق ہو جو گزشتہ آیتوں میں آئی ہیں اور تقدیر عبارت اس طرح ہوا (كل ذالك يكون يوم يقوم الروح) یہ سب کچھ اسی دن ہو گا جب روح و ملائک الی صف میں کھڑے ہوں گے۔ ؎2 تفسیر قرطبی، جلد 8 ص 6977۔ ---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ساتھ آیا ہے مثلاً "الروح القدس" (قل نزله روح القدس من ربك بالحق) کہہ دے روح القدس نے اس قرآن کو تیرے پروردگار کی جانب سے حق کے ساتھ نازل کیا (نحل /102) - یا آیہ (نزل به الروح الامین)۔ "قرآن اور روح الامین نے نازل کیا ہے"۔ (شعراء / 193). بعض آیات میں خدا نے روح کو اپنی طرف سے اضافت دی ہے۔ فرماتا ہے: (ونفخت فيه من روحی) آدم میں میں نے اپنی روح پھونکی "ایک شریف روح جو اپنی شرافت کی وجہ سے اس کی ذات مقدس کی طرف مضاف ہوئی ہے۔ (حجر /29) ۔ دوسری جگہ فرماتا ہے : (فارسلنا اليها روحنا) "ہم نے مریم کی طرف اپنی روح بھیجی"۔ (مریم /17). ایسا نظر آتا ہے کہ لفظ روح ان آیات میں چونکہ مختلف شکلوں میں بیان ہوا ہے، لہزا اس کے مختلف معانی ہیں جن کی تشریح انہی آیات کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے۔ لیکن ، جو مختلف تفاسیر سے ، زیر بحث آیات کے بارے میں زیادہ مناسب نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں روح سے مراد خدا کا ایک بہت بڑا فرشتہ ہے جو بعض روایات کے مطابق جبریل امین سے بھی افضل و برتر ہے جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: امام جعفرصادق سے منقول ہے کہ (هو ملك اعظم من جبرائیل و میکائیل) وہ ایک فرشہ ہے جوجبرائیل و میکائیل سے بھی بڑا ہے۔ ؎1 اور تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی آیا ہے (الروح ملك أعظم من جبرائیل و میکائیل وكان مع رسول الله وهو مع الائمة) روح ایک فرشتہ ہے جو جبریل و میکائیل سے افضل و برتر ہے۔ وہ رسول اللہ کے ساتھ تھا اور آئم کے ساتھ بھی ہے۔ ؎2 اگرچہ بعض روایات میں اہل سنت کی تفاسیر میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ: (الروح جند من جنود الله لیوا بملائكة لهم رؤس وایدی و ارجل شوقرأ يوم يقوم الروح والملائكة صفًا قال هؤلاء جند و هؤلاء جند) روح خدا کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جو ملائکہ نہیں ہیں ، ان کے سر ہاتھ اور پائوں ہیں ۔ اس کے بعد پیغمبر نے اس آیت کی تلاوت فرمائی (يوم يقوم الروح والملائكة صفًا) پھر مزید فرمایا سے ایک الگ لشکر ہے اور ملائکہ الگ لشکر ہیں۔ ؎3 انسان کی روح اور اس کے تجرد و استقلال کے بارے میں مشرح اورمفصل بحثیں ہم جلد 12 ص 250 سے لے کر ص 255 (سوره اسریٰ کی آیت 85 کے ذیل میں) پیش کر چکے ہیں۔ --------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان ، جلد ،10 ص 427 ؎2 تفسیرعلی بن ابراہیم جلد 2 ص 402 ؎3 تفسیر درا لمنشور ، جلد 6 ص 309 ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بہرحال جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے یہ عظیم خدائی مخلوق چاہے فرشتوں میں سے ہو یا اور کوئی خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوق اور خدا کے فرمان کی اطاعت کے لیے ملائکہ کے ساتھ اطاعت کو آمادہ ہے اور اسی طرح قیامت کی حولاناکی اور محشر کے اضطراب نے سب کو گھیر رکھا ہو گا کہ کسی کو کبھی بات کرنے کی طاقت نہیں ہوگی اور جہاں کوئی بات کرے گا یا شفاعت کرے گا وہ صرف پروردگار کی اجازت سے ہوگا۔ وہ خدا کی حمد و ثنا کریں گے اور جو لائق شفاعت ہیں ان کی شفاعت کریں گے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آ مام جعفر صادق سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا : (تخن والله المأذون لهم يوم القيامة والقائلون) خدا کی قسم ! قیامت کے دن ہمیں اجازت ہو گی اور ہم ہی گفتگو کریں گے۔ راوی سوال کرتا ہے اسی روز آپ کون سی بات کریں گے۔ تو آپ نے فرمایا : (نمجد ربنا ونصلی على نبينا و نفع لشيعتنا فلايرد نا ربنا) ہم اپنے پروردگاہ کن تمجید و تعریف کریں گے اور اپنے پیغمبرؐ پر ورود وسلام بھیجیں گے اور اپنے پیروکاروں کی شفاعت کریں گے اور خدا ہماری شفاعت کو رد نہیں کرے گا۔ ؎1 اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و ائمہ معصومین بھی ملائکہ اور روح کی صف میں قیام کریں گے اور انہیں بات کرنے ، خدا کی حمد و ثنا کرنے اور شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔ ؎2 "صوابا" کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ملا ئکہ و روح یا انبیاء و اولیا کسی کے لئے شفاعت کریں تو بھی کسی حساب کتاب کی بنیاد پر ہو گا اور بغیر وجہ وسبب کے نہیں ہوگا۔ اس کے بعد اس عظیم دن کی طرف جو انسانوں اور فرشتوں کے قیام کا دن بھی ہے، وہ یوم الفصل ہے سرکشوں پہ نزول عذاب کا دن ہے اور متقیوں کے اجر پانے کا دن اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : "وہ دن حق ہے"۔ (ذالك اليوم الحق)۔ حق اس چیز کے معنی میں ہے جو ثابت ہے اور واقعیت رکھتی ہے اور تحقق پائے گی اور یہ معنی قیامت کے بارے میں مکمل طور پر ثابت ہیں ۔ اس کے علاوہ ایسا دن ہے جس دن برشخص کا حق دیا جا ئے گا ۔ مظلوموں کاحق ظالموں سے لیا جائے گا ۔ اس دن اسرار ظاہر ہوں گے ، اس لیے وہ ایسا دن ہے جو پورے طور پر حق ہے ۔ چونکہ اس واقعیت کی طرف توجہ انسان کے خدا کی طرف رجوع اور اس کے فرمان کی اطاعت کے لیے موثر ترین محرک اور سبب بن سکتی ہے، اس لیے بلا فاصله مزید کہتا ہے: ------------------------------------------------------------------------- ؎ 1 مجمع البیان ،جلد 15 ص 427- ؎2 شفاعت اس کے شرائط و خصوصیات اور اس کے فلسفہ کے بارے میں اسی طرح اس کے مربوط اعتراضات و شکایات کے سلسلہ میں تفصیلی بحثیں جلد 1 سورہ البقرہ کی آیت 48 کے ذیل میں ہم کر چکے ہیں - ------------------------------------------------------------------------- "پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہے اور لوٹتاہے (اس کی طرف) راستہ "- (فمن شاء اتخذ الى ربه ماٰبًا)۔ یعنی اس محرک کے تمام اسباب فراہم ہیں جو خدا کی طرف رجوع کے لیے ہے اور راستے اورکنویں دکھائے جا چکے ہیں۔ انبیاء نے کافی حد تک فرمان حق کی تبلیغ کی ہے اورعقل انسانی نے بھی ،جو اس کے اندر کا پیغمبرہے۔ سرکشوں اور پریہزگارواں کی سرنوشت اچھی طرح واضح ہوچکی ہے، عدالت مظلوم اور قاضی میں متعین ہو چکے ہیں۔ اکیلی پر جو باقی رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان دو ٹوک فیصلہ کرے اور اس اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوخدا نے اسے دیا ہے راستے کا انتخاب کرے اور آگے بڑھے۔ "ماب" کے معنی محل بازگشت ہیں ۔ یہ راستے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ اس کے بعد مجرمین کی سزا کے مسئلہ پر تاکید کے عنوان سے اور اس عظیم دن کے ان لوگوں سے نزدیک ہونے کو بیان کرتے ہوئے جو اسے دور سمجھتے ہیں، یا اس کے وجود کوتسلیم ہی نہیں کرتے۔ مزید فرماتا ہے: "میں قریب کے عذاب سے ڈراتے ہیں"۔ (انا آنذرناكم عذابا قریبًا). دنیا کی عمر جتنی بھی ہے آخرت کی عمر کے مقابلے میں ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہے نیز عربوں کی مشہور ضرب المثل کے مطابق "جو یقینا" آۓ گی وہ نزدیک ہے "۔ (كل ما هوات قريب)۔ اسی لئے سوره معارج کی آیت پانچ سے لے کر سات تک خدا اپنے پیغمبرسے فرماتا ہے : (فاصبر صبرًا جميلاً انهم يرونه بعيدًا ونراه قریبًا) صبر کر، صبر جمیل جو ہرقسم کے جزع و فزع سے خالی ہو. وہ اس دن کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے نزدیک دیکھے ہیں۔ امیرالمومنین علی بھی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں : (كل أت قریب دان) ہر وہ چیز جو آنے والی ہے قریب ہے ۔ ؎1 کیوں نزدیک نہ ہو جبکہ عذاب النی کا اصل سبب خود انسانوں کے اعمال ہیں جو ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں اور جہنم نے ابھی سے ان کا احاطہ کیا ہواہے (وان جهنم لمحيطة بالكافرين) (عنکبوت/ 54)۔ اور چونکہ اس دن ایک گروه عظیم حسرت و اندوہ میں غرق ہوتے ہوئے نادم و پشیمان ہو گا اورجس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ا س تنبیہ کے بعد مزید کہتا ہے: ”یہ عذاب اس دن واقع ہو گا جس دن انسان جو کچھ اپنے ہاتھ سے آگے بھیج چکا ہے وہ سب دیکھے گا اور کافر کہے گا (اے کاش میں مٹی ہوتا) ( يوم ينظر المرء ما قدمت يداه ويقول الكافر يا ليتني كنت ترابًا)۔ ---------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ خطبہ 103- ---------------------------------------------------------------------- مفسرین کی ایک جماعت "ينظر" کے لفظ کی اس آیت میں "ينتظر" کے معنی میں تفسیر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ مراد یہ ہے کہ انسان اس دن اپنے اعمال کی جزاء کے انتظار میں ہے بعض اسے نامہ اعمال کے مشاہدہ اور نیکیوں اور برائیوں کے دیکھنے کے معنی میں کہتے ہیں ، اور پھر یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس مراد اعمال کی جزا و سزا کا مشاہدہ ہے۔ یہ سب تفسیریں یہاں سے پیدا ہوتی ہیں کہ انہوں نے مسئلہ حضور یعنی اعمال انسان کی اس دن تجسیم کی طرف بہت کم توجہ دی ہے ورنہ اس واقعیت کی طرف توجہ کی صورت میں آیت کا مفہوم واضح ہے اور کسی قسمم کی تقدیر و تاویل کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ قرآن کی محتلف آیات اور اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال اسی دن مناسب صورتوں میں مجسم ہو کر اس کے سامنے ظاہر ہوں گے۔ وہ حقیقتًا اپنے اعمال کو دیکھے گا اور اپنے برے اعمال کے منظر کے مشاہد ہ سے وحشت و ندامت محسوس کرے گا اور حسرت میں ڈوب جائے گا اور اپنے حسنات کو دیکھنے سے شادومسرور ہو گا اور اصولی طور پر نیکو کاروں کا بہترین اجر اور بدکاروں کی مناسب ترین سزا ان کے مجسم اعمال ہیں جو ان کے ساتھ ساتھ ہوں گے۔ سورہ کہف کی آیت 49 میں ہم پڑھتے ہیں : (ووجدوا ما عملوا حاضرًا)۔ "جوکچھ وہ انجام دیتے اسےحاضر پائیں گے" اور سورہ زلزال کی آخری آیات میں آیا ہے۔ (فمن يعمل مثقال ذرة خيرًايره ومن يعمل مثقال ذرة شرًايره) "جس شخص نے ذرہ برابر بھی نیک کام کیا ہوگا وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برا کام کیا ہو گا وہ اسے دیکھے گا"۔ اور روز قیامت کے عجائبات میں سے ہے کہ وہاں انسان کے اعمال مجسم ہوں گے اور قوتیں مادہ تبدیل ہو کر جاندار ہوجائیں گی (قد مت يداه) ۔ "اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے" کی تعبیر اس لیے ہے کہ انسان زیادہ تر کام اپنے ہاتھ سے انجام دیتا ہے لیکن مسلم ہے کہ صرف ہاتھ کے اعمال پر نہیں ہے بلکہ جو کچھ وہ زبان ، آنکھ اور کان سے بھی انجام دیتا ہے وہ سب اس قانون کے ذیل میں ہے۔ قرآن اس دن کے آنے سے پہلے ہمیں خبردار کرتا ہے اور کہتا ہے ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس دن کے لیے اس نے آگے کیا بھیجا ہے (ولننظر نفس ما قدمت لغد) (حشر /18)۔ بہرحال بعد اس کے کہ کفار اپنی عمر کے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اسی غم و اندوه و حسرت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم خاک ہوتے، کاش ابتدا میں ہم خاک کے مرحلہ سے اوپر نہ جاتے۔ جماد سےنامی (نشو و نما کرنے والے نباتات) اور نامی سے حیوان اور حیوان سے انسان نہ بنتے اور کاش بعد اس کے کہ ہم انسان ہو گئے اور مر گئے تو مرنے اور خاک ہونے کے بعد قیامت میں نئی زندگی حاصل نہ کرتے۔ البتہ وہ جانتے ہیں کہ مٹی بھی ان سے بہتر ہے کیونکہ مٹی ایک دانہ لیتی ہے اور کبھی کبھی سو دانے واپس کرتی ہے، انواع و اقسام کے غذائی مواد معدنیات اور بہت سی برکتوں کا منبع و سرچشمہ ہے۔ مٹی انسان کا بستر اور اس کی زندگی کا گہوارہ ہے اور بغیر اس کے کہ اس میں کو ئی ضرر ہر وہ یہ سب فوائد لیے ہوئے ہے لیکن وہ مٹی کے فوائد میں سے ایک بھی نہیں رکھتے ، اس پر مستزاد یہ کہ بہت سی خرابیوں کی کان ہیں۔ جی ہاں ! اس انسان کا کام جو اشرف المخلوقات ہے بعض اوقات کفرو گناہ کی بنیاد بنتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنج جاتی ہے کہ وہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ کسی بے روح اورپست مخلوق کی صف میں کھڑے ہوتے۔ آیات قرانی میں ہم پڑھتے ہیں کہ کفار اور مجرم جب قیامت میں پروردگار کی داد رسی کا منظر اور اعمال کی جزا کا مشاہدہ کریں گے تو وہ کئی عکس العمل دکھائیں گے جو ان کی شدت تاثرو تاسف کی ترجمانی کریں گے۔ کبھی کہیں گے وائے ہو ہم پر اور ہماری اس حسرت پر کہ ہم نے فرمان خدا وندی کی اطاعت میں کوتاہی کی (با حسرتي على ما فرطت في جنب الله) (زمر ط/ 56 ) . اور کہیں گے خدا وندا ! ہمیں دنیا کی طرف پلٹا تاکہ ہم عمل صالح کرسکیں، (فارجعنا نعمل صالحا، (الم سجده /12 ) ۔ اور بھی کہیں گے کاش ہم خاک ہوتے اور بھی زندہ نہ ہوتے، جیسا کہ زیر بحث آیات میں آیا ہے۔